سیمینار، سیلفی اور باؤنسر اب مجھے جان لیوا لگتے ہیں!

رویش کمار

لوگوں کی عادتوں میں کچھ بنیادی تبدیلیاں آگئی ہیں. اس کا نمونہ دیکھنا ہو تو آپ کسی اجتماع،  کانفرنس اور سیمینار میں جائیے. سیلفی لینے والے حملہ آور شائقین کی بھیڑ اجتماعات کے امکانات کو محدود کر رہی ہے. ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کسی سیمینار میں کیوں گئے ہیں؟ سیلفی کے لئے یا سننے کے لئے؟ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ جسے پسند کرتے ہیں اسے جتانا بھی چاہتے ہیں لیکن جب سیلفی کا روگ نہیں تھا تب بھی تو لوگ کسی کو پسند کرتے ہوں گے۔ جے پور ‘ٹاک جرنلزم’ میں بولنے گیا تھا. ان دنوں لوگ صحافت کو لے کر طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں تو صحافت پر بات کرنے کا پلان بنا ہوگا. اچھا لگا کہ کچھ طلبہ اور اساتذہ سیلفی کے لئے قریب نہیں آئے.

انہوں نے بات کی اور میں نے بھی ان سے بات کی. وقت ملا تو سیلفی بھی لے لی مگر بہتوں نے برا حال کر دیا. میں اس ڈر سے کمرے میں بند رہ گیا کہ باہر نکلا تو سیلفی حملہ آور جان لے لیں گے. یہ صورت حال انتہائی خراب ہے. مقرر کے لئے بھی اور ان سامعین کے لئے جو صرف سننے آتے ہیں. اتنے اچھے اچھے موضوع اور مقررین تھے، میں وہاں ہوکر بھی ان سے محروم رہ گيا اس لئے جو نوجوان دوست ایسے کانفرنسوں میں جاتے ہیں ان سے کچھ کہنا چاہتا ہوں. آپ میرے لئے پیارے ہیں اور میں بھی آپ کے لئے پیارا ہوں مگر یہ بات اب نہیں کہی گئی تو یہ پیار دونوں کے لئے جنجال میں بدل جائے گیا. مجھے امید ہے آپ صرف نام دیکھ کر سننے نہیں جاتے ہوں گے. مختلف موضوعات میں بھی دلچسپی رکھتے ہی ہوں گے. فطری ہے کہ کچھ کے تئیں زیادہ لگاؤ ہوتا ہوگا. میں آپ کی اس عقیدت کا قرض دار ہوں لیکن ایک پہلو سے اس لگاؤ کا مظاہرہ کسی صحافی کو ختم بھی کر سکتا ہے.

میں جے پور میں بول رہا تھا کہ کیوں کسی کو رويش کمار نہیں بننا چاہئے. اس کے خطروں پر اپنے بلاگ قصبہ میں لکھا تھا. اسی تناظر میں کہا تھا کہ ہم صحافی ہیں. سبزی اور انڈا بھی لانا پڑتا ہے اور گھر والوں کو اسٹیشن سے لانا لے جانا پڑتا ہے. ہم صنعت کار نہیں ہیں کہ ہمارے اہم کام کوئی اور کر رہا ہے. ایک بار رکشے سے آٹا لے کر آ رہا تھا. اسکوٹر پر سوار دو افراد نے جان لے لی کہ آپ آٹا خود سے لاتے ہیں. آپ یہیں رہتے ہیں، اس طرح سے ‘یہیں’ پر زور دیتے ہیں جیسے آپ بھی اسی پھٹیچر علاقے میں رہتے ہیں. ہم تو آپ کو ٹی وی پر دیکھ کر کچھ اور سوچتے ہیں. ایک رشتہ دار گھر آکر سامان سے لے کر دیوار تک چیک کرنے لگے کہ صرف ٹی وی پر چہرہ ہی چمکتا ہے یا گھر میں بھی کچھ ہے. جب بہت متاثر نہیں ہوئے تو طعنہ ٹائپ بول کر چلے گئے. دہلی میں کسی کو بتا دیتا ہوں کہ میں غازی آباد میں رہتا ہوں تو وہ ایسے ناک بھوں سكوڑتا ہے جیسے ابھی کہنے والا ہو کہ اٹھو میرے صوفے سے اور باہر نکل جاؤ. جبکہ بلانے کے لئے وہی مرے جا رہے تھے.

اسی لئے جے پور میں اپنے ہونے کے خلاف بولا. مجھے اس ‘رويش کمار’ سے گھبراہٹ ہونے لگی ہے. مجھ سے میری تنہائی جا رہی ہے. خود کو بچانے کے لیے ضروری ہے کہ میں رويش کمار نہ رہوں. میں ہر وقت کسی بھیڑ کی طرف سے گھرا نہیں رہنا چاہتا بلکہ کسی بھیڑ میں کھو جانا چاہتا ہوں تاکہ آپ کے سامنے نئی نئی باتوں کو لے سکوں. آپ کے درمیان کا ہی کوئی ایک بن کر لکھنا بولنا چاہتا ہوں. کچھ لوگوں کے گھیر لئے جانے سے میرا اکیلاپن، پھكڑپن جانے لگا ہے. کہیں کھڑا ہو کر کوئی چیز دیکھ رہا ہوتا ہوں کوئی نہ کوئی روک جاتا ہے. کسی کا انٹرویو کر رہا ہوتا ہوں، پاس میں کھڑا کوئی سیلفی لے رہا ہوتا ہے. آپ جسے پسند کرتے ہیں، اس کے بارے میں اتنا تو خیال رکھنا چاہئے کہ آپ کی پسند کے اظہار کی وجہ سے وہ کہیں اشتهار بن کر نہ رہ جائے.

مجھے یہ سن کر ڈر لگ جاتا ہے کہ کوئی مجھے سننے کے لئے دربھنگہ سے جے پور آ گیا تھا. کچھ نوجوانوں نے جب بتایا کہ ہم دو سو کلومیٹر دور ٹونک ضلع سے بس سے چل کر آپ کو سننے آئے ہیں. اس پیار کا قرض چکا تو نہیں سکوں گا لیکن اس کے بوجھ بن جانے سے ڈرتا ہوں. پھر بھی آپ سے مل کر آپ کے بارے میں جاننا چاہوں گا کہ آپ کون ہیں؟ کیوں ایک صحافی کے کام میں آپ کی دلچسپی ہے؟ مگر اس سے پہلے کہ آپ تک پہنچتا ہوں یا تو سیلفی والے پریمی گھیر لیتے ہیں یا ان سے بچانے کے لئے باؤنسر کنارے لگا دیتے ہیں. مجھے بہت شرم آئی کہ ایک صحافی کو کمرہ سے اسٹیج پر باؤنسروں کی جماعت گھیر کر لے جائے اور واپس باؤنسر کمرہ تک پہنچا دے. اس سے ہوگا یہ کہ ہم اسٹار تو رہ جائیں گے مگر صحافی نہیں رہ پائیں گے.

سب سے زیادہ چبھتی ہیں وہ نگاہیں جو آپ کو پہلے سے دیکھتی آ رہی ہیں. جو تول رہی ہوتی ہیں کہ کیا اسے اب یہ سب اچھا لگ رہا ہے؟ کیا اس کا دماغ خراب ہو رہا ہے؟ انہیں میرے لئے اچھا بھی لگ رہا ہوتا ہے پر میں کس طرح کہوں کہ نہیں میں اب بھی وہی ہوں. جب تک ان نگاہوں سے ٹکرا کر کچھ کہنے کی کوشش کرتا ہوں، باؤنسر ڈھکیل کر کہیں اور پہنچا دیتے ہیں. میرے ہی دوست کنارے کھڑے اجنبی کی طرح سے لگنے لگتے ہیں. میں جن کے ساتھ آیا ہوں ان سے دور ہو جاتا ہوں. اس وقت مجھے بہت ڈر لگتا ہے.

اس لئے میری طرف لپكئے مت، میں خود آپ کے پاس آنا چاہتا ہوں. آپ سے زیادہ میں بات کرنے کے لئے بے قرار رہتا ہوں مگر اس کمبخت سیلفی نے مزہ کرکرا کر دیا ہے. کسی اور کو سننے پہنچا نہیں کہ دس سیلفی حملہ آور آ جاتے ہیں. انہیں میرا نہیں تو کم سے کم ان کے بارے میں تو سوچنا چاہئے جو اس آڈیٹوریم میں کسی اور کو سننے بیٹھے ہیں.

سیلفی ایک قومی بیماری ہے. یوں ہی نہیں کہا تھا.

سیلفی چہرے کا جغرافيہ بھی بگاڑ دیتا ہے. کوئی کندھے پر جھک کر تو کوئی کندھے سے لٹک کر سیلفی لینے لگتا ہے. کوئی گھٹنوں پر بیٹھ کر سیلفی لینے لگتا ہے. چہرے سے زیادہ توند آ جاتی ہے. کوئی میری لمبائی کا کاٹ نکالنے کے لئے آگے جاکر سیلفی لینے لگتی ہے. تصویر دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ میں اس کا پیچھا کر رہا ہوں اور وہ بھاگی جا رہی ہے. تبھی کوئی ہاتھ کرین کی طرح اوپر سے آتا ہے اور فریم سیٹ کرنے لگتا ہے. نتیجہ آنکھ کی جگہ موٹی ناک آجاتی ہے. الگ الگ فریم میں آپ کے چہرے کی حالت ایسی ہو جاتی ہے جیسے کسی غیر قانونی زمین پر بلڈر پلاٹ کاٹ گیا ہو.

ممکن ہو سکے تو اسے چیک کیجئے. جس دن آپ مجھ سے بور ہو جائیں گے اس دن میرے یار دوست یہ پوچھ پوچھ کر جان مار دیں گے کہ تم کو پہچانا لیکن سیلفی لینے نہیں آیا یا کوئی صرف مل کر چلا جائے گا تو بولیں گے کہ سیلفی نہیں لیا جی. بلکہ ایسا ہوتا ہے. جب کبھی کہیں لوگ نہیں پہچانتے ہیں تو ساتھ والا یاد دلا دیتا ہے کہ یہاں کوئی نہیں پہچانا. کیا میرے ہونے کا پیمانہ یا مطلب اب سے یہی ہے. ایسا کرتے ہوئے آپ ایک صحافی کے اندر کے نئی امکانات کو مار دیں گے.

اس ایک ہفتے میں ہلدوانی، لکھنؤ، دہلی اور جے پور. ہلدوانی میں بول رہا تھا تو کھٹکا کہ جے پور والا تو نہیں بول دیا. جے پور میں بولتے وقت لگا کہ کہیں لکھنؤ میں تو نہیں بول آیا ہوں. جب زیادہ بولیں گے تو آپ کے اندر وہی بات بار بار گونجے گی. دو تین سالوں سے اپنے بلاگ قصبہ پر لکھ رہا ہوں کہ مجھے کہیں نہ بلایا جائے. اتنی دعوت آتی ہے کہ اب فون اٹھانا بند کر دیا ہوں. بلانے سے پہلے یہ تو سوچنا چاہئے کہ کیوں بلا رہے ہیں؟ کیا میں اتنی جگہوں پر جا سکتا ہوں؟ شاید نہیں. انکار کرتے کرتے دل اداس ہو جاتا ہے. لوگ میرے اوپر جذباتی دباؤ کا پہاڑ رکھ دیتے ہیں.

میرے پاس کام کا ہی اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ الگ سے سوچنے کا وقت ہی نہیں مل پاتا. ہر دن اپنی چھٹی بچانے کی جدوجہد میں چلا جاتا ہے کہ کسی طرح ہفتہ اتوار گھر میں رہیں. آپ ہی سوچیں کہ ہم کون سے طرم خان ہیں جو ہر موضوع پر روز روز بول سکتے ہیں. کیا ہر بات پر میرا بولنا اور لکھنا ضروری ہے؟ کیا میری ذمہ داری تبھی ثابت ہوگی جب ہر واقعہ پر موقف واضح کروں اور پٹنہ- پاٹن گھومتا رہوں. تب تو مر جانے پر بھی لوگ بولیں گے کہ تم اس پر بول کر ثابت نہیں کر سکے. حد ہے. آج کل سو کر اٹھتا نہیں ہوں کہ میسج آ جاتا ہے کہ تمہیں اس پر بولنا چاہیے تھا، اس پر بولنا چاہیے تھا.

شائقین کے ساتھ ساتھ منتظمین سے ایک گزارش ہے. وہ یہ سوچیں کہ کیوں کسی کو بلا رہے ہیں؟ کہیں آپ مجھے یا کسی اور کو نام نہاد اسٹار ویلیو کے لئے بلا رہے ہیں؟ میرے لئے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے. میں کھلاڑی یا آرٹسٹ نہیں ہوں کہ اس کے بدلے میں پریشر کوکر یا دتمنجن، صافی، اسبغول کا اشتہار مل جائے گا. سیونگ کریم کا اشتہار تو چھوڑ ہی دیجیے. یہ تحریر ختم ہی کر رہا تھا تو ایک ایس ایم ایس آیا. کیا آپ چار اگست کو ممبئی آ سکتے ہیں؟

تبصرے بند ہیں۔