ملالہ کی کتاب اور کہانی ( قسط اول)

 میرافسر امان

 صاحبو! مسلمانوں نے اپنے عروج کے دوران عیسائیوں اورمجوسیوں سے اقتدار چھینا تھا جسے اسلامی دنیا میں عام فہم طور پر لوگ قیصرو کسرا کے نام سے جانتے ہیں۔ مجوسی تو دنیا کے سین سے غائب ہو گئے مگر عیسائی دنیا نے مسلمانوں پر دوبارہ غلبہ حاصل کیا اور وہ اُس وقت سے دنیا میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ اس میں مشہور، صلیبی جنگیں، سازشوں سے اسلامی ملکوں پر قبضے، فتنہ قادیانیت کا اجرا، یہودی ریاست اسرائیل کا قیام، لارنس آف عریبیہ طرز کی سازشیں اور آخر میں مسلمانوں کی خلافت کو ختم کرنا شامل ہے۔ سرد جنگ کے بعد مسلمانوں کے خلاف تازہ سازش نائن الیون کی تیار کی گئی اور اس آڑ میں مسلم دنیا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی جس میں پاکستان سرفہرست ہے۔ ( عالمی یہودی جادوگرمیڈیا لفظ عیسائی کہنے کے بجائے مغرب کااستعمال کرتا ہے جو حقیقتاً عیسائی ہیں اس لیے ہم نے مغرب کے بجائے اپنے مضمون میں لفظ عیسائی استعمال کیا تاکہ بات واضح ہو جائے )اسی سازشی کہانیوں، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین، مولی نورس اور عیسائی ملکوں میں ہمارے پیارے پیغبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں آزدی رائے کی آڑ میں مسلمانوں کی دل آذاری کرنا ہے۔ ان میں سے ایک کہانی ملالہ کی بھی گھڑی گئی ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کی ملالہ کے دادا سوات سے کوئی چالیس کلومیٹر دور ایک قصبے میں مسجد کے امام تھے۔

ملالہ کے والدضیا ء الدین یوسف زئی کی مذہب سے نفرت پر اسے تشویش تھی۔ گھر میں اکثر باپ بیٹے میں جھڑپ ہوتی رہتی تھی۔ بیٹا اپنے والد کے عقائد کا مذاق اڑاتا اور اسے تنگ کرتا تھا۔ وہ اپنے والد کی نافرمان اولاد تھا۔ اس وجہ سے والد نے اُسے گھر سے نکال دیا تھا۔ وہ اس کے بعدمینگورہ میں آباد ہو گیا۔ شادی کی اور اپنا ایک خوشحال پبلک اسکول بھی قائم کیا۔ مینگورہ کے مقامی لوگوں کے مطابق وہ ایک لالچی شخص تھا۔ جہاں سے چار پیسے مل سکیں خواہ عزت کا فالودہ بن جائے۔ سوات پر طالبان کا غلبہ ہوا تو اس کی بن آئی۔ ایک این جی او گلوبل پیس کونسل کے نام سے بنائی اور اس کے صدر ہیں۔ امریکی این جی اوز سے طالبان مخالفت کے نام پر بھر پور امداد وصول کرنی شروع کی۔ اسی دوران وہ امریکی سی آئی کے ہتھے چڑھ گیا۔ اسی زمانے کی یوسف زئی اور ان کی بیوی کی ر چرڈبالروک، مارٹن جونزبرگیڈئیر اور سی آئی اے کے اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر جب سوشل میڈیانے جاری کیں۔ تو ملالہ کہانی کی سازش ہونے کے شواہد کانفرم ہو گئے۔ سوشل میڈیانے ایک تصویر میں ملالہ اس کے والد اوروالدہ کی تصویر جاری کی جس میں امریکی فوجی حکام کے ساتھ اجلاس میں شریک ہے۔ یہ ساری تصویریں ملالہ پر حملے کے پہلے کی ہیں۔ طالبان کے سوات میں غلبے کے زمانے میں بی بی سی کے ایک مقامی رپورٹر جو یوسف زئی کے دوست تھے، سے فرضی نام گل مکئی کے نام سے ڈائری لکھوانی شروع کی گئی۔ مقصد سوات کی جنگجوئوں کی آڑ میں طالبان کو نفرت کا نشانہ بنانا تھا۔ ڈائریوں کی مقبولیت کے بعد یہ بی بی سی کا بیورو جیف ترقی پا کر نیوز پروڈیوسر بن گیا۔

 اس مشن کے عوض ملالہ کے والد کو امریکی برطانوی این جی اوز سے بھاری رقم کی امید دلائی گئی اور شہرت الگ ملی۔ اسی دوران سوشل میڈیا کی طرف سے ایک تصویر جاری ہوئی امریکی جرنلسٹ اپنا چہرہ پٹھانوں جیسے یعنی داڑھی اور سر پر پٹھانی ٹوپی پہنے سوات میں یوسف زئی کے ساتھ جاری ہوئی۔ یہ شخص اور نہ جانے اور کتنے اشخاص آزادانہ پاکستان مخالف رپورٹنگ کرتے رہے۔ جس کی تصویر سوشل میڈیا یوسف زئی اور ملالہ کے ساتھ جاری کیں۔ جس سے اس سازش کی نشان دہی ہوتی ہے۔ کالم نگار شہزاد عالم کے مطابق سوات میں دہشت کے دور میں ملالہ اپنے والد کے ساتھ ایبٹ آبا میں مقیم تھی۔ جب اپنے والد کے ساتھ سوات واپس آئی اورامن کے بعد۲۰۰۹ء میں اخپل کور ماڈل اسکول میں امن کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا۔ جس میں یوسف زئی صاحب بھی شامل تھے۔ اس میٹنگ میں مقامی سواتی حضرات نے جس میں غلام قادر سپین دادا نے ضیاء الدین یوسف زئی کو کھری کھری سنائیں اور سرزنش کی اور کہا کہ اس سازشی کھیل کو ختم کرو!یہ ہیں ملالہ کہانی کے مقامی چشم دید لوگ جن کے خیالات ہم نے قلم بند کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ چاند اخبار سوات میں مرزا عبدالقدوس کے ایک مضمون میں ایبٹ آباد سے سے ملالہ کی سوات واپسی کو ایک نئی سازش کاتانابانا کہا گیا تھا۔

میڈیا کے مطابق جنوری ۲۰۰۹ء کے با لکل شروع میں کسی تحریک طالبان نامی مسلح گروہ نے سوات میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگاتے ہوئے اعلان کیا کہ ۱۵؍ جنوری ۲۰۰۹ء کے بعد لڑکیاں اسکول نہ جائیں یہ اعلان پہلے ہوا۔ جبکہ اسکول نہ جانے کی ڈیڈ لائن ۱۵؍ جنوری دی گئی۔ ایسے حالات میں سوات سے تعلق رکھنے والی ایک ساتویں جماعت کی طالبہ ملالہ یوسف زئی نے ۳؍ جنوری ۲۰۰۹ء سے اپنی ڈائری لکھنی شروع کی۔ پھر ۹ جنوری ۲۰۰۹ء سے قسط وار شائع ہونی شروع ہوئی۔ اور ۱۳؍ مارچ ۲۰۰۹ء کو شاید آخری اوردسویں قسط شائع ہوئی۔ بعد میں پتہ چلا کہ یہ ڈائری بی بی سی کا مقامی رپورٹر ملالہ سے گفتگو ریکارڈ کرتے پھر اپنے الفاظ میں تحریر کر کے بی بی سی کی ویب سائٹ پر گل مکئی کی ڈائری کے نام سے اپ لوڈ کیا کرتے تھے۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب پاکستانی حکومت اور فوج نے ۲۰۰۹ء میں طالبان سے ایک امن معاہدہ کیا تھا۔ جس کی مخالفت امریکا اور یورپ نے کی تھی۔ تب اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا۔

یہ ڈائری کیا تھی ملالہ کہتی ہیں برقعہ پتھر دور کی نشانی ہے۔ داڑھی والے دیکھ کر فرعون یاد آتا ہے۔ میں اسکول جانے کے لیے یونیفارم پہن رہی تھی۔ تو مجھے یاد آیا پرنسپل نے سادہ کپڑے پہننے کا کہا تھا۔ میں اپنا پسندیدہ گلابی رنگ کا لباس پہننے کے لیے نکالا۔ اسکول کا ماحول گھر جیسا لگتا تھا میری ایک سہلی نے کہا طالبان ہمارے اسکول پر حملہ کر دیں گے۔ صبح کی اسمبلی میں ہمیں کہا گیا کہ رنگین لباس پہن کر نہ آئیں۔ طالبان اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ شام کو ٹی وی پر سنا کی شکردرہ سے کرفیو اٹھا لیا گیا ہے۔ مجھے خوشی ہوئی کہ انگریزی کی اُستانی جو کرفیو والے علاقے میں رہتی اب اسکول آیا کرے گی۔ پھر لکھا کہ طالبان نے ایسا کیا۔ آج فوج نے ویسا کیا۔ یہ یہ ہوا اور میرا دل یہ یہ کہتا ہے۔ چند جملوں میں فوج پر تنقید کی گئی تھی اس ڈائری کی وجہ ملالہ کو عالمی شہرت حاصل ہو گئی۔ اس کی تحریریں مقامی اور بین الاقوامی ابلاغ میں شائع ہونے لگیں۔ ملالہ پر بین الااقوامی میڈیا کے دو  اداروں نے فلمیں بھی بنائیں۔

 نومبر ۲۰۱۱ء میں پاکستان کے وزیراعظم نے یوسف رضا گیلانی صاحب نے اعلان کیا کہ ملالہ یوسف زئی کو سوات میں طالبان کے عروج کے دور میں بچیوں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے یعنی ڈائری لکھنے پر ’’امن ایوارڈ‘‘ اور پانچ لاکھ روپے دیے جائیں گے۔ خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت نے بھی پانچ لاکھ کا اعلان کر دیا۔ باقی آیندہ ان شاء اللہ

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا