ترقی پسند اسلام:  اصل کی نشاة ثانیہ

پروفیسر اديس دُدریجا

(گرفتھ یونیورسٹی، آسٹریلیا)

ترجمہ : ڈاکٹر سعد احمد

ایک بوسنیائی مسلمان مرد کی حیثیت سے جس نے نو گیارہ (نائن الیون)کے دور میں سانس لی تھی، میں نے اپنے عقیدے کو سمجھنے کی کوشش کی جو کہ خیر اور محبت کا اثبات ہے تو وہیں اسکا عقیدہ ہر ذی روح میں خیر اور محبت کے جذبے کو سرشار بھی کرنا چاہتا ہے۔ اس طرح کی جستجو نے مجھے علمی دنیا کی راہ پر لگا دیا، لہذا، میں  نےاپنا زیادہ تر وقت ترقی پسند اسلام کی نظریہ سازی میں وقف کرنا شروع کیا۔اس محبت کے نتیجے میں دو کتابیں ظہورمیں آئیں، دوسری کتاب کا نام ہی ”ترقی پسند اسلام (امپریٹیوز آف پروگریسو اسلام) کے لوازم“ ہیں، ۲۰۱۷ میں طبع ہوئی۔ میرا یہ سفر ٹکُن اور نٹورک آف اسپرچول پوگرییسوسے بہت زیادہ متاثر رہا جس سے میرا تعارف تقریبا دس سال پہلے اس وقت قائم ہوا جب میں ترقی پسند اسلام پر ریسرچ کر رہا تھا۔

اس مضمون میں میَں اپنی پچھلی علمی کاوشوں کو بنیاد بنانا چاہتاہوں تاکہ ترقی پسند اسلام کے تصور کو اجاگر کر سکوں اور اسلامی راویت اور نظریہ سازی کے منھج، اسکی دینیات اور اس کے معیاری لوازمات پر روشنی ڈال سکوں۔ ایسا کرنے کے لیے میں ایک کم معروف مگر مستند اسلام کی تفہیم پیش کرنا چاہتا  ہوں جو یقینی طور سے بہت سے مسلم اور غیر مسلم افراد کی سوچ کو اسلام کے تئیں بدل دے گا کہ اسلام کیا تھا اور کیا ہو سکتا ہے۔

تعارف اور جائزہ:

ترقی پسند اسلام ایک ایسی اصطلاح ہے جو اسلامی روایت اور جدیدیت کے اہم اپروچز کا احاطہ کرتی ہے جسمیں ترقی پسندی یعنی پروگریسو لفظ  جب اس کا استعمال ترقی پسند اسلام میں کیا جائے تووہ  ”تنقید“ یا تنقیدی عمل  (مثال کے طور سے لندن سے شائع ہونے والا مجلہ کریٹکل مسلم) کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس معاصر علمی فکر کے پس پردہ اہم ترین نظریہ ساز اور عام مفکرین اکثریتی مسلم ممالک اور اقلیت مسلم حوالوں سے ہیں جن میں مصری دانشور حسن حنفی،  بوسنیائی انیس کارِک، ہندوستانی دانشور اصغر علی انجینیر، انڈونیشین مفکرنورکولش ماجد، افریقہ سے سعدیہ شیخ، ابراہیم موسی، اور فرید اسحاق، ایران سے زیبا میر حسینی اور محسن خادیوار، مغرب سے محمد عابد الجابری، کناڈا سے یاسمین زین،ہاشم کمالی افغانستان۔ملیشیا سے، امیریکا سے کیشا علی، تنزانیہ۔امریکا سے عبد العزيز سچیدینا، عبد اللہ احمد النعیم سوڈان سے، پاکستان سے خالد مسعود، اور خالد ابوالفضل مصر۔امریکا سے کچھ اہم مشہور نام ہیں۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ ترقی پسند مفکرین اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد خواتین کی بھی ہے۔ ترقی پسند مسلم فکر ایک عالمی تحریک ہے جو مسلم برائے ترقی پسند اقدار، مساوہ اور اسی طرح کی تحریکوں سے جڑی ہے۔

اس کے کل تصور کے لحاظ سے ترقی پسند اسلام اپنے خیالات، اقدار، اعمال،اور مقاصد  وفا اور خلوص کی بنیاد پر   اپنی شناخت  قائم کرتا ہے جو مختلف پیرائے میں بیان کئے جاتے ہیں اور مختلف موضوعات کے ساتھ ابھر کر آتے ہیں اور یہ موضوعات ترقی پسند مسلمانوں کی تنقیدی رائے کے تعلق پر مشتمل ہے اس ضمنمیں  (۱) مسلط عالمی شمال کی اقتصادی، سیاسی، معاشرتی اور تہذیبی قوتیں (۲) پدرانہ نظام ، اپنی خود کی اسلامی میراث  کی انتہائی سخت تاویلات، اور (۳) تنویری جدیدیت اور   مابعد جدید فکر کے اہم اقدار پر بھی غور کرنا اہم موضوعات ہیں۔ یہ تنقید ایک ہی وقت میں نو روایتی اور استخلاصی اسلامی تسلط کی بحثوں پر جس میں جدیدیت کی بحثیں، حقوق انسانی، مساوات، عدل، جمہوریت،  اور مذہب کا ،معاشرے مقام اور کردار اور ان کی مغرب پسند نظریات اور تاویلات پربھی توجہ دینے پر ابھارتی  ہے جو کہ ساتھ ہی اقدار ، تصور اور تنویری قیاسات پر تامل کرنے کے عمل  کو بھی تقویت دیتی ہیں۔

ترقی پسندمسلم فکر کو غذا بہم پہونچانے والے نظریات میں سے مرکزی فکر روحانیت ہے اور یہ باہمی تعلقات کو صوفیت کے مثل اخلاقی فلسفہ سے پرورش کرتا ہے۔س سے میری مُراد ایک حد درجہ دانشورانہ صوفیت ہے جو کسی بھی طور سے زن بیزاری اور ماقبل جدید صوفی روایت میں کسی بھی طرح کی درجہ بندی کے عناصر کے بغیر ہی متحرک رہتا ہے۔ مزید یہ کہ ترقی پسند مسلمان خدائے تعالی کی کونیاتی فطرت پر زور دیتے ہیں اور خدا کی انسانیت کے لیے فکر پر  اپنے عقیدے کے عالمی ہونے پر بھی زور دیتے ہیں جو بالآخر انہیں مذہبی تکثیریت سے متاثر ہونے کی راہ ہموار کرتا ہے۔

اسلامی وراثت کے بو قلمون عناصر کو مضبوط کرتے ہوئے اور ان کی پرداخت کرنا، اسکی مبنی بر پدرانہ نظام کی تحقیر، زن بیزاری اور مذہبی تعصب  مخصوص تاویل سےن پرہیز دراصل ایک ایسی خصوصیت ہے جو ترقی پسند اسلام کے تصور کو مضبوط کرتی ہے۔ ترقی پسند  مسلم جديد آزاد بازار پر مبنی اقتصاد (نیو لبرل اکانامی)، سیاست  اور معاشرتی ڈھانچے، ادارے کے تسلط اور طاطقتیں جو نا انصافی والے نظام کی حمایت کرتی ہیں اس پر بے لاگ تنقید کرتے ہیں۔ طاقتوں کے یہ جھرمٹ اکثر  ”شہنشاہیت“ کے نام سے موسوم کئے جاتے ہیں اور ترقی پسند مسلم اسے یوں سمجھتے ہیں کہ اس نے انسان جسے خدا کا پیغام پہونچانا تھا اسے ایک اقتصادی صارف میں بدل کر رکھ دیا اور اکثریتی غریب  جنوبی ممالک اور اقلیتی امیر شمالی ممالک میں اقتصادی خلیج قائم کردی۔

ترقی پسند مسلم جہاد سے متعلق بحثوں کو ایک سیکوریٹی، جغرافیائی۔سیاسی  اور دہشت گردی سے متعلق تجزیوں اور نظریاتی سانچوں سے ہٹا کر داخلی۔فکری، اخلاقی اور اصولی اعتبار سے ایک غیر متشدد جد و جہد میں اور ان تمام طاقتوں سے جو ان کے تصور سے نبرد آزما ہو بدلنا چاہتے ہیں۔ترقی پسند مسلم اسلام کی فکری تراث کے تصور کی ماہیت انتہائی متحرک ہے اور انسانی طور سے بہت سے ماضی اور حال کے تاویل کی اُپج ہے۔ جبکہ ترقی پسند مسلم فکر  تہذیبِ اسلامی  اورا  صل اسلامی روایت (تراث) کے نصی مفہوم سے چمٹے رہنے کا نام نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور تنقیدی شغف کا نام ہے۔  اس لحاظ سے ترقی پسند اسلام کو تنقیدی اسلامی روایت پسندی کی ایک شکل کے طور پر تصور کیا جا سکتا ہے۔  ترقی پسند اسلامی شعور خود اسلامی روایت میں بہت اندر تک ضم ہے اور اپنے نقطہ نظر میں بلا شبہ ایک کاسموپولیٹن شبیہ پیش کرتا ہے۔  اہم بات یہ ہے کہ ترقی پسند اسلام کا نظریہ اور عمل عقیدے کےمعیار کو ترک کیے بغیر جدیدیت کی روشنی میں اسلام کے مفہوم کو نئے سرے سے متعین کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترقی پسند مسلمانوں کا جدیدیت کے بارے میں نقطہ نظر، اور اس کے ساتھ تال میل بھی اسلام اور جدیدیت کے درمیان یا اسلام اور مغرب کے درمیان بحث کی تاریخ کو مسئلہ پر خاصی توجہ  صرف کرتا ہے۔  مزید برآں، مغرب میں جدیدیت کی طرف لے جانے والے تاریخی عمل کے بارے میں ترقی پسند مسلمانوں کی سمجھ انہیں ثقافتی اور بین التہذیبی عمل کا نتیجہ سمجھتی ہے، اس طرح  اس دعوے کو چیلنج کرتی ہے کہ جدیدیت خالصتاً مغربی تہذیب کی پیداوار ہے۔   لہذا، اس لحاظ  سے ترقی پسند اسلام ’’مغربی‘‘ نہیں ہے۔

ترقی پسند اسلام میں "ترقی پسند” کیوں ہےترقی پسند مسلم فکر میں نام کی تبدیلی کے لازمہ  کی حیثیت سے نظریہ ترقی کو امکان کے طور سے سمجھا جاتا ہے ۔دوسرے لفظوں میں ترقی پسند مسلم فکر ایک مغرب نزاد،یا ترقی کے تنویری خیال سے کسی طور بھی اپنا تعلق نہیں رکھتا، تصور ترقی میں اخلاقی ترقی بھی شامل ہے جو کہ مختلف شکلوں اور ذرائع سے ممکن ہے۔لہذا ترقی پسند مسلم فکر ترقی کی یکطرفہ نظریہ سازی یہ سے بالکل الگ ہو جاتی ہے خواہ وہ مغربی، سائنسی، سیاسی (مثال کے طور سے فوکویاما کا نظریہ) کسی اور فلسفیانہ (مثلا ہیگل کا نظریہ) زاویے سے ہی کیوں نہ ہو۔لہذا اس نکتے سے بھی اگر دیکھیں تو ترقی پسند اسلام ‘سیکولر’ نہیں ہے۔

ترقی کا تصور اور ترقی پسند مسلم مفکرین کی عقیدت سے ہے کہ اسلامی تعلیمات کا اولین مرجع دراصل قرآن اور سنت ہے،یہ بات بھی  اخلاقیات اور  شرعی مسائل تک پہنچنےکے لیے دراصل ترقی پسندانہ ہے،کیونکہ یہ عام روایتوں سے ہٹ کر ایک اخلاقی بصیرت کے تحت نیا سیاق چاہتا ہے۔ رقی پسند اسلام اس بصیرت سے خود کو ملحق دیکھتا ہے۔

ترقی پسند اسلام میں ترقی کا تصوراخلاقی اقدار مثلا عدل و انصاف کے بندھن میں بندھے نظر نہیں آتے ہیں۔یسا کہ بنی نوع انسان کا اجتماعی تجربہ یہ ثبوت دیتا ہے کہ اصولی طور پر خدا کی تخلیقی قوتیں اسے ہماری اجتماعی عقلی صلاحیتوں اور اجتماعی اخلاقی نظام کے پابند کر دیتی ہے،لہذا وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی بدل جاتے ہیں۔ترقی پسند مسلم  فکر یہ مانتی ہے کہ ہر فرد اپنے عقیدے کے خلوص کے ساتھ خدائے برتر و بالا سے اس کے جمال و کمال اور رحمان ہونے کی حیثیت سے قریب ہے اور ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب ہمارا نظام ہر قسم کے جمود سے عاری ہو (جیسا کہ روایتی اور ماقبل جدید اسلامی روایت میں  ظاہر ہے)۔ترقی پسند اسلام اسلامی دینیات، اخلاقیات اور شریعت کو ایسا نظریہ فراہم کرتا ہے جو  اخلاقی کمال کے کبھی ختم نہ ہونے والے سوال پراخلاقی اعتبار سے بہتر ہونے کے مواقع فراہم کردے۔

دوسری وجہ جس میں ترقی پسند مسلم فکر میں ترقی  پسند کا مقصد دراصل ان دینیات اور فلسفیات ،تعبیری اپروچ،معاشرتی، سیاسی اور اخلاقی اقدار جودنیا بھر میں پھیلی ترقی پسند مذہبی/روحانی تحریکات میں موجود ہیں ان سے ایک مضبوط تعلق کو اجاگر کرناہے جیسے کہ نیٹ ورک آف اسپیریچول پروگریسو۔

ترقی پسند اسلام کے معیاری لوازمات

اسلامی روایت کی نظریہ سازی اور تعبیر کے لحاظ سے ترقی پسند اسلام کچھ لازمی خصائص کے ساتھ ساتھ بیان کئے جاتے ہیں۔رقی پسند مسلم فکر میں معیاری نظریہ کے ذریعے میَں کچھ دینی، اخلاقی اصول اور ضوابط کی جانب رہنمائی کرنا چاہوں گا جس کے بارے میں عامۃ الناس کا یہ خیال ہے کہ وہ عملی اصول، اسلامی پیغام اور اسلام کے بنیادی نصوص کے مطابق ہیں۔خصوصی طور سے یہ معیاری لوازم تمام انسانیت کے لیے مساوی سمجھے جاتے ہیں اور ان کا مقدمہ اس عقیدے پر رکھا  جاتا ہے کہ وہ نظریہ حق اور انصاف، قیاس اور گمان سے پہلے ظہور میں آئے جن کا کوئی لازمی تعلق عقیدہ سے نہیں۔اسلام کو بطور ایک مذہبی روایت کے حوالے سے دیکھیں تو یہ ایک ایسے اسلام کو پیش کرتا ہے جس کا ایک اخلاقی مذہبی تصور ہے جس کی بنیاد ایک ایسی چیز میں رکھی گئی ہے جسے ہم اصطلاح میں ایتھکس آف رسپانسبلٹی یا اخلاقیات برائے جوابدہی  کہہ سکتے ہیں ۔ اس میں بنی نوع انسان خدا کے مخلوق پر نگران کی حیثیت سے انصاف کے ساتھ عمل کرتے ہیں اور انصاف کے ساتھ لڑتے بھی ہیں خواہ یہ خود ان کے ذاتی مفاد کے خلاف ہو۔

معرفتی توسع اور منہجی تغير 

معرفتی توسع اور منھجی تغیر سے ہماری یہ مراد ہے کہ ترقی پسند اسلام کی وکالت کرنے والے عام طور سے دو نوعی تفریق کو مانتے ہی نہیں جیسے کہ روایت برخلاف جدیدیت،سیکولرازم برخلاف مذہب،یا پھر سیدھے سادھے تجزیے جیسا کہ جدیدیت یعنی مغربی یا پھر یہودی۔عیسائی فکری/تہذیبی روایت۔اسی طرح ترقی پسند اسلام کے موافقین دوسری ثقافتوں کے ساتھ ساتھ ترقی پسند ایجنڈا کے تحت مستقل گفتگو اور مکالموں میں بھی مشغول رہتے ہیں جس میں وہ نہ صرف مبنی بر عقیدہ تحریکوں سے اثر قبول کرتے ہیں جیسا کہ لبریشن تھیالوجی  یا دینیات حریت بلکہ ان  طریقوں سے بھی مدد لیتے ہیں جن کی بنیاد عقیدے کے سانچے سے ہٹ کر رکھی جاتی ہے جیسا کہ سیکولر ہیومنزم،یا سیکولر انسان دوستی۔مَیں ترقی پسند مسلم فکر کے اس پہلو کو معرفتی ترقی پسندیت کہتا ہوں۔ ہ نکتہ دراصل اسلامی روایت کے تیئں غیر ترقی پسندانہ اپروچز پر مبنی تصور کے خلاف ہے جس میں اسلامی روایت کے تصور کی بنیاد معرفتی گرفتاری یا منھجی اغلاق پر رکھی جاتی ہے ۔  ان طریقوں کے مطابق اصل یا پھر سچ دراصل ماضی میں مقید ہے اور ماضی  حال پر حاوی ہونا چاہتا ہے جس میں کسی بھی طرح کسی بھی فہم کے لیے کسی بھی معنی خیز، نتیجہ خیز، تخلیقی اور اختراعی  سوچ کےلیے کوئی گنجائش نہیں۔

اسلامی دینیاتِ حریت

ترقی پسند مسلم باحثین کا یہ خیال ہے مسلمان جس طرز کی سماجی سیاسی اور بڑے پیمانے پر جغرافیائی سیاسی تناظر میں اپنی زندگی گزار رہیں ہیں اسمیں دینیات حریت ایک اہم لازمی امر کی حیثیت رکھ سکتا ہے۔ہ سیاق نوآبادیات کی انتہائی  ہیبت ناک واقعہ کو بھی شامل ہے،امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی  غربت،اور امیر اور غریب مسلمان کے درمیان خلیج؛اسلامی بنیاد پرستی/کٹر اسلام کے مختلف جارحانہ شکلوں کا اور نیو لبرل شہنشاہی استعماریت سے اتحاد د جس کا مرکز  مغرب میں ہے (یا پھر یہ کہہ لیجئے خصوصی طور سے امریکہ میں ہیں)؛اور جس میں بہت سے سیکولر، لبرل، جدیدیت پسند اور قدامت پسند سیاسی، اقتصادی، معاشرتی طور سے سیاسی اسلام کی بے ثمر شکلیں بھی شامل ہیں۔

اس کے برعکس اسلامی دینیات حریت جس کی نظریہ سازی مسلم مفکرین کے ذریعے سے کی گئی ہے،مذکورہ بالا سطروں میں یہ جانچنےکی کوشش کی ہےکہ دنیا کے مختلف حصوں میں دینیات حریت کے علمبرداروں نے عیسائی دنیا کے حوالے سےخاصہ متاثر کیا ہے مثال کے طور سےگوستاو گوتیریز،کامیلو توریس ریستریپو،لیونارڈو بوف،کچھ اہم نام ہیں۔اسلامی دینیات حریت میں اہم مفکرین میں سے ایک نام شبیر اختر کا بھی ہے وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ اسلامی دینیات حریت دراصل عیسائیت کو اسلامیانے کا نام ہے۔ترقی پسند مسلم فکر کے تعلق سے ایک اہم مثال ہے،جو اپنا اصل ان تحریکوں اور مکتب فکر سے لیتی ہیں جنکا اسلام کے تاریخی تجربہ سے  اولا تو کوئی تعلق نہیں لیکن یہ اسلام کے تصورات،اقدار، مقاصد اور لوازم سے خاصی مطابقت رکھتے ہیں۔

معاصر  عیسائی دینیاتِ حریت  جن کے ماخذ سے مسلم ترقی پسند مفکرین متاثر نظر آتے ہیں وہ بھی عقیدےکو بنیادی سطح پر ظلم اور ناانصافی کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایک اہم عنصر مانتے ہیں۔ یہ مفکرین بہت سے زاویوں سے خود کو اہم اور مرکزی میدان سے اسلامی دینیات کی مصلحت پسند دینیات سے کسی قدر دور ہوچکے ہیں جو کہ اسلامی دینیاتِ حریت کے مقاصد، اقدار اور نظریات سے کسی طور پر بھی میل نہیں کھاتے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے۔نتیجتا،ترقی پسند مسلم مفکرین نے اپنے عقیدے کی تعبیر نو کے لیے انتہائی نفیس طریقہ کار اور اصول تفسیر کو استعمال کیا ہے بشمول اہم دینیاتی تصورات تاکہ دینیات حریت کے تییں اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ ترقی پسند مسلم مفکر کے لیے وحی کا تصور محض ایک دینیاتی تصور نہیں بلکہ انسانی تصور ہے جو خدا کے بجائے انسانیت کو تاریخی پروسیس میں بطور ایک مطالعے کے پیش کرتا ہے؛ (۲) مثال کے طور سےاسلام کے پانچ اہم ارکان کو اپنی حیات اور ساخت کے اعتبار سے مذہبی خیال کرتا  ہے مگر ساتھ ہی اسے سیاسی بھی مانتا ہے اس لیے کہ اس کے موادلوازمات آزادی رائے، عمل کی آزادی , کسی کے اعمال کی ذمہ داری لینا, لہذا انصاف اور ظلم کے خلاف جد و جہد کرنا سیکھاتا ہے ؛ (۳)اور تصور توحید (جو عمومی طور سے سے اسلامی دینیات تصور (وحدانیت کو بیان کرنےکے لیے ہے) مبنی بر عمل عقیدہ ہے جو ظالمانہ اعمال سے تمام بنی نوع انسان کو نجات دلانے کے لیے اور ظلم و استبداد اور ناانصافی کے سامنے مزاحمت کرنے کے لیے بھی برانگیختہ کرتا ہے۔

ترقی پسند چند مسلم فکر کی مختلف الجہات تنقیدی رویے سے شرف حاصل کرتے ہوئے ترقی پسند مسلم مفکرین بھی ان تمام قوتوں اور ساختیات کی جانچ پڑتال کرتے رہتے ہیں جو ظلم اور نا انصافی کو برقرار رکھنے کے لیے رنگ، نسل اور تشخص کی پرواہ کیے بغیر ذمہ دار ہے خواہ یہ اسلامی روایت کے اندر سے ہو یا اسلامی روایت کے باہر سے۔ترقی پسند اسلامی دینیات بطور ترقی پسند دینیاتِ حریت تقلید پسندی پر صحیح عمل کو فوقیت دیتا ہے۔انسان اور انسانی کیفیت اس قسم کی دینیات کا مرکزی پہلو ہے۔ مزید یہ کہ اس طرح کی دینیات کی اہم فکر یہ بھی ہے کہ الوہیاتی تجربہ در اصل انسان کا انسان کے ساتھ تعامل سے ہوتا ہے نہ کہ الہیات پر مجرد طریقے سے غور و فکر کر کے یا پھر فطرت کا مشاہدہ کر کے یا مختلف قسم کی روحانی مشقوں میں خود کو مبتلا کر کے۔

یہ الہیاتی نسبت، قیاسی استدلال کے بجائے استنباطی استدلال سوچ کی موافقت کرتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد اور نقطہ آغاز انسانی حالت کی دنیا ہے جس میں اسے ناقابل یقین تنوع (بشمول مذہبی) میسر ہے لہذا، بائنری (ثنوی) اصطلاحات میں سوچنا بہت مشکل ہوتا ہے (مثلاً موت کے بعدنجات ملنا بمقابل  نجات نہ ملنا)۔  اس کے علاوہ، یہ نسبت مذہبی تکثیریت کے لیے موافق ہونے کا زیادہ امکان رکھتی ہے۔  یعنی یہ بنیاد کہ تاریخ کے مصداق (نیز حال اور مستقبل میں بھی) میں سے کوئی بھی اصلاح شدہ مذہبی روایات معروضی اور مکمل طور پر الٰہیات تک پہونچنے کے قابل نہیں، اس طرح کوئی بھی خدا پر اجارہ داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔  یہ، بدلے میں، اس تصور کی ترجمانی کرتا ہے کہ، ترقی پسند الہیات کے مطابق، خدا کا تصور انسان کے لیے ان کی عقل، دماغ، ذہن یا ’دل‘ کے ذریعے پوری طرح سے قابلِ گرفت نہیں ہے۔

 اس طرح کی مذہبی نسبت کا مطلب یہ بھی ہے کہ مقدس صحیفے ہمیں انسانوں کو پڑھنےتشریح کے آسان عمل کے ذریعے خواہ غیر واضح یا واضح طور پر خدا کی درست تفہیم پیش نہیں کر سکتے۔  اس کے بجائے، یہ انسانی ترجماناور اس کے جذبات اور ہنگامی حالات کی تشریح کے اس عمل کا سب سے نمایاں طور پر تعین کرنے والا محرک ثابت ہوتا ہےجس کا تصور کبھی نہ ختم ہونے والے متحرک عمل کے طور پر کیا جاتا ہے جو مسلسل عقل کےبڑھنے کے ساتھ ابھرتا رہتا ہے۔  دوسرے لفظوں میں وحی اور حقیقت کے درمیان ایک نامیاتی اور جدلیاتی تعلق ہے۔  مزید برآں، یہ نظریہ قانون پر استدلال پر مبنی اخلاقیات کو فوقیت دیتا ہے۔  اس کا اصرار ہے کہ قانون کو اخلاقیات کی مستقل خدمت میں ہونا چاہیے اور اس قانون کو اخلاقیات کے بارے میں ارتقائی نظریات کے ساتھ تبدیل ہونا چاہیے جیسا کہ بنی نوع انسان نے تیار کیا ہے۔  یہ نظریہ یہ کہتا ہے کہ وحی کے بعد کے دور میں یہ ارتقاء صرف عقل/ ذہن سے چلتا ہے۔  مختصر الفاظ میں، یہ الہیات تکثیریت، تنوع، اور ان سب کے لیے بنیادی چیز کو قبول کرتا ہے اور یہاں تک کہ پروان بھی چڑھاتا ہے: یعنی غیر یقینی صورتحال یا  انسرٹینٹی کو ۔

 اسلامی روایت کے لیے انسانی حقوق پر  مبنی نقطہ نظر پچھلی تین سے چار دہائیوں میں ترقی پسند سیاست کو عصری زبان کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم کے طور پر انسانی حقوق کے  مباحثے کوداخلی فکر کا حصہ بنانے کی کوشش کی ہے جس کی توجہ ہر قسم کی عدم مساوات کے خاتمے پر مرکوز ہے جو مختلف سماجی ناانصافیوں کو برقرار رکھتی ہیں یا اس میں ملوث ہیں۔  دنیا بھر میں اسلام اور انسانی حقوق کی نظریاتی اور تصوراتی سطح پر مطابقت کا سوال اس سلسلے میں ایک نمایاں موضوع رہا ہے۔

 وسیع الفاظ میں بات کرتے ہوئے، ترقی پسند مسلم اسکالرز، دونوں کو تاریخی تناظر میں رکھ کر انسانی حقوق کی جدید گفتگو اور اسلامی روایت کے درمیان مطابقت یا تعلق کے مسئلے سے رجوع کرتے ہیں۔  انسانی حقوق کی غیر مغربی شکلوں کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے، جیسا کہ بیوینچورا ڈی سانتوس، ترقی پسند مسلم اسکالرز انسانی حقوق کی دو اسکیموں کے درمیان تعمیری ٹکراوکے لیے ایک نظریاتی فریم ورک تیار کرنے میں مصروف ہیں۔  تجریدی تصورات کی سطح  پر ایسا کرتے ہوئے، ترقی پسند مسلم اسکالرز مسلم اکثریتی معاشروں کے سماجی  تانے بانے میں انسانی حقوق کی  بحث کو اخلاقیات اور ثقافت سے باندھنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان حقوق کو ان کے سیاسی اور قانونی دائروں میں زیادہ مؤثر طریقے سے حاصل کیا جا سکے۔   اس طرح ترقی پسند مسلم اسکالرز اسلامی انسانی حقوق کی اسکیموں کو  معاشرے میں وجود میں لانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جو مسلمانوں کے تاریخی، اخلاقی اور مذہبی جذبات کے لیے حساس ہیں لیکن جو تصور میں جدید انسانی حقوق کی اسکیموں کے ساتھ متفق یا ہم آہنگ ہیں۔  دوسرے لفظوں میں، ترقی پسند مسلم مفکرین کا مقصد نظریاتی طور پر اسلامی نظریے اور انسانی حقوق کی جدید اسکیم کے درمیان تصوراتی مطابقت کی تصدیق کرنا ہے۔  ایسا کرنے کے لیے، ترقی پسند مسلم اسکالرز عالمی اسلامی نظریہ، قرآن و سنت کے چشمے کی تشریح کے لیے ایک تازہ، پائدار اور منظم طریقہ کار کو تیار کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔  یہ طریقہ کار عقلی اسلامی الہیات اور اخلاقیات پر مبنی ہے جسے مختصراً اوپر بیان کیا گیا ہے، ساتھ ہی ساتھ وہ طریقے  الٰہیاتی آنٹولوجی (انطولوجی) کے ایک خاص تصور پر مبنی ہیں جس کے  اصول عدل اور رحم  کے تصورپر منضط کئے جاتے ہیں۔  ان اقدار کو عالمی اخلاقی اقدار کا ماخذ سمجھا جاتا ہے جو پوری انسانیت پر یکساں طور پر قابل اطلاق ہیں۔  یہ استدلال اس بنیاد پر ہے کہ ہر انسان کو خدا کی ایک منفرد تخلیق تصور کیا جاتا ہے جس کے پاس برابری، وقار، اخلاقی قدر اور اخلاقی ادارہ ہے۔  ترقی پسند مسلم اسکالرز کے مطابق یہ نظریہ خود قرآنی عالمی نظریہ میں گہرائی سے سرایت کر گیا ہے۔  لہذا، ہر فرد انفرادی سطح پر اور سیاسی سمیت مختلف برادریوں کے افراد کی سطح پر یکساں طور سے ناقابل تنسیخ حقوق سے محظوظ ہونے کا حقدار ہے۔

اسلامی الہیات اور اخلاقیات کے لیے عقلیت پسند اور سیاق و سباق پر مبنی نقطہ نظر سماجی و اخلاقی اصولوں اور اقدار کی نوعیت اور اسلامی قانون اور فقہ کے ساتھ ان کے تعلق سے متعلق مسئلہ ترقی پسند مسلم فکر کا ایک اور نمایاں موضوع ہے۔  بہت سے طریقوں سے، ترقی پسند مسلم فکر کے حامی عمومی طور پر اخلاقیات کے  مسئلے کو اسلامی روایت کے لیے سب سے اہم چیلنج سمجھتے ہیں۔ ان مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے ترقی پسند مسلم اسکالرز (دوبارہ) دریافت/ بازیافت اور اسلامی الہیات اور اخلاقیات کے لیے عقلیت پسندانہ نقطہ نظر کو مزید استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

 ایسا کرنے کے لیے، ترقی پسند مسلم اسکالرز خاص طور پر دو تشریحی طریقہ کار پر انحصار کرتے ہیں۔  ایک اصطلاح "جامع سیاق و سباق” اور دوسرا "ٹیلیولوجیکل” یا "غائی” قرآنسنت پر مبنی  فلسفہ تفہیم۔  جامع سیاق و سباق کی بنیاد اس خیال پر رکھی گئی ہے کہ قرآن اور سنت میں پیش کردہ سماجی اور اخلاقی-قانونی احکامات بڑی حد تک مروجہ روایتی اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں لیکن ان کی ابتدا نہیں کرتے۔  اس کا اطلاق صنفی تعلقات سے متعلق قوانین پر ہوتا ہے (مثلاً وراثت کے قوانین، طلاق کے قوانین) اور جسمانی سزاؤں سے متعلق قوانین (جنہیں حدود کہا جاتا ہے) کے ساتھ ساتھ دیگر قوانین۔  اس لیے انہیں اسلامی تعلیمات کے آفاقی پہلوؤں کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔  بامقصد اسلامی فلسفہ تفسیر اس یقین کے ساتھ شروع ہوتی ہے کہ اسلامی تعلیمات کے بنیادی نصوص میں پائے جانے والے سماجی اور اخلاقی۔شرعی عناصر، جب جامع اور سیاق و سباق کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ بعض اخلاقیات کی طرف اشارہ کرتے ہوں خواہ وہ بظاہر قرآن و سنت   کی اخلاقیات کے دائرے میں نہ آتے ہوں۔  یہی وہ راستے ہیں جو بعض اخلاقی آدرشوں اور اقدار کی صورت میں ظاہرہوتے ہیں، جن کو اسلامی اخلاقیات اور قانون پورا کرنے اور محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس بات سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ ان اخلاقی اقدار اور نظریات کو نئے سیاق و سباق کی روشنی میں نئے بیانات اور تصورات کی ضرورت ہوگی۔ اس خیال کے مطابق، جو ایک موقع پر معروف عمل تھا وہ اب نئے تناظر میں اسلامی اخلاقی نظریات کی تکمیل کے لیے مناسب نہیں لگتے۔  مثال کے طور پر، جب کہ قرآن اور سنت عدل کے تصور پر زور دیتے ہیں، اس کے لیے اس دنیا میں مسلمانوں سے مختلف چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے جو جنس، نسل، طبقے، سرمایہ داری اور نوآبادیات کے بارے میں بات کرتی ہے جو کہ قرآن کے نزول کے وقت نہیں تھے۔

 اہم بات یہ ہے کہ دونوں اصول عقلی الہٰیات اور اخلاقیات پر مبنی ہیں جو تشریحی طور پر روح کو اسلامی اخلاقیاتقانون  پر فوقیت دیتے ہیں۔  دوسرے لفظوں میں، ترقی پسند اسلامی فسلفہ تفہیم کی خصوصیت بنیادی اسلامی متون کی تشریح میں سیاق و سباق اور تاریخ کے کردار (یعنی تشریح کی پچھلی طبقوں کی نوعیت) پر ان کے انٹولوجیکل الہیاتی فطرت  پر سوال اٹھائے بغیرزور دینے سے ہوتی ہے۔  یہ تشریحی طریقہ کار،  ترقی پسند مسلم فکر کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ روایتی اسلامی قانون، شریعت اور اخلاقیات کے فلسفہ تفہیم کی قید سے بچ سکے۔  مزید برآں، یہ نقطہ نظر عدل و انصاف اور صنفی مساوات جیسی اخلاقی اقدار کے معاصر تصورات کے ساتھ ہم آہنگ بھی ہے۔

  معاشرتی اور صنفی انصاف

 معاشرتی اور صنفی انصاف کے لیے وابستگی، بشمول مقامی اسلامی حقوق نسواں کا آغاز، اسلامی روایت کے لیے ترقی پسند مسلمانوں کے نقطہ نظر کا ایک اہم ستون ہے۔  اس سلسلے میں بہت سے ترقی پسند مسلم اسکالرز نے انتہائی منظم اور نفیس غیر پدرانہ قرآن-سنت حدیث کے نقطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ماڈلز تیار کیے ہیں جو اسلام کی صنفی جواز کی توثیق کرتے ہیں اور مروجہ پدرانہ متبادلات کا مقابلہ کرتے ہیں۔  یہ غیر پدرانہ نظام قرآن-سنت کے ماڈلز پچھلے حصے میں بیان کیے گئے تشریحی اصولوں کی نوعیت کے حامل ہیں۔

 اگرچہ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ حقوق نسواں اور اسلام دونوں انتہائی اہم تشخیصی تصورات ہیں جو اسلام اور جنس پر بحث میں حصہ لینے والے مختلف محرکات کے لیے مختلف معنی نکالتے اور رکھتے ہیں، ترقی پسند مسلم اسکالرز کا خیال ہے کہ ‘فیمنزم’ کی اصطلاح اسلامی روایت کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔  مندرجہ ذیل وجوہات کی ایک بڑی تعداد جن میں اسلامی حقوق نسواں کا وجود مصنوعی تصوراتی تضادات کو ختم کرتی ہے اور اس فرق کو مٹانے کی بھی کوشش کرتی ہے جو مذہب بمقابلہ سیکولرازم، ‘مشرق’ بمقابلہ ‘مغرب’ اور جدیدیت بمقابلہ روایت کے درمیان قائم ہیں اور مسلم خواتین کے حقوق کا انکار کرتی ہیں؛ (ب)یہ بنیاد کہ حقوق نسواں کے تعلق سے اس وقت تک کوئی دیرپا اور پائیدار فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا جب تک کہ خاندانی اور صنفی تعلقات کے پدرانہ تصورات پر بحث، چیلنج اور اسلامی فریم ورک کے اندر  ہی مشکلات سے نہ نپٹا جائے(ج) اسلام کو ایک معیاری روایت کے طور پر تصور کرنے میں صنفی انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہے۔

مذہبی تکثیریت اور تنوع کا اثبات

 ترقی پسند مسلم اسکالرز متعدد سطحوں پر تکثیریت کے عمومی جواز کی نظریہ سازی اور تصدیق کرتے ہیں۔  اس کے علاوہ جو میں نے اوپر بیان کیا ہے، ان میں مذہبی متون کو سمجھنے کی سطح پر ناگزیر تکثیریت (فلسفہ تفہیم صحیفہ استدلال)، اور مذہبی تجربات کی سطح پر شامل ہیں۔  کچھ مفکرین اس تکثیریت کو رضائے الہی سمجھتے ہیں۔  ایسا کرتے ہوئے، وہ ماقبل جدید اسلامی روایت میں موجود تکثیری رجحانات کو مزید استوار کرتے ہیں جیسا کہ مثال کے طور پر ابن العربی اور جلال الدین الرومی جیسے بزرگوں کی تحریروں میں پایا جاتا ہے۔  تاہم، ترقی پسند مسلم فکر مابعد جدید تکثیریت بنیاد پرست شکلوں کو قبول نہیں کرتی ہے بلکہ تکثیریت کی بنیاد پر سچائیوں کی معقول تشریح کی خواہاں ہے اور عام طور پر، فلسفے کے نقطہ نظر کے مطابق مذہبی تکثیریت کی معیاری جواز کا بھی دفاع کرتی ہے۔

 تکثیریت اور تنوع کی یہ پہچان، بشمول  مذہب کے دائرے میں ترقی پسند مسلم فکر میں بہت سے اہم کام انجام دیتی ہے۔  مثال کے طور پر، تنوع اور تکثیریت کا نظریہ انسانی  اخلاقی ذمہ داری کی بنیاد رکھتا ہے کہ وہ انصاف پسند اور متواضع ہو۔  تکثیریت  اور تنوع کو بھی فلسفیانہ طور پر انسانی حالت کے حقیقی معنی کو سمجھنے  کے لیے پیش کیاجاتا ہے۔ مندرجہ بالا سطریں، مختصراً، ترقی پسند مسلمانوں کے عالمی منظرنامے کا ایک مختصر جائزہ ہے۔ْ

نتیجہ

مجھے یقین ہے کہ ترقی پسند اسلام ان بہت سے چیلنجوں کا بہترین جواب دیتا ہے جن سے موجودہ مسلمان نبرد آزما ہیں اور یہ کہ دوسرے ترقی پسند ذہن کے ساتھ روحانی، مذہبی سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی پسند قوتیں، انسانی روح اور درحقیقت خدا کی تمام تخلیقات کی نشوونما میں اپنا تعاون کر سکتی ہیں۔ خاص طور پر، میں امید کرتا ہوں کہ ترقی پسند اسلام کے نظریہ اور عمل سے جڑے نظریات مسلمانوں اور غیر مسلم دونوں کے درمیان اسلام کی نوعیت اور مقام کے بارے میں موجودہ نظریات کو بدل سکتے ہیں کیونکہ وہ اسلام کی بنیاد پر ہیں۔ مزید  ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ’ کے دور میں منطقی تحفظ؛ اسلام بطور غریب  اور اجنبی تارکین وطن کا مذہب؛  اسلام مشرق وسطیٰ اور دوسری جگہوں پر ظالم آمروں کے مذہب کے طور پر مسلم اکثریتی دنیا میں اسلام کو ایک کائناتی، فکری اور اخلاقی طور پر ایک قوت کے طور پر دیکھنے کے لیے جو پوری انسانیت کے لیے رحمت اور خیر کا سبب ہے کے طور سے بھی نمایاں کردار ادا کرسکتا ہے۔

 (پروفیسر اديس دُدریجا کےانگریزی مضمون پروگریسیو اسلام کا ترجمہ ہے۔ ادیس دُدریجا گِرِفِتھ یونیورسٹی کےاسکول آف ہیومینٹز، لینگویجز اینڈ  سوشل سائنس میں لیکچرر ہیں۔)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔