ترقی پسند مسلم فکر اور پدرانہ نظام کا خاتمہ

پروفیسرعدیس دُدرِیجا

(گرفتھ یونیورسٹی، آسٹریلیا)

ترجمہ: ڈاکٹر سعد احمد

ایک ایسے شخص کی حیثیت سے جو جنس اور مذہب سے متعلق بحثوں کا تتبع دو  دہائیوں سے کر رہا ہے،اس موضوع  پربالخصوص اسلامی روایت سے متعلق  ایک شوہر، باپ اور دنیا کے سنجیدہ شہری کے حیثیت سے تقریبا ایک دہائی سے لکھتا رہا ہوں اور مستقبل کے بارے میں بھی انہتائی فکر مند ہوں، میں اس نیتجے پر پہونچا ہوں کہ تین ایسے ستون ہیں  جس پر پدرانہ نظام اور اس کے تصور کی جڑیں قائم ہیں۔

۱۔ روایتی رجولیت

۲۔ جنسی مخالفتیت

۳۔ پدرانہ غیرت

 میرے خیال میں یہ تین تصورات اور انکے علاوہ دوسرے مختلف مزعومات ایسے ہیں جو ان عقیدے، خیالات اور اقدار کی تشکیل کرنے میں خاصے مددگار ہیں اور مختلف قسم کی  اقتدار کے استحصالی انداز اور غیر متوازن تعلقات قائم کرنے میں اور خواتین کے حقوق، تجربات اور علوم (مذہبی) کی تشکیل کی خاطر ابھرنے والی آوازوں  کو منظم طور سے سلب کرنے میں بالخصوص اخلاقیات (مذہبی) کی تشکیل  میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس مقالے کااہم مقصد  مذکورہ نظریات اور تصورات کی وضاحت کرنا  ہے۔ یہ بات شروع ہی میں بتا دینا لازمی ہے کہ نطریات اور تصورات کو جو پدرانہ نظام کے تصور کو مہمیز فراہم کرتے ہیں وہ مختلف مذہبی روایتوں کے لیے خود بخود روایت پسندی کے  اپروچ  کے ساتھ ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ بہرحال، جنسی مخالفتیت سےمتعلق بحث اور پدرانہ غیرت جس کا ذکر میرے اس مقالے میں اور ما قبل جدیدیت کی اسلامی تاویلی روایت میں  خاصی تفصیل سےہے، مزید یہ کہ معاصر تعبیرات میں بھی اس کی بہت اہمیتہے،ان پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ میں اس مقالے کے آخری حصے میں مختصرا یہ بھی بتانے کی کوشش کروں گا کہ کیسے  پدرانہ نظام اور اس کے گنجلک معیار و اقدارسے اعراض کیا جائے۔

پدرانہ نظام اور روایتی مردانگی:

مندرجہ ذیل سطروں میں مَیں پدرانہ نظام کے تصور پر ایک خاص نقطہ سے تنقیدی نظر  ڈالنے کی کوشش کروں گا جو کہ مشہور نظریہ ساز کِلمارٹِن  کے روایتی مردانگیسے متعلق نقطہ نظر سے ہے۔ روایتیمردانگی پدرانہ نظام کے اقدار اور معیارات کے اساسی ماخذ میں سے ہے۔ ان اقداراور معیارات میں قوت و اقتدار،مقابلہ آرائی، جارحیت، تسلط اور جنسی فتح و غلبہ شامل ہے۔ پدرانہ نظام طاقتور مردوں کے دوسرے مردوں  پر، مزید یہ کہ عورتوں اور بچوں پر غالب ہونے کے لیے ایک دوہرے نظام کی حیثیت رکھتا ہے۔ پدرانہ نظام تسلط حاصل کرنے کا نظام ہے جو کہ ایک خاص قسم کے تصور پر مبنی ہےاورانسانی وجود کے تمام تر معاشرتی اور انفرادی کیفیت پر ظاہر ہوتا ہے۔ یہ عامته الناس کی سوچ، سلوک اور محسوس کرنے کے طریقے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

پدرانہ نظام رجولیت کی روایتی اخلاقیات میں بہت اندر تک جا گزیں ہے جسے بہت سے مردوں اور عورتوں کے لیے ایک مثال اور معیار کے طور سے حمایت حاصل ہے۔ اس کی بنیاد مدارج و مراتب کی تخلیق اور مقابلے پر رکھی جا سکتی ہے جس کے برے نتائج سامنے آسکتےہیں۔ سرمایہ کاری بھی اسی اجتماعی معیار پر تسلط اور استبداد کے ملتے جلتے خصائص پر مبنی ہے۔ پدرانہ نظام اپنے فوری اعادہ میں  سرمایہ دارانہ اخلاقیات اور معاشرتی نظم و نسق میں سرمایہ کاری کے طریقوں سے خود کو قوت بخشتا ہے۔ پدرانہ نظام ایک ایسی بنیاد رکھتا ہے جس سے سرمایہ داری کا نظام بھی پھلتا پھولتا ہے جبکہ سرمایہ داری کے نطام کو پدرانہ نظام کے مراتب اور اس کی ساخت کی وجہ سےتائید ملتی ہے۔دونوں جب اکٹھے ہوتے ہیں تو ایک ایسے اقتصادی نظام کو جنم دیتے ہیں جس کا خداحرص و طمع ہے اور کسی بھی قیمت پر زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا چاہتاہے۔ اس نظام میں کامیابی کی پیمائش ایک نا ختم  ہونے والا منافع کی ضروت، بڑے بڑے مارکیٹ کےشئیرز، بہترین اسٹاک مارکیٹ، عسکری صلاحیت اور جمہوری طریقے سے چنے گئے سیاست دانوں  یا پھر جاذب نظر خواتین کی تعداد پر جسے ایک مرد رِجھا سکتا ہو، پر ہوتی ہے۔ کسی بھی طرح سے ہم دیکھیں تو دنیا میں بینکاری نظام کی اکثریت کسی نا کسی طور سے معاشی پدرانہ نظام میں الجھی ہوئی ہے۔ پچھلی دہائی میں امریکہ کا مالی بحران  کوہمارے باہمی ربط کی وجہ سے دنیا بھر میں سنا گیا جو کہ سرمایہ دارانہ نظام اور پدرانہ نظام میں ہم آہنگیت کے شواہد میں سے ایک ہے۔

یہ دونوں مفادات اور عالمی نظریات مغربی لبرل جمہوریتوں کے بہت سے سیاسی نظاموں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ پدرانہ اور سرمایہ دارانہ درجہ بندی کی استحصالی نوعیت کے ذریعے پیدا ہونے والی رقم کو سیاسی مہمات کی مالی اعانت میں استعمال کیا جاتا ہے اور یہ دنیا میں بدعنوانی اور غیر جمہوری طریقوں کے بڑےماخذ میں سے ایک ہے۔ لہٰذا، وہ سیاسی نظام جن کی بقا پدرانہ اور سرمایہ دارانہ مفادات پر منحصر ہے، عالمی امن کے حصول میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہانس کنگ، ایک مشہور ماہر دینیات نے اس بات پر زور دیا کہ مذاہب کے درمیان امن کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بدقسمتی سے جب  سے پدرانہ نظام موجود ہے مذہب کی غالب تشریحات نے پدرانہ نظام کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ پدرانہ نظام نہ صرف مسلسل پیشن گوئی کے پیغامات کی اصل روح کو نمایاں طور پر کم کرنے میں کامیاب رہا ہے جس میں سماجی انصاف اور کمزوروں اور پسماندہ لوگوں کے تحفظ (اور ان کی آزادی کی راہ ہموار کرنے) کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا اور ان کے حق میں بات کی گئی تھی، بلکہ اکثر اس نظام نے اس راہ میں تعاون کیا ہےاوراپنے مفادات کی تکمیل کے لیے مذہبی نظریات کو مسخ بھی کیا ہے۔ جس چیز کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ مقدس نصوص کی پدرانہ تشریحات نہ تو ناگزیر ہیں اور نہ ہی وہ پیشن گوئی کی روح کے مطابق ہیں جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ پدرانہ اقدار، اصول اور اخلاقیات مذہبی محاوروں اور نعروں میں چھپ کر نہ صرف اصل پیغمبرانہ جذبے اور پیغام کو دھوکہ دیتے ہیں، بلکہ وہ اکثر ان مخصوص معاشی اور سیاسی مفادات کے ساتھ بہت اچھے سے نمو پذیر بھی ہوتے رہتے ہیں جن پر پدرانہ اور سرمایہ دارانہ عالمی نظریہ کا دفاع اور انحصار ہوتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ افسوس ناک ہے اور بہت زیادہ تکلیف کا باعث بھی ہے اور عالمی امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔ اس کے بجائے ہمیں امن اور ہمدردی کے نظریات کی ضرورت ہے جو سماجی انصاف اور سب کی دیکھ بھال کی اصل پیغمبرانہ روح کا احترام بھی کرتے ہوں۔

 ماحولیات کا انحطاط اور استحصال بھی پدرانہ نظام کی ہی دین ہے جو روایتی مردانگی کی اخلاقیات میں ڈوبی ہوئی ہے،اورسرمایہ دارانہ غلط فہمی سے یہ استحصال مزید بڑھا ہے جسکے مطابق زمین ہماری لامتناہی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ مسابقت کی ذہنیت اور ایک ہومو اکنامکس کی تخلیق، انسان کی ایک انوکھی نوع جس کی قدر صرف مادی منافع سے ہوتی ہے، کسی بھی اخلاقی رکاوٹوں سے الگ ہوتی ہے، اور جو دنیا کو منافع کمانے کی واحد تصوراتی عینک سے دیکھتا ہے۔ قدرتی رہائش گاہوں کی  ناقابل تلافی تباہی کے لیے ذمہ دار ہے جو درحقیقت انسانوں سمیت زمین پر موجود تمام زندگیوں کی بقا کے لیے تباہ کن نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔ ماحول کی یہ تباہی زمین کے محدود وسائل کے لیے پہلے سے سخت مقابلے کو بڑھا کر عالمی امن کے امکانات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔

  پدرانہ نظام، جس کا ماخذ روایتی مردانگی ہے، صرف معاشیات، سیاست، مذہب، اور ہماری زمین کے بارے میں رویے کے ایک مخصوص نقطہ نظر کو جنم نہیں دیتا۔ یہ بھی بعض شخصیت کی خصوصیات پر مبنی ہے۔ مسابقت اور تسلط پر اپنی توجہ کے ساتھ، پدرانہ شخصیت کی خصوصیات تکبر اور لالچ کو جنم دیتی ہیں، تعاون سے پرہیز کرتی ہیں، بامعنی مکالمے کی بے توقیری اور بے عزتی کرتی ہیں، اور عام طور پر ہمدردی اور دوسروں کی جائز ضروریات اور خواہشات کے تعلق سے غیرسنجیدہ بھی رہتی ہیں۔

 پدر شاہی اور صنف مخالفتیت کی تھیسس:

 آئیے اب آگے بڑھتے ہیں اور پدر شاہی کے دوسرے اساسی نظام صنفی مخالفت پر بحث کرتے ہیں یہ جملہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں؛ کہ (نو) روایتی (اسلامی) مذہبی  مکالموں میں   مردانگی  کا اخلاقی تصور دراصل نسائیت کے تصور کے خلاف واقع ہے۔ اس ’’صنفی مخالفتیت‘‘ کے نظریہ نے بہت سے مردانگی  پر مبنی نظریات اور عمل کو جو کہ صنف مخالف کے خلاف نہیں ہیں، جنم دیا ہے، یہ نظریات صنف کی معاشرے میں عمل و حرکت پر بھی خاصے طور سے اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ ایک طرف، صنفی مخالفت کا نظریہ تصوراتی طور پر مردانگی کو مذہبی علم اور تشریحی سند، روحانیت، عوام (یعنی سیاسی جواز) اور گھریلو امور میں اختر (یعنی خاندانی اختیار)، غیر معقول سطحوں کے خیال سے بھی جوڑتا ہے۔ جنسی حسد، اور یہاں تک کہ وجودی اور جسمانی برتری کو بھی ایک دوسرے سے جوڑ لیتا ہے۔ دوسری طرف، صنفی مخالفت کے اس نظریہ کے مطابق، نسائیت کا تعلق تصوراتی طور پر مختلف قسم کی کمیوں اور خامیوں/ نقائص سے ہے، خواہ وہ مذہبی اتھارٹی اور روحانیت، عقلیت، یا طاقت و اختیار کی کسی بھی شکل میں ہوں۔ مزید برآں، نسائیت کو تعلق ایک جارحانہ، انتہائی طاقتور، اور بے ہودہ جنسیت سے  جوڑا جاتا ہےاس کے مطابق خواتین کی مسلسل نگرانی کی جانی چاہیے اور ان کی پردہ داری/تنہائی اور اختلاط کے امکانات کوسختی سے کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ نسائیت، اور خاص طور پر خواتین کی جنسیت کو بھی مردانہ عزت  و غیرت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لہذا، یہ بھی خاص طور پر، اور مصنف کے خیال میں بھی، خواتین کی شائستگی اور شرم کے بوجھل اور اخلاقی طور پر قابل مذمت تصورات سے جو خواتین اور ان کے جسموں کو محض مردانہ جنسی لذت کی اشیاء تک محدود کر دیتے ہیں سے جوڑ کر پیش کیاجاتا ہے (حالانکہ ان طریقوں کے حامی اس کے برعکس دعویٰ کرتے ہیں)۔

نسائیت، بعض اوقات، نظریاتی طور پر وجودی اور جسمانی کمتری کے ساتھ بھی منسلک کی جاتی  ہے، جو کہنے کی ضرورت نہیں، خواتین کے لیے انتہائی توہین آمیز ہیں۔اس کے بعد یہ صنفی آفاقیت صنفی (مذہبی) قوانین، طرز عمل، اخلاقیات اور یہاں تک کہ اخلاقیات کے نظام کو پیدا کرنے کی بنیاد کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں جن کے حقوق اور ذمہ داریوں کے لحاظ سے جنسوں کے درمیان کافی ہم آہنگی ہوتی ہے، جو خواتین کی خود مختاری اور ایجنسی کو بہت حد تک محدود بھی کردیتی ہے۔ درحقیقت، ایسی صنفی آفاقیت کی رکنیت خواتین کی زیادہ تر ایجنسی/خود مختاری کو ان کے مرد رشتہ داروں کے کنٹرول میں دےدیتی ہے۔

 پدرشاہی غیرت:

 پدرانہ نظام کا ایک اور ستون پدرانہ غيرت کا تصور ہے جس کا ہم نے پچھلے حصے میں اشارہ کیا ہے۔غیرت کے اس تصور کی بنیاد یہ ہے کہ خاندانی سرپرست کی عزت ‘اس کی خواتین’ کے طرز عمل میں رہتی ہے، خاص طور پر اس طرز عمل کوجنسیت کی بنیاد پر سمجھا جا سکتا ہے۔ ‘عورت کے زمرے’ کی نظریہ سازی کرنےکے بعد، خاص طور پر خواتین کی جنسیت کی جارحانہ اور طاقتور نوعیت، وہ معاشرے جن میں پدرشاہی غیرت و عزت ضابطے رائج ہیں، اس عورت کی جنسیت کو کئی طرح کے سماجی میکانزم کے ذریعے مضبوطی سے منظم کرتے ہیں جیسے کہ پردہ/تنہائی، صنفی اختلاط کے مواقع سے پرہیزوغیرہ۔ خواتین کی جنسیت کا ضابطہ خواتین کے ختنہ  (FGM, female genital mutilation) جیسے طریقوں کے ذریعے بھی کنٹرول ہو سکتا ہے جس کی بڑی وجہ خواتین کی جنسی لذت کو ایک طرح سے  کم کرنا ہے تاکہ ان کی ‘حیا’  برقرار رہے اور ان کی جنسی بھوک کو قابو میں لایا جاسکے، یہ سب کچھ پدرانہ عزت و غیرت کے تحفظ کے نام پر ہوتا ہے۔

 غیرت کے نام پر قتل کا رواج بھی پدرانہ غیرت کی اسی منطق پر مبنی ہے۔غیرت کے نام پر قتل کی ایک مثال ایک نوجوان عورت کا، اس کے بھائی یا مرد کزن کے ہاتھوں قتل ہے،جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس نےمعاشرتی اخلاقی ضابطوں کی خلاف ورزی کی ہے، اور ایسے معاملوں میں ملوث ہے، بنیادی طور پر جنسی بے راہ روی کے معاملے میں جس سے خاندان کی پدرانہ ساکھ کو آنچ پہونچی ہے۔ یہ غیرت پر مبنی تشدد کی انتہائی خطرناک شکل ہے جو خواتین کی جنسی برتاو کو قابو میں کرنے کے نتیجے میں واقع ہوتی ہے۔

پدرشاہی سے پرے:

ہم پدر شاہی کے بارے میں معلومات بہم پہونچاتے ہوئے ان تین ستونوں سے پرے کیسے جاسکتے ہیں؟ میرے خیالات/مشورے درج ذیل ہیں۔ اسلامی اصولی نصوص کو تصور کرنے اور ان کی تشریح کرنے کے طریقہ کار کو لاگو کرنے کے علاوہ جو ترقی پسند مسلم فکر میں شامل ہیں، جیسے جامع تصور اور (اسلامی) الہیات اور اخلاقیات کے لیے عقلیت پسندانہ نقطہ نظر کو اپنانا، ان سوالوں کے جواب کچھ یوں ہوں گے:

(الف)   صنفی کاسمولوجیز(آفاقیت) کے متبادل نظریات کو باہمی اور غیر درجہ بندی تعلقات کے بناء پر جنم دینا

اس تعلق سے مذہب، سیاست اور خاندان کی سند و استحکام  کے ساتھ رجولیت کی تصوراتی ترجیح پر غور کرنا اور اس کے استحکام پر چوٹ لگانا ضروری ہے، ساتھ ہی نظریاتی طور پر نسائیت اور  مذہب و سیاست کی معاشرتی سند کی تمام شکلوں کے ساتھ تعلق کو مستحکم کرنا بھی لازمی ہے۔ اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے ہمیں ایسے مجال کی ضرورت ہے جہاں خواتین کی مذہبی  اور جماعتی قیادت کو یقینی بنانے کے امکان ہوں۔ مثال کے طور پر، خواتین کی زیر قیادت مساجد کے قیام اور تعاون کے ذریعے (جیسے کہ لاس اینجلس،امریکہ میں خواتین کی مسجد) بنائی گئی مساجد جو خواتین اماموں کے ذریعہ چلائی جاتی ہیں (جیسا کہ کوپن ہیگن میں مریم مسجد کی ایک ڈینش خاتون امام شیرین خانکان کا معاملہ)۔ جو معیاری نصوص کی تشریح میں مشغول ہے اور اسے نتیجہ خیز بناتا ہے اور نصوص کی مردانہ نقطہ نظر کے مطابق تشریح بھی خاصی ضروری اور لازمی ہے تاکہ اس برتاو میں مذہبی آفاقیت کی صنفی زاویوں پر روشنی ڈالی جاسکے۔

 (ب) مردانگی اور نسائیت کے درمیان فطری اور تصوراتی تعلق پر دوبارہ غور کرنا جہاں مردانگی اور نسائیت کو ثنائی مخالف  یا ایک دوسر ےکا مد مقابل (مخالف)نہیں سمجھا جاتا ہے۔

  صنفی کرداروں، اصولوں اور مذہب کے درمیان تعلق کے بارے میں روایتی نقطہ نظر، پدرانہ ثقافتوں، قبل از جدید اور ثقافتی اقدار کے نظام کی ایک ضمنی پیداوار ہیں جو مختلف حدوں تک، یا تو عکاسی کرتے ہیں یا بعض صورتوں میں، معیاری مذہبی متون میں چیلنج کیے جاتے ہیں۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ صنفی مخالفتیت کا نظریہ نصی منطق  و مفہوم کی ان مردانہ تشریح کا رد عمل ہے جو کہ نہ جامع ہیں اور نہ منظم نظریات پیش کرتے ہیں۔ اس طرح یہ ممکن ہے کہ نسائیت اور مردانگی کی فطرت کے درمیان متبادل تصوراتی رشتوں کو قائم کیا  جائے جو سیاق و سباق کے لحاظ سے جوابدہ ہو (یعنی جسمانی برتری  والے تعلق پر مبنی نہ ہو) اور  نہ ہی اس منطق پر مبنی ہو کہ دونوں صنف ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں(یعنی مخالفیت)۔ مردانگی اور نسائیت اور متعلقہ صنفی کرداروں اور اصولوں کے زیادہ متحرک نظریات کو اپنانے سے پدرانہ عالمی نظریہ کا ایک اہم عنصر خاص طور پر مذہبی اور سیاسی میدانوں میں ختم ہو جائے گا؛ یعنی مردانہ برتری کے ‘فطری پن’ کا خیال۔ اس کے نتیجے میں، خواتین کے حقوق  کی تحریک پر مسلم سیاق میں ایک مثبت اور قابل قبول اثر  پڑے گا۔ایک عالمی نظریہ اور پدرانہ نظام سے ماورا دنیا دونوں کو آسان بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

 (ج) عزت کے تصور کا از سر نو تصور کرنا جو مردوں کی غیرت کو ‘ان کی خواتین’ کے جنسی یا جنسی طور پر سمجھے جانے والے رویے سے الگ کرتا ہے۔

 جیسا کہ ہم نے اوپر دیکھا، پدرانہ غیرت پر مبنی نظام کا سب سے کم عام فرق مرد کی غیرت کو (سمجھے جانے والے) خواتین کے جنسی رویے کے ساتھ تصوراتی طور پر جوڑنا ہے۔ پدرانہ نظام سے بالاتر ایک دنیا کو جنم دینے کے لیے، یہ بالکل ضروری ہے کہ مختصر مدت میں، ’عزت و غیرت’ کے پیچھے کی منطق پر سوال اٹھایا جائے۔ انفرادی انسانی وقار کا احترام جہاں ہر فرد اپنے حق میں، قطع نظر جنس کے، اپنی ذات کا ذریعہ و منبع  سمجھا جاتا ہے اور کسی اور کی عزت کا نہیں۔ یقیناً اس کے لیے مسلم سیاق و سباق میں ایک بڑی ثقافتی تبدیلی کی ضرورت ہوگی جو اب بھی مردانہ اقدار کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ خوش قسمتی سے، اسلامی نصوص کے پاس ایسے حل موجود ہیں جو مردانہ عزت و غیرت سے صنفی مساوات پر مبنی وقار و اقدار کے نظام کی طرف ایک بڑی تبدیلی لانے میں خاصہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

آج صنف اور اسلام کے میدان میں کام کرنے والے ترقی پسند اسلام کے نظریے اور اصولوں سے وابستہ متعدد مفکرین، کارکنان اور تنظیمیں ہیں، جنہوں نے گزشتہ دو تین دہائیوں کے دوران نظریاتی میدان میں اہم کردار ادا کیا ہے اوپر بیان کردہ تین نکات کے سلسلے میں متحرک نظریہ سازی کی گئی ہے جسمیں مَیں خود بھی شامل ہوں۔ مجھے پوری امید ہے کہ ان کی آوازوں کو وسعت ملے گی اورخاص طور پرمسلم اکثریتی سیاق و سباق میں  پدرانہ نظام کی  غالب آوازوں کو ساکت کر دیا جائے گا۔

  حوالہ جات:

۱۔Kilmartin, Christopher. 2009. The Masculine Self. 4th Edition.

New York: Sloan Publishing.

۲۔ Martin Gilens and Benjamin I. Page, Testing Theories of American

Politics: Elites, Interest Groups, and Average Citizens, Perspective on

Politics, Volume 12, Issue 3 September 2014 , pp. 564-581

۳۔ A.Duderija, Constructing a Religiously Ideal ‘Believer’ and ‘Woman’ in Islam: NeoTraditional Salafi and Progressive Muslim Methods

of Interpretation (manahij). New York: Palgrave, 2011.،

A.Duderija, The Imperatives of Progressive Islam (New York: Routledge, 2017

۴۔ http://womensmosque.com/about-2/

۵۔https://en.wikipedia.org/wiki/Sherin_Khankan

۶۔ Adis Duderija, “Tensions between the Study of Gender and Religion The Case of Patriarchal and Non-Patriarchal Interpretations of

the Islamic Tradition”, Hawwa-Journal of Women of the Middle East

and the Islamic World, Volume 15, Issue 3, 2017, pp. 257—278

۷۔ Sachedina, Abdulaziz. Islam and Challenge of Human Rights. New

York: Oxford University Press, 2008

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔