ایکٹر اعجاز خان کی جرأت مندی اور دلیری

عبدالعزیز

اعجاز خان گجرات کے رہنے والے ہیں ۔ اس وقت وہ فلم ایکٹر اور پروڈیوسر ہیں ۔ اپنی زندگی کی شروعات ماڈلنگ سے کی تھی۔ اس کی ایک فلم ’’اللہ کے بندے‘‘ مشہور ہوئی تھی۔ بہت سی ٹیلی فلموں میں اس نے کام کیا ہے مگر اس کی اب شہرت ہورہی ہے کہ اس نے اپنے ’فیس بک‘ اور ’یو  ٹیوب‘ میں ملک میں مسلمانوں اور دلتوں پر مظالم کے درد اور دکھ بھری داستان کو نہایت دلیری اور بیباکی سے پیش کر رہا ہے۔ ایک ویڈیو میں اس نے کہاکہ مودی اور یوگی دونوں مسلمانوں اور دلتوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ان لوگوں نے گائے اور ذبیحہ گاؤ کا 2014ء سے ایسا چرچا کہ کہ پورے ملک میں دلتوں اور مسلمانوں کی زندگی تنگ ہوگئی ہے۔ اگر کوئی ٹرک پر کوئلہ لے جارہا ہے تو خلاصی اور ڈرائیور کو بے دردی سے مار دیا جاتا ہے۔ کوئی گائے خرید کر دودھ بیچنے کیلئے لے جاتا ہے تو اس کا خون کر دیا جاتا ہے۔ ٹرین میں کوئی جارہا ہے تو اسے محض مسلمان سمجھ کر گائے کے نام پر شہید کر دیا جاتا ہے۔ ایسی وارداتیں آئے دن رونما ہورہی ہیں مگر نہ یوگی ادتیہ ناتھ کے منہ سے آواز نکلتی ہے اور نہ نریندر مودی کچھ بولتے ہیں ۔ اگر بولتے ہیں تو اس کا اثر اس لئے بھی نہیں ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی کے کارے کرتا (ورکر) اچھی طرح جانتے ہیں کہ حکومتیں ان کا کچھ بال بیکا کرنے والی نہیں ۔

 اعجاز خان نے مزید کہاہے کہ ہارڈن کمپنی جو باہر کی ہے، وہ گائے کے پروڈکٹس کو ہندستان کے ہر بازار اور مارکیٹ میں بیچ رہی ہے مگر حکومت کے کان بند ہیں اور آنکھ پر بھی پٹی لگی ہوئی ہے۔ صرف گئو رکشکوں یا راکششوں کو مسلمانوں کی ٹوپی اور داڑھی دکھائی دیتی ہے اور ان کی شناخت کی وجہ سے انھیں جان سے مار کر ان کی لاشوں تک کو یہ درندے پیڑ کی شاخوں سے باندھ کر لٹکا دیتے ہیں ۔ جبکہ Harden Co. کے تیار کردہ گائے کے چمڑے کا بیلٹ، جیکٹ(Cow Jacket and Caow Belt) کھلے عام بک رہے ہیں ۔

اعجاز احمد خان نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھ کر اپنے احساسات سے آگاہی دی تھی اور ہارڈن کمپنی کے پروڈکٹس کے سلسلے میں باخبر کیا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد کامرس منسٹری سے اعجاز کے پاس ایک خط آیا جس میں لکھا ہوا ہے کہ مذکورہ کمپنی پر کارروائی بہت جلد ہوگی۔ اعجاز احمدنے عوام کو اپنے ویڈیو کے ذریعہ بتایا کہ کارروائی ہوگی ، آخر کب ہوگی؟ یہ لکھنا چاہئے تھا۔ ان پر تو کارروائی ہوگی مگر بے قصور و بے گناہ مسلمانوں کو مارا جارہا ہے یہ کب بند ہوگا اور ظالموں کی ناک میں نکیل کب کسی جائے گی۔ اس کو بھی میرے خط کے کسی کونے میں لکھنا چاہئے تھا۔ اس کا تو کچھ بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ ظالموں کی گردن ناپی جائے گی اور نہ ہی گئو رکشکوں پر سختی ہوگی۔ ان کو صرف نصیحت کی جائے گی۔ کیا یہ بھلے مانس ہیں جو نصیحتوں سے مان جائیں گے ۔ ان پرتو قانون کا شکنجہ ایسا کسا جانے چاہئے جیسے دہشت گردوں پر کسا جارہا ہے۔ جب ہی کچھ ہوسکتا ہے۔ بھاشن اور تقریر سے نہ کچھ ہوا نہ کچھ ہوگا۔

 اعجاز خان اگر چہ فلمی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں لیکن انھوں نے جس جرأتمندی اور دلیری کا مظاہرہ کیا ہے وہ انتہائی قابل تحسین اور قابل تعریف ہے۔ ایسے نازک حالات میں اعجاز خان کی پرزور اور بے خوف آواز ظالموں اور بے ایمانوں کے کانوں تک ضرور پہنچے گی۔ یہ دوسری بات ہے کہ ظالم کا ظلم و ستم کم ہو یا نہ ہو مگر ہر شہری اور ہر مسلمان کا فرض ہے کہ ظالم کے ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑا ہو۔ اگر اس میں ایمان کا پہلا درجہ ہے تو اسے ظلم کرتے دیکھے تو اس کا ہاتھ پکڑلے۔ اسے ظلم کرنے نہ دے۔ وہ عظیم گناہ اور جرم سے بچ جائے گا اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو ظالم کو اس کے سامنے اچھے انداز سے کہا جائے کہ یہ ظلم اچھی چیز نہیں ہے۔ ظلم ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے خون تو خون ہے گرتا ہے تو جم جاتا ہے۔ اگر طاقت سے بھی نہ ہوسکے اور زبان سے بھی نہ بول سکے تو کم سے کم دل میں احساس کرے کہ ظلم ایک برا کام ہے۔ اس کو مٹانے کیلئے دل میں اسکیم بنائے۔ حدیث میں آتا ہے کہ یہ ایمان کا سب سے کمزور ترین حصہ ہے۔ یہ کبھی بھی ختم ہوسکتا ہے۔ اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جو بدکار یا ظالم کا ہاتھ پکڑتا ہے وہ مومن ہے اور جو اپنی زبان سے بدکار اور ظالم کو روکتا ٹوکتا ہے وہ بھی مومن ہے اور جو دل میں محسوس کرتا ہے وہ بھی مومن ہے مگر جو ان تینوں کاموں سے ایک کام بھی کرنا نہیں کرتا وہ سب کچھ ہوسکتا ہے ، مومن نہیں ہوسکتا۔

اعجاز خان نے اپنے مومنانہ کردار کا زبردست مظاہرہ کیا ہے۔ اگر چہ وہ فلمی دنیا کے آدمی ہیں مگر ان کا ایمان تازہ دم ہے۔ ان کے ایمان نے انھیں جبر و ظلم کے خلاف پرزور آواز بلند کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یہی ایک اچھے اور سچے مومن کی پہچان ہے۔ جو لوگ نمازوں پر نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے ہیں اور حج و عمرہ کرتے ہیں مگر وہ ظلم و جبر کے خلاف نہ آواز اٹھاتے ہیں اور ظالم کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے تیار ہیں۔ ان کی سب نمازیں اور عبادتیں نذر برہمن ہوجاتی ہیں ۔ ایسے لوگوں کیلئے علامہ اقبالؒ نے کیا خوب کہا ہے   ؎

نماز، روزہ، حج و قربانی … سب باقی ہے تو باقی نہیں

یعنی نماز، روزہ اور حج و قربانی کے سارے مظاہرے اور رسم و رواج باقی ہیں مگر تم ایمان اور سچائی کے ساتھ زندہ نہیں ہو۔ تمہارا وجود بے معنی ہے۔ تم غیر معنوی وجود ہو جس میں ایمان کی کوئی رمق نہیں ہوتی۔

1 تبصرہ
  1. SYED ASIF JALAL کہتے ہیں

    اعجاز خان ایک لالچی اور شہرت کا بھوکا انسان ہے ۔ اس کے رویے سے منافقت ٹپکتی ہے ۔۔ یہ شخص پبلستی کے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔ معلوم نہیں عبدالعزیز صاحب نے ایسے شخص کے بارے کیونکر قلم اٹھایا جو اخلاق سے نہایت گرا ہوا ہے ۔۔
    اس کی اخلاقی گراوٹ کا مظاہرہ اس وڈیو میں ملاحضہ ہو
    https://www.youtube.com/watch?v=_l7K-Dax1CI

تبصرے بند ہیں۔