ربا الجاہليہ اور ربا الاسلام

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى

 قرآن كريم كے مشہور اسكالر استاد نعمان على خان صاحب نے اس خواہش كا اظہار كيا كہ ايك مضمون لكھ كر ربا الجاہليہ اور ربا الاسلام كا فرق واضح كروں، اپنى مصروفيات كى وجہ سے مطالبہ پورا كرنے ميں دير ہوتى رہى، آج ديكھا كہ كچھ لوگ مسلمانوں كے درميان ايك غلط فہمى پيدا كر رہے ہيں جس كى وجہ اس فرق كا واضح نہ ہونا ہے، لہذا شديد مشغوليت كے با وجود يہ مضمون قلم بند كرنے كى كوشش كر رہا ہوں تاكہ اس سلسلہ ميں كتاب الہى اور سنت نبوى پر ظلم كا دروازہ بند ہو سكے۔

 ربا الجاہليہ:

ربا كا ترجمہ اردو ميں ہے: سود۔ ربا الجاہليہ كا مطلب ہے وہ سود جسے زمانۂ جاہليت ميں بھى سود سمجھا جاتا رہا ہے، اور جس كى قباحت پر تمام مذاہب اور تہذيبيں متفق اللسان رہى ہيں، اور اسلام نے اس كى حرمت كو مؤكد كيا۔ ربا الجاہليہ كا مطلب ہے قرض پر فائدہ لينا، اس ربا كا تعلق صرف قرض سے ہوتا ہے، ضرورت مند مجبورى ميں قرض ليتے ہيں، انسانيت كا تقاضا ہے كہ انہيں قرض دے ديا جائے اور ان كى مجبورى سے كوئى فائدہ نہ اٹھايا جائے، ان كو قرض واپس كرنے كا موقع ديا جائے، اور جو رقم انہوں نے لى ہے اس سے زيادہ ان پرلازم نہ كى جائے، اور اگر وہ وقت پر ادا نہ كرسكيں تو نرمى كى جائے، نہ ان سے كوئى فائدہ ليا جائے اور نہ تاخير كرنے پر كوئى جرمانہ عائد كيا جائے۔ ربا كے قبيح ہونے كے باوجود ہميشہ انسانى معاشروں ميں ربا كا چلن رہا ہے، جس طرح زنا كى قباحت كے باوجود زنا كى مختلف شكليں ہميشہ برتى گئى ہيں، واقعہ يہ ہے كہ سود كى برائى زنا سے بھى زيادہ ہے جيسا كہ آگے آئے گا، سود غريبوں كا خون چوسنے كے ہم معنى ہے، يہوديوں كے يہاں سود كى حرمت مسلم ہے، ليكن انہوں نے حيلہ كركے غير يہوديوں سے سود لينے كو جائز كرليا، اور يوں يہودى دنيا ميں سب سے بڑى سود خوار قوم بن گئے۔ عربوں نے بھى دور جاہليت ميں سود كا كار وبار جارى ركھا اور يہ تاويل كى كہ جب ہم كوئى چيز بيچتے ہيں تو نفع ليتے ہيں، سود بھى خريد وفروخت كى طرح ہے، اس لیے يہ بہى درست ہے، قرآن كريم نے ان كى يہ دليل نقل كى ہے: "قالوا إنما البيع مثل الربا” سورة البقرة آيت 275، يعنى يہ لوگ كہتے ہيں كہ سود خريد وفروخت كى طرح ہے۔ يہ عربوں كا محض دھوكہ تھا، سود قرض پرہوتا ہے، اور قرض كو ہميشہ بيع سے الگ سمجھا گيا ہے۔ قرآن كريم نے ان كى اس دليل كو كالعدم قرار ديا، اور سخت لفظوں ميں سود كو حرام كيا "وأحل اللہ البيع وحرم الربا” سورة البقرة آيت 275، بلكہ يہاں تك كہا كہ اگر ربا سے باز نہيں آتے تو تمہارے خلاف اللہ اور اس كے پيغمبر كى جانب سے اعلان جنگ ہے "فإن لم تفعلوا فأذنوا بحرب من اللہ ورسولہ” سورة البقرة آيت 279 ۔ تمام صحابۂ كرام، تابعين عظام اور فقہائے امت نے سختى سے سود كى حرمت كو نافذ كيا، اور يہ طے شدہ اصول ہو گيا كہ قرض پر كسى قسم كا فائدہ لينا سود ہے "كل قرض جر نفعا فھو ربا”، بعض لوگوں نے اسے حديث بھى قرار ديا ہے، مگر يہ ايك كمزور روايت ہے، البتہ بہت سى حديثوں سے اس كى تائيد ہوتى ہے، يعنى يہ اصول مضبوط دليلوں پر قائم ہے، امت مسلمہ نے ہميشہ اس پر شدت سے عمل كيا اور قرض كو ہر طرح كے فائدہ سے پاك ركھنے كا اہتمام كيا۔

ربا الاسلام

عربوں نے سود كو بيع جيسا قرار ديا، حالانكہ سود اور بيع ميں بعد المشرقين ہے، سود كا تعلق قرض سے ہے، اور بيع دو چيزوں كے تبادلہ كا عمل ہے، نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سود كى حرمت كے متعلق بہت حساس تھے، آپ كو يہ معلوم تھا كہ گزشتہ قوموں نے كس طرح حيلہ كركے سود كو دنيا ميں پھيلايا، آپ نے ان تمام شكلوں كو سختى سے منع كيا، نيز آپ نے سوچا كہ سود كو اختيار كرنے كے لیے بيع كا راستہ اختيار كيا جا سكتا ہے، خاص طور سے جبكہ عربوں نے سود كو بيع كے مثل قرار ديديا ہے، مثلا يہ ہو سكتا ہے كہ مھاجن كسى مفلس سے يہ كہے كہ ميں تمھيں دو سو گرام (آسانى كے لیے مثال ميں اپنے زمانہ كا وزن استعمال كيا گيا ہے) تين سو گرام سونے كے عوض بيچتا ہوں، ميرا سونا اعلى درجہ كا ہے، اس لیے اس كى قيمت زيادہ ہے، تم بعد ميں ادا كرنا، ليكن تمھيں تين سو گرام ادا كرنا ہوں گے، ظاہر ہے كہ مفلس كے پاس سونا ہے نہيں، وہ اسے قبول كرلے گا، يعنى دونوں قرض كو قرض كہنے كے بجائے اسے بيع ظاہر كر سكتے ہيں، مہاجن فائدہ كى لالچ ميں اور مفلس اپنى مجبورى ميں۔ آپ صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ خدشہ صحيح تھا كہ سود كے لیے بيع كا حيلہ اختيار كيا جا سكتا ہے، اس لیے آپ نے ان چيزوں كى بيع پر جن ميں سود كا امكان زيادہ تھا دو شرطيں لگاديں، ايك يہ كہ جب بھى سونا سونے كے بدلہ بيچا جائے ايك ہاتھ سے ديا جائے اور دوسرے ہاتھ سے ليا جائے، دوسرے يہ كہ دونوں كا وزن برابر ہو، ان دونوں شرطوں سے حيلہ كرنے والوں كے تمام حيلوں كا راستہ بند ہو گيا۔ كيونكہ مفلس كے پاس اگر اس وقت ادا كرنے كے لیے سونا ہوگا تو قرض كيوں لے گا، وہ تو آئندہ ادا كرنے كے وعدہ پر لے رہا تھا، آپ نے ايك ہاتھ سے دينے اور دوسرے ہاتھ سے لينے كى شرط لگا گر ادہار بيع كو ربا كا حيلہ بنانے پر مكمل پابندى لگادى۔ دوسرے اعلى اور ادنى درجہ كا بہانہ ختم كركے يہ ضرورى قرار ديا كہ جتنا ديا جائے اتنا ہى ليا جائے، ظاہر ہے كہ كوئى سود خوار ايسا نہيں كرے گا۔ اسى حرمت ميں آپ نے سونے كى بيع كے ساتھ چاندى، كھجور، گيہوں، جو اور نمك كى بيع بھى شامل كردى، يہ حديث صحيح بخارى اور صحيح مسلم كے علاوہ حديث كى دوسرى كتابوں ميں بھى ہے، عام طور سے فقہاء نے ان چہ چيزوں پر دوسرى چيزوں كا بھى قياس كيا ہے، اس كى تفصيل فقہ كى كتابوں ميں ديكھى جا سكتى ہے۔ بيع كے نقطۂ نظر سے يہ بات كچہ عجيب سى ہے، كيونكہ اشياء كى صفت جودت ورداءت سے قيمتوں پر اثر پڑتا ہے، عجوہ كھجور سو ريال كى ايك كلو ملتى ہے، تو بعض كھجوريں بيس ريال كلو مل جاتى ہيں، دنيا ميں كوئى بھى نہيں جو دونوں كو برابر بيچے، يہ بات ہر شخص جانتا ہے، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے ربا كا مكمل سد باب كرنے كے لیے ان چھ چيزوں كے باہمى تبادلہ كى دو شرطيں (يعنى ايك ہاتھ سے دينا اور دوسرے ہاتھ سے لينا، اور دينے اور لينے ميں مساوات قائم ركھنا) بيان كيں، اسلام سے پہلے اس معاملہ كو ربا نہيں سمجھا جاتا تھا، اسلام نے اسے ربا قرار ديا، اسى لھے اسے ربا الاسلام كہا جاتا ہے۔ يہ ربا اسى وقت ہے جب سونے كو سونے كے بدلہ يا كھجور كو كھجور كے بدلہ بيچا جائے، ليكن اگر كھجور كو پيسے سے خريدا جائے تو اس ميں ربا كا كوئى شبہ باقى نہيں رہتا، اور سود خوار لوگ اسے ربا كے حيلہ كے طور پر نہيں ا پنا سكتے، اسى لیے آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا كہ اچھى كھجور كو خراب كھجور سے نہ بدلو، بلكہ اپنى كھجور پيسے سے بيج دو اور دوسرے كى كھجور پيسے سے خريدو، اس ميں يہ ممكن ہے كہ جتنے ميں اپنى ايك كلو كھجور بيچو اتنے ميں دوسرے كى دو كلو خريد لو، يہ ہدايت بالكل منطقى ہے كيونكہ سود كا كار وبار كرنے والے كبھى يہ طريقہ اپنا ہى نہيں سكتے، چنانچہ صحيح بخارى اور صحيح مسلم كى ايك روايت ہے كہ كسى صحابى نے عرض كيا كہ وہ خيبر كى اچھى كھجوريں ايك صاع دے كر دو صاع يا تين صاع كھجوريں ليتے ہيں، آپ نے فرمايا كہ ايسا نہ كرو، بلكہ اپنى كھجوريں پيسے سے بيچو اور دوسرى كھجوريں پيسے سے خريدو، يہ مشورہ بالكل صحيح ہے، اور سارى دنيا ميں كار وبار اسى طرح ہوتا ہے، اس ميں سود كا كوئى شائبہ نہيں اور نہ اسے سود كے حيلہ كے طور پر اپنايا جا سكتا ہے۔

اسلامك بينكنگ ربا الجاہليہ ہے:

يہوديوں كى سود خوارى نے جديد دور ميں نيا رنگ دكھايا، اور بينك كے نام سے سود خوارى كا ايك ادارہ قائم كيا گيا، ان كى چالاكى نے جلد ہى اس ادارہ كو پورى دنيا ميں پھيلاديا، اور ہر جگہ بينك قائم ہوگئے، بينك كا بنيادى كام سود پر قرض دينے اور سود پر قرض لينے كا ہے، اس پورے كار وبار ميں بينك جہاں سود كو معمول زندگى بنا رہے ہيں، وہيں مختلف قسم كے مظالم كو قانونى حيثيت دے رہے ہيں، سارى دنيا اس جرم ميں شريك ہے۔ كچھ لوگوں نے اسلامك بينكنگ شروع كردى، حالانكہ يہ بات روز اول سے واضح تھى كہ بينك اسلامى ہو ہى نہيں سكتا، ان لوگوں نے بينك كے ساتھ اسلام كا سابقہ لگا كر اس كے جائز ہونے كا پروپيگنڈا كيا، اور يہ كار وبار دنيا ميں ہر جگہ پھيلايا گيا، يہاں تك كہ مغربى سودى بينكوں نے بھى ايك كہڑكى اسلامى بينك كے نام سے كھولنا شروع كردى، كيونكہ اسلامى بينكنگ سود خواروں كے لھے زيادہ نفع بخش ثابت ہوئى، بالعموم اسلامى بينكوں ميں فائدہ كى شرح عام سودى بينكوں كے مطابق ہوتى ہے، بلكہ كبھى كبھى زيادہ زيادہ ہوتى ہے، يعنى اسلامى بينكوں سے قرض لينے پر سود عام بينكوں كے برابر يا زيادہ دينا پڑتا ہے۔ كسى غريب مسلمان كو عام بينكوں سے ايك لاكھ روپئے كا قرض لينا ہو تو اسے ايك سال ميں اگر سود كے ساتہ ايك لاكہ بيس ہزار روپیے ادا كرنے ہوں گے تو اسلامى بينكوں ميں بھى اسے اتنا ہى يا اس سے زيادہ دينا ہوگا، دنيا ميں كوئى اسلامى بينك ايسا نہيں ہے جہاں صرف قرض كى اصل رقم لوٹانى ہو اور اس كے ساتھ كوئى اضافى مبلغ نہ دينى ہو۔ كچھ لوگ اس موقع پر يہ كہتے ہيں كہ پيسے كى قيمت گھٹتى رہتى ہے، تو اگر اتنا ہى واپس كرنا ہو تو قرض دينے والے كا گھاٹا ہوگا، تيسرے ملكوں كى كرنسيوں ميں يہ عام بات ہے، ليكن اس كا سد باب سود نہيں ہے (اس كا حل ميں نے كسى اور جگہ بيان كيا ہے)، سود مہنگائى سے نہيں جڑا ہوتا ہے بلكہ وہ قرض پر مزيد فائدہ كا نام ہے، مہنگائى كا بہانہ كرنا صرف دجل وفريب ہے۔

آج معلوم ہوا كہ اسلامى بينك والوں نے سود كے حيلہ كے لیے خيبر والى حديث استعمال كرنا شروع كردى ہے، حالانكہ خيبر والى حديث ميں كوئى حيلہ ہى نہيں، بلكہ اس ميں آپ نے معمول كا كار وبار كرنے كى ہدايت كى ہے، اس طرح كے كار وبار پر نہ اسلام ميں كوئى پابندى ہے اور نہ كسى اور تہذيب ميں، آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے كسى چيز كو اس كے مثل سے بيچنے كو منع كيا، كيونكہ اسے سود كا حيلہ بنايا جا سكتا ہے، تفصيل اوپر آچكى ہے۔ حيرت ہوتى ہے كہ قرآن كريم ميں سود پر اتنى سخت وعيد موجود ہونے كے باوجود سود كا نام بدل كر اسے جائز كرنے كى كوشش كى جا رہى ہے۔ اسى طرح كا حيلہ يہوديوں نے سنيچر كے دن مچھلى كا شكار كرنے كے لیے كيا تھا، جس پر قرآن نے ان پر سخت لعنت بھيجى۔ مستدرك حاكم كى ايك حديث ميں ہے كہ سود كے تہتر دروازے ہيں، سب سے معمولى دروازہ اپنى ماں سے زنا كرنے كے برابر ہے۔ مسند احمد بن حنبل اور سنن ابن ماجہ ميں حضرت عمر بن الخطاب كا يہ ارشاد ہے: "دعوا الربا والريبة”، يعنى ربا كو ترك كرو اور اس چيز كو بھى ترك كرو جس ميں ربا كا شبہ ہو”۔

 حاصل يہ ہے كہ اسلامى بينك سود كو اسلامى بنانے كى گھناؤنى كوشش ہے۔ جس طرح زنا كو اسلامى نہيں بنايا جا سكتا، اسى طرح سود كبھى اسلامى نہيں ہو سكتا۔ جس طرح زنا كے لیے حيلہ كرنا ناجائز ہے اور حيلہ كے بعد بھى زنا زنارہے گا، اسى طرح سود كے لیے بھى حيلہ كرنا نا جائز ہے، اور حيلہ كے بعد بھى سود سود ہى رہى گا۔ اللہ تعالى ہميں اپنے دين كى سمجھ دے اور تمام محرمات سے ہميں بچنے كى توفيق دے، آمين ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔