طالبان، ہندوستان اورمسلمان

مدثراحمد

پچھلے دنوں افغانستان میں طالبان کی جماعت نے وہاں کی امریکی حمایت شدہ حکومت کو ہٹاکر طالبان کی حکومت قائم کی اور دنیا کو پھر ایک مرتبہ اس بات کا پیغام دیاکہ کوئی حکومت دائم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی طاقت قائم رہنےو الی ہے ،ہر چیزوقت کے ساتھ بدلنے والی ہے۔ طالبان کس حدتک صحیح ہیں غلط ہیں ،حق پر ہیں ناحق پر ہیں،یہ الگ بات ہے اور اس پر رائے قائم کرنا بھی قبل از وقت بات ہوگی،کیونکہ طالبان نے دنیاکے سامنے کہاہے کہ وہ تمام کو مساوی حقوق دینگے اورحق کیلیے ہمیشہ جدوجہد کرینگے۔ طالبان کے اس بڑے بیان کے باوجود اب بھی دنیا کا95 فیصد حصہ کشمکش میں ہے کہ آخر طالبان کرنا کیا چاہتے ہیں؟ اور کس طرح سے وہ حکومت چلائینگے؟دنیا کی طرف سے یہ سوال نہ صرف طالبان کیلیے چیلنج ہے بلکہ مسلمانوں کیلیے بھی لمحہ فکر ہے۔

 اب بات کرتے ہیں ہندوستان اور طالبان کی اور ہندوستانی مسلمانوں و طالبان کی۔ کیونکہ جب سے طالبان نے افغانستان پر قبضہ کیاہے اُس کےبعد سے ہندوستانی مسلمانوں کے تیور خصوصاً مسلم قائدین کے تیوربدلے بدلے نظرآرہے ہیں۔ کل تک جو قائدین بھارت میں ماب لنچنگ کا شکارہونے والے مسلمانوں کے حق میں زبان کھولنا گنوارانہیں سمجھ رہے تھے وہ آج کل طالبان کے ماضی،حال اور مستقبل کو لیکر نہ صرف اپنی رائے کااظہارکررہے ہیں بلکہ کچھ زیادہ جذباتی ہوچلے ہیں۔ اگر واقعی میں یہ لوگ طالبانی حکومت کو درست مانتے ہیں تو عرب ممالک میں جو اسلام کے نام پر قائم شدہ ریاستیں ہیں جہاں پراسلامی قوانین کو پامال کیاجارہاہے،تواُن پر منفی یا مثبت تبصرہ کیوں نہیں کیاجارہاہے۔ افغانستان میں طالبان کا قبضہ کرنا یا شکست کھانا مسلمانوں کے بڑے طبقے کیلیے فٹ بال کا میچ بن چکاہےاور ہر گھڑی میں مسلمان اس تجسس سے سوال کرتے ہیں کہ کیاہوا؟،کتنے طالبانی مرے؟،کتنے شہری مرے؟،کتنے امریکی مرے؟ وغیرہ وغیرہ۔ مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ سوشیل میڈیا میں جس طرح سے مسلمانوں کا برتائو دکھائی دے رہاہے وہ تشویشناک ہے،مسلم نوجوان حالات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے بھی جس طرح سے لاپرواہی برت رہے ہیں اُس سے مسلمانوں کا کچھ فائدہ ہونے والانہیں ہے۔ ہمیں کابل میں جو ہورہاہے اُس پر غورکرنے سے زیادہ ناگپورمیں کیاہورہاہے اُس پر غورکرنے کی ضرورت ہے۔

کابل میں جو ہورہاہے اُس سے ہمارااور آپ کا کوئی لینا دینا نہیں ہے وہ ایک بین الاقومی سطح کی سیاست ہے ،لیکن یہاں مقامی سطح کی جو سیاست ناگپور میں بیٹھ کی جارہی ہے وہ بھارت کے مسلمانوں کیلیے نقصاندہ ہے۔ خود یکھئے کہ کس طرح سے طالبان حکومت کی تائیدمیں چند الفاظ لکھے جانے پر ہی مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہاہے،اس سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس وقت بھارت کے مسلمانوںکو ناگپورمیں مسلمانوں کے خلاف سنگھ پریوارکی جو سازشیں ہورہی ہیں اُس پر نظریں جمانے کی ضرورت ہے۔ آہستہ آہستہ مسلمانوں کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں،مسلمانوں کونقصان پہنچایاجارہاہے،نوکریوں سے دوررکھنے کیلیے نت نئے قوانین بنائے جارہے ہیں اور نوجوانوں کوجھوٹے معاملات میں پھنسنا ان کامعمول بن چکاہے۔ ایسے میں مسلم نوجوانوں کو احتیاط برتنے کی ضرورت ہے اور کسی بھی ایسی حرکت میں ملوث نہیں ہونا چاہیے جو نہ صرف ان کیلیے نقصاندہ ہوبلکہ پوری قوم اور سماج کیلیے پریشانی کا سبب بنے۔ مسلم نوجوانوں کو طالبان سے لڑنے والانہ بنائیں بلکہ ملک میں موجود انسانیت کے دشمنوں سے لڑنے والابنایاجائے۔ کیونکہ ہمارے سامنے صرف افغانستان کا مسئلہ اہم نہیں ہے بلکہ ملت اسلامیہ کے کئی مسائل ہیں۔

 ازل سے ہمارے درمیان یہی ہوتارہاہے کہ ہم نے حقیقت میں اپنے مسائل کی نشاندہی نہیں کی ہےبلکہ ہمارا مسئلہ کچھ اور ہوتاہے اور ہم بحث کسی اور مدعے پر کرتے ہیں۔ ہمارے مسائل کچھ اور ہوتے ہیںا ور ہم اُس کا حل کچھ اور نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک ہم اپنے حقیقی مقاصدکی نشاندہی نہیں کرتے اور اُس میں کامیابی حاصل کرنے کیلیے نہیں دوڑتے تب تک نہ ہندوستان میں ہمیں راحت ملے گی اور نہ افغانستان کے طالبان کی کم ازکم تعریف کرنے کا موقع بھی نہیں ملے گا۔

ماضی کے اوراق کو پلٹ کر دیکھیں کہ مسلمان کس طرح بلاوجہ جذباتی ہوچکے ہیں،بات صدام حسین کی ہو یاپھر قدافی کی ،بات کیوباکی ہو یا پھر فلسطین کی،ہم نے ہر مدعے کو جذبات کے آئینے میں ہی تلاش کیاہے اور حقیقی مسائل کو نہیں چانچاہے۔ جذبات کوچھوڑکر ہوش کے ساتھ کام کرنے کاوقت اب آچکاہے،اب اگر اب بھی جذبات کی رو سے باہر نہیں نکلیں گے توآنے والی کئی نسلیں اس کا نقصان اٹھائینگی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔