موبائل فون اور ہم مسلمان

ذاکر حسین

مسلم نوجوانوں کی تعلیم سے بے رغبتی تشویش اور فکر کا موضوع ہے آج ہمیں مسلم نوجوان ہر نکڑ اور پان فروش کے پاس بیٹھے موبائل میں مصروف نظر آئیں گے اور حد تو یہ ہیکہ موبائل کے استعمال کا یہ سلسلہ نوجوانوں سے نو عمر بچوں میں منتقل ہو رہا ہے ۔مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا جاتا ہے اورہم موبائل اور اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لیے ناجائز اور جائز دونوں طریقوں کو اپنانے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔

مسلم نوجوانوں کو دہشت گرد بتا کر پولس انکائونٹر کرتی ہے اور ہم موبائل میں اور اپنی عیش کی دنیا میں بد مست رہتے ہیں افسوس تو اس بات کا ہیکہ آہستہ آہستہ اور خاموش طریقے سے ہمارے اندر سے قوم کے لیے قربانی انسانیت سے محبت ، جرائم سے نفرت اور قوم کے لیے کچھ کرنے جیسے جذبات رخصت ہو رہے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا ذرا سا بھی احساس نہیں ہے اگر کسی لمحے احساس ہو بھی جائے توہم اپنے ضمیر کو ملامت کرنے کے بجائے کسی نہ کسی طریقے سے خود کو صحیح ٹھہرانے کے شرمناک اقدام کے مرتکب ہوتے ہیں ۔

اگر قوم کے بچے کتابوں کے بجائے اپنا وقت موبائل اسکرین پر ضائع کرتے ہیں تواس کی ذمے داری بچوں کے والدین پر عائد ہوتی ہے والدین کو چاہیے کہ موبائل کے نقصانات سے بچوں کو آگا ہ کریں اور انہیں موبائل سے صرف دور نہیں بلکہ بہت دور رکھا جائے ۔جب کبھی دہشت گردی کے الزام میں کسی مسلم نوجوان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو اس وقت قوم  کے سربراہ کسی مسلم وکیل کو مقدمات کی پیروی کے لیے ڈھونڈھتے ہیں تو انہیں قوم کی تعلیمی پسماندگی پر آنسو بہانے پڑتے ہیں کیونکہ انہیں جلدی کوئی معیاری مسلم وکیل نہیں ملتا۔مستقبل میں مسلم قوم میں تعلیمی پسماندگی میں اضافہ ہونے کے خدشات اس لیے ہیں کہ مسلم قوم کے بچے موبائل کو اپنی زندگی کا ضروری جز بنا چکے ہیں ۔افسوس تو اس بات پر ہے ہیکہ ایک طرف بچے فیس بک وہاٹس اپ پر مصروف نظر آتے ہیں تو وہیں دوسری طرف والدین بھی چیٹنگ پر مصروف رہتے ہیں ۔

قوم کے نوجوان طالب علمی کے زمانے میں موبائل میں اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں اور جب ذریعہ معاش کی فکر ہوتی ہے تو آنکھوں میں بڑے آدمی بننے کا خواب سجائے  باہری ملکوں کی راہ پکڑتے ہیں یہ ان کی عظیم ترین حماقت ہوتی ہے ۔محترم جب آپ نے زندگی بھر کتابوں سے دوری بنائے رکھی اور ہر وقت موبائل فون پر مصروف رہے تو اب کیسے ایک اچھی اور خوشحال زندگی کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔اب ضرورت ہیکہ قوم کے افراد قوم کو پسماندگی کے دلدل سے نکالنے کیلیے موبائل نہیں بلکہ کتاب کو اپنی مصروفیات میں شامل کریں ۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔