فقہی مسالک کا اختلاف اور ہمارا رویہ

ڈاکٹر محمد واسع ظفر

                ائمہ مسالک کے درمیان جو فقہی اختلافات ہیں وہ نصوص کی تعبیرات، تاویلات (Interpretations) اور ترجیحات (Preferences) کے اختلافات ہیں اور بیش تر فروعی اور جزیٔ مسائل میں ہی ہیں جن کو بعض لوگوں نے اپنی کم علمی کی وجہ سے یا پھر  چند دنیوی اغراض و مقاصد کے حصول کے لیے حق و باطل کی جنگ قرار دے رکھا ہے۔ اس کو بنیاد بناکر وہ ملت کے اندر گروہ بندیاں کرتے ہیں، ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کے تیر برساتے ہیں یہاں تک کہ معاملہ سب و شتم، لعنت ملامت اور باہم تکفیر تک جا پہنچتا ہے۔ ایسے لوگ اپنی پوری توانائی، استعداد و صلاحیت ایک دوسرے کو قائل کرنے بلکہ زیر کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ پوری امت کو اپنے مسلک پر لے آئے جو کہ قیامت تک ممکن نہیں ہوپائے گا کیوں کہ جیسا کہ احقر نے سطور بالا میں ذکر کیا کہ اس کی بنیادیں نصوص کے اندر موجود ہیں۔ ہر مسلک کی بنیاد کسی نہ کسی قرآنی آیت یا حدیث پر ہے، مسائل کے استخراج (Deduction) و استدلال (Argumentation) میں کسی نے ایک آیت یا حدیث کو ترجیح دی ہے تو دوسرے نے کسی اور آیت یا حدیث کو۔ سب کا مقصد سنت اور شارع کی منشاء تک پہنچنا ہے جس میں بلاشہ ائمہ مجتہدین کی نیک نیتی کا بڑا دخل ہے۔

                اس امر کو چند مثالوں سے سمجھا جاسکتا ہے۔ اول ترجیح کے اختلاف کو سمجھنے کے لیے ظہر کی سنتوں کو لے لیجئے۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد چھ رکعت ہے؛ چار فرض نمازسے پہلے اور دو اس کے بعد۔ اس سلسلے کی ایک روایت حضرت عائشہؓ سے ہے، وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے پھر باہر نکلتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے، پھر گھر واپس آتے اور دو رکعتیں ادا کرتے۔ (صحیح مسلم، جزو من رقم الحدیث ۱۶۹۹؍۷۳۰)۔ بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے ظہر کی سنتوں کی تعداد کل چار رکعت ہے؛ دو فرض نماز سے پہلے اور دو اس کے بعد۔ اس سلسلے کی ایک روایت عبداللہ بن عمرؓ سے ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں سنت ادا کی اور ظہر کے بعد دو رکعت اور جمعہ کے بعد دو رکعت اور مغرب کے بعد دو رکعت اور عشاء کے بعد بھی دو رکعت پڑھی ہے۔ (صحیح بخاری، رقم الحدیث ۱۱۶۵)۔ یہ دونوں روایات سند کے لحاظ سے قوی ہیں۔ حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ بہتر یہ ہے کہ ان روایات کو اس چیز پر محمول کیا جائے کہ نبی کریم ﷺ ظہر سے قبل کبھی چار رکعت پڑھا کرتے تھے اور کبھی دو۔ ان روایات کواس طرح بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ گھر پر چار رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور مسجد میں دو، چنانچہ حضرت عائشہؓ اور عبداللہ بن عمرؓ نے جیسا دیکھا ویسا بیان کردیا۔ اب دیکھئے کہ حنفیہ نے حضرت عائشہؓ کی روایت کو ترجیح دی لہٰذا ان کے نزدیک ظہر کی سنتوں کی تعداد چھ رکعت ہے؛ چار رکعت فرض سے قبل اور دو فرض کے بعد۔ مالکیہ اور شافعیہ نے عبداللہ بن عمرؓ کی روایت کو ترجیح دی، لہٰذا ان کے نزدیک ظہر کی سنتوں کی تعداد چار رکعت ہے؛ دو فرض نماز کے قبل اور دو فرض نماز کے بعد۔ حنابلہ کے نزدیک ظہر کی سنتیں چار رکعتیں بھی ہیں اور چھ بھی یعنی دو یا چار رکعتیں فرض سے قبل اور دو فرض کے بعد۔ اب آپ ان میں سے کس کو غلط کہیں گے؟ اسی لیے یہ کہا جاتا کہ سارے مسالک حق پر ہیں۔ اب ایک اور روایت کو جان لیجئے جو عوام میں بہت مشہور نہیں ہے لیکن صحیح ہے جس کے مطابق ظہر کے فرض سے پہلے بھی چار رکعتیں ہیں اور بعد بھی۔ یہ روایت ام المؤمنین ام حبیبہؓ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جس نے ظہر سے پہلے کی چار رکعتوں اور اس کے بعد کی چار رکعتوں کی محافظت کی تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کی آگ پر حرام کردے گا۔ (جامع ترمذی، رقم الحدیث ۴۲۸)۔

                اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنتوں کی بھی مختلف شکلیں ہیں جن میں امت کے لیے آسانی کا پہلو ہے کہ وقت اور حالات کے اعتبار سے جس پر چاہے عمل کرلے لیکن بدقسمتی سے لوگ اسے کسی ایک شکل میں محدود کردیتے ہیں جو ان کے مسلک کے مطابق ہو اور دوسری شکل کو اپنی کم فہمی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ کی سنت ماننے سے انکار کردیتے ہیں جب کہ یہ مناسب نہیں بلکہ غور کیا جائے تو ایک طرح سے بہت بڑا جرم ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا کہ ہر شخص صرف اپنے مسلک کا علم رکھتا ہے اور اسے ہی صحیح سمجھتا ہے اور دوسرے مسالک کو بے بنیاد خیال کرتا ہے۔ دوسرے مسالک کے مآخذ و دلائل کا بھی علم ہو تو فکروں میں کچھ رواداری پیدا ہو لیکن اپنے اکابر کی اندھی تقلید اور تعصب کی وجہ سے لوگ دوسرے فریق کے مآخذ و دلائل کو جاننا تو کیا سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ بلکہ المیہ تو یہ ہے ان مسالک کے بہت سے داعیوں کو دوسرے مسلک تو کیا اپنے مسلک کی بنیاد کا بھی پتا نہیں ہوتا جب کہ اتنا تو کم از کم معلوم رہنا چاہیے تاکہ قرآن و سنت پر عمل کا جذبہ بنا رہے۔

                اب ایک دوسری مثال تعبیر و تاویل کے اختلاف کی دیکھئے۔ ابوہریرہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں سے (کچھ) پی لے تو اس کو سات مرتبہ دھولو۔ (صحیح بخاریؒ، رقم الحدیث ۱۷۲)۔ سنن ابی داؤد کی ایک روایت میں پہلی بار اور دوسری روایت میں آخری بار مٹی سے دھونے کا حکم بھی منقول ہے۔ (دیکھیں علی الترتیب حدیث نمبر ۷۱ اور ۷۳)۔ ان احادیث کی بنا پر شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک کتے کا نہ صرف لعاب بلکہ اس کا بدن اور اس سے خارج ہونے والی ہر چیز ناپاک ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ لعاب کا نجس ہونا تو گزشتہ حدیث کی بنا پر ہے اور لعاب چونکہ منہ کا حصہ ہے اس لیے منہ بھی نجس ہوا اور جب جسم کا سب سے اشرف حصہ نجس ہے تو بقیہ جسم کا نجس ہونا بدرجہ اولیٰ ضروری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کتے کالعاب ان کے نزدیک نص کی بنیاد نجس پر ہے جب کہ بقیہ تمام اجزا قیاس کی وجہ سے۔ حنفیہ کے نزدیک کتے کا صرف لعاب ناپاک ہے کیوں کہ اسی کی وجہ سے برتن دھونے کا حکم دیا گیا، اس کا جسم ناپاک نہیں ہے کیوں کہ اس سے پہرے اور شکار کا کام لیا جاتا ہے البتہ اس کا پیشاب و پاخانہ یقینا ناپاک ہوگا۔ امام شوکانیؒ بھی اسی کے قائل ہیں کیوں کہ ان کے مطابق اس کی ذات کی نجاست کے متعلق کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ امام عکرمہؒ اور ایک روایت میں امام مالکؒ کے نزدیک کتے کا لعاب بھی ناپاک نہیں ہے چہ جائیکہ اس کا بدن ناپاک ہو، ان کا استدلال قرآن کی اس آیت سے ہے: {یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَآ أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ وَمَا عَلَّمْتُمْ مِّنَ الْجَوَارِحِ مُکَلِّبِیْنَ تُعَلِّمُوْنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ فَکُلُوْا مِمَّا أَمْسَکْنَ عَلَیْْکُمْ وَاذْکُرُوا اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْْہِ وَاتَّقُوا اللّٰہَ إِنَّ اللّٰہَ سَرِیْعُ الْحِسَاب} (مفہوم): ’’لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا چیزیں حلال ہیں ؟ کہہ دیجئے کہ تمھارے لیے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ اور جن شکاری جانوروں کو تم نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ٹریننگ دے کر (شکار کے لیے) سدھا لیا ہو، وہ جس جانور کو تمھارے لیے پکڑ رکھیں اسے بھی تم کھا سکتے ہو، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لیا کرو اور اللہ (کا قانون توڑنے) سے ڈرو، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔ ‘‘ (المائدۃ: ۴)۔

                شکار کے لیے عام طور پر باز یا کتے کا ہی استعمال رائج ہے۔ امام مالکؒ کا کہنا یہ ہے کہ شکاری کتے جب شکار کو پکڑیں گے تو اسے ان کا لعاب بھی لگے گا حالانکہ اس کے دھونے کا یہاں حکم نہیں دیا گیا۔ دوسرے لوگ بھی اس رخصت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اوپر ذکر کی گئی احادیث کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ ان میں جس برتن میں کتا منہ ڈالے اسے دھونے کا حکم تعبدی ہے اور صرف کراہت کو دور کرنے کے لیے ہے۔ امام احمدؒ اور امام شافعیؒ جس برتن میں کتا منہ ڈال دے اسے سات بار دھونا واجب سمجھتے ہیں جبکہ احناف کے یہاں سات مرتبہ دھونا مستحب ہے اور اگر تین دفعہ ہی دھولیا جائے تو کافی ہے۔ ان کی دلیل ابوہریرہؓ کا ہی یہ قول ہے جسے امام دارقطنیؒ نے اپنی سنن میں نقل کیا ہے: ’’إِذَا وَلَغَ الْکَلْبُ فِي الإِنَائِ فَاھْرِقْہُ ثُمَّ اغْسِلْہُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ‘‘ یعنی کتا جب برتن میں منہ ڈال دے تو اس (میں موجود چیز) کو انڈیل دو پھر برتن کو تین بار دھولو۔ (سنن دارقطنیؒ، بَابُ وُلُوغِ الْکَلْبِ فِي الإِنَائِ، رقم الحدیث ۱۹۶)۔ نیز ان کی یہ بھی دلیل ہے کہ ہے پاخانہ کتے کے جوٹھے سے زیادہ نجس ہے لیکن اسے سات بار دھونے کی قید نہیں لگائی گئی ہے تو اس میں بدرجہ اولیٰ یہ ضروری نہیں۔ تو دیکھا آپ نے کہ ہر مسلک کی اپنی دلیل ہے جسے آپ کلی طور پر خارج بھی نہیں کر سکتے اور نہ ہی کوئی حتمی طور پر یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کی رائے کسی مسئلہ پر حرف آخر کی حیثیت رکھتی ہے۔ بڑے بڑے فقہاء نے بھی کبھی ایسا نہیں کہا بلکہ وہ یہ کہتے کہ یہ رائے میرے خیال میں احوط ہے یا یہ میرے نزدیک مختا رہے یا یہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔ اس لیے اعتدال کی راہ یہی ہے کہ آپ جس رائے کو قرآن و حدیث صحیحہ کی روشنی میں اپنے نزدیک قوی تر گردانتے ہیں اس پر عمل کریں لیکن دوسروں کو اپنے مسلک پر لانے کی فکر چھوڑدیں کیوں کہ یہ ممکن نہیں، الا ماشاء اللہ! نیز حضرات ائمہ اربعہ اور دیگر فقہاء کی آراء کا احترام ملحوظ رکھیں کیوں کہ وہ سبھی اپنے اجتہاد فکر میں مخلص تھے اور سب نے کتاب و سنت سے ہی استنباط کیا ہے اور اپنی اپنی نظر تحقیق اور قوت اجتہاد و استدلال کے مطابق رائے قائم کی ہے۔

                ایک اور مثال قرأت فاتحہ خلف الامام کے مسئلہ کی لی جاسکتی ہے۔ یہ مسئلہ گرچہ دقیق مباحث اور تفصیلی دلائل کا متقاضی ہے لیکن احقر کا مقصد یہاں صرف اس مسئلہ میں صحابہ کرامؓ کے باہمی اختلاف کو اختصار کے ساتھ واضح کرنا ہے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی نماز پڑھی اور اس میں ام القرآن (یعنی سورہ فاتحہ) کی قرأت نہیں کی تو اس کی وہ نماز ناقص ہے، (آپؐنے یہ) تین مرتبہ فرمایا، یعنی پوری ہی نہیں۔ ان سے کہا گیا کہ کبھی ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کو اپنے دل میں پڑھ لو۔ ( صحیح مسلم، جزو من رقم الحدیث ۸۷۸؍۳۹۵)۔ اب آپ دوسری روایت دیکھیں جو عبداللہ بن عمرؓ سے متعلق ہے اور ابوہریرہؓ کی رائے کے خلاف ہے۔ نافعؒ روایت کرتے ہیں عبداللہ بن عمرؓ سے جب کوئی پوچھتا کہ سورۂ فاتحہ پڑھی جائے امام کے پیچھے تو جواب دیتے کہ جب کوئی تم میں سے نماز پڑھے امام کے پیچھے تو کافی ہے اس کو قرأت امام کی اور جو اکیلے پڑھے تو پڑھ لے۔ نافعؒ نے کہا عبداللہ بن عمرؓ امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہیں پڑھتے تھے۔ (مؤطا امام مالک، باب تَرکِ القِرَائَ ۃِ خَلفَ الاِمَامِ فِیمَا جَھَرَ فِیہِ، رقم الحدیث ۱۹۷)۔

                مذکورہ دونوں روایتیں سند کے اعتبار سے درست اور صحیح ہیں۔ پہلی تو صحیح مسلم کی ہے اور دوسری مؤطا امام مالکؒ کی ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کو تو سب ہی جانتے ہیں لیکن مؤطا اور اس کے مقام کو اہل علم تو جانتے ہیں لیکن عام مسلمان نہیں جانتے۔ ان کے لیے یہ عرض ہے کہ مؤطا حدیث و آثار کی اولین کتابوں میں سے ایک ہے اور کئی محدثین جن میں ابوالحسن رزینؓ اور ابن الاثیرؒ شامل ہیں اسے صحاح ستہ میں شمار کرتے ہیں اور ان کے نزدیک اس کا مرتبہ صحیحین کے لگ بھگ ہے۔ مؤطا کے سلسلے میں علامہ ابوبکر ابن العربیؒ کا یہ قول نقل کیا جاتا ہے: ’’مؤطا ہی نقش اول اور بنیادی کتاب ہے، بخاری ؒکی حیثیت تو اس باب میں نقش ثانی کی ہے اور انہی دونوں کتابوں پر مسلمؒ و ترمذیؒ جیسے بعد کے مؤلفین نے اپنی کتابوں کی بنا رکھی ہے‘‘۔ امام شافعیؒ کا قول ہے: ’’زمین پر کتاب اللہ کے بعد مؤطا امام مالکؒ سے زیادہ صحیح کتاب کوئی نہیں ‘‘۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ بھی مؤطا کو کتب حدیث کے اندر طبقہ اولیٰ میں شمار کرتے تھے بلکہ اسے تمام کتابوں میں مقدم و افضل سمجھتے تھے۔ اس لیے آپ نافعؒ کی روایت پر کوئی شک نہیں کرسکتے!  امام مالکؒ کی دیانت داری دیکھئے کہ انہوں نے اس اثر کو اپنی مؤطا میں نقل کیا ہے جب کہ ان کی ذاتی رائے اس کے خلاف تھی۔ وہ جہری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے اور سری نمازوں میں پڑھنے کا حکم دیتے تھے۔ یہی رائے امام احمد بن حنبلؒ کی بھی تھی البتہ ان کے نزدیک اگر جہری نماز میں مقتدی امام سے اس قدر فاصلہ پر ہو کہ اسے امام کی قرأت سنائی نہ دیتی ہو تو اس کے لیے قرأت کرنا مستحب ہے۔ حسن بصریؒ، امام شافعیؒ اور امام بخاریؒ وغیرہ سری اور جہری دونوں رکعتوں میں امام کے پیچھے بھی سورۂ فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے جو کہ ابوہریرہؓ کی ہدایت کے مطابق ہے جبکہ امام ابوحنیفہؒ سری یا جہری کسی بھی رکعت میں امام کے پیچھے کچھ بھی نہ پڑھنے کی رائے رکھتے تھے جو کہ عبداللہ ابن عمرؓ کے عمل کے مطابق ہے۔

                مذکورہ مثالوں سے آپ پر یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ ان مسلکی اختلافات کی بنیادیں نصوص کے اندر موجود ہیں۔ یہ صرف دور حاضر کے فقہاء کا اختلاف نہیں ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے آپسی اختلافات احادیث و آثار کے اندر بکثرت دیکھے جاسکتے ہیں اور اگر کسی کو ان اختلافات کی بنیادوں اور وجوہات کو گہرائی سے سمجھنا ہو تو اسے شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کی تصنیف ’’الانصاف في بیان أسباب الاختلاف‘‘ اردو ترجمہ ’’اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ‘‘ از مولانا صدر الدین اصلاحی، شیخ محمد عوامہ کی تصنیف ’’اثر الحدیث الشریف في اختلاف الأئمۃ الفقہاء‘‘ اردوترجمہ ’’اختلاف ائمہ اور حدیث نبویؐ‘‘ از مولانا علاء الدین جمال، ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی کی تصنیف ’’اسبابُ اختلافِ الفقہاء‘‘ اردو ترجمانی و تفہیم از پروفیسر غلام احمد حریری، حافظ حبیب الرحمٰن کی تصنیف ’’فقہی اختلافات: حقیقت، اسباب اور آداب و ضوابط‘‘ اورپروفیسر یٰسین مظہر صدیقی کی کتاب ’’سنتوں کا تنوع‘‘ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں شیخ الحدیث محمد زکریاؒ کی کتاب ’’اختلاف الائمہ‘‘ اور ڈاکٹر مصطفی سعید الخن کی تصنیف ’’اثر الاختلاف في القواعد الاصولیہ في اختلاف الفقہاء‘‘ اردو ترجمہ ’’قواعد اصولیہ میں فقہاء کا اختلاف اور فقہی مسائل پر اس کا اثر‘‘ از حافظ حبیب الرحمٰن بھی کافی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔

                یہ بالکل حتمی بات ہے کہ جس اختلاف کی بنیادصحابہ کرامؓ اور تابعین تک ہو اسے کون ختم کرلے گا اور کس طرح پوری امت کو ایک نہج پر لے آئے گا؟ اس لیے اس چکر میں نہ پڑکر ایسے لوگوں کو جو اس فکر میں گھلتے رہتے ہیں کوئی مثبت اور تعمیری کام میں لگنا چاہیے۔ رہی بات اس کی کہ بحث و تحقیق کا دروازہ بند نہ ہوتو یہ بہت حد تک درست ہے کیوں کہ اختلاف کا ہونا بھی زندہ قوم کی علامت ہے، جب لوگ نصوص پر اپنا دماغ لگائیں گے تو اختلاف رائے بھی ہوگا لیکن اسے ظاہر کرنے کے بھی آداب اور سلیقے ہیں۔ اس کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر صالح بن عبداللہ بن حمید کی کتاب ’’أدبُ الخلاف‘‘ اردو ترجمہ ’’سلیقہ اختلاف‘‘ از وزارت اسلامی امور، اوقاف، دعوت و ارشاد، مملکت سعودی عرب اور ڈاکٹر طٰہٰ جابر فیاض العلوانی کی کتاب ’’ادب الاختلاف في الاسلام‘‘ اردو ترجمہ ’’اسلام میں اختلاف کے اصول و آداب‘‘ از الفرقان ٹرسٹ، مظفر گڑھ، پاکستان یا ’’اہل علم کا سلیقہ اختلاف‘‘ از ڈاکٹر عبدالحی ابڑو کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کے خطبات کا مجموعہ ’’خطبات بہاولپور‘‘ کا مطالعہ بھی بہت مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ روایتی مسالک سے نہایت خاکساری کے ساتھ اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن کہیں بھی ان کے لہجہ میں اپنی بات منوالینے کا جذبہ دیکھنے کو نہیں ملتا جو کہ قابل صد تعریف ہے۔ بزرگوں کی یہی تعلیم رہی ہے کہ اپنی رائے میں دلائل کی قوت تو ہو لیکن دوسروں کی رائے کی تحقیر و تنقیص نہ ہو۔ مومن کی تحقیر ویسے بھی حرام ہے اور اس حرکت سے اصلاح کی گنجائش بھی تقریباً ختم ہوجاتی ہے۔ امید ہے کہ یہ تحریر دین دار نوجوانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوگی۔ اللہ رب العزت احقر کو بھی دین کی صحیح سمجھ نصیب کرے اور مسلکی تعصبات سے دل کو پاک رکھے۔ آمین!

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔