پڑوسی کی قربانی

مرزا انور بیگ

       عیدالفطر کی گہماگہمی ختم ہوتے ہی اگلی نظر بقرعید پر جا لگی۔ ابھی سے خالی دماغ میں یہ خیال چلنے لگا کہ بقرعید پر کیا کیا کریں گے۔ کپڑے کون سے پہنیں گے ، یہی والے یا پھر نئے؟ بکرے کتنے لائیں گے ؟ کتنے بڑے ہوں گے ؟ ان کے پکوان کیا کیا بنائے جائیں گے وغیرہ۔ اور پھر پلک جھپکتے ہی ذالحجہ کا چاند نظر آگیا۔ عید کے دن تو میرے بچے پڑوسیوں کے بچوں کو فخر سے اپنے کپڑے، جوتے، پٹے دکھا رہے تھے۔ وہ جھولے جھول رہے تھے، گھوڑے پر سوار ہو رہے تھے، کھلونے خرید رہے تھے اور پڑوسی کے بچے انہیں صرف دیکھ رہے تھے۔ تھوڑے غریب تھے نہ وہ !

     ہم بکرے لے آئے اور اپنے دروازے کے ساتھ انہیں باندھ دیا جہاں وہ بول و براز بھی کر رہے تھے اور شور و ہنگامہ بھی۔ محلے کے بچے بھی جمع تھے اور ہمارے بھی ، ان کا شور علحیدہ۔ ایک تماشا سا لگا تھا۔ بچے بکروں سے کھیلنے کی کوشش کرتے اور بکرے اچھل کود مچاتے۔ کبھی ہم بھی دروازے پر آکر بیٹھ جاتے اور بکروں کو گھاس پتیاں کھلانے لگتے۔ آنے جانے والے تعریف کرتے اور دام پوچھتے۔ ہم بڑے فخر سے ان کی قیمت تھوڑا بڑھا چڑھا کر ہی بتاتے۔

     سال میں ایک ہی بار تو قربانی کا موقع آتا ہے۔ اب اس کے لیے اتنی تو قربانی دینی ہی پڑتی ہے کہ بکروں کی گندگی تھوڑی برداشت کر لی جائے۔ تھوڑا شور و ہنگامہ انگیز کر لیا جائے۔ تھوڑی اپنی نیند اور آرام کو قربان کر لیا جائے۔  اتنا تو سوچنا چاہیے۔ اور یہ چند دنوں کی تو بات ہے۔ کہاں سال بھر  یہ بکرے بندھے رہیں گے ؟ کہاں ہمیشہ یہاں گندگی ہوگی۔ کہاں دن کا سکون اور راتوں کی نیندیں حرام ہوں گی ؟ بس تھوڑا سا برداشت ہی تو کرنا پڑتا ہے۔  تھوڑا اپنے کپڑے اوپر کرکے گزریں ! تھوڑا گھر جا کر اپنے پیروں کو دھو لیں۔ صرف چند دن ! اگر دس بارہ روز دن میں نہ بھی سوئیں تو حرج ہی کیا ہے ؟ اگر راتوں کو بکروں کے چلانے کی وجہ سے نیند کھل بھی جائے  تو کیا ہوا ؟ اب اتنی تو قربانی دینی ہی پڑے گی نا ؟ پڑوسی کو !

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔