جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

محمدجمیل اخترجلیلی ندوی

بھارت کاوجودایک جمہوری ملک کے طورپر1947ء میں ہواتھااور1949ء کوتمام بھارتیوں کویہ حلف دلایاگیاتھا کہ’’ہم بھارت کے عوام متانت وسنجیدگی سے عزم کرتے ہیں کہ بھارت کوایک مقتدرسماج وادی غیرمذہبی عوامی جمہوریہ بنائیں اوراس کے تمام شہریوں کے لیے حاصل کریں: انصاف، سماجی، معاشی اور سیاسی آزادی خیال، اظہار، عقیدہ، دین اورعبادت، مساوات بہ اعتبار حیثیت اورموقع اوران سب میں ترقی دیں، جس سے فرد کی عظمت اورقوم کے اتحاد اورسا  لمیت کاتیقن ہو، اپنی آئین ساز اسمبلی میں آج 26؍نومبر 1949ء کویہ آئین ذریعہ ہذااختیارکرتے ہیں، وضع کرتے ہیں اوراپنے آپ پرنافذ کرتے ہیں‘‘۔

لیکن افسوس کے ساتھ یہ لکھناپڑرہاہے کہ ابھی اس عہداورحلف کے سوسال بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ ہم سب خلاف ورزی پراترآئیں ہیں، کوئی کم توکوئی زیادہ؛ کیوں کہ ملک کی سا لمیت اورترقی کے لیے ہم تمام لوگوں نے عزم کیاتھا، اب ہرفردیہ سوچے کہ وہ اپنے اس عزم پرکس حدتک قائم ہے؟ آج اگرایک طبقہ ملک کے کچھ لوگوں پر زیادتی کررہاہے تودیگرلوگ کیاکررہے ہیں؟ اس زیادتی کوبرداشت کیوں کررہے ہیں؟ کیااس زیادتی کی وجہ سے ملک کی سا لمیت باقی رہے گی اورکیاملک کی ترقی ہوگی؟ ظاہرہے کہ نہیں؛ کیوں کہ اس ملک کی خصوصیت ہی گنگا جمنی تہذیب ہے تواس کی ترقی اس تہذیب کوختم کرکے کیسے ممکن ہوسکتی ہے؟

لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک طبقہ زیادتی پراترتاہے توہم کھڑے تماشائی بن کرکیوں دیکھتے ہیں؟ کیاہم پرضروری نہیں ہے کہ ہم اس زیادتی کرنے والوں کے ہاتھ پکڑیں؟ کیاہم سب نے مل کریہ عزم نہیں کیاہے کہ اس ملک میں اخوت اوربھائی چارگی کوترقی دیں گے؟ توپھرہم کیوں اس زیادتی کے خلاف نہیں کھڑے ہوتے؟ ہم تماش بین کیوں بن جاتے ہیں؟ یادرکھئے! جب زیادتی کرنے والے کوڈھیل دی جاتی ہے تواس کادائرہ وسیع سے وسیع ترہوتاجاتاہے، اس کے اندرغرورآجاتاہے، تکبرآجاتاہے اوروہ خود  کے بارے میں یہ تصورکرنے لگتاہے کہ ہم سے کوئی ٹکرنہیں لے سکتا، پھروہ کمزوروں سے آگے بڑھ کر اپنے برابروالوں سے بھی پنجہ آزمائی شروع کردیتاہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح ظلم کرناگناہ ہے، اسی طرح ظلم سہنابھی ایک وقت کے بعدگناہ ہے؛ کیوں کہ اگرظلم سہنے کوشیوہ بنالیاجائے توپھررفتہ رفتہ بزدلی آجاتی ہے، بنی اسرائیل کی مثال اس تعلق سے بالکل واضح ہے، ظلم سہتے سہتے وہ قوم بزدل ہوگئی تھی اورکسی طورجنگ کے لیے تیارنہیں ہوتی، اسی لیے جب انھیں ایک نافرمان قوم سے جنگ کاحکم دیاگیاتوانھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوجواب دیا کہ آپ اپنے رب کے ساتھ جائیں اورجنگ کریں، ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے، اس جملے میں ان کی سرکشی بھی پائی جارہی ہے؛ لیکن ساتھ میں بزدلی بھی موجودہے۔

نبوت ملنے کے بعدمکہ میں توظالموں کے ظلم کوبرداشت کرنے کاحکم دیاگیا؛ لیکن مدینہ میں ظلم سہنے کانہیں ؛ بل کہ ظلم سے مقابلہ کاحکم دیاگیا، اگرمدینہ میں بھی ظلم کوبرداشت کیاجاتارہتا توخودسوچئے کہ کیااسلام کادائرہ اتناوسیع ہوتا، جتناہوا؟ مکہ فتح ہوتا؟ اورکیامکہ کے لوگ اسلام میں داخل ہوتے؟ انسانیت کاوہ درس دنیاکے سامنے آپاتا، جوآیا؟ اخوت وبھائی چارگی کاوہ نمونہ دنیادیکھتی، جواسے دیکھنے کوملی؟مظلوموں کوتسلی ملتی، جوملی؟ ظالم کاسرنیچاہوتا، جوہوا؟ظالموں کوسبق ملتا، جوملا؟

دنیاکاقانون بھی یہی ہے کہ ایک مدت کے بعدظلم کامقابلہ ضروری ہے؛ بل کہ اگراس وقت کی دنیاکامطالعہ کریں توبات سمجھ میں آئے گی کہ آج کادورظلم کے برداشت کادورنہیں ہے؛ بل کہ جس طرح حکم اس بات کادیاگیا ہے کہ کہ موذی کوایذاپہنچانے سے قبل ہی مارڈالو، اسی طرح آج کادورہے، ظالم کوظلم کرنے سے پہلے مٹادیناچاہیے، ورنہ ظالم کی طرف سے ایسی تباہی ہوتی ہے کہ بعد میں سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا، ہیروشیمااورناگاساکی ظلم کی انتہاکی مثال ہے کہ آج بھی وہاں بچوں کی پیدائش صحیح سالم نہیں ہوتی، جسمانی اعتبارسے کچھ نہ کچھ نقص پایا جاتا ہے، عراق کومکمل طورپرتباہ کردیاگیا، بعدمیں ’’سوری‘‘ کہہ دیاگیا کہ غلطی ہوگئی تھی، افغانستان کوبربادکردیاگیا، اب جاکرصلح صفائی کی گئی، ابھی حال میں غزہ کوتہس نہس کردیاگیا، بعد میں جنگ بندی کی گئی، اب تعمیرنو کی بات کی جارہی ہے۔

یہ سب مثالیں ہیں، جوہمارے سامنے ہیں، ان کے علاوہ دن ورات میں کتنی مثالیں اس کی ہمیں مل جاتی ہیں خود اپنے ملک میں؛ لیکن ہم ان کی طرف توجہ نہیں دیتے، اوریہ آج سے نہیں ہورہاہے؛ بل کہ ایک مدت سے یہ سب چلتاچلاآرہاہے، بھارت کی تاریخ میں فسادات کاایک لمباسلسلہ ہے، جوتقریباتمام کے تمام کانگریس کی قیادت میں انجام دئے گئے؛ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ہم اسی کے دم چھلے بن کررہے اورآج بھی اس کوچھوڑنے کے لیے تیارنہیں، ہم جس کی وجہ سے بیمارہوئے، اسی کے پاس دوا تلاشتے رہے، ہمیں جومارتارہا، ہم اسی سے پناہ مانگتے رہے، جو سانپ ہمیں ڈستارہا، ہم اسی کودودھ پلاتے رہے، آج اسی کانتیجہ ہمارے سامنے ہے۔

اگرہم ظلم کامقابلہ کرتے رہتے توآج ہماری حالت ویسی نہیں ہوتی، جوآج اپنے ہی ملک میں ہے، ظلم سہتے سہتے اب ہم بزدل ہوچکے ہیں، ہمارے ساتھ کچھ بھی ہوجاتا ہے، ہم جوش میں تھوڑاچلاتے چیختے ہیں، پھرٹھنڈے پڑجاتے ہیں، فسادات کی اتنی تعدادویسے ہی تھوڑے وجود میں آئی ہے؟ ظلم سہنے اوربرداشت کرنے کے نتیجہ میں اتنی تعداد وجودمیں آئی ہے، پھراس کے بعد قانونی کارروائی بھی ہماری طرف سے خاطرخواہ نہیں ہوپاتی، یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہاشم پورہ کے لوگ انصاف کے منتظرہیں، اس ملک میں سکھ کے ساتھ بھی ایک زمانہ میں ظلم ہوا؛ لیکن اس کے بعدپھرکبھی نہیں سناگیا؛ کیوں؟ کیوں کہ انھوں نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، انھوں نے بتایاکہ ہم ظلم سہہ کررہنے والی قوم نہیں، نتیجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے سکھوں پرظلم کیا تھا، انھیں لوگوں نے اس قوم کواپنے سرکاتاج بنایا؛ بل کہ اس پروہ مجبورہوئے۔

دوہزارچودہ میں محسن شیخ کی لنچنگ کی گئی، اس پرہم نے خاطرخواہ ایکشن نہیں لیا، نتیجہ آپ کے سامنے ہے کہ ملک کے اس کونہ سے لے کراس کونہ تک لنچنگ کی ایک طویل فہرست وجودمیں آگئی، جوآج بھی رکنے کانام نہیں لے رہی ہے، جس وقت ہمارے ملک میں لنچنگ کابازارگرم تھا، ٹھیک اسی زمانہ میں ایک ویڈیووائرل ہوئی تھی، جس میں دکھایاگیا تھا کہ ایک سکھ ڈرائیورکے ساتھ کچھ لوگوں نے زیادتی کی کوشش کی تواس نے اینٹ کاجواب پتھرسے دیتے ہوئے اپنی گاڑی سے لاٹھی اورتلوارنکال لی، بس پھرکیاتھا، غنڈوں کی بھیڑ چھٹ گئی، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آج کی دنیامیں طاقت کامظاہرہ ضروری ہے، دنیاطاقت کے سامنے جھکتی ہے، خواہ وہ طاقت مالی ہو، جسمانی ہو، تعلیمی ہویا پھر اسلحہ جاتی ہو اورہمارا ملک تواس تعلق سے کافی آگے ہے، ہراس چیز کے سامنے جھکاجاتاہے؛ بل کہ سرجھکایاجاتاہے، جس کے اندرکسی بھی قسم کا نفع یانقصان پہنچانے کی صلاحیت ہو اوراس بات سے ہم سب واقف بھی ہیں؛ لیکن معلوم نہیں کہ اس کے باوجود آج تک ہم لوگوں کی توجہ اس طرف کیوں نہیں گئی؟

ماضی میں ہم نے کئی مواقع سے بھیڑ تواکھٹی کی ہے، چندمواقع پرفائدہ بھی ہواہے؛ لیکن اب اس بھیڑکافائدہ نہیں ہورہاہے؛ اس لیے ہمیں چال بدلنے کی ضرورت ہے، اب صرف بھیڑ جمع کرنے سے مسئلہ کاحل نہیں ہونے والا، یوں بھی بھیڑکے ذریعہ سے مسائل بہت زیادہ حل نہیں ہوتے، مسائل وقت کے حساب سے چال چلنے سے حل ہوتے ہیں، جنگ آزادی میں بکسروبنگال کی جنگوں میں بھارتیوں کوکیوں شکست ہوئی تھی؟ تعدادتوتھی؛ لیکن فریق مخالف کے لحاظ سے ہمارے پاس اسلحہ جات نہیں تھے، جنگ میں ترکوں کوجوشکست ہوئی، اس کی بھی ایک بڑی وجہ جدیداسلحہ جات کی کمی بتائی جاتی ہے، اگران کے پاس وقت کے لحاظ سے اسلحہ جات کی کھیپ تیارہوتی توشکست کاسامنا شاید نہیں کرناپڑتا؛ اس لیے ہم سب کوسرجوڑ کرسوچناچاہیے کہ ماضی کی کن کن غلطیوں کے نتیجہ میں ہماری طاقت ختم ہوگئی ہے؟ پھران غلطیوں کی اصلاح ضروری ہے، اگراب بھی اس کی طرف ہماری توجہ ہوجائے توبہت جلد ہم سراٹھاکرجینے کے قابل ہوجائیں گے، ورنہ اسی طرح ہم پرزیادتی کی جاتی رہے گی، جوآج رواہے؛ کیوں کہ کہنے کوتو یہ ملک جمہوری ملک ہے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ :

جمہوریت کی لاش پہ طاقت ہے خندہ زن

اس برہنہ نظام میں ہر آدمی کی خیر

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔