حب الوطنی کا سائز نہیں ہوتا ہے، جذبہ ہوتا ہے!

رویش کمار

دہلی کے مول چند فلائی اوور کے نیچے اس بار فروخت ہونے والے پرچم کا سائز کافی بڑا ہو گیا ہے. اتنا بڑا کہ کار والے سوچ میں پڑتے نظر آئے کہ گھر کے لئے خریدیں یا کار کے لئے، بغیر بالکنی اور چھت والے اپنے فلیٹ میں کہاں لگائیں گے. اتنا بڑا ترنگا بچے کو بھی نہیں دے سکتے، کیا پتہ وہ سنبھال نہ پائے اور جانے انجانے میں توہین نہ ہو جائے. اس روز آسمان میں سیاہ بادل تھے. ظاہر ہے تینوں رنگ بادلوں کے رنگ کے پس منظر میں خوب کھل رہے تھے. ڈرائيونگ سیٹ پر بیٹھے بیٹھے اکڑ سے گئے ہم جیسوں کو ترنگا سكون دے رہا تھا.

جن بچوں کے ہاتھ میں ہمارا ترنگا زیب دے رہا تھا، فروخت ہو رہا تھا، وہی بچے ہیں جو دوسرے دنوں میں چوکوں پر بھیک مانگتے ہیں. امیتابھ گھوش اور امتاوا کمار کی کتابوں کا نقلی نسخہ فروخت کرتے ہیں. پلاسٹر آف پیرس، جس کا کوئی ہندی نام آج تک نہیں سنا، کی بنے دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں فروخت کرتے ہیں. چین سے آئے کھلونوں کو ٹرے میں سجا کر فروخت کرتے ہیں اور کار کی صفائی کے لئے کپڑے وغیرہ بھی. چین کا بہت سارا سامان سب سے پہلے ان ہی بچوں کے ہاتھوں بھارت کی سڑکوں پر لانچ ہوتا ہے. ہندوستان کی قوم پرستی کی سب سے مقدس اور بہترین علامت گھر گھر پہنچنے کے لئے ان ہی بچوں پر منحصر ہے، جو بھارت بھاگیہ ودھاتا یعنی حکومت کی زبان میں اسکول یا کالج سے ڈراپ آؤٹ ہیں.

ترنگا ہم سب کو جذباتی کر دیتا ہے. آسمان میں لہراتا نظر آتا ہے تو لگتا ہے کہ ہم بھی ٹریفک جام سے نکل کر، اپنی تکلیف دہ زندگی کے سفر سے اوپر اٹھ کر اس کے ساتھ اڑ رہے ہیں. حکومتوں سے لے کر تحریک چلانے والوں تک سب کو یہ بات معلوم ہے. انا تحریک کے وقت بہت سے لوگوں نے ترنگا تھاما تھا. دوسری آزادی کا نام دیا گیا. وہ لوک پال آج تک نہیں آیا. لوگ اپنی دوسری آزادی بھول گئے اور وہ قسمیں بھی جو ان دنوں ترنگے کے نیچے کھا رہے تھے. اس سال دہلی میں خوب ترنگا بکا تھا. آئس کریم اور مونگ پھلی فروخت کرنے والے ترنگا فروخت کرنے لگے.

ان دنوں بہت سے لوگ ترنگا لئے رام لیلا اور جنتر منتر چلے جا رہے تھے. اسٹیج سے جو لوگ ترنگا لہرا رہے تھے وہ آگے چل کر مختلف راستوں پر نکل گئے. ان لوگوں میں سے کچھ نے دو نئی سیاسی پارٹیاں تشکیل دیں. ان کے اپنے پرچم ہوگئے. کچھ نے پرانی جماعتوں سے ہاتھ ملا لیا. نتیجہ میں ایک نئی حکومت بنی، بہت سے رکن اسمبلی بنے، وزیر اعلی بنے، مرکزی وزیر بنے، نائب گورنر بنے، ترجمان بنے. ایک کا بزنس بڑا ہو گیا. یہ میں اس لیے بتا رہا ہوں کہ ترنگا ہاتھ میں تھام لینے سے سب کا مقصد ایک نہیں ہو جاتا ہے. سب کسی تصوراتی اتحاد کے شکار نہیں ہو جاتے ہیں. انہیں تب بھی دھیان رہتا ہے کہ اپنی پارٹی اور اپنے لئے کیا کرنا ہے. تب بھی کا مطلب جب ان کے ہاتھ میں ترنگا ہوتا ہے.

میری بات شروع ہوئی تھی مول چند فلائی اوور کے ان ڈراپ آؤٹ بچوں سے جو تمام سرکاری منصوبوں کے باغی ہیں. یہ بچے نہ ہوتے تو ہم سب دہلی کے صدر بازار یا مشرقی دہلی کے سیلم پور یا جعفرآباد جانے کا خطرہ اٹھاتے؟ میں آج ان علاقوں میں گیا تھا. ایک کلومیٹر سے بھی کم کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں طے کرکے آیا ہوں. سڑکوں کے کنارے پتنگ اور ترنگا کی دکانیں دیکھ کر آسمان کے خیالوں میں کھو گیا. ایسا لگا جیسے خود امیتابھ بچن صاحب نے آکر سر پر نورتن تیل مل دیا ہو.

جعفرآباد کی ان دکانوں کے آگے کی سڑک تنگ ہو گئی ہے مگر ترنگا بڑا ہو گیا ہے. چھوٹے ترنگے والی دکانیں بہت کم نظر آئیں. ترنگے کو اس طرح سے رکھا گیا تھا کہ دور سے ہی لگے کہ بڑا والا ہے. سائز کا مقابلہ نظر آ رہا تھا. اس سال سائز کو لے کر مقابلہ ہے. سائز ہی برانڈ ہے. دور سے پرچم کو دیکھتا رہا. انہیں کے درمیان ایک کار نظر آئی جس پر برہمن لکھا تھا. ہم ذات کو تو بھی قوم کی طرح ظاہر کرتے ہیں. ویسے گاڑیوں پر راجپوت اور گوجر بھی لکھا ہوتا ہے. ان ہی کاروں کے ڈیش بورڈ پر ترنگا بھی رکھا ہوتا ہے.

اس سال کے شروع میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے تنازع کے وقت حکم ہوا تھا کہ وہاں 207 فٹ بلند ترنگا لہرایا جائے گا. وہاں پہلے سے ہی انتظامی عمارت پر ترنگا لہراتا ہے مگر اتنا بڑا ترنگا لہرا سکتا ہے، یہ کسی کے ذہن میں نہیں آیا تھا. اسی دوران یہ بھی حکم ہوا تھا کہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں میں ترنگا لہراتا ہوا نظر آنا چاہئے. امید کی جانی چاہئے کہ بڑے ترنگے کے نیچے بیٹھے وائس چانسلر صرف اور صرف حب الوطنی کے جذبے سے کام کر رہے ہوں گے. کسی کے دباؤ میں کسی کے بھتیجے کو بھرتی نہیں کر رہے ہوں گے اور پائی پائی کا صحیح حساب رکھ رہے ہوں گے. سارے خالی عہدے بھر گئے ہوں گے اور طالب علم حب الوطنی سے لبالب پڑھنے لکھنے میں مصروف ہو گئے ہوں گے.

پہلے بھی جوشیلے شہریوں کی جماعت کناٹ پلیس سے لے کر تمام جگہوں پر سب سے بلند اور سب سے بڑا ترنگا لہرانے کا پروگرام کرتی رہی لیکن جے این یو تنازع کے وقت سائز اور اونچائی کو ادارتی شکل دے دی گئی. حال ہی میں كاوڑ سفر میں ترنگے کو جگہ ملی ہے. کیوں کیا گیا اس کا مکمل جواب ابھی تک نہیں ملا ہے. ویسے ترنگے کے بغل میں ڈی جے دھن پر ناچتے گاتے بھکتوں کو دیکھ کر تھوڑا سا جوش و خروش کم ہو گیا. کہیں ایسا تو نہیں کہ اب ہر تیرتھ یاترا یا تہواروں میں ترنگا جڑتا چلا جائے گا.

کئی جگہوں سے خبریں آئیں کہ وسیع وعریض ترنگا  کو لے کر كاوڑیے واپس آ رہے ہیں۔ كسي کو پوچھنا چاہئے تھا کہ شیو بھکتی کے لئے گئے تو ترنگا کیوں لے کر جا رہے ہیں. جانے میں منع نہیں ہے لیکن سوال تو پوچھا ہی جا سکتا ہے. شیو کے لئے سب بھکت یکساں ہیں. چاہے وہ بھارتی بھکت ہو یا کسی دوسرے ملک کی شہریت والا بھکت ہو. کم سے کم بھولے تو ایسے نہیں ہے. وہ بھکتوں میں راشٹریہ کی بنیاد پر تفرق نہیں کرتے اور یہی تو شیو کی عالمی تشریح ہے. جو بھی جیسا ہے، بس چلے آئے، شیو کے لئے سب یکساں ہیں. لیکن ہم ایک بار پوچھیں تو سہی کہ شیو کے دربار میں ترنگا لے کر کیوں جا رہے ہیں؟ کیا ہم  پر یقین ہیں یا ہو سکتے ہیں کہ ترنگا کے ساتھ لوٹنے والے یہ تمام بھکت اپنے گاؤں کے گھروں میں حب الوطنی کے جذبے سے معمور دیکھے جا رہے ہیں.

ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم سوالوں سے جواب کی طرف نہیں جاتے. بیانات کو جواب سمجھنے لگے ہیں. ہم سب ترنگا کے تئیں خاص قسم کی جذباتیت رکھتے ہیں. ہم امریکی لوگوں کی طرح نہیں ہیں کہ  اپنے قومی پرچم کی قمیض سلوا لی، پردہ بنوا لیا یا صوفہ کور سلوا لیا. امریکی اپنے قومی پرچم صرف کرتے ہیں. ہم صرف نہیں کرتے ہیں. ترنگے اور اشوک چکر کے ساتھ گیند بنا کر کوئی ہماری طرف پھینک دے تو یقینا ہم سب کے ہاتھ کانپ جائیں گے. ویسے ترنگے کے نیچے بیٹھے ان لیڈروں کی حب الوطنی ناپني ہو تو آپ ان کے یا ان کی پارٹی کے گھوٹالے اور سیاہ کارناموں کے بے شمار قصوں سے ناپ کر دیكھيئے گا.

کچھ تو ہے کہ ان دنوں ترنگے کے اعزاز کے نام پر بے چینی سی ہو رہا ہے. میں چاہتا ہوں کہ آپ سوچیں کہ جو بھی ہو رہا ہے کیا وہ عام بات ہے. ترنگے کے سائز کو لے کر سیاسی جماعتوں اور حکومتوں میں ہوڑ لگنے والی ہے. ایک بڑی ریاست کے وزیر اعلی پندرہ اگست کے روز بڑے سائز کا ترنگا لہرانا چاہتے ہیں. اس کا سائز چالیس فٹ بٹا ساٹھ فٹ ہے. قیمت ایک لاکھ روپئے ہے. اس ہوڑ کا ہی نتیجہ ہے کہ ریاست کی نظر میں ایک لاکھ کی قیمت نہیں جبکہ اس کا باشندہ یا شہری انجیکشن کے بیس روپے نہیں دے پاتا ہے اور اس کا بچہ مر جاتا ہے. پرچم کے کاروبار سے وابستہ لوگ خوش ہیں کہ دس ہزار سے لے کر ایک لاکھ تک کا ترنگا بن رہا ہے. لیکن جو کاروباری خوش ہے اسی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تو انڈسٹری بن گیا ہے، سب ظاہر ہو گیا ہے، حب الوطنی نہیں ہے، بڑا پرچم لگائیں گے تو کافی لوگ آ جائیں گے.

26 جنوری اور 15 اگست کی تمام یادوں میں یہ بات بھی خاص ہے کہ ان ہی دو دن ہم اجتماعی طور پر ترنگا لہراتے ہیں. ہمارے لئے یہ دو دن ترنگے کا اپنا تہوار ہیں. ان ہی دو دنوں کے لئے ہم اپنی جذباتیت اور اجتماعیت کو بچا کر رکھتے ہیں جیسے ہم عید، دیوالی، ہولی اور چھٹ کے لئے بچا کر رکھتے ہیں. اس لئے ہماری شہریت کی ترقی کی جو خامیاں ہیں، اداروں کی ذمہ داریوں سے مكرنے کے جو سوالات ہیں انہیں آپ ترنگے سے بے گھر نہ کریں. یہ نہ سوچیں کہ سب کو روز ترنگا دکھا دینے سے حب الوطنی آ جائے گی اور حب الوطنی آ جائے گی تو ہم غلط سوچ رہے ہیں. نظام میں تبدیلی اسے ٹھیک کرنے سے آتی ہے نہ کہ اس کی چھت پر ترنگا لہرانے سے آتی ہے.

خیال رہے کہ ترنگے کا سائز بڑا ہوتے ہوتے کہیں یہ شہریوں کے درمیان امیری غریبی کی کھائی کی ایک اور علامت نہ بن جائے. ظاہر ہے دس ہزار سے ایک لاکھ کا بڑا پرچم وہی خريدے گا جو امیر ہوگا. غریب تو دو روپے کا پرچم ہی اپنے بچے کو دے گا. سب کے ہاتھ میں ایک سائز کا ترنگا ہو، میری رائے میں یہی مناسب ہے. کم از کم ہم قوم کے تئیں جذبات کے اظہار میں تو برابر رہیں. وہاں فرق نہ کریں تو بہتر رہے گا. حب الوطنی کا سائز نہیں ہوتا ہے. جذبہ ہوتا ہے. بے شک ترنگا لے کر چلئے، مگر سائز پر اتنا زور نہ دیجئے کہ اس کے نیچے کا انسان چھوٹا لگنے لگے. مندر شاندار بنا دینے سے بھگوان نہیں بدل جاتے ہیں.  شاندار بھکت کی اپنی عقیدت یا سنک بھی ہو سکتی ہے. اسی پیسے سے غریبوں کی فلاح و بہبود بھی ہو سکتی ہے. دردرناراين کو ہم بھولنے لگے ہیں، صرف نارائن نارائن کرنے لگے ہیں.

تبصرے بند ہیں۔