طب یونانی ھمارا قومی اثاثہ

طب یونانی / طب اسلامی انبیاء اکرام کی میراث ھے . خدائے بزرگ و برتر نے جب یہ کائنات تخلیق کی تو اس وقت سب سے پہلے یہی جڑی بوٹیاں پیدا ہوئیں. وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ طب یونانی پر مغربی طب کی یلغار نے اسے دن بدن زوال پذیر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ بری طرح ناکام رھے. آہستہ آہستہ طب یونانی /طب اسلامی کو دوبارہ عروج ملنا شروع ھوگیا.اور آج W.H.O کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا کی %86 فیصد آبادی ہربل ادویات سے استفادہ حاصل کر رہی ھے.
پاکستان کی ملک گیر جماعت "پاکستان طبی کانفرنس ” نے اپنے قیام سے لے کر آج تک طب اور طبیب کی فلاح و بہبود کیلیے اقدامات کیئے. مسیح الملک حکیم حافظ اجمل خان کی تاسسیس کردہ جماعت "پاکستان طبی کانفرنس” شفاءالملک حکیم محمد حسن قرشی اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھوں کندن بن کر دیگر اکابرین کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیئے مشعل راہ بن چکی ھے. آج شفاءالملک حکیم محمد حسن قرشی کے فرزند ارجمند حکیم اقبال قرشی اس عظیم جماعت کی باگ دوڑ سنبھالے ھوئے ھیں.
نیشنل کونسل فار طب وفاقی وزارت صحت حکومت پاکستان کا منظور شدہ ادرہ ھے. جو طبیہ کالجز سے فارغ التحصیل طلباء کو رجسٹرڈ کرتا ھے.
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا قیام عطائیوں کے خلاف کاروائیاں کرنا ھے لیکن ان کاروائیوں کی آڑ میں کوالیفائیڈ اطباء کو حراساں کرنا جائیز نہیی ھے .
نیشنل کونسل فار طب نے ” اطباء کے حقوق ” کے حوالے سے P.H.C اور اطباء کو آگاہ کیا.جسے مفاد عامہ کیلیے پیش کیا جارھا ھے.

اطباءکے حقوق

Privileges of registered practitioners(Tabeeb/Vaid)

یونانی آئیورویدک اینڈ ہو میو پیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ 1965 ءکے سیکشن ۳۳ کے مطابق نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم کو درج ذیل حقوق حاصل ہیں-

1 ایک کوالیفائیڈ رجسٹرڈ طبیب ویدکسی بھی سرکاری ہسپتال ، ڈسپنسری میں ملازمت حاصل کرسکتا ہے اور اپنے طریقہ علاج کے مطابق علاج معالجہ کرسکتا اور دوا تجویز کرسکتا ہے

2 نیشنل کونسل فار طب کے الیکشن میں ووٹ دے سکتا ہے

3 کوئی بھی رجسٹرڈ پریکٹیشنرز (طبیب وید)عدالت کے ذریعے فیس حاصل کرسکتا ہے

4 کوئی بھی رجسٹرڈ پریکٹیشنرز (طبیب وید) صرف وہ ادویات تجویز ،ذخیرہ اور فروخت کرسکتا ہے جو حکومت پاکستان کے منظور شدہ طبی فارما کوپیا کے مطابق ہیں

5 رجسٹرڈ پریکٹیشنرز (طبیب وید)نیشنل کونسل فارطب حکومت پاکستان کے منظور شدہ اخلاقیات طب (Code of ethics) پرعمل درآمد کا پابند ہوگا-

ایک رجسٹرڈ پریکٹیشنرطبیب وید جراح علاج معالجہ کرتے ہوئے درج ذیل امور انجام دینے کا مجاز ہے

ا) نیشنل کونسل فار طب حکومت پاکستان کے منظور شدہ طبی فارما کوپیا طبی نصاب/ طبی کتب کے مطابق ادویات تجویز (نسخہ نویسی )کرسکتا ہے-

ب) جراحت صغیرہ (minor Surgery)کرنے کامجاز ہے

ج) حجامہ (Cupping) کر سکتا ہے ،

د) فصد (Phlebotomy) کرسکتا ہے

ذ) تشخیص کے لیے خون ، پیشاب ، براز،بلغم کے اور دیگرلیبارٹری ٹیسٹ تجویز کرسکتا ہے ، اور تشخیص کے لیے ان کا معائینہ بھی کرسکتا ہے

ر) اپنے مریض کے لیے اس کے مرض کے مطابق اپنے مطب پر دوا بنا کردے سکتا ہے

ڑ) اپنے مطب پر بی پی اپریٹس ، تھرما میٹر ، سٹیتھو سکوپ اور ای این ٹی (ENT) سیٹ وغیرہ استعمال کرسکتا ہے

وہ امور جن کے کرنے کی ممانعت ہے (prohibitions)
یونانی آئیورویدک اینڈ ہو میو پیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ 1965 ءکے سیکشن ۷۳ کی شق ۲کے مطابق نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم کو درج ذیل امور کی ممانعت ہے۔
نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم جراح ویدقانونی ضرورت کے تحت کسی بھی فرد کو صحت و مرض کا سرٹیفکیٹ دینے کا مجاز نہیں ۔

*-  نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم ویدقانونی ضرورت کے تحت پیدائش کا سرٹیفکیٹ دینے کامجاز نہیں

*-  نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم جراح وید کمپاؤنڈ فریکچرکا علاج کرنے کامجاز نہیں

*-  نیشنل کونسل فار طب کا رجسٹرڈ طبیب جراح ویدٹوٹی ہوئی ہڈی پر پلستر نہیں کرسکتا

*-  نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم جراح ویدایکسرے ، ای سی جی ، الٹراساؤنڈ وغیرہ کرنے کا مجاز نہیں

*-  نیشنل کونسل فار طب کا رجسٹرڈطبیب حکیم جراح ویدڈینٹل سرجری کا مجاز نہیں

*- نیشنل کونسل فار طب کارجسٹرڈطبیب حکیم جراح وید انجیکشن لگانے کا مجاز نہیں

*- نیشنل کونسل فار طب کا رجسٹرڈطبیب حکیم جراح وید ٹانکے لگانے ، چیر پھاڑ کرنے اور کسی بھی ایسے عمل کا مجاز نہیں جس کے لیے انیستھیزیا کی ضرورت ہو یا خون بہنے کا خدشہ ہو

*- نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم جراح وید ابتدائی طبی امداد کے لیے طبی ادویات پر انحصار کرے گا

*- نیشنل کونسل فار طب کے رجسٹرڈ طبیب حکیم جراح وید کوکسی بھی ایمر جنسی کی صورت میں بھی ایلو پیتھی
ادویات استعمال کرنے کی اجازت نہیں ھے.

*-نوٹ: مندرجہ بالا اطباءکے حقوق اور ممانعت کا تعین کرنے لیے نیشنل کونسل فار طب کی ایڈوائزری کمیٹی نے سفارشات پیش کیں جن کی منظوری کونسل کے دسویں اجلاس میں دی گئی –

محترم ڈاکٹر فیصل سلطان کی بطور وفاقی مشیر صحت تقرری پر ھم انھیں مبارکباد پیش کرتے ھیں
بین الاقومی شہرت کے حامل ڈاکٹر فیصل سلطان کی وزارت ہیلتھ سروسز میں بطور مشیر صحت تعیناتی حکومت کا ایک خوش آئیند قدم ہے، ڈاکٹر فیصل ایک تجربہ کار ، سینئیر ہیلتھ پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامی امور کا بھی وسیع تجربہ رکھتے ہیں- یقینا ان کے قومی اور بین الاقومی تجربہ اور صلاحیتوں سے حکومت پاکستا ن بھرپور استفادہ کرے گی اور ملک میں مسئلہ صحت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے بہترین فضاءاور ماحول بنے گا-
قبل ازیں ڈاکٹر فیصل سلطان کورونا کے حوالہ سے قائم کی گئی ٹا سک فورس کے انچارج تھے اور ان کی بہترین حکمت عملی کے باعث ہمارا پیارا ملک پاکستان اس وباءسے بڑی کامیابی کے ساتھ عہدہ برآءہوا ہے –
ہم اطبائے پاکستان کی ملک گیر نمائندہ جماعت پاکستان طبی کانفرنس کی جانب سے ڈاکٹر فیصل سلطان کو بطور مشیر وزیر اعظم پاکستان مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں-
پاکستان میں دیگر مسائل کی طرح مسئلہ صحت بھی انتہائی گمبھیر صورتحال سے دوچار ہے اس شعبہ پر سنجیدگی سے کبھی بھی کوشش نہیں کی گئی – اگر چہ ملک میں تین طریقہ ہائے علاج کو قانونی طور پر تسلیم کیا گیا ہے جن میں-
1  طب یونانی –
2 ہومیو پیتھی
3  ایلو پیتھی شامل ہیں –
مگر بدقسمتی سے پاکستان میں صرف ایک طریقہ علاج ایلو پیتھی کی سرپرستی کی گئی اور تمام تر وسائل اسی نظام کی ترقی اور فروغ کے لیے جھونک دئیے گئے – ملک کے مقبول ترین طریقہ علاج طب یونانی کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے – اس طریقہ علاج کی کوئی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں سرکاری سطح پر صرف ایک یونانی طبیہ کالج قائم کیاگیا ہے جبکہ ایلوپیتھی تعلیم کے لیے 100 سے زائد میڈیکل کالجز سرکاری سرپرستی میں قائم کیے ہیں –
ایک طبیب کی تعلیم پر سالانہ20 روپے فی کس خرچ کیے جاتے ہیں جبکہ ایلوپیتھک ڈاکٹر کی تعلیم پر سالانہ لاکھوں روپے فی کس خرچ کیے جاتے ہیں-
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے بھی تمام ممبر ممالک میں مسئلہ صحت کے حل کے لیے اپنے علاقائی مقامی طریقہ ہائے علاج کو فروغ دینے کی تلقین کی ہے عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 79 فی صد آبادی مقامی طریقہ علاج سے استفادہ کرتی ہے – مگر اس کے برعکس پاکستان میں طب یونانی کے فروغ اور ترقی کے لیے کوئی توجہ نہیں دی جارہی –
پاکستان میں پرائمری ہیلتھ کئیر سسٹم انتہائی کسمپرسی اور مشکل صورتحال سے دو چار ہے کوئی واضح پرائمری ہیلتھ کئیر سسٹم نہ ہونے کی بناءپر سرکاری ہسپتالوں پر بوجھ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتالوں میں بیڈ تک میسر نہیں ، ادویات کی صورتحال بھی کوئی تسلی بخش نہیں ہے –
ڈاکٹر فیصل بلا شبہ ایک بین الاقوامی شہرت کے حامل منتظم ہیں یقینامذکورہ صورتحال سے پوری طرح آگاہ بھی ہونگے-
ہماری مشیر صحت ڈاکٹر فیصلسلطان سے درخواست ہے ملکی مسئلہ صحت کے حل کے لیے مقامی طریقہ علاج طب یونانی کی سرپرستی کریں ، اس سلسلہ میں چند تجاویز پیش خدمت ہیں؛
1  ملک بھر میں طب یونانی کے سرکاری شفاخانے قائم کیے جائیں-
2  دیہی مراکز صحت ، اوقاف کے مراکز صحت اور ضلعی حکومتوں کے صحت کے مراکز میں اطباءکو تعینات کیا جائے-
3  ملکی صنعت دواسازی کو فروغ دینے کے لیے شارٹ ٹرم منصوبے کے تحت DRAP میں طب یونانی کا الگ ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے، جس میں
متعلقہ شعبہ کے ماہرین کو تعینات کیاجائے- تجاویز اور مکمل خاکہ پاکستان طبی کانفرنس اور پاکستان طبی فارما سیوٹیکل مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب
سے پہلے ہی پیش کیا جاچکا ہے-
-4  نیشنل کونسل فار طب اسلام آباد کے کمپلیکس کی تعمیر پر فوری توجہ دی جائے اور طب کمپلیکس میں قدرتی ادویات کی تحقیق اور معیار بندی کے لیے نیچرل
میڈیسن لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے-
5  قدری جڑی بوٹیوں کی کاشت پرداخت کے حوالہ سے باقاعدہ کوئی نظام وضع کیاجائے کیونکہ ہر سال کوئی نظام نہ ہونے کی وجہ قدرتی جڑی بوٹیاں نہ
صرف ضائع ہوجاتی ہیں بلکہ ہم کروڑوں ڈالر کازرمبادلہ کمانے سے بھی ہم محروم رہتے ہیں- اس کے برعکس ملک میں ہی پیدا ہونے ولی جڑی بوٹیاں
ہمیں چین ، ایران ، انڈیا ، نیپال اور دیگر ممالک سے برآمد کرنا پڑتی ہیںجس پر ملک کا کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتاہے –
6  سرکاری سطح پرکم از کم ہر صوبے کے صدر مقام پر ایک ایک یونانی طبیہ کالجز کا قیام عمل میں لایاجائے – اور تمام سرکاری یونیورسٹیوں میں شعبہ ایسٹرن میڈیسن کے ڈیپارٹمنٹ قائم کیے جائیں –
خوش آئیند بات یہ ہے کہ ملک میں اس وقت ایسٹرن میڈیسن کے گریجوایٹس ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے حامل افراد میسر ہیں جن کی صلاحیتوں سے استفادہ کرکے ہم اپنے ملکی مسئلہ صحت کو حل کرنے کی جانب بڑی مثبت پیش رفت کرسکتے ہیں-
امید ہے کہ ڈاکٹر فیصل سلطان ہماری گزارشات پر ضرور توجہ دیں گے – ایک اہم مسئلہ کی طرف بھی توجہ دلانا مقصود ہے کہ نیشنل کونسل فار طب 7 – جولائی 2020 ءسے بغیر کسی انتظامی سربراہ کے کام کررہی ہے،
قانون کے مطابق کونسل کا دورانیہ مکمل ہونے پر الیکشن کروا کر نئی انتظامیہ کا تقرر کرنا ہوتا ہے اور جب تک الیکشن نہ ہوجائیں اتھارٹی کا نوٹیفکیشن بطور ایڈمنسٹریٹر تقرر کرنا ہوتا ہے ،جو آج دو ماہ سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود کابینہ کی منظوری کی منتظر ہے – براہ کرم اس جانب بھی خصوصی توجہ فرمائیںاور جمہوری عمل مکمل کرنے کے لیے فی الفور الیکشن کے عمل کا آغاز کیاجائے اور عبوری طور پر ایڈمنسٹریٹر کا تقرر عمل میں لایا جائے – امید ہے کہ ایڈمنسٹریٹر کا تقرر کرتے ہوئے متعلقہ شعبہ کے حامل ماہر کو ترجیح دی جائے گی.

تبصرے بند ہیں۔