ناول کرونا وائرس کی حقیقت

ناول کووڈ 19 کوئی نئی بیماری نہیں، اسی سلسلے کی ایک نئی فلم ہے جو ابھی تک نمونیا ٹائی فائیڈ ڈینگو سوائن فلو برڈ فلو اور چکن گنیا وغیرہ وغیرہ کے نام سے ریلیز ہوتی رہی ہے۔

0

عمر فراہی

باہر نکل رہا تھا تو بچی نے یاد دلایا کہ ماسک لے لیجئے۔ حالانکہ میں نہ تو ماسک لگانے کا ہی قائل ہوں نہ ہی مجھے ابھی تک کووڈ۱۹ کا معمہ ہی سمجھ میں آیا، لیکن لوگ کہتے ہیں کہ ہماری سرکاریں جس طرح عوام کی صحت و تعلیم اور انصاف کیلئے بہت سنجیدہ ہیں اگر وہ کوئی ضابطہ مقرر کرتی ہیں تو عمل تو کرنا ہی چاہئے۔ بیشک اس پر ساری دُنیا کی عوام اپنی اپنی سرکاروں کی ہدایت پر عمل کر رہی ہے اور سرکاریں ڈبلیو ایچ اوکی ہدایت پر اس طرح عمل پیرا ہیں جیسے کہ اس وقت یہی لوگ صاحب کتاب ہیں ! حالانکہ وقت کے صاحب کتاب نے جس سچائی کا انکشاف کیا اور جہنم کی آگ سے ڈرایا اکثریت نے اس کا مذاق اڑایا۔ مگر ڈبلیو ایچ اوکی ایک ہدایت پر نہ صرف دنیا کی اکثریت نے آمنا اور صدقنا کہا بلکہ پاسبان حرم اور اہل کتاب بھی ڈھیر ہو گئے ہیں !

ایسے میں ہماری اپنی کیا اوقات ہے کہ ہم اس ضابطے کی مخالفت کر سکیں۔ میں نے اپنی فیس بک ٹائم لائن پر ایک شعر پوسٹ کیا ہے ؎ میں اس کے سامنے جھکتا نہیں تو کیا کرتا /وہ اقتدار میں تھا مسئلہ کھڑا کرتا۔

اس پر کچھ ساتھیوں نے اعتراض درج کیا ہے کہ یہ اہل ایمان کے مزاج کے خلاف ہے۔ ان کی جانکاری کیلئے بتا دیں کہ آپ جس غالب طرز معاشرت سیاست اور ارباب اقتدار کی نگرانی اور ماحول میں پرورش پاتے ہیں ایک زمانے کے بعد آپ کا مزاج بھی ویسا ہی بن جاتا ہے۔ اسی مزاج کو بدلنے کیلئے وقت کے انبیاء کرام فحش اور شرکیہ معاشرے سے ان لوگوں کے ساتھ ہجرت کر جاتے تھے جن کو وہ اپنے مزاج کے مطابق بدل چکے ہوتے تھے۔ اب دور جمہوریت میں اس کی ضرورت اس لئے نہیں رہی کیوں کہ مومن بھی موجودہ طرز سیاست اور لبرل جمہوری ماحول کو اپنا گمشدہ خزانہ تصور کر چکا ہے !

میرا اپنا خیال بالکل واضح ہے کہ ناول کووڈ 19 کوئی نئی بیماری نہیں، اسی سلسلے کی ایک نئی فلم ہے جو ابھی تک نمونیا ٹائی فائیڈ ڈینگو سوائن فلو برڈ فلو اور چکن گنیا وغیرہ وغیرہ کے نام سے ریلیز ہوتی رہی ہے۔ اس فراڈ پر میں فلم کونٹاجین کے حوالے سے اٹھائیس مارچ کو ہی ایک مضمون لکھ چکا ہوں اور اپنے اس نظریے پر قائم بھی ہوں کہ کس طرح سن 2001 میں کارپوریٹس فارماسیوٹیکل مافیاؤں نے منظم طریقے سے ایچ آئی وی ایڈز کا خوف بٹھایا اور عالمی بازار میں پندرہ روپئے سے لیکر پانچ سو روپئے کےکنڈوم کی تجارت کو فروغ دیا اور اب ناول کورونا وائرس کی دہشت سے بیس روپئے سے لیکر پانچ سو روپئے کے بھی ماسک بیچے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کارپوریٹس انڈسٹریاں سینیٹائیزر، تھرما میٹر، وینٹیلیٹر اور ٹیسٹنگ کٹ کی ہزاروں کروڑ کی تجارت تو کر ہی چکے ہیں جبکہ ابھی ویکسین کی تجارت باقی ہے۔ ایک دوسری طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا وہ ہیںانشورنس کمپنیاں۔ کرونا کی وجہ سے موت کے خوف نے ان لوگوں کو بھی میڈی کلیم کیلئے آمادہ کردیا ہے جو ابھی تک سود کی لعنت سے انشورنس وغیرہ سے پاک تھے۔ بات یہیں تک ہوتی تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اسپتالوں کی دھاندلیاں ابھی سے شروع ہو چکی ہیں۔ اسپتالوں میں کچھ سالوں سے مریض کے علاج کیلئے پیکج کا فتنہ چل ہی رہا ہے کہ کس طرح مریض حرکت قلب میں رکاوٹ کی وجہ سے درد سے تڑپ رہا ہوتا ہے اور ڈاکٹر مریض کے رشتہ داروں میں موت کی دہشت بٹھا کر تجارتی ڈیل میں لگ جاتا ہے کہ مریض کو بچانا ہے تو ایک بلاکیج کھولنے کا ڈیڑھ سے دو لاکھ کا پیکج ہے جلدی سے پیپر پر دستخط کریں ورنہ وقت بہت کم بچا ہے۔ بے چارہ کسی کا جوان باپ اور بھائی موت کے منھ میں ہے اور وہی اکیلا گھر کاکمانے والا بھی ہوتا ہے۔ بیوی بچے ڈاکٹر کے ہاتھ پیر جوڑنے لگتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب جیسے بھی ہو ہمارے والد یا شوہر کو بچالیں۔ اگر میڈی کلیم ہے تو ٹھیک ہے ورنہ غریب آدمی کے زیورات تو بک ہی جاتے ہیں۔

اب کرونا کی جو دہشت پھیلائی گئی ہے ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جہاں اسپتال ایسے مریضوں کا آٹھ سے دس لاکھ کے پیکج کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ویسے مریضوں کو وینٹیلیٹر پر رکھ کر لاکھوں کے پیکج کا کاروبار پہلے ہی سے عروج پر تھا اب ان شاءاللہ کووڈ۱۹ سے اس تجارت میں مزید کئی سو فیصد کے اضافہ ہونے کی امید ہے۔ بھولے بھالے جمن اور ابن حضرات اگر اس کووڈ۱۹ کو دجالی سازش نہ سمجھ کر اللہ کا عذاب سمجھ رہے ہیں تو یہ بھی جان لیں کہ ہر اعتبار سے اس بیماری کے عذاب میں غریب اور متوسط خاندان کے لوگ ہی مبتلا ہونے والے ہیں۔ یہ طبقہ اگر معاشی بحران کا شکار ہوتا ہے تو پھر وہ دین اور ایمان کے تعلق سے بھی فکری ارتداد کا شکار ہوگا۔ دیگر قومیں جو اپنے دین اور مذہب کیلئے بہت سنجیدہ نہیں ہیں ان کیلئے تو حرام حلال کی تجارت سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن کم سے کم بھارت میں جو مسلمان آزادی کے بعد نئی طرز سیاست میں فکری انتشار اور ارتداد کی طرف تیزی کے ساتھ مائل ہوا ہے وہ ناول کرونا وائرس کے بعد مزید فکری بحران کا شکار ہو جائے گا جو ہم نے اس بیماری کے پروپگنڈے کے بعد علماء کے رویے سے محسوس بھی کیا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں کووڈ۱۹دنیا بھر کے علماء کو جانچنے کا ایک تجربہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کسی نظریے اور فکر کو اقتدار حاصلِ نہیں تو اس فکر کے علماء دین پر خوف مسلط ہونا لازمی ہےاور ایسے ماحول میں ان کی حیثیت اس کے سوا اور کیا رہ جاتی ہے کہ وہ ارباب اقتدار کی ہدایت پر حدیث و قرآن کی روشنی میں تالیاں بجانے اور دیئے جلانے کو بھی جائز ٹھہرائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے صرف مسلمان ہی نہیں پوری عالم انسانیت چند سفید پوش کارپوریٹ غنڈوں کی سازش کی زد میں ہیں۔

 کل تک مغرب نوازوں اور ترقی پسندوں کی زبان سے ایسا سننے میں آرہا تھا کہ مسلمان جس مغرب پر لعنت بھیج رہے ہیں وہی ہمارے لئے ویکسین تیار کر رہے ہیں، آج لوگو ں کو الہ کا مفہوم سمجھانے والے اور جنھوں نے شرک بدعت اور توحید کے اس موضوع پر سیکڑوں کتابیں لکھ ڈالی ہیں وہ لوگ بھی ایک غیر معتبر ادارے ڈبلیو ایچ او کی ہدایت کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ کہ کچھ شیطانی طاقتیں پوری عالم انسانیت کیلئے زہر تیار کر رہی ہیں جس کی زد میں اہل مغرب بھی شامل ہیں۔  کاش جڑی بوٹیوں پر مبنی حکمت اور علم طب کو بحث کا موضوع بنایا گیا ہوتا تو آج بے شمار ایلوپیتھی دواؤں کے نام پر جو میٹھا زہر ہم اپنے جسم میں داخل کرکے شوگر اور بی پی کے مریض ہو رہے ہیں پھر ان بیماریوں کی تکلیف سے نجات کیلئے جو دوائیں ہمارے جسم کا حصہ بن رہی ہیں وہ ہمارے جسمانی مدافعاتی نظام کو مزید تباہ نہ کرتیں۔ یہ فتنہ یہیں پر ختم نہیں ہے گلوبل وارمنگ بذات خود ایک بہت بڑی وبا ہے جس نے موسموں کے اندر اتھل پتھل پیدا کر دیا ہے اور بہت سی بیماریوں کی ایک وجہ گلوبل وارمنگ بھی ہے۔ اس گلوبل وارمنگ کی ایک وجہ مختلف ادویات اور سازو سامان میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکل بھی ہیں جو ہتھیار سازی سے لیکر شراب اور بہت سی کاسمیٹکس اور کھیتیوں میں استعمال ہونے والی فرٹیلائزر میں استعمال ہو رہے ہیں۔ یہ فرٹیلائزر کھیتیوں کو تو بنجر بنا ہی رہے ہیں کھیتوں سے پیدا ہونے والے اناج پھل اور سبزیاں بھی زہر آلودہ ہوچکی ہیں۔ مختصر میں کہیں تو پورا قدرتی نظام تباہ ہو چکا ہے جس کی وجہ سے کینسر سے لیکر شوگر، ہائی بلڈ پریشر، ٹی بی اور دل کے امراض جیسی مہلک بیماریوں میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ کیا یہ تباہی  ڈبلیو ایچ او کے لوگوں کو نظر نہیں آرہی ہے؟

بالکل ڈبلیو ایچ اوکو سب نظر آرہا اور اہل مغرب کی طرف سے ہی اس ادارے کی معتبریت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ یہ ادارہ  بذات خود بدعنوان سیاسی نظام کی زد میں بدعنوان کارپوریٹ مافیائوں کا غلام ہے۔  کچھ دن پہلے میں نے اپنے فیس بک پر ارون دھتی رائے کی ایک ویڈیو شیئر کی ہے دیکھ لیجئے موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں آپ کا گمان یقین میں تبدیل ہو جائے گا !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا