تاریخ ہر ایک باب کو دُہرائے گی

حفیظ نعمانی

جب بھی کوئی اقتدار کا بھوکا کسی ملک کو فتح کرنے نکلا ہے تو وہ شرافت، دیانت، اصول، ضابطوں ، قاعدوں اور سچ اور جھوٹ کو گھر چھوڑکر آیا ہے۔ اور ایک ایک فٹ زمین کے لئے بھی پوری طاقت لگاتا رہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی پورے ملک کو فتح کرنے نکلے ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ سیاست کے بھی کچھ آداب اور تقاضے ہوتے ہیں ۔ وہ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کے لئے شاید ہزاروں کروڑ روئپے اور حکومت کی ساری طاقت جھونک دینا چاہتے ہیں ۔ ان کا صرف یہ مقصد نہیں ہے کہ وہ راجیہ سبھا کی ایک سیٹ اور لے لیں بلکہ یہ بھی کہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل جنہیں کبھی کبھی وہ احمد میاں بھی کہتے رہے ہیں وہ راجیہ سبھا میں اب نہ آنے پائیں ۔

ہم نے دو دن پہلے ہی لکھا تھا کہ اندرا گاندھی نے بہوگنا جی سے یوپی کی وزارت اعلیٰ کی کرسی صرف اس لئے خالی کرالی تھی کہ انہوں نے راج نرائن کو کھلی ووٹنگ کی اجازت دے کر راجیہ سبھا میں کیوں آنے دیا؟ یہی مزاج پنڈت نہرو کا بھی تھا کہ وہ اپنے ان مخالفوں کو جو اُن کے رازہائے سربستہ سے واقف تھے جیسے آچاریہ کرپلانی یا رام منوہر لوہیا ان کو پارلیمنٹ میں دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔ یہی اندرا گاندھی کا تھا کہ راج نرائن نہ آنے پائیں یہی مودی جی کا ہے کہ احمد پٹیل نہ آنے پائیں ۔ اور وہ صرف ایک سیٹ کے لئے اس سے کہیں زیادہ خرچ کردیں گے جتنا انہوں نے اترپردیش میں کائونسل کے تین ممبر خریدنے پر خرچ کیا ہے۔

ایم ایل اے یا ایم ایل سی یا ایم پی کیا ہوتا ہے اور جب وہ سابق ہوتا ہے تو کیا ہوجاتا ہے؟ اس کا تماشہ نہ جانے کب سے دیکھ رہے ہیں 1974 ء میں ہمارے دوست امتیاز حسین ایم ایل اے نے کانگریس کے ٹکٹ کی کوشش کی وہ 1964 ء کی طرح غریب نہیں رہ گئے تھے پانچ سال ایم ایل اے جس میں دو سال سے زیادہ شیعہ وقف بورڈ کے کنٹرولر اس کے بعد غربت کا کیا سوال؟ وہ 15  دن دہلی میں پڑے رہے اور بقول خود پوری زندگی میں جتنے ذلیل نہیں ہوئے ہوں گے اتنے ذلیل ہوئے کہ صبح سے رات تک ایک ہی کام تھا کہ اب کسی بڑے لیڈر کے گھر چلیں ؟ اور جاکر خالی ہاتھ آجاتے تھے۔

صرف یہ عرض کرنے کے لئے بات چھیڑی ہے کہ جب نتیجہ آگیا اور ان کی سیٹ سے کانگریس کا وہ اُمیدوار جیت گیا جسے ٹکٹ دیا گیا تھا تو ہم صرف تعزیت کے لئے گئے وہاں ان کا کمرہ بند تھا زنانہ حصہ سے ہمارا آناجانا تھا۔ اس دروازہ سے صحن برآمدے سے ہوکر کمرہ میں گئے تو ان کے ہاتھ میں مہر تھی جو وہ دستخط کے بعد لگایا کرتے تھے امتیاز اسے دیکھ رہے تھے اور آنکھوں میں آنسو بھرے تھے۔

ہم تھوڑی دیر بیٹھے نہ انہیں نصیحت کی نہ تسلی دی نہ نمک پاشی کی بس اتنا ضرور کہا کہ مہر کے دیکھنے والے جاکر دیکھئے آج نہ جانے کتنے ہوں گے؟ آپ کو سیاست کا شوق ہے آپ کا مزاج سیاسی نہیں ہے۔ اگر سیاست کا شوق ہے تو سیاسی بن کر جایئے اور جیتنے والے کو ایسے ہی مبارکباد دیجئے جیسے جب آپ 315  ووٹوں سے جیتے تھے اور بابو ترلوکی سنگھ جو بوڑھے تھے وہ اپنا آخری الیکشن آپ سے ہارے تھے انہوں نے آپ کی کمر پر تھپکی دے کر کہا تھا کہ بابو میاں آپ خوب جیتے۔ اور ایسی ہی دو چار باتیں کرکے ہم چلے آئے۔

ہم بہت چھوٹے آدمی ہیں پھر بھی پارلیمنٹ کے سابق ممبر اسمبلی اور کائونسل کے ممبر جو کہیں مضمون پڑھتے رہتے ہیں وہ آجاتے ہیں ہر ایم پی کا وہی کارڈ ہے جو اس وقت تھا جب وہ ایم پی تھے اب بہت باریک ہلکی روشنائی سے چھپا ہوتا ہے جس پر غور کرنے کے بعد نظر پڑتی ہے۔ لکھنؤ میں جو تین ایم ایل سی بکے ہیں ان کو نقد تو اتنا ملا ہوگا جو وہ اپنے چھ سال پورے کرنے پر بھی نہ کما پاتے۔ اب یہ اُن کے اور امت شاہ کے درمیان کی بات ہے کہ وہ اسمبلی کا ٹکٹ لیں گے یا کائونسل کے ممبر ہی بنیں گے؟ مودی سرکار میں جتنی قیمت غداروں ، دغابازوں اور سیکولر پارٹی چھوڑکر آنے والوں کی ہے اتنی بی جے پی کے وزیروں کی بھی نہیں ہے۔ وہ بے وفائی، بے شرمی، بے حیائی اور بے غیرتی کی سیاست کی زمین میں کھیتی کررہے ہیں ۔ اور وہ اس وقت تک تلوار نیام میں نہیں رکھیں گے جب تک ہر صوبہ میں ان کی حکومت اور راجیہ سبھا میں ان کی اکثریت نہ ہوجائے  اس کے لئے وہ کہاں تک جاسکتے ہیں اس کا مظاہرہ دیکھنا ہو تو گجرات جاکر دیکھ لیں ۔

وہ شنکر سنگھ واگھیلا جو بی جے پی کو چھوڑکر کانگریس میں آگئے تھے۔ وہ بھی آج کانگریس چھوڑکر اکھاڑے کے کنارے بیٹھے ہیں کانگریس اپنے ممبروں کو مرغی کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرح چیل سے بچانے کے لئے چھپاتی پھر رہی ہے اور جہاں چھپاتی ہے وہاں عقاب ٹھونگیں مار رہا ہے۔

میں عمر کی اس سیڑھی پر آگیا ہوں کہ کسی بھی دن دعا کے لئے آپ کے ہاتھ اُٹھ جائیں گے اس دن سے پہلے اپنے دل کی بات لکھ دینا چاہتا ہوں کہ مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اب ملک پر سیکولر پارٹی یا پارٹیوں کا اقتدار نہ ہوسکے گا اور بقل نواب کی طرح دم گھٹنے کے مریض آگے پیچھے بی جے پی میں آجائیں گے۔ جو زیادہ کاروباری ہوں گے وہ اس لئے جلد آنے کی کوشش کریں گے کہ جیسے جیسے مودی کا خزانہ بھرتا جائے گا جے شری رام کا نعرہ لگاکر آنے والوں کی قیمت گرتی جائے گی۔ اور پھر بی جے پی جنتا پارٹی ہوجائے گی۔ اب یہ دنیا بنانے والے اور چلانے والے مالک کے اوپر ہے کہ اس کی زندگی کتنی ہو؟ بہرحال دیر سویر وہ وقت آئے گا کہ یا زوردار طریقہ سے بم کا دھماکہ ہوگا یا جیسے چوہوں کے آنے سے مٹکا بھرا تھا ویسے ہی چوہوں کے جانے سے وہ خالی ہوگا اور کیا خبر کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرائے اور پارلیمنٹ میں جیسے ایک بار صرف اٹل جی اور اڈوانی جی دو چہرے تھے ایسے ہی مودی اور امت شاہ اکیلے بیٹھے ہوں ؟

نتیش کمار تو موقع پرست اور جاہ پسند تھے وہ یہ کہہ کر کہ 2019 ء میں مودی کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے چلے گئے۔ حقیقت میرے نزدیک یہ ہے کہ مقابلہ مودی جی سے نہیں ہے۔ حکومت سے ہے اور حکومت تو دس برس منموہن سنگھ نے بھی کی اچھے اور برے سب دن آئے لیکن حکومت کی طاقت کو الیکشن کا ہتھیار نہیں بنایا۔ مودی جی لاولد ہیں اور لاولد کا بچپن اور جوانی اس کے اندر ہی رہتی ہے۔ میرا اپنا مشاہدہ ہے کہ جب کوئی باپ بنتا ہے تو بچپن بچوں میں منتقل ہوجاتا ہے، اور جب پوتے یا نواسے آتے ہیں تو جوانی رُخصت ہوکر بیٹوں میں آجاتی ہے۔ بچپن یہ ہے کہ جس کام کو روکو گے وہی کروں گا۔ اور جب جوانی آجائے تو جسے میں صحیح سمجھوں وہی صحیح ہے۔

آج مودی جی کے بال سفید ضرور ہیں عمر بھی ہم سے کم ہے مگر وہ ہوائی جہاز کی سیڑھیوں سے اُترتے ہیں  تو کودتے ہوئے اور چڑھتے ہیں تو کودتے ہوئے یہ وہ ہے جو بچپن اور جوانی دونوں اُن کے اندر ہیں ۔ وہ جو بھی کررہے ہیں 70  سال میں کسی نے نہیں کیا۔ انہوں نے نوٹ بندی کرکے پہلے سب کو فقیر بنایا صرف اس لئے کہ سیاست میں جو پیسے سے مقابلہ ہوتا ہے وہ کوئی نہ کرسکے اور جس کالے دھن کا ڈھول بجاتے ہوئے آئے تھے اب اس کا ذکر بھی بھول گئے۔ یہ سب سیاست نہیں ہے یہ بچپن اور جوانی ہے جو بڑھاپے کو روکے ہوئے ہے اور وہ ملک پر حکومت کے لئے ضرورت پڑی تو فوج بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔

ایسے میں کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ جتنا کوڑا جارہا ہے اسے جانے دیا جائے تاکہ جتنی جلدی مٹکا بھر جائے اتنی ہی جلدی پھٹ جائے؟ کانگریس کے پھٹنے کا سبب بھی یہی تھا کہ جو نہیں جانتے تھے کہ کانگریس کیا ہے وہ جلوس بناکر گھس گئے تھے اس لئے کہ کانگریس کے پاس حکومت تھی۔ اور بی جے پی بھی اسی لئے پھٹے گی کہ جو بھیڑ جارہی ہے وہ سیاست کا کوڑا ہے۔ یا بی جے پی کی چھیلن ہے جو سڑک پر پھینک دی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ اپنے دشمن کو پہچانیں گے اور پھر ان کی ہی عزت اور دولت سے بھوک مٹائیں گے انشاء اللہ۔

تبصرے بند ہیں۔