غلاموں کی عید

محمد رضی الاسلام ندوی

‘عید’ کے لفظی معنی خوشی کے ہیں _ مدینہ میں اسلام کی آمد سے قبل مختلف مواقع پر خوشی کے اظہار کے طریقے رائج تھے_ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرمایا : “اللہ تعالی نے تمھارے لیے خوشی کے دو مواقع متعین کیے ہیں : عید الفطر اور عید الاضحٰی _” ان مواقع پر خوشی کے اظہار کے کیا طریقے اختیار کیے جائیں ، ان کی بھی صراحت کردی گئی ہے : نئے یا صاف کپڑے پہننا ، خوشبو لگانا ، زیب و زینت اختیار کرنا ، شکرانے کی نماز ادا کرنا ، احباب کی دعوت کرنا اور ان کی دعوت قبول کرنا ، صدقہ و خیرات کے ذریعہ غریبوں کو بھی خوشیوں میں شریک کرنا ، وغیرہ_

عہد نبوی میں بارہا بڑے حادثات رونما ہوئے _ غزوہ احد میں ستّر صحابہ شہید ہویے _ بئر معونہ میں بھی تقریباً ستّر صحابہ نے جامِ شہادت نوش کیا _ ہوازن میں مسلمانوں کا خاصا جانی نقصان ہوا _ ان حادثات نے ان کو بہت رنج و غم میں مبتلا کیا _ عہدِ نبوی کے بعد بھی چودہ سو سالہ تاریخ میں مسلمانوں کو بڑے بڑے صدمات سے دوچار ہونا پڑا _ ان کا بارہا بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا _ لیکن کسی موقع پر بھی مسلمانوں میں یہ آواز نہیں اٹھی کہ آنے والی عید میں خوشی کا اظہار نہ کیا جائے ، یا رنج و غم اور ماتم کی کوئی علامت اختیار کی جائے _

مسلمان اس وقت عالمی سطح پر بہت نازک دور سے گزر رہے ہیں _ مغربی ممالک میں ان کی جان کے لالے پڑے ہیں _ عالم اسلام خوں چکاں ہے _ ہندوستان میں بھی مسلمانوں کی جانیں اور اموال محفوظ نہیں ہیں _ آئے دن ہندوتوا کے حامی دہشت گردوں کے ہاتھوں بے گناہ مسلمانوں کی شہادت کی خبریں آرہی ہیں_  لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عید کو ماتمی انداز میں منایا جائے اور اظہارِ غم یا احتجاج کے لیے بازو پر کالی پٹّیاں باندھی جائیں _

ہونا یہ چاہیے کہ مسلم ممالک کو گرداب سے نکالنے کے لیے تدابیر اختیار کی جائیں ، اسی طرح ہندوستان میں مسلمانوں کی بے وقعتی کے ازالے کے لیے منصوبہ بندی کی جائے ، مسلم قائدین سر جوڑ کر بیٹھیں ، حکومت پر دباؤ ڈالنے ، اس سے اپنا حق حاصل کرنے اور مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جو بھی تدابیر اختیار کر سکتے ہوں ، کریں ، لیکن عید کو عید کی طرح منائیں ، اسے ماتمی رنگ نہ دیں _ عید کو ماتمی رنگ دینا غلامانہ ذہنیت کی غمّازی کرتا ہے _

تبصرے بند ہیں۔