کیا زور زبردستی اسلام قبول کروایا جا سکتا ہے؟

قاضی محمد فیاض عالم قاسمی

دین اسلام ایک آسمانی مذہب ہے،جو آفاقی اورعالمگیر بھی ہے،یعنی یہ دین کسی ایک خطہ یا علاقہ کے لیے نہیں ہے، اور نہ ہی  کسی خاص قوم   کے لیے ہے؛بلکہ  دنیا کےہر خطہ میں بسنے والےہر انسان کے لیے ذریعہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔ اس کاذکر خود اللہ رب العزت نے قرآن کریم کے شروع میں سورہ بقرہ کی دوسری آیت میں کیاہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں کسی بھی طرح کا شک کرنے کی گنجائش نہیں، اور یہ کتاب پرہیزگاروں کے لیے سراپا ہدایت ہے۔ اس کی تعلیمات فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہیں۔ البتہ یہ انسان پر ہے کہ وہ  اس کو کس زاویہ سے دیکھتاہے، اگر کوئی تعصب کا عینک اتار کر دیکھے گااور پڑھے گا تو اسے انسانی طبیعت، انسانی تقاضے، اور عقل عام کے موافق پائے گا۔ یہی وجہ  ہے کہ جس نے بھی صدق دل سے اس کامطالعہ کیاہے، ہدایت ملی ہے اور جس کو ہدایت مل گئی وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگیا، خواہ دنیا میں چند دنوں کے لیے آزمائشوں سے دوچارہوناپڑے، لیکن بالآخر سرخروئی نصیب ہوئی۔ ایک  بار جس کو قرآن کریم کی تلاوت، قرآن کی تفسیر کاچسکا لگ گیا تو پھردنیا بھر کی آزمائشیں اس کے لیے ہیچ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:جس نے اللہ کو اپنا رب، اسلام کو اپنا مذہب،اور حضرت محمد ﷺ کو اپنا نبی مان لیا تو اس کو ایمان کا مزہ مل گیا۔(صحیح مسلم:٣٤) پھر اس پر کسی بھی  طرح کی آزمائش آئے، مصیبت آئے، گھروالے دھتکاردیں،اس کے ساتھ سماجی  بائکاٹ کیاجائے، حتیٰ کہ اس کےساتھ  گالم گلوچ اورمارپیٹ کی جائے، ہڈی پسلی توڑدی جائے، پھانسی کے پھندوں پر چڑھادیاجائے، آگ میں جلادیاجائے لیکن ایمان کا مزہ مل جانے کے بعد بندہ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بھی ایسے واقعات پیش آئے، حضرت بلال حبشی ، حضرت  صہیب ، حضرت مصعب بن عمیر، حضرت عماربن یاسر،حضرت خباب بن الارت رضی اللہ عنھم ورضواعنہ وغیرہم کے واقعات سے اسلامی تاریخ  مزین ہیں۔انھوں نے اپنی  جان گنوانا پسندکیا، لیکن اسلام سے ایک انچ بھی  پیچھے ہٹنا گوارہ نہیں کیا۔ ایسے واقعات آپ ﷺ کے بعد بھی  پیش آئے اور آج بھی پیش آرہے ہیں، "میں نے اسلام کیوں قبول کیا”(از: پروفیسر خالد علی  حامدی) "نسیم ہدایت کے جھونکے”(از: مولاناکلیم صدیقی) اوراس طرح کی بعض دیگر  کتابیں  نومسلموں کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ جن سے اندازہ ہوتاہے کہ ایمان قبول کرلینے کے بعد خواہ کتنی ہی بڑی آزمائش آجائے بندہ پیچھے نہیں ہٹتاہے۔ لیکن یہ اس وقت ہوگا جب  بندہ دل سے اور اسلامی تعلیمات  سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرے، کسی قسم  کالالچ، دباؤ، بہکاؤ، ڈر، خوف یاکسی  اوروجہ سے اسلام قبول نہ کرے، کیوں  کہ ایسااسلام اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں  ہے۔پس اگر کوئی اپنے دل کی آواز کے خلاف یعنی صرف زبانی اسلام قبول کرتاہے تواللہ کے یہاں اس کاکوئی اعتبارنہیں، اللہ کے یہاں اسی اسلام کااعتبار ہے جو پکے سچے دل سے ہو۔   قرآن کریم نے صرف زبانی اسلام قبول کرنے والوں کوسورہ منافقون میں جھوٹاقراردیا اورکہاکہ ان لوگوں نے بظاہر اسلام قبول کرکے اپنے ایمان کو بہت سارے خرافات کرنے کے لیے ڈھال بنایاہواہے کہ لوگ انھیں مسلمان سمجھیں، اور ان کے ساتھ مسلمان والارویہ  اختیار کریں، اور وہ چوری چپکے  مسلمانوں کے خلاف سازشیں رچیں۔(سورۃ المنافقون:١-٢)

سورہ حجرات میں اللہ تعالیٰ نے ان دیہاتیوں کاذکر کیا جنھوں نے بظاہر اسلام قبول کیاتھا اور اسی کا وہ لوگ ڈھنڈوراپیٹ رہے تھے، گویا کہ انھوں نے اسلام قبول کرکے مسلمانوں پر احسان کیاتھا،تو اللہ تعالیٰ نے ان کی پول کھول دی کہ یہ لوگ درحقیقت مؤمن نہیں ہیں۔ کیوں کہ ایمان ان کے دل میں نہیں اتراہے، صرف زبانی جمع خرچ ہے۔(سورۃ حجرات:١٤)

خلاصہ یہ ہے کہ ایمان کا اصل تعلق دل سے ہے، اعمال اور اعضاء سے نہیں،ایمان  اور جس چیز کاتعلق دل سے ہو اس میں زورزبرستی نہیں ہوسکتی ہے۔جیسے کوئی کسی سے زوروزبردستی محبت نہیں کرواسکتاہے، اور نہ ہی زورزبر دستی کسی  کی محبت  دل سے نکالی جاسکتی ہے۔ چاہے  آپ کسی سے اس کے دل کی آواز کے خلاف زبان سےکچھ کہلوالیں، لیکن دل میں وہی رہے گا جو اس کو صحیح لگتا ہے اورجس کو وہ درست سمجھتاہے۔اس کادل اسی طرف مائل رہے گا جس سے وہ محبت کرتاہے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشادفرمایا: لَا إكْرَاه فِي الدِّينقَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْد مِنْ الْغَيّ(سورۃ البقرۃ:256) یعنی دین اسلام کو قبول کرنے نہ کرنے میں زورزبردستی کو کوئی  دخل نہیں ہے؛ کیوں کہ حق اورگمراہی واضح ہوچکی ہے، پس جس کا دل حق کی گواہی دے وہ اسلام قبول کرلے اور جس کا دل انکار کرے وہ قبول نہ کرے۔

حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی ؒ اس آیت کی تشریح میں لکھتے ہیں  کہدین اسلام کو قبول کرنے میں جبر و اکراہ کا تصورہی نہیں ہوسکتاہے۔ کیوں کہ جبر واکراہ اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں آدمی سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی عمل کروایاجائے، اور ایساکرناکسی عمل اورحرکات وسکنات میں تو  ممکن ہے، لیکن دل میں ممکن نہیں ہے، اور ایمان کامحل  دل ہے، پس  زورزبردستی ایمان قبول  نہیں کروایاجاسکتاہے۔

حضرت قاضی صاحب نے اس آیت  کا دوسرامعنیٰ ا ور مطلب بھی بیان  کیاہے ،وہ یہ ہے کہ اسلام قبول  کرنے نہ کرنے میں کسی کے ساتھ زورزبردستی نہ کی جائے۔ کیوں کہ ایسی  صورت میں اسلام قبول  کرنے کاکوئی  فائدہ نہیں، کیوں کہ اللہ کے نزدیک ایساایمان ناقابل قبول  ہے۔(تفسیر مظہری:١/٣۶٢)

اس آیت کے  تحت مشہور فقیہ ومفسر قرآن حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی  دامت برکاتہم العالیہ  شان نزول کے ساتھ لکھتے ہیں:”انصار میں جن خواتین کو اولاد نہ ہوتی یا ہوتی مگر زندہ نہ رہتی ، وہ نذر مانتیں کہ اگر ان کو اولاد ہوئی اور زندہ رہی تو وہ ان کو یہودی بنادیں گی ؛ چنانچہ ایسے متعدد لڑکے یہودیوں کے قبیلہ بنو نضیر کے ساتھ تھے ، جب بنو نضیر جلاوطن کئے گئے تو انصار نے کہا کہ اپنی اولاد کو جانے نہ دیں گے اور جبراً ان کو مسلمان کرنے کے درپئے ہوئے ، اس موقع سے یہ آیت نازل ہوئی ، ( أبوداؤد ، باب فی الأسیر یکرہ علی الإسلام ، حدیث نمبر : ۲۶۸۲ ) اس سے اسلام کا ایک اہم اُصول معلوم ہوا کہ کسی کو مجبور کرکے اس کا مذہب تبدیل کرانا درست نہیں ؛ کیوں کہ مذہب کا تعلق دل کے اعتقاد و یقین سے ہے ، جبر کے ذریعہ زبان سے تو اقرار کرایا جاسکتا ہے ، دل کی دنیا نہیں بدلی جاسکتی ، اس سے یہ بات بھی واضح ہوئی کہ اسلام کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ تلوار کے زور سے پھیلا ہے ، محض پروپیگنڈہ ہے ، اسلام جب دنیا میں آیا تو ایک ہی شخص تھا ، جو مسلمان تھا ، وہی اسلام کا داعی اور خدا کا پیغمبر تھا ، مکہ کا چپہ چپہ اس کا مخالف تھا ، پھر تیرہ سال تک مسلمان ان چند کمزور ، نہتے اور مظلوم لوگوں کا مذہب تھا ، جن پر کوئی ظلم و ستم نہیں تھا جو روانہ رکھا گیا ہو ، اُس وقت اسلام کے پاس نہ تلوار تھی ، نہ فوج ، نہ سپاہ ، آخر کونسی طاقت تھی جس کے ذریعہ اسلام نے چند ہی سال میں پورے  جزیرۂ عرب کو مسخر کرلیا ؟ یہ یقیناً اس کی عدل و انصاف پر مبنی ، فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور عقل و دانش سے مطابقت رکھنے والی تعلیمات تھیں نہ کہ تلوار "! (آسان تفسیر قرآن)۔خلاصہ یہ کہ زورزبردستی کسی کامذہب تبدیل کرایانہیں جاسکتاہے، یہ ناممکن ہے، پس مسلمانوں پر یہ الزام لگانا کہ وہ زور زبردستی اسلام قبول کرواتے ہیں، نا معقول بات ہے۔

اسلام میں  قرآن کریم کے بعد جس کتاب  کا سب سے زیادہ مرتبہ ہے وہ ہے صحیح بخاری، اس کی پہلی حدیث میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ کیاگیاہے اور پھر اسی میں اسلام کے اہم اصول کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ واقعہ ہے کہ جب مسلمانوں پر مکہ کی زمین تنگ کردی گئی،ان پر ظلم وستم کے پہاڑتوڑے گئے، رشتہ ناطہ توڑدیاگیا، سماجی بائیکاٹ کیاگیا، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ یہاں سے ہجرت کرجائیں، چنانچہ بہت سارے مسلمان ہجرت کرکے حبشہ چلے گئے، پھر حکم ہوا کہ مدینہ منورہ  ہجرت کرجائیں، چنانچہ نبی کریم ﷺ خود اور بہت سارےصحابہ کرام  ہجرت کرکے مدینہ چلے گئے۔  مکہ کے ایک صاحب ایک خاتون سے شادی کرناچاہتے تھے، اتفاق سے وہ خاتون بھی ہجرت کرکے مدینہ چلی گئیں، جب اِ ن صاحب کو معلوم  ہوا تو یہ بھی ہجرت کرکے  مدینہ  چلے گئے تاکہ وہیں اس صحابیہ سے شادی  کرلیں، ان کے آتے ہی نبی کریم ﷺ نے ارشادفرمایا کہ اعمال کادارومدار نیت پر ہے، اور انسان جس چیز کی نیت کرتاہے اس کو وہی ملتاہے، جو آدمی دنیا کے لیے ہجرت کرے، یا کسی عورت کے لیے ہجرت کرے کہ اس سے نکاح کرلے، تو اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی،گویا اس کی ہجرت اسلام کی حفاظت اور اللہ کی رضا کی خاطر نہیں  ہوگی، اس کی ہجرت اللہ  کے نزدیک قابل قبول  نہیں ۔(صحیح بخاری:حدیث نمبر:١)

اس حدیث سے یہ بات بخوبی معلوم ہوجاتی ہےکہ  جب تک دل کو اللہ کی طرف متوجہ نہ کیاجائے، اور کوئی بھی عمل خواہ کتنا ہی بڑا ہو، دل سے اللہ کے لیے نہ کیاجائے وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں۔

اسلام جو ایک دین اورایک مذہب ہے۔ اس کو اگر کسی دوسرے مقصد کے لیے اپنایاجائےتووہ کیسے قابل قبول ہوجائے گا؟

جب ایسااسلام قابل  قبول نہیں تو مسلمانوں کو کیاضرورت پڑی ہے کہ اپنامال ودولت، قیمتی سرمایہ، اوروقت حتیٰ کہ جان کو داؤپر لگاکر کسی کااسلام قبول کروائے؟

البتہ وعظ ونصیحت، دعوت و تبلیغ، اپنے دین ومذہب کے بارے میں لوگوں کو بتانا نہ صرف ایک دینی اورشرعی فریضہ ہے، بلکہ ہمارے ملک(ہندوستان ) کے دستور کی دفعہ نمبر ٢٥ بھی اس کی اجازت دیتی ہے۔واضح رہے کہ تبلیغ کرنے اور کسی کو زورزبردستی اسلام قبول کروانے میں کافی فرق ہے۔ دعوت وارشاد جائز اورمطلوب ہے؛ لیکن جبر و اکراہ   کرناناجائز ہے،نہ مطلوب ہے اور نہ اس کا کوئی فائدہ،نیز قانونی طورپربھی ممنوع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا