مسلمانوں کو یو گا کی ضرورت نہیں

مرزا عادل بیگ

(پوسد ضلع ایوت محل)

اسلام فطرت دین ہے۔ جس کے تقاظوں کو پورا کرنا ہر مرد عورت پر فرض ہیں۔ اسلام کی تعلیمات واحد خدا وندی کی طرف لے جاتی ہے۔ اسلام زندگی کے ہر پہلوں کو مناسب طریقوں سے، تر کیبوں سے، ترتیبوں سے، با آسا نی حل کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ ہر مسلمان  کے نجات کا واحد ذریعہ نبی کریم ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گذارنے پر منحصر ہے۔ دنیا میں مذہب اسلام واحد ہے  جو نو مولود کے پیدا ہونے سے لیکر تدفین تک سارے طور طریقوں کو سکھاتا ہے۔ اسلام کے بے شمار تعلیمات آج انسان کو حقیقی انسان بناتی ہے۔

   اسلام کا اہم جز ہے ایمان یعنی اللہ رب العزت ایک ہے اور نبی کریم ﷺ اللہ کے رسول ہے۔ پھر اس پر مسلمان تاعمر ثابت قدم رہتا ہے۔ ایک حدیث کا مفہوم اس طرح ہے۔ ” سید ناصفیان ؓ سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کے پھر میں اس کو آپ ﷺ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ! آپ ﷺ نے فرمایا کہے میں ایمان لا یا اللہ پر پھر اس بات پر ثابت قدم رہا "۔ (مسلم شریف)

ملک کے حالات

   آج زاعفرانی ذہانت والی پارٹی اقتدار پر ہے۔ جو مسلمانوں کو اس ملک کو دوسرا شہری بنانا چاہتی ہے۔ جو مسلمانوں سے اس کی شناخت مٹانا چاہتی ہے۔ جو مذہب اسلام کے ماننے والوں کو نست و نابود کرنا چاہتی ہے، آج ملک کا 25 کروڑ مسلمان ایک طرف کھڑا ہے۔ اور دوسری طرف 100 کروڑ عوام کھڑی ہیں، ایوانوں کے ذریعے، ممبر آف پارلیمینٹ کے ذریعے، زاعفرانی ذہانت رکھنے والی پارٹی کے ورکرس کے ذریعے ہر روز مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی ہے۔ تعلیم کا بھگوا کرن ہو چکا ہے۔ اب یہ تعلیم مادیت پرستی اور مذہب دین بے زاری کی طرف لے جارہی ہے۔ اسکولوں اور کالجوں میں مسلمانوں کی شناخت کو حذف کیا جارہا ہے کبھی برقعہ اتارنے کو مجبور کرنا، تو کبھی مسلم ہونے کے لحاظ سے نوکری سے نکال دینا، ماب لینچنگ، اذانوں پر تبصرے، قربانی پر تبصرے، مسلم تنظیموں کو دہشت گرد ثابٹ کرنا، دینی مدرسوں کو دہشت گردی سے جوڑنا، تو ملک کے مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کو نان رجسٹری سے ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرنا، بلا وجہ تین طلاق بل کا نافذ کرنا، مسلمانوں کو رام بھکت بنانے کی کوشش کرنا، مسلمانوں میں دینی و اخلاقی اور فحاشی پھیلانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرنا، پورے ملک میں مذہب اسلام کے خلاف نفرت آمیز ماحول تیار کرنا۔ ایسا لگتا ہے، اس ملک کا 25 کروڑ مسلمان ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مسلمان کیا کھاتا ہے۔ کیا پیتا ہے۔ کیا پہنتا ہے۔ کیا کرتا ہے۔ اس کی اذان، اس کی مسجد، اس کی شریعت، اس کی تہذیب، اس کا کاروبار  اس کی تعلیم و تربیت، اس کی آبادی، اس کی شادی، اس کے رسم و رواج، اس کا قبرستان، اس کی وفاداری، سے لے کر مختلف تبصرے نشر کیئے جاتے ہیں، اس پر گفتگو کی جاتی ہے۔ مہلک بیماری کورونا کو مسلمانوں سے جوڑ نے کی بھر پور کوشش کی گئی، وہی دینی معتبر شخصیات کی بے حرمتی کی جاتی ہے۔

21 جون عالمی یوگا دن

21 دسمبر 2014 کو وزیراعظم نریندر مودی کی زیر سر پرستی میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی نے 21 جون کو عالمی یوگا دن منانے کی قرار د اد منظور کی ہے۔ اس وقت تقریباً چالیس اسلامی ممالک اور دنیا کے 180 ملکوں نے اسے منظور کیا ہے۔ 21 جون 2015 سے ہر سال عالمی یوگا دن بڑے ہی دھوم دھام سے منایا جارہا ہے۔ جہاں ملک کے مختلف ریاستوں میں مختلف اضلاع کے اسکولس، کالجیس، سرکاری ادارے، دفاتر، ڈپارٹمنٹ، اسٹیڈیم، گراؤنڈ، سرکاری آفسیسس میں یوگا کرنے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

یوگا ایک مشرکانہ عمل ہے

جس طرح مسلمان "وندے ماترم ” کہہ نہیں سکتا، کیونکہ اس میں زمین کو ماتا  کے روپ میں دیکھا جاتا ہے۔ اس ہی طرح یوگا ایک برہمن عقائد اور ہندوانہ رسم ہے۔ جس میں سورج کو دیوتا سمجھا جاتا ہے، سورج کو نمسکار کیا جاتا ہے۔ ہر ی اوم کا جاب جپا جاتا ہے۔ جسم کے مخصوص حصوں کو کھلی ہوا میں رکھا جاتا ہے۔ جہاں (ستر پوشی ) ہونا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ مختلف دیوی دیوتاؤں کے نام لیکر تپسیاں کی جاتی ہے، یہ ورزش نہیں بلکہ عبادت سمجھ کر کی جاتی ہے  جو مذہب اسلام میں حرام ہے۔ ان سب چیزوں سے مسلمانوں کے ایمان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، مذہب اسلام کی تعلیمات میں شرک کو گناہِ کبیرہ سمجھا جاتا ہے  تو اس سے مسلمانوں کو احتیاط برتنے کی اور دوری بنائے رکھنے کی ضرورت ہے۔

مسلمانوں کو یوگا سن کی ضرور ت نہیں

مذہب اسلام آج دنیا کا سب سے زیادہ پسندیدہ مذہب ہے، مشرقی ممالک، مغربی ممالک، یورپ اور امریکہ ہر جگہ پر روز لاکھوں افراد اسلام کی آغوش میں دوڑے چلے آرہے ہے۔ آج جدید و مارڈرن دنیا اسلام کے عقائد رسم و رواج و تہذیب و تمدن پر ریسرچ کر رہی ہے۔ جو مسلمان پانچ وقت کی نماز با جماعت مقررہ وقتوں میں پوری کرتا ہے۔ اس کا جسم چست و چوبند ہو جاتا ہے۔ پانچ وقت کی نماز پڑھنے سے جسم کے ہر حصہ کے دوران خون کی شرح بڑھ جاتی ہے نماز پڑھنے والے افراد کے چہروں پر سکون و اطمنان نظر آتا ہے۔ جو قلب کو موثر انداذ میں حرکت دیتا ہے۔ اگر مسلمان پانچ وقت کی نماز مقررہ وقت میں ادا کریں اور سال میں 30 دن رمضان المبارک کے روزے رکھے تو اسے کوئی یوگا سن کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر آج 21 جون کو مختلف اقلیتی ادارے، سرکاری محکمات میں کام کرنے والے مسلم افراد، اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائی کرنے والی مسلم لڑکیاں اور لڑکوں کو یوگا سن کے پینڈال میں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ اب تو عالم دین حضرات بھی یوگا سن کے پنڈال میں نظر آرہے ہے۔

    کورونا وبا سے پہلے سرکاری دفتروں و دیگر ملازمت پیشہ افراد اپنی نوکریوں کی وجہ سے یوگا سن کے پنڈال میں نظر آرہےتھے  مگر طلبہ و طالبات، خواتین، مسلم بزرگ حضرات کا پنڈال میں کیا کام ہے۔ ہمارا مسلم معاشرہ کس سمت جارہا ہے، ہمیں زاعفرانی ذہانت کے حامی افراد اپنی سازشوں اور منصوبوں کے چنگل میں پھانس رہے ہیں۔ ہمیں ان سازشوں کو سمجھنا ہونگا اور اپنی تشخص کو بر قرار رکھنا ہونگااور ایک بلند آواز میں کہنا ہونگا ہمیں یوگا سن کی ضرورت نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔