مسلمانان ہند : نئی ملکی صورت حال میں کیا کرنا چاہیے؟

ڈاکٹرمحمدغطریف شہبازندوی

ملک میں ہوئے حالیہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی نتائج نے یہ بات صاف کردی ہے کہ ملک میں ہندوتوقوتوں کے پاؤں مضبوطی سے جم چکے ہیں کہ مرکز کے ساتھ ہی اب ملک کی ۱۷ ریاستوں میں ان کی حکومت ہے۔ہندوتوکا سیاسی نظریہ عام ہندوؤں میں جڑوں تک سرایت کرچکاہے۔اوراب تووہ یہ اعلان بھی کررہے ہیں کہ پندرہ سالوں کے اندراندرقدیم اکھنڈبھارت (جوسراسرایک خیالی چیزہے)کا تصوروہ حاصل کرکے رہیں گے جس کی حدودان کے نزدیک ایک طرف افغانستان دوسری طرف ویسٹ انڈیز تک جاتی ہیں۔

عظمت رفتہ (حقیقی یاخیالی )کی بحالی ایک ایسارومان ہے جسے ساری اقوام پالتی ہیں۔ یہ ایک ایسانشہ آورخواب ہے جس کو کیاعیسائی کیایہودی کیامسلمان کیاہندوسبھی دیکھتے ہیں۔ مسیحی تہذیب کہ لیں یامغربی تہذیب کہیں موجودہ دورمیں دنیاکی غالب تہذیب ہے لہذامسیحیوں میں اس سلسلہ میں کچھ زیادہ تڑپ نہیں ہے۔نہ اس کی انہیں کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے کیونکہ صدیوں کے تجربوں نے ان کوسکھادیاہے کہ مذہب وسیاست دوبالکل الگ چیزیں ہیں اوردونوں کوالگ رکھاجاسکتاہے۔ ہاں وہ اسٹیٹس کوبنائے رکھناچاہتے ہیں اسی لیے یوروپ وامریکہ کی طرف مسلمانوں کی بڑھتی مہاجرت کوتشویش کی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ یہودی بھی خاصی حدتک اپنے دعوے کے مطابق اپنی ماضی کی ریاست (اسرائیل)کودوبارہ قائم کرچکے ہیں۔ مسلمان البتہ پوری دنیامیں گزشتہ عظمت کی بحالی میں خاصے ناکام ہیں۔ کیونکہ وہ نہ ماضی کی پُرفخرنفسیات سے باہرآنے کے لیے تیارہیں اورنہ ماڈرنیٹی (جدیدیت )کومثبت معنی میں اختیارکرنے کے لیے تیار۔ہندوبھارت میں اسے حاصل کرنے میں کامیاب ہورہے ہیں اوراس ہدف کوحاصل کرنے میں اب وہ کسی بھی حدتک جانے کے لیے تیارہیں۔

ماضی کی ہندوعظمت رفتہ کا خواب ہندؤوں کواصل میں کچھ انگریز مستشرقین نے دکھایاتھا۔ انہوں نے اس کوایک علمی پراجیکٹ کے بطورپیش کیاتھا۔جس آئڈیاکولے کرہندوتوکے نظریہ سازوں اوراس کی علمبردارآرایس ایس نے اپنی گزشتہ سوسالوں کی ان تھک محنت ،کانگریس کی خاموش سپورٹ اوربرصغیرمیں انگریزکی فراہم کردہ سازگارفضامیں اب ہرہندومیں یہ جذبہ (بھاؤنا)پیداکردیاہے کہ دنیاکے سامنے ہزاروں سال پرانی عظمت رفتہ کی کہانی کوایک زندہ اورحقیقت واقعہ کے روپ میں لے آیاجائے۔ جس کے لیے مہابھارت کے عہدکے طرزپر ہندوستانی پارلیمان کی نئی عمارت بھی تیارہونی ہے اوراس کا سنگ بنیادرکھاجاچکاہے۔ اوراس کے لیے ہندودیکھتے ہیں کہ موجودوقت میں اصل سیاسی قوت ِکار بی جے پی ہے لہذااس کومرکزی اورصوبائی سرکاروں کی پیداکردہ ساری معاشی مشکلات اورکووڈ19کے دوران کی بدانتظامی کی مارجھیل کربھی ہرقیمت پر انتخابات میں جتایاجائے۔ یہ ان کے لیے دھرم کی لڑائی ہے اوراس میں اَدھرم(یعنی غیربی جے پی قوتوں )کوشکست دینے کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔

ہندتواکے علمبرداروں نے اِس کے لیے تاریخ دانوں کی ٹیم ،بیوروکریٹوں کی فوج،اساتذہ،محققین اورٹیچرزاوراِس نظریہ کے مبلغین وپرچارکوں کے لشکرتیارکیے جوملک کے چپے چپے پر پھیل گئے۔ اورمانناپڑے گاکہ انہوں نے نامساعدحالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنامشن جاری رکھااورملک کے ہرہرگاؤں میں ان کی شاخیں پھیل گئیں۔ ناول ڈرامہ،فلمیں قومی میڈیاوغیرہ ہرذریعہ سے انہوں نے اپنی خیالی عظمت رفتہ کی کہانی کوانگریزی ،ہندی اوردوسری علاقائی زبانوں میں پھیلایااوراس میں کامیاب ہوگئے۔سچی بات یہ ہے کہ یہی کام مسلمان بھی مسلسل دوسوسال سے دنیابھرمیں کررہے ہیں گرچہ مسلسل ناکام ہورہے ہیں۔ ان کی قیادت ان کی تنظیمیں سب الاماشاء اللہ چندمبلغین اورچندنسبتاچھوٹی دینی تنظیموں کوچھوڑکرقرآن کے پیغام ِتوحیدِرب، وحدتِ انسان ،تزکیہ اورآخرت سے آگاہی کوچھوڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اِس میں ہندوقوم کوہی صرف الزام دینادرست نہ ہوگا۔

کہاجاسکتاہے کہ ہندوقوم پرستی ایک منفی سوچ ہے اور’غیروں ‘مسلمان وعیسائیوں کی نفرت پر کھڑانظریہ ہے۔اگرانصاف کی نظرسے دیکھاجائے توٹھیک یہی کام شدت پسندمسلمان یعنی القاعدہ اورISIS جیسے گروپ ساری دنیامیں غیرمسلموں خاص کرمغرب کے خلاف کررہے ہیں۔ بہرحال ہندوتوانے اپنے مقصدکے حصول کے لیے اقلیتوں اورخاص کرمسلم اقلیت کی دشمنی کوگھرگھرپہنچادیاہے جس میں تقسیم ِہنداوردنیاکی مخصوص سیاسی صورت حال (اسلاموفوبیاوغیرہ )نے مزیدجلتی پر تیل کا کام کیاہے۔کلچرل ہندونیشنل ازم نے سب سے پہلے سیکولرہندوؤں کوکنارے کیا۔بائیں بازوکووہ اپنابڑادشمن مانتے ہیں لہذامختلف حوالوں سے ان کوبھی پوری طرح غیرمؤثرکردیا۔نتیجہ یہ ہے کہ یہ کلچرل نیشنل ازم اب ایک ایسی چھتری بن گیاہے جس کے نیچے تقریباً ہرہندواب کھڑاہے۔یعنی غیراعلانیہ طورپر اب ملک ’’ہندوبھارت ‘‘میں تبدیل کیاجاچکاہے۔ اوراسی لے ان عمارتوں اورشہروں کے نام بدلے جارہے ہیں جن سے کچھ بھی اسلامی عہدکی بوآتی ہو۔اب سوال یہ ہے کہ ایسے میں مسلم اقلیت کیاکرے؟

ملک کی اس نئی صورت حال میں گھبرانانہیں بلکہ اپنے آپ کوحالات کے مطابق ایڈجسٹ کرناہوگا۔اکثریت سے تصادم مول لینے کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے۔امن پسندی کے ساتھ اپنے آپ کومنواناہے۔جس کے لیے ہمیں یہودیوں سے سبق سیکھ لیناچاہیے۔سیاسی طورپر بی جے پی کوہرانے اورکسی دوسری نام نہادسیکولرپارٹی کواقتدارمیں لانے کے راستہ اب ترک کردیناچاہیے،سوائے اس صورت کے جب کوئی مقامی صورت حال اس کا تقاضاکرتی ہو۔

بہت سے جذباتی لوگ اورفیس بک لکھاری مزاحمت کا طریقہ تشددتجویز کرتے ہیں۔ ماضی قریب کی تاریخ بتاتی ہے کہ اِس طریقہ میں پہلے ہی قدم پر آپ کی موت ہے۔یہ خوب سمجھ لیناچاہیے کہ اب پرانادورواپس نہیں آنا۔یہ جمہوری دورہے۔ اِس میں تعدادہی اصل ہے جوآپ کے پاس نہیں ہے۔لہذاسیاسی طریقہ پر لڑکرآپ ہندتواکوشکست نہیں دے سکتے۔ اب صرف تعلیم،معیشت کی بہتری ،ملک وقوم کے لیے اپنی نافعیت ثابت کرنا، اعلی صلاحیت کا حصول ،خدمت ِخلق ،غلط فہمیوں کا ازالہ ،خاموش دعوت ،خیرسگالی اورباہمی مکالمہ اورڈائلاگ کا آپشن ہی آپ کے پاس بچتاہے۔افسوس کی بات یہ ہے کہ مسجدومدرسہ کے علاوہ بھی ملت کی تمدنی ضروریات ہوسکتی ہیں اِس پر بحیثیت مجموعی ملت کی کوئی توجہ نہیں ہے۔مثال کے طورپر میڈیاجیسے ضروری شعبہ میں ملت نے کبھی کوئی invest نہیں کیا۔انفرادی طورپر جن لوگوں نے حوصلہ کیاجیسے کہ افکارملی یاملی گزٹ انکوملت نے کوئی سپورٹ نہیں دی نتیجہ میں وہ دم توڑگئے۔کیااب بھی وقت نہیں آیاکہ اِس ضروری اورلازمی شعبہ پر توجہ دی جائے۔

اِس کے علاوہ یہ کہ مسلمان ہمیشہ اپنے ہی مسائل میں گرفتاررہتے ہیں ملک میں اِس وقت کمرتوڑمہنگائی ہے ،پس ماندہ ذاتوں پر ظلم ہوتاہے ،معیشت خراب ہے اوردوسرے مسائل بھی ہیں جوسب شہریوں کے مشترک مسائل ہیں مگرمسلمان کسی پر بھی کوئی توجہ نہیں دیتے نہ عملاًان پرہونے والے مباحثوں میں شریک ہوتے ہیں۔

مسائل مسلسل پیش آئیں گے ان سے نمٹناہوگا۔اپنے وجودوتشخص کی بقاء کے لیے مزاحمت لازم ہے مگریہ مزاحمت اسٹریٹیجک ہونی چاہیے جیسی کہ سی اے این آرسی احتجاجوں کے دوران کی گئی کہ ہمارے نوجوانوں نے تمام بوڑھی قیادت اورمذہبی تنظیموں کودرکنارکرتے ہوئے سیکولرلائنوں پر یہ لڑائی لڑی۔ آزادی سے لیکرآج تک ہماری مذہبی قیادت بالعموم مذھبی کارڈ اور’’اسلام خطرہ میں ہے ‘‘کا نعرہ استعمال کرتی آئی ہے جس کولے کرہندوتواکی قوتیں خاص طورپر قومی میڈیاکے ذریعہ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زبردست منفی پروپیگنڈاکرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بابر ی مسجد،طلاق ثلاثہ اورحجاب وغیرہ پرمسلمانوں کوعدلیہ کی طرف سے سخت دھچکے لگے ہیں۔ کیونکہ یہ ایسے ایشوز ہیں جن میں لیگل بنیادوں پر مسلمان کسی بہترجگہ نہیں کھڑے ہیں اوران کی دفاعی لائن خاصی کمزورہے۔جودلائل مسلمان دیتے ہیں ان کوموجودہ ذہن قبول نہیں کرتا۔اس لیے مذہبی کارڈ کا استعمال اب بندکردیناچاہیے۔اسی طرح مجموعی طورپر ہندتو وادیوں کومسلمان اپناسیاسی حریف بنانابھی چھوڑدیں۔ بلکہ اب مزاحمت کے نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔

مسلمانوں کی ماب لنچنگ اورگاؤکشی کے الزام میں ان پر جگہ جگہ جان لیواحملے برابرہورہے ہیں۔ جن میں حال کے دنوں میں یوپی ،کرناٹک اورگجرات میں کسی بھی تفتیش کے بغیرمسلمانوں کوبلوائی اورمجرم سمجھ کران کے گھروں کوبلڈوزکیاجارہاہے ،یہ حرکت قانوناً جرم ہے کیونکہ کوئی بھی سرکاریااس کی کسی ایجینسی کوعدالتی پراسِس کے بغیرکسی کوسزاددینے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ ان پر مسلسل حملے ہورہے ہیں۔ ان کے خلا ف نفرت کے پرچارمیں شدت آرہی ہے۔

حال ہی میں بعض دھرم گروؤں نے نام نہاددھرم سنسدبلاکراس نفرت میں مزیداضافہ کیاہے۔اورحکومت کی طرف سے ان نفرتی لوگوں کوروکنے کے لیے کچھ کیابھی نہیں جارہاہے۔ جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں ڈر،خوف اورتشویش کا ماحول بڑھ رہاہے۔ سیلف ڈیفینس اوراپنے دفاع کے بہت سے جمہوری طریقے ہیں ان کواختیارکیاجاسکتاہے۔مثلاًامریکہ کے ہیومن رائٹس گروپوں نے ہندمیں مسلمانوں کی ممکنہ نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔یواین میں یہ معاملہ اٹھاہے۔مسلم قیادت یک زبان ہوکراِن بیرونی اداروں کواپنی تشویش سے آگاہ کرے۔تمام قیادت متحداوریک زبان ہوکرعدلیہ کومتوجہ کرے،قانونی چار ہ جوئی کرے۔ مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے نفرتی پرچارکی مزاحمت کرے وغیرہ۔

سب سے بڑی مصیبت مسلمانوں کی جزباتیت ہے جس سے وہ پیچھانہیں چھڑاپارہے ہیں۔ وہ حجاب کے لیے تعلیم چھوڑنے پرآمادہ ہیں حالانکہ یہ ہرگزبھی دین کا تقاضانہیں۔ وہ اپنے لاؤڈاسپیکروں کا بے محابااستعمال بندنہیں کرناچاہتے۔ وہ صرف اکثریتی فرقہ کویک طرفہ الزام دیکراپنی پرانی روش پر برقرارہیں۔ حالانکہ ملک میں جس قدرتیزرفتاری سے تبدیلی آرہی ہیں اسی لحاظ سے مسلمانوں کوبھی اپنے آپ کوبدلناچاہیے۔

مثال کے طورپر نئی تعلیمی پالیسی ملک میں نافذہونے والی ہے جس کے مطابق پورے ملک میں ایک یکساں نصاب ہوگااورمدارس اسلامیہ سے کچھ لوگ جومین اسٹریم میں آجاتے ہیں ان کا راستہ بھی اب بندہوجائے گا۔لہذامدار س کوبھی ملکی حالات کے مدنظراب جلدازجلداپنے نصابوں کوبدلناچاہیے۔دیکھاجارہاہے کہ ملکی عدلیہ مسلمانوں کی اشک سوئی کرنے کے بجائے اکثرفسطائیوں کا ساتھ دیتی ہے۔توایسے میں بیرونِ ملک مسلمانوں کی جوہیومن رائٹس کی تنظیمیں ہیں کیاوہ اپناکیس انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے جانے پرغورکرسکتی ہیں ؟

(نوٹ: مضمون میں پیش کیے گئے نکات بس غوروفکرکے لیے پیش کیے جارہے ہیں وہ کسی حتمی رائے کا اظہارنہیں کرتے۔اِ س مضمون پر قارئین اظہارِخیال کرسکتے ہیں )

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


2 تبصرے
  1. شاہ عبدالوہاب کہتے ہیں

    میڈیا کے ضمن میں مضمون نگار تعجب ہے کہ پیس ٹی وی کو کیسے فراموش کر گئے!

  2. محمدغطریف شہبازندوی کہتے ہیں

    پیس ٹی وی یقیناایک بہت اچھاچینل تھالیکن مضمون میں جس قسم کے میڈیاکی طرف اشارہ کیاگیاہے وہ ضرورت پیس ٹی وی سے پوری نہیں ہوتی کیونکہ وہ پورے طورپر ایک دعوتی تبلیغی اورمناظراٹی قسم کا چینل تھا۔ضرورت ایسے چینل کی ہے جومین اسٹریم میڈیاکی طرح کام کرے اورموضوعیت کے ساتھ مسلمانوں کے موقف سے اہل وطن کوآگا ہ کرے جیسے کہ این ڈی ٹی وی ہے ۔
    محمدغطریف شہبازندوی

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا