مسلم راشٹریہ منچ : مسلمانوں اور آریس یس کے درمیان ایک پُل

ڈاکٹر علیم خان فلکی

آر ایس ایس بہت تیزی کے ساتھ مسلمانوں کی صفوں میں داخل ہورہی ہے۔ اِس کام کے لیے کارسیوک نہیں بلکہ خود مسلمان انہیں اتنے دستیاب ہوگئے ہیں جو مسلم راشٹریہ منچ کے جھنڈے تلے مسجد کی کمیٹیوں، درگاہوں، اورجماعتوں میں داخل ہوکر آر یس یس کے حق میں رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لائحہ عمل پر کام کررہے ہیں۔ دوسری طرف تعلیم یافتہ لبرل طبقہ میں  بی جے پی کی قائم کردہ تنظیم اِمپار IMPAR  کام کررہی ہے جو اونچے عہدوں پر فائز مسلمانوں کے علاوہ سماجی طور پر اثر  رکھنے والوں کو  اِمپار میں شامل کرکے ایک ماڈریٹ کلاس کو تشکیل دے رہی ہے۔ لوگ جوق در جوق منچ یا اِ مپار میں جو شامل ہورہے ہیں، ہمارا گمان یہی ہے کہ وہ اچھی نیّت اور ایمانداری کے ساتھ آریس یس اور مسلمان کمیونٹی کے درمیان ایک پُل کا کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ حکمران طبقہ کے ساتھ مل کر کمیونٹی کو روزگار، تعلیم، حقوق اور انصاف کے معاملے میں کوئی فائدہ پہنچایا جاسکے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے کہ حکمرانوں کے ساتھ ڈائیلاگ اور دوستی کے ذریعے جتنے فائدے  اپنی کمیونٹی کوپہنچائے جاسکتے ہیں، وہ مخالفت یا ٹکراو کے ذریعے نہیں پہنچائے جاسکتے۔

آریس یس چیف موہن بھاگوت کے حالیہ بیانات مسلمانوں کے لیے بڑے خوش آئند ہیں۔ آریس یس کی پیدائشی، نفرت کی روایات کو  توڑ کر وہ دوستی اور محبت بھرے بیانات کے ذریعے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آریس یس سے مسلمانوں کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ کبھی کہہ رہے ہیں کہ ہندو اور مسلمانوں کا DNA  ایک ہے وہ الگ کبھی نہیں ہیں، ہمیشہ سے جڑے ہوئے ہیں۔

کبھی کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمان نہیں رہے گا تو ہندوتوا ختم ہوجائیگا۔

جو مسلمانوں کو ہندوستان چھوڑنے کی بات کرتا ہے وہ ہندو نہیں ہوسکتا،

 لنچنگ کرنے والے ہندوتوا کے دشمن ہیں۔

احتجاج کا حق سب کے لیے برابر ہے۔

مسلمانوں کے ساتھ ڈائیلاگ ضروری ہے،

یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ خود آریس یس کیڈر ان کے ان پیغامات پر ہوسکتا ہے یہ ا لزام لگائے کہ وہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان بیانات پر شک و شبہ کرنے کے پورے امکانات موجود ہیں۔ یہ بیانات اس وقت اگر وہ دیتے جب وہ اقتدار میں نہیں تھے،، تو کچھ اور بات ہوتی۔ اب جب کہ پولیس، عدالتوں اور میڈیا کو مکمل اپنے ہاتھوں میں لے کر مسلمانوں کو ہر طرح سے نہتّا کیا جا چکاہے اور وہ مسلمانوں کو چاروں خانے چِت کردینے کی پوزیشن میں آچکے ہیں، اب مسلمانوں سے اِس ہمدردی اور مہربانی کے پیچھے کیا ہوسکتا ہے، یہ سوچنا ضروری ہوجاتا ہے۔ ہاں یہ ہوسکتا ہے کہ ہندو قوم جو ہزاروں ذاتوں میں نہ صرف بٹی ہوئی ہے بلکہ  ہر ذات ایک دوسرے سے نفرت کرتی ہے، ان تمام کو متحد کرنے کے لیے ایک مشترکہ دشمن کو پیدا کرکے اس کے خلاف  ووٹوں کو Polarise کرنا ناگزیر تھا، اس لیے انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کو ٹارگٹ بنایا اور ایک نہیں، دو دو الیکشن جیت گئے، اور ہندوتوا اور ہندوراشٹرا کی لہر اتنی مضبوط کردی کہ آئندہ دو تین الیکشن اور جیتنے کے آثار پیدا ہوگئے ہیں، ہوسکتا ہے آریس یس اقلیتوں کے تئیں اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے، ملک میں امن اور اتحاد کی فضا پیدا کرنے کے بارے میں مثبت سوچ کی طرف بڑھ رہی ہو، اس لیے موہن بھاگوت کے ان بیانات کا خیرمقدم کرتے ہوئے، مسلمانوں کو بھی دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہیے۔

کانگریس نے ساٹھ ستر سال تک مسلمانوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپا، سامنے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور پیچھے سے اِن کی جڑوں کو کاٹتی رہی، اور یہ پالیسی اب تلنگانہ، آندھرا، بہار کے  چیف منسٹر بھی اپنا چکے ہیں۔ اور کھلی منافقت کررہے ہیں، ایسے وقت میں آریس یس جو روزِ اول سے مسلم اور اسلام دشمنی کا کھل کر اعلان کرتی رہی، اب کھل کر دوستی کی بات کررہی ہے تو اس کا استقبال کرتے ہوئے علما اور قائدین کو آگے بڑھنا چاہیے۔ کیونکہ جس قسم کے لوگ منچ اور اِمپار میں شامل ہورہے ہیں، ان کی عوامی مقبولیت صفر ہے۔ انہیں آخر میں کچھ چھیچھڑے ہی ملیں گے یعنی وقف کونسل یا کسی ریاست کے وقف بورڈ، اردو اکیڈیمی، حج کمیٹی وغیرہ جیسی کچھ کرسیا ں ہی ملیں گی، لیکن قومی دھارا میں نہ انہیں ایک قائد تسلیم کیا جائیگا، اور نہ پوری مسلمان قوم کے نمائندہ کی انہیں حیثیت ملے گی۔ ہاں اگر عوام میں مقبولیت رکھنے والے لیڈر یا علما یا دانشور آگے بڑھیں تو شائد غلط فہمیاں دور ہوں اورمسلمان بھی ترقی کریں۔ مسلمانوں کو ہندوراشٹرا قائم ہونے سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

موہن بھاگوت کی یہ لاجِک قابلِ قبول ہے کہ جس طرح امریکہ کا ہر شہری امریکی کہلاتا ہے، اسی طرح ہندوستان کا ہر فرد ہندو کہلائے گا۔لفظ ہندو کا تعلق ہندو دھرم سے نہیں ہے۔ سپریم کورٹ خود بھی یہ تسلیم کرچکی ہے کہ ہندواِزم کوئی دھرم نہیں ہے۔ بھاگوت جی جب یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ NRC سے مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے تو، ان کی بات کا اعتبار کرناچاہے۔ کاشی متھرا پر اگروہ لوگ ضد کررہے ہیں تو اِس پر بھی سمجھوتہ ہوسکتا ہے۔ گائے کا گوشت کھانا نہ فرض ہے نہ سنّت، یہ بھی چھوڑا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ دوستی دوطرفہ ہونی چاہیے۔ ایک طرف مسلمانوں کو بھی کچھ اقدام کرنے ہیں اور دوسری طرف آریس یس کو بھی کچھ اقدام ایسے کرنے ہیں، جو دوستی کی ہی نہیں بلکہ اس ملک میں انسانیت، جمہوریت اور قانون کی بقا کے لیے لازمی ہیں۔ اگر آریس یس ان اقدامات کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ ان امور کو نافذ کرنے کا اعلان کرتی ہے تو نہ صرف ہم جیسے عام مسلمان بلکہ اویسی، اعظم خان اور سجاد نعمانی جیسے عظیم المرتبت علما واور قائدین بھی آریس یس میں شامل ہونے تیار ہوجائینگے۔ یہ ذمہ داری منچ اور اِمپار میں شامل ہونے والوں کی ہے کہ وہ ایک ایسی سازگار فضا پیدا کریں کہ آریس یس قائل ہوجائے کہ یہ اقدامات صرف مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے دیش کے تحفظ کے لیے لازمی ہیں۔ جیسے

۱۔ہندوستانی ہونے کے ناطے اگر ہر شخص ہندو کہلائیگا تو سیکولرزم کی ضمانت دینی پڑے گی۔ آریس یس اور بی جے پی کے تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لیڈر سارے سیکولرزم کے خلاف ہیں۔ آریس یس ضمانت دے کہ سیکولرزم کے خلاف جتنے بیانات دیئے گئے ہیں، وہ سب واپس لیے جائیں گے۔

۲۔ دھرم کے معنی ہیں Way of Life۔ اگر آریس یس کے نزدیک ہندوتوا ایک صحیح Way of Life ہے تو اِسے خطرہ کیوں ہے کہ انسان صحیح چیز کو چھوڑ کر اسلام یا کوئی اور دھرم قبول کرلے گا؟  ہر مذہب کو یہ آزادی دی جائے کہ وہ اگر صحیح Way of Life رکھتا ہے تو بے خوف ہو کر پیش کرے پھر دیکھئے کہ آئندہ پچیس تیس سال میں عوام کس کو قبول کرلیتی ہے۔

۳۔ آریس یس اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کرکے جتنی جھوٹی افواہیں پھیلارہی ہے، نصابی کتابوں میں، فلموں اور سیرئیلس میں جس قسم کی بے بنیاد، زہرافشانی کی جارہی ہے، اس کو بند کرے، آریس یس نے تاریخ کو بھی ووٹوں کی طرح مکمل Polarise کردیا ہے،آریس یس تاریخ کے ساتھ یہ کھلواڑ بند کرے اور مسلمان بادشاہوں کے اس ملک پر کتنے احسانات ہیں، وہ سچ سچ پیش کرے۔

۴۔ بھاگوت جی نے کئی جگہ سارے انسان ایک ہیں، عورتوں کے حقوق مساوی ہیں، عورتوں کو انسانی حقوق کے ساتھ جینے کی آزادی ہونی چاہیے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لیے جو کتاب انسانوں کو ورنوں یعنی ذاتوں میں تقسیم کرتی ہے، عورت کو شودر کا درجہ دیتی ہے، اس کتاب پر Ban لگایا جائے، یعنی منوسمرتی کو ممنوع، خلافِ قانون بلکہ خلافِ انسانیت قرار دے۔

 ۵۔ اگر اس ملک سے دہشت گردی، فرقہ پرستی اور Hate speech کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرنا ہو تو گولوالکر اور ساورکر کے لٹریچر کو Ban کیا جائے جو  ہر غیر ہندو کو قتل کرنے، ان کی عورتوں کی کھلم کھلا عصمت ریزیاں کرنے کی تعلیم دیتی ہیں۔ یوگی جیسے لوگ انہی کے شاگرد ہیں جو ایسی تقریروں کے ذریعے نفرت پھیلا کر ووٹ حاصل کررہے ہیں، ایسے دہشت گردوں کو پھانسی دی جائے۔

۶۔ جب تک تحفظات Reservations کا نظام قائم ہے، ملک میں قابل لوگ کبھی آگے نہ آسکیں گے۔ گدھے آگے رہیں گے اور شیر، چیتے اور گھوڑے پیچھے رہیں گے، اس سسٹم کو ہمیشہ کے لیے ختم کیجئے، لیکن دوسری طرف کمزور طبقات کو یونیورسٹی کی تعلیم تک مفت سہولیات دیجئے، ان کا معیار زندگی بہتر بنانے جتنا پیسہ خرچ کرسکتے ہیں کیجئے۔

اور ایسے کئی اقدامات ہیں، اگر یہ اقدامات کئے جائیں تو یہ ملک پھر ایک بار وہ سونے کی چڑیا یا اکھنڈ بھارت بن سکتا ہے جسے کبھی مسلمان بادشاہوں نے بنایا تھا۔ ورنہ مسلمانوں سے پہلے تک کی تاریخ یہی تھی کہ چھوٹے چھوٹے ہندو، برہمن، دراوڑین، جین اور بدھ راجے مہاراجے ایک دوسرے سے لڑتے، ایک دوسرے کی مندریں لوٹتے اور قتل ِ عام کرتے، یہ ملک پھر اسی رخ پر لوٹ رہا ہے۔

آخر میں ہم منچ اور اِمپار میں شامل ہونے والوں سے یہ التما س کرتے ہیں کہ آریس یس کا صحیح منشا اور نیّت سمجھے بغیر ان کے ساتھ غیرمشروط Unconditional شامل ہوجانا، شاید آپ کے ذاتی مفادات کے حق میں تو بہتر ہو لیکن قوم کے حق میں بہت نقصان دہ ہوگا۔ بس اتنا یاد رکھئے کہ ہلاکو خان جب بغداد پر حملہ کرنے آگے بڑھ رہا تھا، کچھ علما اور کچھ جہدکار جاکر اس سے مل گئے اور شہر میں داخل ہونے میں اس کی مدد کی، اسی امید پر کہ انہیں کچھ انعام ملے گا، عہدے مل جائیں گے، اقتدار میں کچھ حصہ مل جائیگا۔ ہلاکو نے جب شہر فتح کرلیا، ہر طرف لاشوں کے انبار لگا دیئے، اس وقت یہ لوگ جب انعام اور عہدوں کی امید لے کر اس کے دربار میں گئے، تو اس نے یہی کہا کہ جب تم اپنی قوم کے وفادار نہیں رہ سکے تو میرے کیا وفادار ہوسکتے ہو۔ یہ کہہ کر اس نے ان تمام کی گردن ماردینے کا حکم دیا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔