دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا عالمی سازش

ریاض فردوسی

آکسفورڈ ڈکشنری میں لفظ ٹیررازم کے یہ معنی درج ہیں کہ سیاسی مقاصد کے حصول یا کسی منتخب یا غیر منتخب حکومت کو کسی کا م پر مجبور کرنے کیلیے پر تشدد افعال کے استعمال کو ٹیررازم کہا جاتا ہے۔ لفظ دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کا کھیل عالمی سازش کا حصہ ہے۔ جس کی خاکہ سازی اور عملی تدابیر میں لانے میں اسلام دشمن عناصر یہودیت ہی  ہے۔ جن کی جی حضوری اور حکم آوری میں مسلم ممالک کے بعض مذہب  اسلام سے بیزار حکمراں اور دیگر ممالک کی مسلم دشمن تنظیمیں پورے مکر و فریب کے ساتھ دہشت گردی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ جوڑنے کی ناپاک کوشش کررہی ہیں اور وہ اسلام کو ’’دہشت گرد‘‘ مذہب اور مسلمانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ قوم ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ کیوں کہ ہمیں دنیا کا حاکم اور دنیا والوں کے لیے نعمت خداوندی بنایا گیا تھا لیکن ہمارے اکابرین کے علاوہ ہم اس مقام کی اہمیت سے غافل رہیں، فرض حاکمیت ادا ہی نہیں کیا۔اس کے سبب آج ہمارا وجود کسی کے لیے بھی نعمت نہیں۔ حتیٰ کہ ہم اپنے بھائیوں کو شیعہ سنی اور دیگر ناموں سے موسوم کرکے اپنے سے دور کر چکے ہیں۔

ہم مسجدوں کو اے سی اور سنگ مرمر سے مزین کرنے میں مصروف ہیں اگرچہ ہماری ایک آبادی گداگری میں ملوث ہے۔مزاروں کو بہترین طریقے سے سجانے میں لگے ہیں اگرچہ وہاں دست سوال کر نے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

جناب نیلسن روہیلا منڈیلا کو امریکی حکومت ایک زمانے تک دہشت گرد کہتی رہی اگرچہ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔امریکہ اور طاغوتی نظام کے اشاروں پر جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے ان پر قتل وغارت، دہشت گردی، ملک کا غدار اورکئی جھوٹے الزامات لگا کر  قید با مشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، اور دہشت گرد کہلاتے رہے۔انھیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔لیکن تحریک کی کامیابی کے بعد 1993ء کا نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا۔ایک شخص کا دہشت گرد دوسرے کے نزدیک آزادی کا مجاہد ہوتا ہے۔

نیتاجی سبھاس چندر بوس،چندر شیکھر آزاد، لالا لاج پت رائے، رام پرساد بسمل،بھگت سنگھ،راج گرو،سکھ دیو اور دیگر محبان و شہیدان ملک ِہندوستان کو انگریزی اخبارات اور رسالے دہشت گرد،لٹیرا، چور، اور ڈاکو ہی لکھتے تھے۔لیکن ہم بھگت سنگھ اور ان کے تمام ساتھیوں کو تحریک آزادی کا عظیم ہیرو کہتے ہیں اور ان سب کو ’شہید‘ کے خطاب سے نوازتے ہیں۔ 1785ء میں فرانسیسی انقلاب کے دوران اور1792، 1793 ء کو فرانسیسی انقلاب کے سالوں میں میکس ملین نے پانچ لاکھ سے زائد افراد کو گرفتار کیا جن میں چالیس ہزار افراد کو قتل کردیا گیا جبکہ دو لاکھ لوگوں کو بھوک اور پیاس کے ذریعے مارا گیا تھا۔اپریل 1926 ء کوبلغاریہ کے صدر مقام صوفیا کے چرچ کے دھماکہ میں پچاس افراد ہلاک اور 500زخمی ہوجاتے ہیں، یہ دھماکہ بلغاریہ کی کیمونسٹ پارٹی نے کیا تھا جو مسلمان نہیں تھے۔پہلا عالمی جنگ 1930  ء میں ہوا جس میں ۱۷، لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔دوسرا عالمی جنگ 1939۔1945 ء میں ہوا جس میں ۵۵ لاکھ اموات ہوئی۔  1934 ء میں یوگو سلاویہ کے بادشاہ کوقتل کردیا گیا اور قاتل یہودی تھا،1961 ء میں پہلا امریکی جہاز اغوا ہوا جس کا ذمہ دار ایک روسی تھا۔1945ء میں امریکا نے جاپان پر ایٹمی حملہ کیا اور اس حملے میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد جاپانی ہلاک ہوئے۔

 دوسری جنگ عظیم کے بعد 1941ء سے لیکر 1948ء تک یہودیوں نے 260سے زائد دہشتگرد کارروائیاں کیں، ہٹلر نے ساٹھ لاکھ سے زائد یہودیوں کو موت کے گھاٹ اتارا۔

ویتنام کی جنگ میں ۵ لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے۔ 1975.۔1979 ء کمبودیا میں ۳ لاکھ سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئی۔جوزیف سٹالن نے ۲۰ لاکھ انسانوں کی جان لی۔جس میں ۱۵ لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جان تڑپا تڑپا کر لی۔مائوتسے تنگ نے ۱۵ سے ۲۰ لاکھ لوگوں کو بے دردی سے قتل کروایا ہے۔بینیتو موسیلینی ۴ لاکھ لوگوں کو قتل کرکے ہی حکومت حاصل کی ہے۔سمراٹ اشوک نے کلنگ لڑائی کے درمیان ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کا قتل عام کرکے کلنگ کی لڑائی فتح کی۔امبارگو کو جاج بش نے عراق بھیجا وہاں اس نے ظالمانہ طریقے سے۲لاکھ سے زیادہ انسانوں کی جان لی۔جس میں زیادہ تر معصوم بچے شامل تھے۔ہٹلر نے ۶۰ لاکھ سے زیادہ یہودیوں کا قتل عام کیا اور ناجیوں کے آفس میں ان یہودیوں کی بالوں کے قالین تھے۔یہ ان کی وحشی پن کی انتہا تھی۔ان میں سے ایک بھی مسلمان نہیں تھا۔پھر ہم کیسے دہشت گرد؟اور ہماری کیسی دہشت گردی؟

عجیب طرف تماشہ ہے فلسطین میں کہ جبراَ َقبضہ کرکے اسرائیلی طاغوتی نظام بے گناہ مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ مسلم بہنوں کی عزت کو تار تار کیا جارہا ہے اور اس کے باوجود اگر وہ غیور مسلمان صدائے احتجاج بلند کرتے ہیں تب وہی دہشت گرد ہیں ؟کیا کسی کا دہشتگرد، کسی کا حریت پسند ہوتا ہے؟کئی برسوں تک روسی حکومت کا افغانستان میں قبضہ رہا اور افغان جوانوں کے جوابی حملوں کو لگاتار روسی اخبارات نے دہشتگردانہ حملہ ہی لکھا تھا۔

وسنیا ہرزیگوینا میں سربوں نے مسلمانوں پر چڑھائی کر کے 10ہزار بے گناہ مائیں، بہنیں، بچے اور بچیوں کوظلم اور بربریت کا نشانہ بنایا۔ایک کنٹینر میں بند کر کے ہاتھ پائوں باندھ کر ان مظلوم مسلمانوں کوگولیوں سے چھلنی کردیاگیا۔ عراق میں 5لاکھ عراقی شہید کئے گئے۔ لیبیا میں 59ہزار لیبیا کے مسلمان جن میں شیرخوار بچے اور بچیاں شامل تھیں شہید کئے گئے۔ افغانستان میں روس نے جب  چڑھائی کی تھی تو جس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ بے گناہ افغانی شہید کئے گئے اور بعدازاں نائن الیون کا بہانہ بناتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے افغانستان پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں 20لاکھ عام شہری نام نہاد جنگ کا ایندھن بن گئے۔شام میں 6لاکھ بے گناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔کنبہ کا کنبہ ختم ہوگیا لیکن انسانی حقوق کی بات کرنے والی تنظیموں کوان مظلوموں کی آہ وبکا کہاں سنائی دیتی، اس لیے کہ وہ انسان کہاں۔ ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو مسلمان ہیں ؟اور ہم انسان نہیں ہوتے، اس لیے ہماراکوئی حق کہاں۔ ۔۔ہم تومسلمان ہیں ؟

میانمار میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی ہے۔ ان کی کوئی پہچان نہیں کہ وہ انسان بھی ہیں ؟کوئی گھر نہیں۔ کوئی زمین نہیں۔ کشتیوں میں سمندر میں رہنے پر مجبور ہیں۔ وہاں بھی ان کو پناہ نہیں ہے۔سمندر میں پینے کے پانی کی کمی ہے،اس لیے وہ مظلوم اپنا پیشاب جمع کرکے پھر اسے صاف کرکے پیتے ہیں، ان کو مارنے والے بدھ مذہب کے پیروکار ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ چونٹی کو بھی نہیں مارتے۔ بدھ مذہب میں کسی کی جان لینا گناہ عظیم ہے۔ لیکن لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کرنے کے بعد بھی ان کو کوئی بھی دہشت گرد نہیں کہہ رہا۔ سارا قصور مسلمانوں کا ہی ہے، اور اسے ظالم پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے پھیلایا بھی گیا ہے۔ان مظلوموں کاسب سے بڑا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں ؟

کچھ دنوں پہلے اسرائیل کے کچھ نوجوان اپنے ہاتھوں میں ایک بینر لے کر سڑکوں کو نظر آئے جس پر لکھا تھا۔

(Khaibar Was Your Last Chance)

خیبر آپ کا آخری موقع تھا۔   یہودی آج بھی ایسی ہی ذہنیت کو لے کر اپنے دل و دماغ میں دشمنی نبھا رہے ہیں۔ جس پر لکھا ہوتا ہے۔ ”مسلمانوں خیبر کی فتح تمہاری آخری جیت تھی” اب تم ہم سے کبھی نہیں جیت سکتے؟

ملک ہندوستان میں مسلمانوں پر اب جئے شری رام نہ کہنے پر جئے بجرنگ بلی، جئے ہنومان نہ کہنے کی صورت میں روز بروز بھیانک حملے ہی نہیں بلکہ جان تک لی جارہی ہے۔ صرف اس لیے کہ ہم ڈر سے مرتد ہوجائیں۔ لیکن یہ ظالم نہیں جانتے کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا بلکہ اللہ اور رسولﷺ کی عزت اور ناموس کے لیے زندہ ہے، جس دن اسے لگے گا دین خطرے میں ہے، ناموس رسالت ﷺ کا معاملہ ہے پھر اس کی غیرت ایمانی انشاء اللہ دنیا دیکھے گی۔ مسلمان اپنے اوپر ہرظلم تو برداشت کرسکتاہے، لیکن قانون شریعت پر ایک حرف بھی ہم سے برداشت نہ ہوگا۔

ہمیں عمر ؓ کا انصاف یاد ہے کہ اپنے بیٹے کو قانون الہی توڑنے کے پاداش میں سخت سزا دی تھی۔حتیٰ کے ان کا انتقال ہو گیا۔ ہمیں عثمان ؓیاد ہیں جنہوں نے خوں ریزی نہ ہونے دیا اور خود کو اللہ کے دین پر قربان کردیا۔ ہمیں وہ معصوم علی کرم اللہ وجہ بھی یاد ہیں جو اپنی شہادت پر خوشی منا کر اعلان کرتے ہیں کہ رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوا۔ہمارے کابرین نے اپنی اپنی قربانی دے کر اس شجر اسلام کی آبیاری کی ہے۔اگر ضرورت محسوس ہوئی تو ہم بھی ان کی سنت پر عمل کریں گے۔

مسلمان جان دے سکتا ہے۔۔۔مگر ایمان نہیں۔

لفظ جہاد کو شرپسند عناصرنے صرف اور صرف ہمارے خلاف استعمال کیا ہے۔راغب اصفہانی جہاد کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ترجمہ: دشمن کے مقابلہ و مدافعت میں فوراً اپنی پوری قوت و طاقت صرف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔(راغب الصفہانی، المفردات: 101)

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں ’’دین اسلام کی اشاعت  و ترویج، سربلندی و اعلاء اور حصول رضائے الٰہی کے لیے اپنی تمام تر جانی، مالی، جسمانی، لسانی اور ذہنی صلاحیتوں اور استعدادوں کو وقف کرنا جہاد کہلاتا ہے۔مولاناسید سلیمان ندوی صاحب لکھتے ہیں :’’جہاد کے معنی عموماً قتال اور لڑائی کے سمجھے جاتے ہیں۔ مگر مفہوم کی یہ تنگی قطعاً غلط ہے، لغت میں اس کے معنی محنت اور کوشش کے ہیں ‘‘ (سیرۃ النبی جلد۔5 صفحہ.210 طبع اول۔ دارالاشاعت کراچی نمبر۔1)جہاد کو ان اقسام میں قرآن اور حدیث نے تقسیم کیا ہے۔

نفس اور شیطان کے خلاف جہاد۔ جہاد بالقرآن یعنی دعوت و تبلیغ۔جہاد بالمال۔ جہاد بالسیف (تلواروں سے یا ہتھیاروں سے)اور سب سے بڑھ کر ظالم کے ظلم کا منھ توڑجواب دینے کے لیے جہاد ضروری ہے۔چاہے طاقت سے ہو، ہتھیاروں سے ہویا زبان سے۔

4 تبصرے
  1. سید ظفر حسین کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ
    ۔بہت ہی شاندار مضمون ریاض فردوسی صاحب۔اللہ آپ کے قلم خوب ترقی عنایت کرے۔میرے کم علم کے مطابق اس وقت آپ کے معیار کا لکھنے والا اس پر صغیر میں کوئ نہیں ہے۔آپ ابھی کے وقت کے سب سے ممتاز مصنف ہے۔آپ کی ٦ تصانیف آپ کی علمی قابلیت کا ثبوت ہے۔دور حاضر کے آپ رئیس القلم ہیں۔آپ کے بہت سے مضامین پاکستان کے اخبارات اور رسالوں میں بھی چھپتے رہتے ہیں۔نوابۓ وقت، جنگ اور دیگر رسالوں میں آپ کے مضامین کا مطالعہ کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔آپ کے لکھنے کا انداز بیان غالب اور اقبال کی یاد تازہ کردیتی ہے۔جو بات وہ منظوم میں کہ چکے ہیں اسی بات کو آپ مضمون کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے۔آمین یارب العالمین

  2. شاہ انوار حسین کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔
    عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔

    اللہ آپ کے علم میں مزید اضافہ کرے۔بہت ہی جامع اور مدلل مضمون۔آپ نے کوچے میں سمندر کو اکٹھا کر دیا ہے۔اللہ آپ کو بہترین بدلہ عنایت کرے۔دور حاضر میں آپ کا قلم طاغوتی طاقتوں کے لۓ شمشیر بے نیام ہے۔آپ کے مضامین کفر کے قلعوں پر بم بن کر گرتے ہیں۔آپ اپنے قلم سے تقریباً ٢١ سالوں سے کفر کے خلاف معرکہ آرائی میں بنا کسی شہرت اور مقبولیت کے محو ہیں۔آپ کو شہرت حاصل کرنے کا ذرا بھی لالچ نہیں۔آپ نے آج تک کسی کو خوش کرنے کے لیے مضمون نہیں لکھا، اسی وجہ سے آپ انعامات سے محروم رہیں۔جہاں دور حاضر میں ہر مصنف اور شعراء، امرا اور صاحب اقتدار طبقہ کو خوش کرنے کی دن و رات کوشش میں لگا ہوا ہے،(الا ماشاء اللہ) اور اسی بنا پر انعام اور اکرام سے نوازہ بھی جارہا ہے،
    وہی علامہ ریاض فردوسی‌صاحب صداۓ قلندر بلند کرنے میں گم ہے۔
    اقبال کا یہ شعر آپ جیسے مرد قلندر کے لۓ ہی ہے۔

    اگرچہ بت ہے جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لاالہ الا اللہ

  3. ثاقب قاسمی کہتے ہیں

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ۔
    بہت ہی شاندار مضمون۔ریاض فردوسی صاحب کی قلم سے نکلا ہوا ایک اور انمول ہیرا۔میں آپ کے مضامین تقریبا پندرہ سالوں سے پڑھ رہا ہوں،ہر بار یار ایک نئی جانکاری،ہر مضمون میں مختلف فکر،قوم و ملت کا بے پناہ درد،اللہ آپ کے زور قلم میں اور اضافہ کرے۔آمین۔

  4. نجم الدین قادری کہتے ہیں

    السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔

    ماشاء اللہ بہت ہی شاندار مضمون ہے۔اللہ آپ کے علم میں اضافہ کرے۔
    آپ بہت ہی معلوماتی مضامین لکھتے ہیں۔آپ کے مضامین ملت اسلامیہ کے لۓ مشںعل راہ ہیں۔حالات کی عکاسی، موضوع کا انتخاب آپ کی خاص پہچان ہے۔

تبصرے بند ہیں۔