’لائنز‘ اور’لحاف‘ فلمیں: ایک جائزہ

الطاف حسین جنجوعہ

ممبئی فلمی مایہ نگری کی چکاچوند ہمیشہ سے سب کے لیے دلفریب رہی ہے۔ ادکاری، فنکاری، گلوکاری اور ہدایتکار ی کا پیشہ اختیار کرنے والوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ فلمی دنیا‘بالی ووڈ میں جگہ پائیں، کسی کو پہلی فرصت میں کامیابی مل گئی تو کئی برسوں سے جدوجہد میں لگے ہیں۔ جموں وکشمیر کے سرحدی ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے تین ستاروں جن میں طارق خان، راحت کاظمی اور زاہد قریشی اِسی سفر پر گامزن ہیں۔ تینوں کا تعلق سرنکوٹ سے ہے۔ اگر چہ وہ بالی ووڈ کے بڑے پردے پر نہیں آئے لیکن انہوں نے جو بھی فلمیں بنائیں، اُن کی ملک کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سطح پر کئی بڑے فیسٹیول میں خوب پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔ آئی ڈنٹی کارڈ(شناختی کارڈ)(2014)، منٹوستان2017، وِش لسٹ اورملین ڈالر نومیڈ(Million Dollar Nomad) 2020نامی فلموں سے مقبولیت حاصل کرنے والے اداکارہ، ہدایتکار وپروڈیوسرطارق خان، راحت کاظمی اور زاہد قریشی اِن دنوں اپنی دونئی فلموں ـ’Lines‘ اور ’Lihaaf‘کی وجہ سے کافی شہرت بٹور رہے ہیں جوکہ دونوں Voot Color Tvپر ریلیزہوئی ہیں اور کثیر تعداد میں ناظرین اِنہیں دیکھ رہے ہیں۔ مشہور OTTپلیٹ فارم ووٹ سلیکٹ پر آٹھ روز فیسٹول کے تحت 15فلمیں فیچر کی گئی ہیں جن میں لائنز اور لحاف بھی شامل ہیں۔ ’LInes‘فلم ٹی وی اداکارہ ’حینا خان‘کی پہلی فلم ہے، جنہوں نے ’خطروں کے کھلاڑی ‘اور بگِ باؤس ریلیٹی شوز کے علاوہ  ٹی وی ڈرامہ سیریل’یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے‘میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے خوب شہرت بٹوری تھی۔ بالی ووڈ کی معروف اداکارہ ’فریدہ جلال ‘نے اِس فلم میں حینا خان کی دادی کا کردار نبھایا ہے۔ ڈائریکٹر حسین خان کی فلم ’لائنز‘منقسم جموں وکشمیر خاص کر پونچھ /میر پور کے تقسیم ہوئے گھرانوں اور سرحد پر آئے روز کی گولہ باری کے پُر تناؤ ماحول پر مبنی فلم ہے۔ اِس میں ریشی بھوٹانی، فریدہ جلال کے علاوہ راحت کاظمی، طارق خان اور زاہد قریشی نے کردار نبھائے ہیں۔

          کہانی 1999کے کرگل جنگ کے دوران کی ہے۔ اِس میں نازیہ (حینا خان )کاایک نوجوان، چالان، باہمت لڑکی کاکردار دکھایاگیاہے جوکہ سرحد کے نزدیک پلی بڑی اور وہ اپنی والدہ (رانی بھن)اور دادی (فریدہ جلال)کے ساتھ رہتی ہے۔ اُن کی زندگی سرحدپر گولہ باری اور گولیوں کی گن گرج کی وجہ سے بہت مشکل ہے اور فائرنگ کے وقت اکثر اوقات محفوظ مقامات پر کیمپوں میں پناہ لینے جانا پڑتا ہے۔

          حینا خان کی دادی جوکہ میرپور جوکہ اب پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ہے، سے 1947کے وقت ہجرت کرکے یہاں آئی ہے، اکثر اوقات اپنی بچھڑی بہن کا تذکرہ کرتی ہے، اُس کے ساتھ گذارے بچپن اور جوانی کے ایام کو یاد کرتی ہے۔ اُس کا بیٹا جوکہ کسان ہوتا ہے، سرحد کے قریب کھیتوں میں کام کرنے کے دوران فائرنگ سے جاں بحق ہوجاتاہے۔ بہن کی جدائی، بیوہ بہو اور اکلوتی بھتیجی حینا خان ہی اب فریدہ جلال کا سہار ہیں، وہ اکثرماضی کو یاد کر کے دُکھی ہوتی ہے لیکن حینا خان اکثر اُنہیں ہنسانے اور دکھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہے۔ ایک دن وہ بازار میں سامان خریدنے گئی ہوتی ہے کہ پاس میں ایک شخص(طارق خان)جوکہ لندن میں رہتا ہے، اپنے آبائی گاؤں آیا ہوتا ہے، میرپور میں کسی دوست کی بات کرتا ہے، جس کو سُن کر حینا خان (نازیہ)اُس کے پاس جاتی ہے اور اُن سے کہتی ہے کہ وہاں اُن کی دادی کی بہن بھی رہتی ہے، اگر کسی طرح اُن سے بات ممکن ہوجائے۔ وہ ایک نمبر دیتا ہے جس سے بات کر کے معلوم ہوتا ہے کہ وہ (Rishi Bhutani)اُن کی دادی کی بہن کا بھتیجا ہے۔ اس دوران حکومت نے آر پار راستے کھولنے کا اعلان کردیا ہوتا ہے۔ دونوں مل کر بچھڑی بہنوں کو ملانے کے لیے کاغذات تیار کرواتے ہیں اور نازیہ اپنی دادی کو Surpriseدیتی ہے۔ یوں چالیس سال بعد دو بہنوں کا ملن ہوتا ہے۔ نبیل(ریشی بھوتانی)بھی اپنی دادی کے ساتھ پونچھ آتا ہے، جہاں نازیہ اور اُس کی آپس میں اچھی خاصی دوستی ہوجاتی ہے اور وہ ایکدوسرے سے محبت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ دونوں بچھڑی بہنیں اپنے بھتیجے اور بھتیجی کی شادی کا فیصلہ کرتے ہیں او رسادہ تقریب میں دونوں کوشادی کے بندھن میں باندھ دیاجاتاہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر ’نبیل ‘کے ساتھ جائے گی کیسے…؟۔

نبیل اپنی دادی کے ساتھ میرپور چلاجاتاہے، یہ وعدہ کرکے وہ جلد کاغذات تیار کر کے نازیہ کو اپنے ساتھ لینے آئے گا، مگر دستاویزات بنانے میں کافی تاخیر ہوتی ہے۔ نازیہ اور نبیل کی فون پر کبھی کبھار بات ہوتی ہے۔ نازیہ اکثر ایس ٹی ڈی پر گھنٹوں نبیل کے فون کا انتظا ر کرتی ہے اور بعض اوقات مایوس ہی لوٹنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے چاچا کے ساتھ جموں پاسپورٹ/ویزہ بنوانے آتی ہے لیکن کرگل جنگ کی وجہ سے ویزے اور پرمٹ نہ ملنے سے اُن کی ملاقات ممکن نہیں ہوتی۔ پھر بلو(زائد قریشی)نازیہ کو غیر قانونی طریقہ سے سرحد پار کرانے کا مشورہ دیتا ہے، اُس کے لیے اُس کی دادی اورماں پہلے راضی نہیں ہوتی لیکن نازیہ کہتی ہے کہ وہ زمین پر کھینچی گئی عارضی لیکر اور دوملکوں کی دشمنی میں اپنی محبت قربان نہیں کرسکتی اور نہ ہی پوری عمرجدائی میں ایسے گذار سکتی، بالآخر وہ سبھی کو راضی کر کے بارڈر پار کرنے چلی جاتی ہے۔ دشور گذار راستوں اور گھنے جنگلات سے گذر کر جاتی ہے جس دوران فائرنگ کی آواز بھی سنائی ہوتی ہے۔ اِدھر نازیہ کی والدہ روزانہ ایس ٹی ڈی پر اِس امید کے ساتھ آتی ہے کہ اُس پار سے کوئی فون آئے، اپنی بیٹی سے بات ہو لیکن مایوس لوٹنا پڑتاہے لیکن اُس کو یقین ہے کہ اُس کی بیٹی اپنے خاوند تک پہنچ گئی ہوگی۔ یہ تذبذب برقرار رکھتے ہوئے کہ آیانازیہ سرحد پار جانے میں کامیاب ہوگئی یا پھر فائرنگ میں ماری گئی، فلم کا اختتام ہوتا ہے۔ حینا خان اور ریشی بھوٹانی کے دیگر اہم کرداروں میں فریدہ جلال، رانی بھن، احمد حیدر، زاہد قریشی ارو طارق خان ہیں۔ فلم کی شوٹنگ سرحدی ضلع پونچھ کے سرنکوٹ، فضل آباد/بفلیاز اور میں ہوئی ہے۔ پونچھ جوکہ 1947کو دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے جس میں میرپور، کوٹلی، باغ اور سدھونتی کاعلاقہ سرحد پار ہے۔ شوٹنگ سرمائی ایام میں ہوئی ہے جس میں نازیہ /نبیل کے کچھ رومانی مناظر پیر کی گلی کے مقام پر برف پر بھی فلمائے گئے ہیں۔ سنیماٹوگرافی لکشمی چوہان کی ہے۔ اس فلم میں یہ بتایاگیاکہ دونوں ممالک کی سیاست کے بیچ لوگوں کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ کس قدر بے سہارا ہیں۔ ’لائنز‘نازیہ کی کہانی ہے جوسرحد پار ایک شادی کرتی ہے اور پھر سرحدوں کی کشیدگی کیسے اُن کے ملن میں دراڑ بنتی ہے۔ اِس فلم کے ذریعے جہاں ایک سچی کہانی دکھائی گئی ہے وہی سرنکوٹ کے خوبصورت علاقہ سے دنیا کو متعارف کرانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔ لائن فلم میں گانا’جہلم دا دریا‘جس کو صوفی گلوکار اور شاعر روہھل بھاٹیہ نے کمپوز کیا ہے اور یاسر چوہدری نے گایا ہے بھی زی میوزک پر کافی مقبولیت حاصل کر رہا ہے۔ لائنز فلم کو ’کیننز فلم فیسٹول‘میں بھی دکھایاجاچکا ہے جس میں زاہد قریشی کو بہترین سپورٹنگ ایکٹر کا ایوارڈ بھی دیاگیاہے۔ فلم میں بالکل اصل صورت میں پونچھ کے ایک عام گھر کے رہن سہن، مال مویشی، اُن کے لیے چارے کا انتظام وغیرہ بتایاگیاہے۔ سرنکوٹ بازار کے بھی چند مناظر فلم کا حصہ ہیں۔

          دوسری فلم ’لحاف ‘عصمت چغتائی کے افسانہ پر مبنی ہے جس کے لیے اُنہیں لاہور کی عدالت میں فحاشی کے الزام میں مقدمہ کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ انتہائی خوبصورتی کے ساتھ ’لحاف‘افسانہ کی کہانی اور مقدمہ کی سماعت کو اِس میں دکھایا گیا جس میں بیگم جان، عصمت چغتائی، سعادت حسین منٹو کے کرداروں کو انتہائی بہترین انداز میں نبھایاگیاہے۔ لحاف فلم میں راحت کاظمی عصمت چغتائی کے خاوند کے کردار میں ہیں۔ لحاف فلم بنانے کے لیے راحت کاظمی اور طارق خان نے اُن کے پوتے سے اجازت لی۔ لحاف کے طارق خان، زیبا ساجد، نمیتا لال، اومیش شکلا اور آشش واگہ نے پرڈیوز کیاہے جبکہ کوپروڈیز میں آسکر انعام یافتہ مارک بشچت ہیں۔

امسال طارق خان اور راحت کاظمی کی چھ فلمیں ریلیز ہوچکی ہیں جن میں ’سائڈ اے سائڈ بی ‘، ملین ڈالر نومیڈ، انگیٹھی، وِش لسٹ، لحاف اور لائن شامل ہیں۔ سائڈ اے اور سائڈ بی بھی پونچھ ضلع کے اندر بنائی گئی ہے جس میں 1996کے دور کے حالات بتائے گئے ہیں۔ انگیٹھی ایک عورت کی کہانی ہے جس کا خاوند اُس کی ہرخواہش پوری کرنا چاہتا ہے۔ وِش لسٹ دوسرکاری ملازم پیشہ میاں بیوی کی کہانی ہے جواکثر اپنے کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے ایکدوسرے کو وقت نہیں دے سکتے لیکن جب اُن میں سے ایک کو کینسرڈائی گنوز ہوتا ہے تو وہ سارے کام چھوڑ کراپنی ساری خواہشات کی تکمیل کی ایک فہرست تیار کرتے ہیں اور پھر ہرجگہ گھومتے ہیں۔ طارق خان اور راحت کاظمی کی ایک نئی فلم ’2بینڈ ریڈیو‘بھی آرہی ہے جس کو راحت کاظمی اور کنور شکتی سنگھ نے لکھا ہے جبکہ ساکی شاہ اِس کی ہدایتکار ہیں۔

’لائنز ‘اور ’لحاف‘ فلمیں دیکھنے کے قابل ہیں۔ اداکاری، سنیماٹوگرافی اور کہانی کے لحاظ سے موازنہ کیاجائے تو یہ بالی ووڈ میں بننے والی سینکڑوں فلموں سے حد درجہ بہتر ہیں جن پر کروڑوں پر خرچ ہوئے، ، مگراُن میں دم نہیں تھا۔ لائنز اور لحاف فلموں کی کہانی بھی دم دار ہے اور ادار کاری بھی۔ ضرور دیکھئے گا، یقینا آپ کو پسند آئیں گیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔