نتیش کمار کی صدائے باز گشت کا المیہ

عبدالعزیز

  نتیش کمار کے سیکولر اور پسماندہ طبقات کی سیاست سے ایک بار پھر علاحدگی پسندی کی اہمیت و معنی خیزی (Significant) سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس سے غیر سیکولر اور فرقہ پرست انضمام و اتحاد کو حوصلہ ملا ہے اور سیکولر اور جمہوری اتحاد اور طاقتوں کو بڑا دھچکا پہنچا ہے۔ نتیش کمار سے سیکولر طاقتوں ، اقلیتوں اور پسماندہ طبقوں نے جو امیدیں اور توقعات وابستہ کی تھیں وہ یکایک تاش کے پتوں کی طرح بکھر سی گئیں؎

’جس پر تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے‘۔

اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کو پے درپے شکست، مسلم اقلیت کا انتشار اور پیچیدہ طرز کلام اور پسماندہ طبقات کی بے اصولی اور کمزوری کا بھی بڑا دخل ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں میں کانگریس سب سے بڑی طاقتور پارٹی ہے۔ اس نے بہار کی سیاسی جماعتوں کو اکٹھا کیا اور اس سے اچھا نتیجہ برآمد ہوا مگر وہ اتر پردیش میں اپوزیشن پارٹیوں کو اکٹھا کرنے میں ناکام رہی۔ مایا وتی اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ الاپتی رہیں ۔ سماج وادی پارٹی میں عین انتخاب کے موقع پر باپ، چچا اور بیٹے میں سیاسی وراثت کی جنگ و جدل شروع ہوگئی۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ بیٹے نے باپ اور چچا کی فرقہ وارانہ سیاست کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا۔ راہل گاندھی اور اکھلیش کا اتحاد وجود میں آیا مگر مایا وتی کی کٹھ دلیلی اور انا نے فرقہ پرستی کی جیت پر مہر لگا دی۔ اس جیت کو مضبوط اور مستحکم کرنے میں جہاں پسماندہ طبقات کے اصول اور نظریہ کی کمزوری سامنے آئی وہیں مسلم قیادت اور عوام کے انتشار اور پیچیدہ طرز کلامی فرقہ پرستی کیلئے وجہ تقویت بنی۔

اتر پردیش میں فرقہ پرستی کی جیت کا اثر پورے ملک میں پڑا اور اتر پردیش جیسی بڑی ریاست میں بھگوا پارٹی کو ایک یوگی اور جوگی کو تخت شاہی پر بٹھانے کی ہمت اور حوصلہ ملا جس سے یہ ملک بھر میں پیغام دیا گیا کہ بھگوا رنگ آہستہ آہستہ پورے ملک میں غالب آسکتا ہے۔ گوا اور منی پور میں کانگریس کو اسمبلی انتخاب میں زیادہ سیٹیں ملیں مگر کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ مرکزی حکومت اور سرمایہ کی طاقت دونوں جگہوں میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔دہلی اور خاص طور سے بہار میں جو سیکولر پارٹیوں کی جیت ہوئی تھی اس کا رنگ اتر پردیش کے فرقہ پرستانہ رنگ کے سامنے ہلکا پڑگیا۔ نتیش کمار کو سمجھ میں آگیا کہ نہ مسلمانوں پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے نہ پسماندہ طبقات (او بی سی اور دلت) کے ووٹوں سے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔ انھوں نے ملائم سنگھ یادو کے راستہ کو اختیار کیا کہ میدان مارنا ہے تو مودی، مودی ہی کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مودی کے بل بوتے پر حکومت بنانے کی کامیابی کے بعد نتیش کمار نے پہلی ہی پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں کہاکہ مودی کا نہ اب کوئی متبادل ہے اورنہ ہی ان کی قیادت کو چیلنج کرنے کے کوئی لائق ہے۔

نتیش کمار نے عظیم اتحاد (Grand Alliance) سے جدائی کا جو بہانہ بتایا ہے وہ عذر لنگ کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ کرپشن یا بدعنوانی کی بات اگر دیکھی جائے تو بی جے پی اس معاملہ میں سب سے آگے ہے۔ بہار کی موجودہ حکومت جو نتیش کی سربراہی میں بنی ہے اس میں اَسی فیصد افراد پر کریمنل چارج ہے اور پچاس فیصد پر مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ مدھیہ پردیش میں جو ویاپم (Vyapam) گھوٹالہ ہوا ہے اس میں مالی خرد برد کے علاوہ پچاس سے زائد جانیں تلف ہوئی ہیں ۔ گورنر کو استعفیٰ دینا پڑا ہے اور وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کا دامن بھی داغ دار ہے مگر بی جے پی نے انھیں اس لئے نہیں ہٹایا کہ مدھیہ پردیش میں ان کو ہٹانے سے بی جے پی میں دراڑ پیدا ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ راجستھان کی وزیر اعلیٰ وسندھرا راجیہ سندھیاکی بدعنوانی کسی بڑے گھوٹالے سے کم نہیں ہے۔ مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج کا دامن بھی پاک نہیں ہے۔

آئی پی ایل کے چیئر مین للت مودی کے گھوٹالے سے وہ جڑی ہوئی ہیں ۔ ان سب کے علاوہ کون نہیں جانتا کہ ملک بھر کے سرمایہ داروں میں سے جو لوٹ کھسوٹ کرکے سب سے بڑے سرمایہ دار بنے ہوئے ہیں وہ بی جے پی کے پسندیدہ افراد میں شامل ہیں ۔ بابری مسجد کی شہادت کے معاملہ میں بی جے پی کے رول سے نتیش کمار کی واقفیت کسی سے کم نہیں ہے۔ نریندر مودی کی سربراہی میں گجرات میں 2002ء میں جو کچھ ہوا اس سے نتیش کمار اچھی طرح واقف ہیں ۔ نتیش کا اب سیکولریا پسماندہ طبقات کی سیاست سے بھروسہ اسی طرح اٹھ چکا ہے جس طرح ملائم سنگھ یادو کا اعتماد اور بھروسہ بہت پہلے اٹھ چکا تھا۔ جس فرقہ وارانہ اور سرمایہ دارانہ سیاست کے ملائم سنگھ شکار ہوئے ٹھیک اسی طرح اور اسی سے نتیش کمار کو شکار ہونا پڑا۔ اس میں ان کی کتنی مجبوریاں اور کس قدر کمزوریاں شامل ہیں اس کا راز اور بھید چند ہی دنوں میں طشت ازبام ہوجائے گا۔ تعجب اور حیرت کی بات ہے کہ جنتا پریوار یا مہا گٹھ بندھن سے ملائم سنگھ یادو کے راہ فرار پر نتیش کمار انتہائی تعجب اور حیرت کا اظہار کرتے تھے۔ اچھی بات یہ ہوئی کہ لالو پرساد یادو کو نتیش کمار کے راہ فرار اختیار کرنے میں کسی حیرت و تعجب کا اظہار نہیں کرنا پڑا۔ وہ انھیں ’پلٹو مہاراج‘ یا بی جے پی کا دم چھلا پہلے بھی کہتے رہے اور اب بھی کہنے سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

مسلم اقلیت:

مسلم اقلیت کا اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب میں بے معنی (Irrelevant) ہونا ملکی سیاست کیلئے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔یہ کام مسلم لیڈروں اور تنظیموں کا ہے کہ وہ اپنے آپ کو منظم اور متحد کرکے ملکی سیاست میں بامعنی (Relevant) بننے کی کوشش کریں تاکہ سیکولر سیاست کے میدان میں وہ اہم رول ادا کرسکیں اور فرقہ واریت کی شکست کو یقینی بنا سکیں ۔ مسلمانوں کو فائدہ کسی دور اندیش سیاستدان کے ابھرنے سے ہوسکتا ہے جو غیر فرقہ وارانہ سیاست کا حامل اور علمبردار ہو اویسی اور اعظم کی فرقہ واریت کو مات دے سکے یا اجتماعی قیادت جو سیکولر پارٹیوں کیلئے تقویت کا باعث ہو۔

  پسماندہ طبقات:

او بی سی اور دلت کے کے جو لیڈران دو ریاستوں میں خاص طور سے ابھرے۔ ملائم، مایاوتی ، نتیش کمار اور لالو پرساد یادو اس سے دلت اور پسماندہ طبقات میں جان آگئی تھی مگر اتر پردیش میں دلتوں اور پسماندہ طبقات کو ہندو فرقہ پرستی کو مات دینے میں کامیاب ہوگئی اور ملائم سنگھ جیسے پہلوان کو رام کرنے میں بھی کامیاب ہوئی۔ اب نتیش کمار بھی فرقہ پرستی کی گود میں پورے طور پر بیٹھ گئے ہیں ۔ مایا وتی اور لالو پرساد بچے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں سی بی آئی، انکم ٹیکس اور انفارسمنٹ برانچ کے زبردست نشانے پر ہیں ۔ یہ سارے محکمات اب مرکزی حکومت کے اشارے پر کام کر رہے ہیں ۔ کانگریس کے لیڈران بھی ان کی زد میں ہیں ۔ بھاجپا حکومت یا مودی سرکار ہر ایک کا پیچھا کر رہی ہے جس سے ان کو ذرا بھی خطرہ دکھائی دیتا ہے یا جو اُن کی راہ میں روڑا اٹکا سکتا ہے ۔

 پسماندہ طبقات میں روشنی کی کرن اب وہ نوجوان ہیں جو اتر پردیش، گجرات، جے این یو اور دیگر ریاستوں میں فرقہ پرستی، سرمایہ داری اور بدعنوانی کے خلاف لڑنے کیلئے جی جان سے تیار ہوچکے ہیں ۔ یہ لوگ نتیش کمار یا ملائم سنگھ یادو کے بدل ثابت ہوسکتے ہیں ۔ پسماندہ طبقات اور او بی سی کی سیاست میں چار چاند لگا سکتے ہیں ۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بہت بڑا رول ہوگا اگر دلت، اقلیت اور پسماندہ طبقات کو اپنے ساتھ رکھ سکیں ۔ شرد یادو کے عزائم اور حوصلے بلند ہیں ۔ ضرورت ہے کہ لالو پرساد کی طرح شرد یادو کو اٹھ کھڑے ہونے کا سب اپوریشن پارٹیوں حوصلہ دیں ۔ اقلیت اور دلت کے لیڈران کو بھی شرد یادو سے ملنے کی ضرورت ہے۔ وہ بھی یقین دلائیں کہ وہ سب فرقہ پرستی کے خلاف ان کے ساتھ کھڑے ہیں ، وہ آگے بڑھیں ۔ شرد یادو نے اپنے ایک انٹرویو میں اچھی بات کہی ہے کہ صرف بہار کی ریاست کو ٹھیک کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ سارے ملک کی ریاستوں کو ٹھیک راستے پر لانے کی ضرورت ہے۔

جب ہی ملک میں جو کچھ فرقہ پرستی یا تعصب پرستی کے نام پر ہورہا ہے اس کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شرد یادو کے اندر سیاست کے میدان کی دوربینی اور دور اندیشی ہے۔ آج کا سیاسی اور ملکی تقاضہ اسی دور اندیشی اور دور بینی کا متقاضی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔