پانچ لاکھ نے کردیے داغدار

مدثراحمد

کرناٹک میں ایک مہینے سے زیادہ عرصے سے حجاب کے معاملے کو لیکر مسلم لڑکیوںکو حراساں کیاجارہاہے اور ہر جگہ مسلم لڑکیوں کو پریشان کرنے کی تحریک چلائی جارہی ہے۔اس تحریک میں اب تک مسلم طالبات نے انفرادی طورپر اپنی جدوجہد جاری رکھی تھی۔حجاب کا مسئلہ شرعی مسئلہ ہے او رکسی بھی مسلمان کو اپنا دین و شریعت جان سے زیادہ پیاراہے۔اسی کے پیش نظر کرناٹک کی مسلم لڑکیاں حجاب کے حق کیلیے مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔پورے ایک مہینے تک مسلمانوں کی ملی ،سیاسی اور مذہبی تنظیمیں و شخصیات اس معاملے سے دور رہیں اور کوئی بھی اس سلسلے پہ بات کرنے سے گریز کرتارہا۔نہ جانے وہ کونسا ڈر وخوف کھایاجارہاتھا جو خود مسلمان ہوکر مسلمانوں کے حق کیلیے آواز اٹھانے سے بچ رہے تھے۔پچھلے دو دنوں سے کرناٹک کے مختلف مقامات پر جو جوش وجذبہ مسلم خواتین میں دیکھاگیاہے اور جس طرح سے وہ فاسق طاقتوں کے سامنے نڈرہوکر کھڑی ہیں وہ اس بات کی دلیل ہیں کہ آج بھی ملت اسلامیہ میں حضرت ثمیہ جیسا جذبہ رکھنے والی خواتین موجودہیں۔حدتو اُس وقت ہوئی جب منڈیاکی رہنے والی طالبہ نے سینکڑوں کیسری شالوں میں ملبوس شرپسندوں کے سامنے اکیلی کھڑی ہوکر نعرے تکبیر اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنے آپ کو بے خوف ،نڈراور بہادری کی مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھنے لگی،اس جواں بیٹی نے پھر ثابت کردیاکہ آج بھی ملت اسلامیہ میں جوش وجذبے سے بھری مائیں وبیٹیاں ہیں،اس بچی کی زندہ دلی اور شجاعت فلسطین کی اُن بہادر بیٹیوں کی یاد دلاتی ہے جو یہودیوں کے سامنے کھڑی ہوجاتی ہیں اور شہادت کو گلے سے لگاتی ہیں۔مسکان خان نامی بچی جب شیرنی کی طرح چل کر آتے ہوئے ہجوم کوگھُور رہی تھی ،مانواگر اس کے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو گردنیں جسم سے الگ کردیتی۔یہ لڑکی پورے جذبے کے ساتھ نیک دلی واخلاص کے ساتھ اپنے حق کو جتا رہی تھی۔

مگر افسوسناک پہلویہ رہاکہ ملک کی نمائندہ تنظیم کہلانےو الی جمعیۃ علماء نے اس بچی کی بہادری کی بولی لگاتے ہوئے پانچ لاکھ روپئے کا انعام دینے کا اعلان کیا۔حالانکہ جو بہادری اس بچی نے جتائی ہے وہ انمول ہے اور اُس کیلیے پوری قوم کی طرف سے سلام ہی کافی ہے۔مگر پیسے ،چندے،زکوٰۃ اور فطرے والے یہ لوگ کیا جانیں کہ شجاعت اور بہادری کیاہوتی ہے،انہیں تو صرف لینا دینا معلوم ہے،پچھلے ایک مہینوں میں یہ لوگ ایک لفظ زبان سے بیان نہیں کرپائے۔مدنی میاں تو چھوڑئیے،مسلم پرسنل لاء بورڈ جو اپنے آپ کو شریعت کی پاسدار کہلاتی ہے،اُس نے بھی حجاب کے معاملے پر پورے ایک مہینے تک اپنی زبان تک نہیں کھولی اور جب زبان کھولی تو مذمت کرتے ہوئے اس بات کی دلیل دی کہ یہ پردہ اسلام کا حصہ ہے،کون نہیںجانتا کہ پردہ اسلام کاحصہ ہے۔یہ اسلام کاحصہ ہے اسی لیے تو مسلمان مرمٹنے کیلیے تیار ہیں۔جیسی سوچ ویسا کام ہوتاہے۔جمعیۃعلماء نے پانچ لاکھ روپئے کا اعلان کرتے ہوئے اُمت کو اس بات کی دلیل دی ہے کہ ہم نوٹ دینے لینے والوں میں سے ہیں،ہمارے لیے زمینی سطح پر کام کرنا ممکن نہیں ہے اور جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ جمعیۃ نے بہت بڑا کام کیاہے ،وہ دراصل مسلمانوں کی توہین کررہے ہیں۔

اندیشہ تھاکہ اس پانچ لاکھ روپئے کے معاملے کو شرپسند بنیاد بنائینگے اور میڈیا میں اس پر وایلا پیدا ہوگااور مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلیے یہ بھی ایک حیلہ بنے گا۔اگر واقعی جمعیۃ کی طرف سے ا س بچی کو انعام دیناہی تھا تو پس پردہ دیاجاتا اور اس کی تشہیر نہ کی جاتی،لیکن جہاں پناہ کااقبال بلند ہو،انہوں نے بھرے دربارمیں پانچ لاکھ روپئے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا اقبال بلندکیا اور کنیز کو شان بخشی۔واقعی میں اگر مدنی میاں جیسے لوگوں کو قوم کی فکر ہوتی ہے تو ایک مہینے سے سڑک کنارے بیٹھی ہوئی بچیوں کو یوں نہ چھوڑتے،چلو ٹھیک ہے پانچ لاکھ جومسکان خان کو دئیے گئےہیں تو بقیہ آٹھ بچیاں پچھلے ایک مہینے سے سڑک کنارے بیٹھ کر حجاب کیلیے احتجاج کررہی ہیں اُن کیلیے کیا کرینگے؟اُس حساب سے دیکھا جائے تو آٹھ بچیوں سے چالیس لاکھ روپئے کا انعام بھی دینا ہوگا،ساتھ ہی ساتھ کئی دنوں سے مختلف مقامات پر جو عورتیں احتجاج کررہی ہیں،اُن کیلیے بھی انعام واکرام کا اعلان کیاجائے۔شرم آتی ہے آزادی سے پہلے سے قائم ہونے والی تنظیم جمعیۃ علماء پر جنہوں نے سوسالوں میں ہندوستان کی سرزمین پر ایک ایسا تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیاہے جو مسلمانوں کیلیے نمونہ ہو اور مسلمانوں کی تعلیم کیلیے ایک قلعے کی مانندہو،ان کے بعد قائم ہونے والی آر ایس ایس نے بھارت کے تعلیمی نظام پر قبضہ جما رکھاہے اور یہ جہاں پناہ محمود مدنی انعامات کا اعلان کررہے ہیں۔پوری اُمت کی قیادت آج مفلوج ہوچکی ہے،بچیاں خود سڑکوں پر اترکر حق کیلیے آواز بلند کررہی ہیں،سوچاتھا کہ شاہین باغ کے بعد مسلم قیادت میں ہلچل مچے گی،لیکن کیا پتہ کہ وہ اپنے ضمیر کو جھنجوڑنے میں اب بھی ناکام رہے گیں۔ملت اسلامیہ اس وقت نقد انعامات کی نہیں بلکہ سماجی ،تعلیمی،اقتصادی حق کی طلبگارہےاور مسلمانوں کی نئی نسلیں یہ چاہتی ہیں کہ انہیں انصاف ملے،حق ملے،تحفظ ملے۔

یہ سب کام ایوانوں اور کُرسیوں پر بیٹھ کر ممکن نہیں بلکہ اس کیلیے زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔کچھ نہ کرسکتے ہیں تو دو بول ہی کافی ہیں جو قوموں کی ہمت کیلیے مددگار ثابت ہوں۔نہ میڈیامیں آپ کی نمائندگی ہے نہ تعلیم کے شعبے میں کوئی پوچھنے والاہے۔لیکن افسوس اس بات ہے کہ پانچ لاکھ روپئے دیکر بچی کی بہادری کو داغ دار کردیا اور آج فرقہ پرست میڈیا اسی بات کو لیکر واویلا مچارہاہے کہ پانچ لاکھ روپئے دیکر بچی سے یہ کروایاجارہاہے۔ پورے حجاب تحریک کو یہ پانچ لاکھ روپئے دھبے کی مانند دکھائی دے رہے ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔