بی جے پی میں پھوٹ، مگر آپ کیوں خوش ہیں؟

ڈاکٹر علیم خان فلکی

     آج کل میڈیا میں بی جے پی میں پھوٹ کی خبروں پر بہت کچھ لکھا جارہا ہے۔لوگ اس خوش فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر بی جے پی ٹوٹ گئی تو آریس یس پھولوں کا ہار لے کر آئے گی اور مسلمانوں کو پہنا کر کہے گی کہ واقعی آپ ہی لوگ قیادت کے قابل ہیں، آیئے اور قیادت قبول فرمایئے۔ اسی طرح کی خوش فہمیاں اسرائیل کے پرائم منسٹر کے حوالے سے دیکھنے کو ملیں، گویا نتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ مسلمانوں کی بہت بڑی جیت ہو۔ اور اسی طرح کی خوش فہمیاں ہمارے مقرّرین کی اکثر تقریروں میں ملتی ہیں جب وہ اپنی شعلہ بیانی کی داد وصول کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مغرب کا سرمایہ دارانہ سودی نظام پاش پاش ہوجائے گا، نہ کمیونزم باقی رہے گا نہ سوشلزم باقی رہے گا۔اگر فرض کریں ایسا ہوبھی جائے گا تو اس میں آپ کے خوش ہونے کی کیا وجہ ہے؟ کیا وہ لوگ آکر شرمندگی سے سر جھکا کر کہیں گے کہ آپ کا ہی سیاسی اور اقتصادی نظام حق ہے، لیجئے یہ ورلڈ بینک کی چابیاں اور دنیا کی اکنامی کو آپ ہی سنبھالیے؟

  آریس یس وہ تنظیم ہے جو چار چار بی جے پی پیدا کرسکتی ہے۔ کر بھی چکی ہے۔ جب بی جے پی نہیں تھی تو کیا آریس یس کا کام رک گیا تھا؟ کانگریس میں رہ کر سنگھیوں نے جتنے بڑے کارنامے انجام دیئے خود بی جے پی میں رہ کر لوگ نہیں کرسکے۔ بی جے پی نے جو کچھ کیا اس سے تو الٹا آریس یس بدنام ہوئی، جب کہ کانگریس میں رہ کر، سنگھیوں نے  جو کام کئے ، اس سے نہ کانگریس کا نام بدنا م ہو ا اور نہ سنگھ کا۔بابری مسجد کی شہادت میں کانگریس کا رول، بی جے کے سارے کارناموں پر بھاری ہے۔ کوئی پارٹی ایسی نہیں ہے جس میں سنگھی گھسائے نہ گئے ہوں۔ تلنگانہ میں جو کچھ کے سی آر صاحب کررہے ہیں، وہ آریس یس کو یہ یقین دلانے کے لیے کافی ہے کہ یہاں بی جے پی کی ضرورت نہیں، بی جے پی کے بغیر بھی آریس یس کے مقاصد پورے کئے جاسکتے ہیں۔ کرناٹک میں بھی آپ نے دیکھ لیا کہ کتنوں نے سیکولر ووٹ حاصل کئے اور پھر پارٹی سے ہی نہیں اپنے ضمیر سے بھی غدّاری کی اور ملک سے بھی غدّاری کی، اور بی جے پی میں جاکر تمام سیکولر ووٹرز کو دھوکہ دیا۔ دوسری ریاستوں میں بھی یہی کھیل کھیلا گیا۔

سنگھ نے برسہابرس جو محنت کی ہے، تمام تعلیمی اداروں، اسکول، کالج اور یونیورسٹیرز میں اپنا نظریہ اس قدر گہرائی سے پیوست کردیا ہے کہ اگر بی جے پی نہیں بھی رہے گی تو سنگھ کا کام کرنے والے کل پورے عدلیہ، ایڈمنسٹریشن اور لیجسلیٹر پر چھائے رہیں گے، اور مسلمان کبھی اس خوش فہمی میں نہ رہیں کہ انہیں مساوات یا انصاف کبھی ملنے والے ہیں، کیونکہ مساوات اور انصاف کو مٹانے کے لیے جتنے برس سنگھ نے محنت کی، اس سے دُگنی اِسے کو قائم کرنے کے لیے درکار ہے۔ جس کے بارے میں مسلمان کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔ مسلمان تو درکنار خود اس ملک کی اکثریت کو جن کو سینکڑوں ذاتوں میں بہت چالاکی سے بانٹ دیا گیا، انہیں بھی انسانیت کے حقوق کبھی نہیں ملیں گے۔ مسلمان یہ دماغ سے نکال دیں کہ ناانصافی اور جبر صرف ان کے ساتھ برتا جارہا ہے۔ امبیڈکرجی نے چھوت چھات کو قانون سے تو ختم کردیا لیکن اچھوتوں کے دماغ سے ختم نہیں کرسکے۔ آج ہی کی بات ہے، موسم ب بڑا خوشگوار تھا، ہلکی ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ میں کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں دودھ والا نظر آیا جو میرے گھر کی گیٹ میں داخل ہورہا تھا۔ وہ اپنے جوتے گیٹ کے باہر اتار کر گھر کے دروازے کی طرف آنے لگا۔ میں نے باہر آکر اس سے پوچھا کہ زمین گیلی ہے، کیچڑ بھی ہے، تم نے اپنے جوتے باہر کیوں اتارے؟ اس نے ہنس کر بات ٹالنے کی کوشش کی، لیکن میرے اصرار پر اس نے کہا کہ اسے کالونی کے بڑے لوگوں کا یہی حکم ہے کہ جوتے باہر اتار کر آیا کریں۔ وہ بڑے لوگ کون ہوسکتے ہیں، اس کا اندازہ تو آپ نے لگاہی لیا ہوگا۔ میں نے پوچھا کہ تمہارے ہاتھ کا دہویا ہوا دودھ سب پیتے ہیں، تمہارے برتن کا دودھ وہ اپنے برتنوں میں منتقل کرتے ہیں، اس وقت تو انہیں ناپاکی کا احساس نہیں ہوتا لیکن تمہارے جوتے پہن کر آنے سے وہ کیونکر ناپاک ہوجاتے ہیں؟ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ان کروڑوں انسانوں کے دماغوں میں غلامی اور اچھوت ہونے کا احساس صدیوں سے اس قدر گہرائی سے بٹھا دیا گیا ہے کہ یہ اگر ایم ایل اے یا ایم پی بھی بن جاتے ہیں تو ان کے دماغ بڑی ذات کے غلام ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کو یہ بھی احساس نہیں کہ یہ انسان ہیں، اور سارے انسان برابر ہے کیونکہ تمام انسانوں کو پیدا کرنے والا خالق ایک ہی ہے۔ اس لیے انہیں وہ انسانی حقوق کا دور دور تک پتہ نہیں جو کم از کم مسلمانوں میں موجود ہیں۔غلامی تمام بھگوانوں میں سب سے بڑا بھگوان ہے جو کروڑوں انسانوں کے دل و دماغ میں بس چکی ہے، اور وہی غلامی اب رفتہ رفتہ مسلمانوں کے دماغ میں بٹھائی جارہی ہے۔ وہ کسی قدر کامیاب بھی ہوچکے ہیں، اسی کا نتیجہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ خود آپ کی صفوں میں، مسجدوں کی کمیٹیوں میں، علما میں، لیڈروں اور دانشوروں میں کس تیزی سے سنگھ کی جاسوسی کرنے والوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آپ دو چار افرادکے ساتھ بھی اگر حالاتِ حاضرہ پر کوئی میٹنگ کرکے نکلتے ہیں تو آپ کے گھر پہنچنے سے پہلے اس میٹنگ کی رپورٹ پولیس اور سنگھ کے دفتر پہنچ جاتی ہے۔

 جس طرح امریکہ میں کسی بھی الیکشن میں امیدواروں کے جیتنے کے لیے یہودیوں کا آشیرواد لینا ضروری ہے،یہی وجہ ہے کہ ہر امریکی حکومت اسرائیل کو سالانہ کئی بلین ڈالر امداد کے علاوہ قرض، ہتہیار اور ہر اسرائیلی کو اعلیٰ عہدے دینے پر مجبور ہے۔ کسی بھی حقوقِ انسانی کے فورم پر حتیٰ کہ اقوام متحدہ کے کسی بھی اجلاس میں اسرائیل کے خلاف کوئی قرار داد کی امریکہ تائید نہیں کرتا، چاہے وہ ڈیموکریٹس کی حکومت ہو یا ریپبلیکنس کی۔ اسی طرح اب ہندوستان میں بھی امیدوار چاہے جس پارٹی کا بھی ہو، اسے سنگھیوں کا آشیرواد لینا ضروری ہے، ورنہ اگر اسے ٹکٹ مل بھی جائے تو جیتنا مشکل ہے۔ بی جے پی رہے یا ٹوٹے، اس سے فرق نہیں پڑتا، مسلم دشمنی جو رگ و پہ میں داخل کی جاچکی ہے، وہ ختم ہونے والی نہیں ہے۔ دو چار مسلم دوست نمائندے اسمبلی یا پارلیمنٹ میں آبھی جائیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، پارٹی ہائی کمان وہی ہوگی جو آر یس یس کی تربیت گاہوں سے نکلی ہوگی۔ یقین نہ آئے تو خود ہی دیکھ لیجئے، جہاں جہاں بھی غیربی جے پی حکومت ہے وہ کہاں تک مسلمانوں کو انصاف دلانے میں کامیاب ہیں؟  کیا مرکز میں کل کانگریس یا ممتا یا کے سی آر یا نتیش جیسے لوگ آجائیں گے تو کیا یہ لوگ   UAPA  یا  POTA  وغیرہ ہٹا دیں گے؟ ظالموں کو جیل پہنچائیں گے؟بابری مسجد کے غلط فیصلے کو واپس لیں گے؟ کٹھوعہ یا ہاتھراس جیسے بے شمار عصمت دری کے مجرمین کو سزائے موت دلائیں گے؟ عمرخالد یا کفیل خان کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کو جیل بھجوائیں گے؟ سڑکوں اور شہروں کے نام جو تبدیل کردیئے گئے، کیا وہ دوبارہ واپس لائیں گے، نصاب تعلیم جو مسلمان تاریخ سے خالی کردیا گیا ہے، دوبارہ اسے نصا ب میں داخل کرینگے؟ کیا گوری لنکیش، پنسارے، شاہد اعظمی، ہیمنت کرکرے اور سنجیو بھٹ کے مجرمین کو سزا دلائیں گے؟ کیا کشمیر کا چھینا گیا قانونی درجہ واپس لائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ مسلمان خود بھی ایسا نہیں چاہتے۔

حقوق کے لیے لڑنا ضروری ہے، لڑنے کے لیے پہلے قدم پر احتجاج کرنا ناگزیر ہے۔ بچہ جب تک روتا نہیں، شور مچاتا نہیں، ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔ مسلمان صرف واٹس اپ اور فیس بک پر احتجاج کرنا چاہتے ہیں۔ جن کو تعلیم یافتہ ہونے کا زعم ہے وہ ٹویٹر پر احتجاج فرماتے ہیں۔ جو قوم سڑکوں پر آنے کی ہمت نہیں رکھتی اسے حقوق کبھی نہیں ملتے۔ آریس یس کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ جتنی ذاتوں کو غلامبنا چکے ہیں، وہ تمام اگرچہ کہ مانوواد کے خلاف ہیں، لیکن اجتماعی زندگی میں اپنے آقاؤں کا ساتھ دیتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اجتماعیت میں ایک دوسرے کا پیچھے چلنے کے قائل نہیں۔ ہر شخص چاہے وہ آٹو چلانے والا ہو چاہے کوئی ڈاکٹر، انجینئر یا ایڈوکیٹ، ہر شخص اپنی جگہ خود ایک دانشور، لیڈر اور عالم ہے۔ اور جو عالم ہیں وہ تو اس حدیث کی رو سے کہ علما انبیا کے وارث ہیں، قیادت کے حقدار یا منصب دار وہی ہیں۔ قوم جائے، لڑے، جان و مال کی قربانیاں دے اور دشمن کو شکست دے کر آئے اور آکر کہے کہ مولانا تشریف لایئے اور قیادت سنبھالیے۔ چونکہ تمام علما کی طرف سے فرضِ کفایہ کے طور پر 1857 کے علما نے قربانیاں پیش کردی ہیں، اس لیے اب انہی کے کارناموں کو گناتے رہنا واحد طریقہ احتجاج باقی رہ گیا ہے۔ اگر ساتھ دیں گے بھی تو ایک شرط پر کہ قاسمی قاسمی کا ساتھ دے گا، قادری یا چشتی، قادری یا چشتی کا ساتھ دے گا، سلفی سلفی کا ساتھ دے گا۔ مسلکوں اور عقیدوں کی جنگ میں سب اپنے ہم عقیدہ کا ساتھ دینگے لیکن اسلام نے جس عدم مساوات، ناانصافی، استحصال،شہنشاہیت اور جبر کے خلاف لڑنے کا حکم دیا ہے، سودی نظام، ذخیرہ اندوزوں، پیسہ گِن گِن کر رکھنے والوں، اپنا اپنا مذہب ایجاد کرنے والوں، مادّی ترقی میں مقابلے، حِرص اور تفاخر کرنے والوں سے جو جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، کوئی مسلک یا سلسلہ اس جنگ کا ساتھ دینے تیار نہیں۔

  تاریخ گواہ ہے کہ جب جب قوموں نے احتجاج اور دفاع کا راستہ اختیار کیا، وہ بالآخر جیتے۔ اگر مرے بھی تو باوِقار طریقے سے شہادت پاگئے اور اپنی نسلوں میں خودداری، مزاحمت اور شوقِ شہادت کے عناصر چھوڑ کر مرے۔ جہاں لوگ اپنی جان، عزت اور جائدادیں بچانے کے لیے بزدلی کے ساتھ بھاگے، وہ گاجر مولی کی طرح کاٹ دیئے گئے جس کا منظر آپ نے گجرات، دہلی، اورمظفرپور وغیرہ میں دیکھ لیا۔ مولانا سید سلیمان ندویؒ کا ایک مضمون جو ماہ نامہ معارف، شذرات جولائی 1941 میں شائع ہوا تھا، وہ نظر سے گزرا، جس میں مولانا نے بہار کے موضع دیسنہ کے مسلم کش فسادزدہ علاقے کا دورہ کرکے لکھا تھا کہ جتنے لوگوں نے دفاع کی ہمت دکھائی ان کا نقصان بہت کم ہوا، اور جتنے نکل بھاگے وہ سب سے زیادہ مارے گئے، اور ان کی مسجدیں اور قبرستانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا گیا۔ حالیہ اسرائیل اور حماس کی جنگ ایک شاندار مثال ہے کہ نتن یاہو نے اپنی حکومت بچانے کے لیے آخری ترکیب یہ سوچی کے غزّہ پر حملہ کرکے حماس کو نیست و نابود کردیا جائے، لیکن جب حماس نے پوری ہمت کے ساتھ مزاحمت کی، اینٹ کا جواب پتھر سے دیا، یعنی ہوائی بمبارڈمنٹ اور دیڑھ لاکھ کی زمینی فوج کا جواب صرف اپنے ہی ہاتھوں سے بنائے ہوئے راکٹوں سے دیا تو نتن یاہو کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔

 چونکہ مسلمانوں کے خلاف جتنا زہر پھیلایا جارہا ہے، اور لنچنگ، نصاب تعلیم میں تبدیلی، خلاف اسلام میڈیا وغیرہ کے ذریعے خوف و ہراس پھیلایا جارہا ہے اس پوری محاذ آرائی کی بنیاد جھوٹ پر ہے، ایک ایسے عقیدے پر جس میں خرافات، غیرسائنٹفک قصوں، نفرت، فاشزم اور پروپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں، یہ بہترین موقع ہے کہ مسلمان   ”اِنِّ کَیداالشیطانِ کان ضعیفاً“ کے فلسفے کو سمجھیں اور جو تنظیمیں اور افراد مقابلے کے لیے کھڑے ہیں، ان کے ساتھ ہوجائیں۔ ہم نے صدیوں سے اپنے اپنے سلسلوں، عقیدوں، مسلکوں اور خودساختہ فلسفوں پر تکیہ کرکے دیکھ لیا، ہر صدی بلکہ ہر دہے میں ہم سیاسی، معاشی، اخلاقی اور علمی طور پر جتنے کمزور تھے، اگلی صدی بلکہ اگلے دہے میں اس سے زیادہ کمزور ہوگئے۔ اب جب کہ ہماری آنے والی نسلیں مکمل غلامی کا شکار ہونے والی ہیں، اب بھی وقت ہے ہم قیادت اور جماعت کی صحیح اسلامی تعبیر اور تعریف معلوم کریں، اپنے قِبلوں کو بدلیں اور صحیح قبلہ معلوم کرنے کچھ وقت نکالیں، کچھ توانائیاں صرف کریں۔ جن کے پاس قیادت ہے، ان کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ جمع ہوچکا ہے اس لیے وہ سارے خاموش ہیں، اور دشمن سے کسی نہ کسی سطح پر ہاتھ ملائے ہوئے ہیں۔ اب قوم کی دفاع کے لیے وہی لوگ آگے آسکتے ہیں جن کے پاس کھونے کچھ نہیں۔ ایسے لوگوں کو پہچان کران کا ساتھ دیجئے، احتجاج اور دفاع کے لیے اگر جان دینے کی تمنا آپ کے دل میں پیدا نہ ہو تو اپنی نسلوں کو تیسرے اور چوتھے درجے کے شہری بنانے کے لیے تیار ہوجایئے۔ہم سے رابطے میں رہئے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔