مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی وجوہات

شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

          آج کل ہمارے ملک میں مسلم لڑکیوں کے ارتداد کے بارے میں مسلسل خبریں آرہی  ہیں اور اردو اخبارات اور سوشل میڈیا پر مسلسل اِس پر مضامین بھی آرہے ہیں۔ اِن تمام مضامین میں مسلمانوں کو اِس معاملے میں بیدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ غیر مسلم شر پسند تنظیموں کے مقاصد سے خبردار کیا جارہا ہے اور یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ اب شر پسند تنظیمیں کھل کر سامنے آگئی ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے میں کئی ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں مسلم لڑکیوں کے ساتھ انتہائی برے سلوک ہوئے ہیں۔ تقریبا ً پورے ملک کی تمام ریاستوں میں ایسی مسلم لڑکیاں سامنے آرہی ہیں جن کے ساتھ غیر مسلم لڑکوں نے کورٹ میرج یا غیر مسلم طریقے سے شادیاں کیں۔ اس کے بعد ان کا جنسی استحصال کیا، انہیں ہر طرح سے استعمال کیا اور پھر انہیں دودھ میں مکھی کی طرح نکال کر پھینک دیا۔ اِس سلسلے میں غیر مسلم شر پسند تنظیمیں مکمل پلاننگ کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو ٹارگٹ بنارہی ہیں۔ اِس کے لیے یہ تنظیمیں ہر طرح کاحربہ استعمال کررہی ہیں۔ غیر مسلم لڑکے پلاننگ کے ساتھ پیار محبت اور مال و دولت کا جال بچھاتے ہیں اور بھولی بھالی مسلم لڑکیاں انکے جال میں پھنستی جارہی ہیں۔ یہ لڑکیاں یہ نہیں جانتی ہیں کہ یہ اپنے رحم میں ایک کافر پلید نطفے کو پالتی ہیں اور جب یہ بچہ دنیا میں آئے گا تو ہوسکتا ہے کہ اس بچے کو بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جائے۔

          یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسلم لڑکیاں اس طرح ارتداد کا شکار کیوں ہورہی ہیں؟ اور اس کی کیا وجوہات ہیں؟ سب سے پہلی وجہ والدین کا دین سے دورہونا ہے۔ ظاہر ہے جو بچی بے دینی کے ماحول میں پرورش پا کر بڑی ہوگی اور وہ قرآن پاک اور اسلامی تعلیمات سے آگاہ نہیں ہوگی تو پہلے ہی وہ اُس حد کے قریب چل رہی ہے جہاں سے ارتداد کا راستہ آسانی سے مل جاتا ہے۔ اِس لیے مسلم والدین سے گزارش کے کہ خود بھی دیندار بنیں اور گھر میں بھی دینداری کا ماحول بنائیں۔ گھر میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی اور موبائل نہ چلائیں بلکہ قرآن پاک اور اسلام کی تعلیمات پر باتیں کریں اور ایک دوسرے تک اِن تعلیمات کو پہنچائیں اور اس پر عمل کریں۔

          دوسری وجہ ’’مخلوط تعلیم‘‘ ہے۔ ہمارے ملک کے زیادہ تر علاقوں میں ’’مخلوط تعلیم‘‘ کا رواج ہے جہاں لڑکے اور لڑکیاں ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ بہت کم علاقے ایسے ہیں جہاں لڑکیوں کی الگ اور لڑکوں کی الگ تعلیم گاہیں ہیں۔ جن علاقوں میں’’ مخلوط تعلیی ادارے‘‘ ہیں اُن میں بہت ہی کم ایسی ہیں جہاں صرف مسلم لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ زیادہ تر ’’مخلوط تعلیی ادارے‘‘ ایسے ہیں جہاں پر غیر مسلم اور مسلم لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ یہ تعلیمی ادارے مسلم لڑکیوں کے ارتداد کا ایک بہت بڑا سبب ہیں۔ مسلم والدین اپنی لڑکی کو ڈاکٹر ، ٹیچر، وکیل اورپائلیٹ وغیرہ بنانے کے لیے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بھیجتے ہیں۔ مسلم لڑکیاں اِس تعلیم کے دوران عُمر کے اُس دور میں ہوتی ہیں جہاں وہ اپنی زندگی کے سہانے خواب دیکھتی ہیں اور ہر سُراب کو حقیقت سمجھتی ہیں۔ غیر مسلم شر پسند تنظیمیں ایسے ’’مخلوط تعلیمی اداروں ‘‘ میں پڑھنے والی مسلم لڑکیوں کو ٹارگٹ بناتے ہیں اور وہ بیچاری اُن کے جال میں جب پھنس جاتی ہے تب والدین کو ہوش آتا ہے۔

          مسلم لڑکیوں کے ارتداد کی تیسری وجہ ٹی وی پر آنے والی گھریلو کہانیاں ہیں اور موبائل فون ہیں۔ ہمارے ملک میں جو ٹی وی سیریل آتے ہیں اُن میں زیادہ تر ’’مخلوط تعلیمی اداروں ‘‘ (کالجوں اور یونیورسیٹیوں ) میں لڑکے لڑکی (خاص طور سے غیر مسلم لڑکے اور مسلم لڑکی) کی محبت بتائی جاتی ہے جسے دیکھ کر مسلم لڑکی لاشعوری طور سے قبول کرتی جاتی ہے۔ ہمارے ملک کی فلموں میں بھی زیادہ تر غیر مسلم لڑکے اور مسلم لڑکی کی محبت بتائی جاتی ہے اور اِس میں نام نہاد مسلم اداکار بھی ملوث ہوتے ہیں۔ موبائل فون بھی غیر مسلم تنظیموں کا ایک خاص ہتھیار ہے اور فیس بک ، انسٹاگرام ، واٹس ایپ اور ٹیلی گرام وغیرہ کے ذریعے بھی مکمل پلاننگ کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو پھانسا جارہا ہے۔ بے چارے مسلم والدین اپنی نوخیز بیٹی کو موبائل دے دیتے ہیں اور وہ اس موبائل کے ذریعے ایسی مصیبت میں پھنس جاتی ہے جہاں سے نکلنا بہت ہی مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے۔ آج کل تو ’’آن لائن تعلیم‘‘ کے نام پر لڑکے لڑکیوں کے لیے موبائل رکھنا ضروری کردیا گیا ہے۔

          اِن تمام وجوہات کی وجہ سے غیر مسلم شر پسند تنظیموں کے لیے مسلم لڑکیوں کو مرتد بنانا بہت ہی آسان ہوگیا ہے۔ یہ شر پسند تنظیمیں سالہا سال سے کوشش کرتے کرتے اب کامیابیاں حاصل کررہی ہیں اور اب کھلے عام اعلان کررہی ہیں اور کوشش کررہی ہیں کہ مسلم لڑکیاں مرتد ہوجائیں۔ اِس سلسلے میں باقاعدہ پلاننگ ہو رہی ہے اور مسلم گھروں ، علاقوں ، محلوں ، خاندانوں اور افراد کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ اِس سلسلے میں دولت ، وسائل اور عیاشی کی تمام چیزیں مہیا کرکے غیر مسلم نوجوانوں کو تیار کیا گیا ہے۔ کئی کیسزمیں معلوم ہوا ہے کہ انہیں لاکھوں کی رقم ، پلاٹ یا فلیٹ اور دیگر سہولیتں فراہم کی گئی ہیں۔ اِن سب کی چکا چوند میں مسلم لڑکیاں اندھی ہوکر مرتد ہوجاتی ہیں اور پھر انجام بعض دفعہ اجتماعی عصمت دری، عیاشی اور بدنام گلیوں کی زنیت بنادی جاتی ہیں۔ کئی مسلم لڑکیوں کو کئی ماہ کے حمل کے ساتھ دردر بھٹکتے ، بھیک مانگتے، جھولی پھیلاتے اور سسکتے ہوئے بھی پایا گیا ہے۔ یہ لوگ لگاتار نوخیز کلیوں کو نشانہ بناتے ہیں ، جن میں جوانی کا جوش لااُبالی پن اور ہوا کے دوش پر اُڑ جانے کا جذبہ ہوتا ہے اور وہ خواہش نفس اوردماغی الجھن کا شکار ہوکر ایک خطرناک اور مشاق صیاد کے جال میں پھنس جاتی ہیں۔ اسے ہوش تب آتا ہے جب اُس کا سب کچھ لُٹ چکا ہوتا ہے۔ اب نہ تو اسے اُس کے خاندان والے قبول کرتے ہیں اور نہ ہی والدین۔ ممبئی میں ایک کیس میں تو یہاں تک ہوا ہے کہ جب مرتد لڑکی کا انتقال ہوگیا تو اُس کے والدین نے بھی اُس کے کفن دفن سے انکار کردیا اور آخر کار اُس لڑکی کو غیر مسلم طریقے سے جلا دیا گیا۔

          یہ ہے ارتداد کا بھیانک انجام۔ کیا اس کے بعد بھی مسلم والدین چاہیں گے کہ اُن کی پیاری بیٹی اتنے عبرتناک انجام سے دوچار ہو؟ کیا کوئی بھی مسلم لڑکی چاہے گی کہ اُس کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ و برباد ہوجائیں ؟ اگر نہیں …! تو ابھی بھی وقت ہے کہ مسلم والدین اپنی نوخیز کلیوں پر نظر رکھیں اور اُس کی صحیح رہنمائی کریں ورنہ کل قیامت کے دن ان والدین کی بھی پکڑ ہوگی۔ اور مسلم لڑکیاں کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے راستے پر چلیں اور عمل کریں کیونکہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا پورا دارومدار اِسی پر ہے۔ اس راستے کے علاوہ ہر جگہ آپ کو شیطان کے ہرکارے ملیں گے جو آپ کی دنیا کو آخرت کو پوری طرح برباد کردیں گے۔

٭…٭…٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔