کچھ ربطِ خاص اصل کا ظاہر کے ساتھ ہے

ڈاکٹر شکیل احمد خان

ایک دلچسپ لطیفہ سنیے۔ ایک نہایت بد حواس و پریشان شخص ڈاکٹر کے مطب میں داخل ہوکر کہتا ہے کہ ’’ ڈاکٹر صاحب، میں بڑی مصیبت میں مبتلا ہوں، میں جسم میں جہاں بھی انگلی لگاتا ہوں بے انتہا تکلیف ہوتی ہے! ‘‘۔ ڈاکٹر تمام جسم کا ایکسرے اور سی ٹی اسکین کرانے کے بعد رپورٹ کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کہتا ہے، ’’ جناب دراصل آپ کی انگلی میں فریکچرہے ‘‘۔ لطیفہ یوں یاد آگیا کہ یہ بڑی خوبصورتی سے یہ واضح کرتا ہے کہ بدحواسی کیا کیا گُل کھلاتی ہے۔ ایسی بدحواسیوں کا شکارا فراد بھی ہوتے ہیں اور قومیں بھی۔ بدحواس، عجلت پسنداور غور و فکر کی خوبیوں سے عاری فرد اور قوم کسی مسئلہ کو پوری طرح سمجھے بغیر ہی اُس کے حل کے لیے سرگرداں ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً کسی معاملے یا مسئلہ کی جڑ تک پہنچ کر اُس کی بیخ کنی کرنے کی بجائے شاخوں اور پتوں پر طبع آزمائی کر تی ر ہتی ہے۔ سنگاپور سے تعلق رکھنے والی مشہور صلاح کار سیلیسٹائن چوا  Celestine Chua کاقول ہے کہ ’’ ہر معاملے، مسئلے کی ایک بنیادی وجہ ہوتی ہے، اُسے پہچانیے اور اُسے درست کرنے پر توجہ کریں، نہ کہ بنیادی وجہ کے باعث ظاہر ہونے والے مسائل کا ہی حل کرتے رہیں ‘‘۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ کیونکہ جب تک بنیادی وجہ ختم نہیں ہوتی، اُس کے باعث پیدا ہونے والے مسائل اور مشکلیں الگ الگ روپ میں سامنے آتی ہی رہیں گی۔ اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہونگے کہ ’’کچھ مشکلیں ایسی ہیں کہ آساں نہیں ہوتی::کچھ ایسے معمے ہیں کبھی حل نہیں ہوتے‘‘۔ جب کہ یہ معمے اور یہ مسائل حل اس لیے نہیں ہوتے کہ بقول سابقہ جاپانی وزیر اعظم  Naoto Kan ’’اگر آپ کسی مسئلے کے سبب کو سمجھ نہیں پاتے تو پھر اُس مسئلہ کو حل کرنا ناممکن ہوتا ہے‘‘۔ اور اِسی لیے دوسری جنگ ِعظیم کے امریکی ہیروWoody Williams  کا بھی کہنا تھا کہ’’ہماری ٹیم کتنی ہی اچھی ہو، ہمارا طریقہ ِکار کتناہی بہتر ہو، اگر ہم ’صحیح‘ مسئلہ کو حل نہیں کر رہے ہیں تو ہمارے پروجیکٹ کا ناکام ہونا طے ہے‘‘۔ پس، یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ کسی مسئلہ کے حل کے لیے اُس کی اصلی وجہ Root Cause کا علم ہونا لازمی ہے۔ اِس پس منظر میں ملّت اوراُس کے افراد کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا حال مذکوہ مریض سے الگ نہیں ہے۔ آج ملّت کے وجود کے ہر حصے میں درد محسوس ہوتا ہے، ہر محاذ پر تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ ہر فرد اور پوری قوم اپنے اپنے طور پر الگ الگ حصّوں کے علاج و معالجے کی فکر میں غلطاں و پیچاں ہے۔ جیسے تین طلاق کا مسئلہ سامنے لایا گیا، ہم سب کے سب اُس میں الجھ گئے، قرآن پاک پر اعتراض کا مسئلہ سامنے لایا گیا، ہم سب کے سب اُس میں الجھ گئے، لڑکیوں کے ارتداد کا مسئلہ پیدا کیا گیا، ہم سب کے سب اُس میں الجھ گئے، حجاب کا مسئلہ پیدا کیا گیا، ہم سب کے سب اُس میں الجھ گئے۔ اشتعال انگیز فلم بنائی گئی، ہم سب کے سب اس میں الجھ گئے۔ ان مسائل کو حل تو کرنا ہی ہے لیکن انھیں حل کرنے کے لیے پہلے یہ سمجھ لینا اشد ضروری ہے کہ یہ مسائل پیدا کیوں ہو رہے ہیں، ان کے پیدا ہونے کی بنیادی وجہ Root Cause کیا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسائل تو دراصل بیماری کی علامتیں ہیں۔ یہ وہ پھوڑے ہیں جو کسی بیماری کے باعث جسم کے مختلف حصّوں پر نمودار ہو رہے ہیں۔ لہٰذا جب تک اس بیماری کی صحیح تشخیص نہ کی جائے،اور اس کا علاج نہ کیا جائے، یہ پھوڑے تو پیدا ہوتے ہی ر ہیں گے۔ با لفاظِ دیگر اگر صرف علامتوں symtoms کا ہی علاج کیا جاتا رہے تو یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اب انڈسٹریز اور کارپوریٹ سیکٹر میں Root Cause Analysis (RCA)کا تصور تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ ’صحیح تشخیص کی اہمیت‘ نامی مضمون میں ایرک کو پنہائور لکھتے ہیں کہ ’’ ہم اس بات کو سمجھنے کے لیے بہت گہرائی تک جاتے ہیں کہ علامتیں ظاہر کیوں ہو رہی ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ علامتوں کے ذریعے ہمارا جسم ہمیں یہ اشارے دیتا ہے کہ کہیں کوئی گڑبڑ ہے‘‘۔ کسی نے یہ سادہ مثال دی ہے کہ ایک شخص ایک دن یہ دیکھتا ہے کہ اس کی کار میں انجن آئیل کی مقدارکم ہو چکی ہے، وہ آئیل بھر تا ہے۔ چند دنوں بعد وہ دیکھتا ہے کہ آئیل پھر کم ہو چکا ہے،وہ آئیل بھر لیتا ہے۔ لیکن دوسرے دن وہ یہ دیکھ کر حیران و پریشان ہو جاتا ہے کہ آئیل پھر کم ہے۔ میکانیک سے ربط کرنے پر وہ بتاتا ہے کہ فلاں جگہ خرابی یا لیکیج ہے۔ جب تک لیکیج بند نہ کیا جائے، آئیل کم ہوتا رہے گا۔ یعنی جب تک بنیادی خرابی درست نہیں کی جائے گی، ظاہری مسئلہ یا مسائل باقی رہیں گے۔

اس پس منظر میں ملت کا جائزہ لیا جائے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے بیشتر مسائل کی جڑ میں تعلیمی و اخلاقی انحطاط کارفرما ہے۔ ہماری تعلیمی اور اخلاقی انگلی میں فریکچرہے۔ دراصل ہم معاشی، صنعتی، تہذیبی، اخلاقی اور سیاسی سطح پر کمزور و ضعیف ہو گئے ہیں اور بقول شاعر ’’ ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات ‘‘۔ اسی کمزوری کے باعث عالمی اور ملکی سطح پر مسلمانوں کا حال ’’ غریب کی جورو، سب کی بھابھی ‘‘جیسا ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کو جن باتوں میں الجھایا جاتا ہے ویسی باتیں دیگر اقوام کے پاس بھی نظر آتی ہیں۔ مثلاً ہمارے سکھ بھائیوں کی پگڑی پر اعتراض کرنے کی جرّت نہ تو کوئی شخص کرتا ہے نہ کوئی سیاسی جماعت اور نہ کوئی ٹی وی چینل۔ اور نہ ہی ان کے بارے میں من مانے فیصلے لیے جاتے ہیں۔ جب کہ کمزوری کے باعث ملت کے ساتھ ہر طرح کا رویہ جائز سمجھ لیا گیا ہے اور ملت کی اس کمزوری کی تہہ میں تعلیمی و اخلاقی انحطاط ہے۔ تعلیم کی کمی کے باعث جہاں ہم ملازمتوں میں پچھڑ گئے وہیں کاروبار میں بھی مستحکم نہ ہوسکے۔ بہترین تعلیمی صلاحیتوں کے فقدان کی وجہ سے ہم اعلی، منصوبہ ساز عہدوں پرنظر نہیں آتے۔ ان عہدوں پر اب مخالف سوچ رکھنے والوں کا غلبہ ہے۔ عام ملازمتوں میں بھی ہم کم سے کم ہوتے گئے۔ نتیجہ معاشی کمزوری۔ کاروبار میں بھی نہ ہمارے پاس بڑی صنعتیں رہی اور نہ ہی ہم کوئی بڑے نئے پروڈکٹس کومارکیٹ میں متعارف کر کے منافع کما سکے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کر سکے۔ نتیجہ معاشی کمزوری۔ ایک تو خواندگی کی شرح ہی بے حد کم ہے دوسرے جو طلبہ اسکولس اور کالجس سے باہر آرہے ہیں ان میں سے اکثریت کی علمی لیاقت بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ نتیجہ بے روزگاری، مفلسی، بے حسی اور سستی و کاہلی۔ عالمی سطح پر بھی صورتِ حال یہی ہے۔ ۵۷ مسلم ممالک میں دنیا کی ٹاپ ۵۰ یونیورسٹیوں میں سے ایک بھی نہیں ہے۔ ہم تو ـ’’برج خلیفہ ‘‘ بنا کر ہی خوش ہیں ( وہ بھی غیر ملکی انجینئرس کے ذریعے)۔ ہمارے پاس جدید سازو سامان اور دفاعی اسلحہ پر ریسرچ کرنے والے سائنسداں تیا ر کر نے کا کوئی نظام نظر آتا ہے نہ منصوبہ۔ ملکی سطح پر بھی ہمارے پاس نہ تو درکار اچھے اسکولس ہیں، نہ لیبارٹریز ہیں نہ فیکٹریز ہیں نہ کتب خانے ہیں اورنہ کتب بینی کا رجحان۔ جب کہ تعلیم اور قابلیت سے ہی وقار و اعتبار اور طاقت حاصل ہوتی ہے۔ حجاب پر ہزار وں بے علم نوجوانوں کا سوشل میذیا پر سوال جواب ایک طرف اور امسال کرناٹک ٹیکنیکل یونیورسٹی سے ۱۶ گولڈ میڈلس حاصل کر نے والی ا نصاری بشری متین کا عملی و علمی کارنامہ ایک طرف۔ ایک بشری متین کی بات کو جو وقار اور اہمیت حاصل ہوگی وہ چبوتروں پرگٹکا کھاتے بیٹھے سینکڑوں لوگوں کی بات کا نہیں ہوگا۔ تعلیم کی کمی کا دوسرا بڑا نقصان اخلاقی گراوٹ اور شعور و سمجھداری کا فقدان ہے۔ مسلمانوں کے بیشتر انفرادی اورقومی مسائل سمجھداری اور منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث بڑھتے جاتے ہیں۔ اکثر لوگوں کو اس بات کا شعور اور تربیت ہی نہیں کہ کیا کرنا چاہیے،کیا نہیں کرنا چاہیے؛ کیا بولنا چاہیے، کیا نہیں بولنا چاہیے؛ کب بولنا چاہیے، کب نہیں بولنا چاہیے؛کن چیزوں پر خرچ کرنا چاہیے، کن چیزوں پر خرچ نہیں کرنا چاہیے؛کن چیزوں پر توجہ دینی چاہیے، کن چیزوں کو نظر انداز کرنا چاہیے؛ترجیحات کیسے طے کرنا چاہیے اور منصوبہ بندی کیسے کرنا چاہیے،حالات کا تجزیہ کیسے کرنا چاہیے، دوست دشمن میں تمیز کیسے کرنا چاہیے۔ مخالفین کی سازشوں اور چالوں کو کیسے سمجھنا چاہیے۔ اس طرح بالغ نظری کی کمی کے باعث وہ معاشی، معاشرتی اور سیاسی سطح پر کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ اور اس کمزوری کا فائدہ اٹھا کر مخالفین وہ مسائل پیدا کرتے رہتے ہیں جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ اسی طرح اکثرمسلمانوں کے اخلاق و کردار، رہن سہن، انداز و اطور، مفاد پرستی، وعدہ خلافی، ہٹ دھرمی اورگفتگو کے لہجے سے خو د دوسرے مسلمان پریشان رہتے ہیں اوبرادران ِ وطن متنفر۔ اس کا فائدہ Divide and rule کرنے والے سیاستداں برادران وطن کو مسلمانوں سے بد ظن کرنے کے لیے اٹھاتے ہیں۔ پس، آمدم بر سرِ مطلب، یہ جان لیجیے کہ ہمارا اصل مسئلہ عصری، اخلا قی و صحیح دینی تعلیم اور معاشی استحکام ہے۔ اس پر فوکس کرتے ہوئے روز مرہ کے ظاہری مسائل سے نمٹتے رہیے۔ اصل اور ظاہر کے تعلق کو سمجھئے۔ عالیشان مساجد تعمیر کرنے، بار بار حج و عمرہ کرنے اور بلا سوچے سمجھے ہر کسی کو چندہ دینے سے پرہیز کریں اور ملت کے نو نہالوں کی بہتر تعلیم و تربیت اور روز گار پر خرچ کریں تا کہ ہمیں وقار اور طاقت حاصل ہو اومخالفین کو ہمارے لیے مسائل پیدا کرنا آسان نہ رہے۔ کیونکہ بقول آفتاب حسین:

 کچھ ربط خاص اصل کا  ظاہر کے ساتھ ہے

 خوشبو اڑے تو اڑتا ہے  پھولوں کا رنگ بھی

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔