کیا سے کیا ہوگئے! 

الطاف جمیل ندوی

 آئے وطن عزیز کے مکینو 

 تمہیں تمہاری نسل نو کا

 ذرا کبھی جو  خیال آئے

اسے سنانا وہ بات تب کی

 وہ بات جسے دل تمہارے

 کبھی خدا سے ملا تھے کرتے 

کسی بھی قوم کو گر شکست دینی ہو تو اسے اس کی تہذیب اس کی ثقافت سے دور کر دو  پوری دنیا میں  تہذیب و ثقافت کے نام پر ایک جدید تہذیب و ثقافت کو پروان چڑھایا جارہا ہے جس سے کہ اب پڑھا لکھا طبقہ بخوبی واقف ہے پر ایک تہذیبی و ثقافتی جارحیت اور ہے وہ ہے جابر اقوام کا اپنی تہذیب و ثقافت کو مغلوب اقوام پر بزور قوت مسلط کرنے کی مسلسل سعی جس دوران جابر اقوام کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور جاتی رہی ہیں آپ انگریز کو ہی دیکھ لیجیے اس کی برصغیر میں آمد صرف جسمانی ہی نہیں تھی بلکہ وہ اپنا تمام ثقافتی ورثہ ساتھ لاکر مسلط کرتا گیا جس کا خمیازہ اب تک برصغیر بگت رہا ہے۔

اسلام کی بات کی جائے تو اس کی کوئی تقافتی یا تہذیبی روایات کی کوئی تحریک نہیں ہے بس وہ چاہتا ہے کہ انسانوں کے خود ساختہ نظام و قوانین جو اس نے اپنے ہی جیسے انسانوں پر مسلط کر دئے ہیں سے انہیں نجات دلا کر اس قانون اور نظام کے تابع کرایا جائے جو اس کے خالق نے بیان کیا ہے اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام جس ملک کی دہلیز پر بھی گیا اس نے وہاں کی ثقافتی ورثہ اور تہذیبی روایات کو نہیں چھیڑا جیسا تھا رہنے دیا بس وہ لوگ روکے گئے جو اسلام کے سایہ میں جینے کے لیے اپنی خوشی سے راضی ہوگئے انہیں متعین راہ کو اپنانے کا کہا گیا خیر زیادہ دور جانے کے بجائے صرف اتنا جان لیں کہ اسلام اپنی تہذیب و ثقافت کی پاکیزگی کے ساتھ اپنی بقاء چاہتا ہے جس کے سوا کوئی چارہ ہے ہی نہیں

وادی کشمیر جو کہ اپنے حسن اپنی خوبصورتی کے لیے تمام دنیا میں معروف ہے کی ایک اور حقیقت بھی ہے کہ یہاں انسان دوستی بھائی چارے کی اعلی قدریں پائی جاتی ہیں یہاں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے جو آپس میں انتہائی محبت اور خلوص سے رہتے ہیں  میں گرچہ عمر میں چھوٹا ہی ہوں پر میں نے بھی پہاڑی علاقوں میں کھیت کھلیانوں میں شادی بیاہ میں مصائب و مشکلات میں کشمیری تہذیب و ثقافت کی وہ جھلک دیکھی ہے کہ دل خوشی سے جھومتا رہتا تھا وہ آپسی بھائی چارہ کہ بھائی کسی ایک بہن کا محلے میں مرتا تھا پر روتی تمام محلے کی بہنیں تھیں بھائی بھائی کہہ کر شادی کسی ایک بہن کے بھائی کی ہوتی پر بہنیں تمام محلے کی تیاری کراتی اس کی شادی کی آنسو پونچھنے کو بھی ہر کسی کا پلو تیار رہتا اور خوشیوں میں رنگ بھرنے کے لیے بھی سب ایک ساتھ تیار رہتے۔

اس تہذیب کی بات ہی نرالی تھی کہ شادی کو کئی سال ہوئے پر ناممکن ہے شوہر یا بیوی بڑوں کے سامنے ایک دوسرے سے بات کیا دیکھنے سے بھی شرماتے تھے حیاء و پاک دامنی کا ایسا مزاج کہ لوگ کھیت کھلیانوں پر ہی سو جاتے مجال ہے کہ کوئی وہاں کوئی بیہودہ حرکت کرتا یہاں سب کی بیٹیاں سانجھی ہوا کرتی تھی سب کی بہنوں کی عزت و وقار کا تحفظ ہر کسی بھائی کو عزیز ہوا کرتا تھا میرے بچپن کے دن تھے کہ اک بستی کے ایک نوجوان نے غلطی سے دوسری بستی کی لڑکی سے شادی کا کہا اس کا کہنا اور اہل بستی کا سننا تھا کہ اس نوجوان  کو پوری بستی میں اس کے والد نے گھوڑے پر چڑھا کر پوری بستی میں گھمایا کہ یہ زلیل لڑکا ہے اسے گھر میں آنے مت دینا میں آج بھی اس لڑکے سے واقف ہوں جو اپنے والد کے ڈر اور بستی والوں سے آنکھیں نہ ملا پانے کے سبب گھر سے دس بارہ سال غائب رہا جب اس کی واپسی ہوئی تب وہ ایک بہترین اور فارغ عالم دین بن چکا تھا اتنا نیک و پاکیزہ مزاج کا کہ اس کے اہل محلہ اس سے دعاؤں کی اپیلیں کیا کرتے تھے اسی سال ان کا انتقال ہوا حق تعالی مغفرت فرمائے بات چلی اس لیے عرض کیا ورنہ آج کی یہ بے حیائی اور بے شرمی کی مجالس ان کا تصور بھی آج سے دس بیس سال قبل نا ممکنات میں سے تھا ۔

یہ وہ تہذیب و ثقافت تھی جو وہ صوفی بزرگ اپنے ساتھ لائے تھے جو کہ وادی کشمیر کے اولین مبلغین اسلام کہلائے جاتے ہیں جس کے بانیان میں حضرت عبد الرحمن  بلبل شاہ رحمہ اللہ جیسا عابد و زاہد کی دعائیں اور شاہمدان رحمہ اللہ جیسا زیرک مصنف مبلغ  داعی کی داعیانہ اوصاف و کردار کی پاکیزگی شامل تھی یہ وہ تہذیب و ثقافت تھی جو اسلام کی آغوش میں مختلف ممالک کے داعیان اسلام کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں پروان چڑھتی گئی خیر جوں جوں زمانہ گزرتا گیا  ان صوفیاء کرام اور اولیاء عظام سے دوری لوگ اختیار کرتے گئے ان کی تعلیمات سے بے بہرہ ہوتے گئے ان کی لائی تہذیب و ثقافت کے نقوش آہستہ آہستہ مخدوش ہوتے گئے تو نتیجہ آج جب کہ ابھی تہذیب و ثقافت کی جدیدیت پوری طرح آئی بھی نہیں ہے ہمارے سامنے ہے کہ ہم اب ایک ایسی قوم کے بطور پہچھان بناتے جارہے ہیں جیسے کوئی  قوم اپنی بقاء و عزت کے لیے آخری ہچکی لے رہی ہو اور اس کی بقاء کی ذرا بھی امید نہ ہو  جیسے کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب ایک قلیل انتہائی قلیل تعداد ان لوگوں کی باقی ہے جو جانتے ہیں بلبل شاہ رحمہ اللہ بارے میں یا شاہمدان رحمہ اللہ  حتی کہ ہماری سرزمین کے ہی شیخ نورالدین ولی یا شیخ حمزہ رحمہ اللہ جیسے عبقری شخصیات جن کا ایک ایک لمحہ ہمارے لیے باعث فخر و پہچھان بنتا ان کے بارے میں میں اب ہم افراط و تفریط کے شکار ہیں ہم جس انداز سے انہیں جانتے ہیں میں پوری ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ ان کی تعلیمات کا مقصد و مدعا وہ نہیں تھا جو ہم نے اخذ کیا اور جسے ہم نے ذریعہ بنایا اپنے جینے کا اب ہم جس قدر ان صوفیاء کرام ان اولیاء عظام سے دور ہوتے جارہے ہیں اسی قدر ہماری تہذیبی و ثقافتی روایات بھی معدوم ہوتی جارہی ہیں شاید وہ دن دور نہیں کہ جب اس اولیاء اللہ کی سرزمین پر وحشت و درندگی بھی شرمندہ ہوجائے یہاں کی وحشت و درندگی کو دیکھ کر

جیسے کہ  تین واقعات وادی میں ایسے ہوئے کہ جن کی توقع کرنا بھی میرے لیے محال ہے جو میرے لیے انتہائی درجہ مایوس کن ہیں جو اسلامی کیا غیر اسلامی نظریات میں بھی کسی اچھائی کی نظر سے دیکھئے نہیں جاسکتا

نمبر ۱ بانڈی پورہ سے ایک ماہ کے قتل کی خبر گونجی وادئ میں جسے اس کے نور نظر لخت جگر نے اپنے ہاتھوں سسکتے بلکتے ہوئے قتل کردیا یہ کم از کم کسی بھی تہذیب کی تعلیم نہیں مگر جدید تہذیب جس کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں اس کا نتیجہ ہے جو مروت محبت سے زیادہ اپنی نفسیاتی تسکین کی تحریک ہے اسی کا شاخسانہ ہے کہ انسان انسان کا ہی نہیں بلکہ ماں جیسی عظیم ہستی جس کی گود میں سر رکھ کر انسان دنیا کا امیر کبیر شخص کہلاتا ہے جس کے ہاتھوں کے لمس میں وہ تسکین ہے کہ آدمی اس لمس کی لذت جنت تک سے نہیں پاسکتا جس کے ایک آنسو کی قدر و قیمت دنیا و مافیا سے اعلی ہے اسی ماں کا قتل اور پورا سماج پوری وادی دیکھتی ہی رہ گئی اور انسانیت کا دم گھٹنے لگا آئے وہ کہ جو اس تہذیب پر نازاں ہیں تیری اس جدید تہذیبی تباہی نے ماں کی محبت و عظمت کو کچل ڈالا اور ماں ایڑیاں رگڑ رگڑ  کر مر گئی آئے  اور ماں کی ممتا اس طرح بکھر گئی کہ ہر مسلک و ملت تڑپتا رہ گیا کہ آئے ماں تیرے قدموں کو چومنے والے وہ پاکیزہ ہونٹوں والے وہ تیرے بیٹے اب نہیں رہے آئے ماں تیری پیاس بجھانے کے لیے تمام عمر کھڑے رہنے والے  تمام رات وہ جاگنے والے تیرے وہ پاکیزہ بچے نہ رہے آئے ماں الوداع تیرے بے بس بیٹوں اور بیٹیوں کی طرف سے۔

یہاں پہنچ کر لفظ ماں کی عظمت جیسی کہہ رہی ہو بس کر دو کیا الفاظ کے نشتر کے سوا بھی کچھ باقی بچا ہے تو یاد وہ بیٹی آئی جس کی ویڈیو گرافی کشمیر کراؤن نامی چینل کے مالک شاہد عمران نے کی تھی وہ بیٹی کہہ رہی تھی وہ الفاظ کہ الفاظ بھی راستہ بدلنے کی تمنا کئے جارہے تھے کہ ہم سے بیٹیا تیری بےبسی نہیں ادا ہوسکتی وہیں پاس میں ہی ایک اور بیٹی جہیز کی بھینٹ چڑھ گی سنا ہے سرینگر کے علاقہ ہارون نامی کسی جگہ کی تھی جسے جلایا گیا تھا جس کی سٹوری مختلف چینلوں نے کی پر جب شاہد عمران کشمیر کراؤن نے کی تو یقین کریں میرے آنسو نکل پڑے کہ ہائے اب ہماری تہذیب میں خواتین صرف کمائی کا ایک ذریعہ ہیں مرد کو احساس نہیں کہ خواتین کی قدر و قیمت کیا ہے اور خواتین کی حالت بھی کوئی خاص اچھی نہیں ہے ایسے ہی وہ نوجوان جو سماج یا سوسائیٹی میں اس قدر الجھنوں کا شکار ہوگئے ہیں کہ خودکشیاں کر رہے ہیں اور ہم ہیں کہ مختلف افسانے سنا کر خود کو تسلی دے رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں ہے ہائے میری وادی کے شریف لوگو تمہاری نسل دریا برد ہورہی ہے مگر کیوں کیا کبھی سوچنے کی زحمت بھی کی یا صرف سڑک کنارے اور دکان پر بیٹھ کر درباری محفل سجا کر تبصرے کرنے کی فرصت کے سوا کوئی وقت سوچنے کو ملا نہیں یہ ضد کی نہیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا سبب ہے لوگ اپنی جان لینے کو بھی تیار ہیں کیا انہیں سماج اور سوسائٹی نے مجبور کیا یا ان فرسودہ رویات و نظریات نے جو ہم نے اپنی انا کی تسکین کے لیے بنائی ہیں اور جن کے سبب ہمارے بچوں کا دم گھٹ رہا تھا یا ان پابندیوں نے جو ہم نے اپنے ان بچوں پر لگا رکھی ہیں یا اس جنگ نے جو ہم نے اپنی طرف سے فطرت کے خلاف شروع کر رکھی ہے یاد رکھیں جو اقوام بھی فطری قوانین کے خلاف بغاوت کرتی ہیں وہ زلیل و خار ہوکر رہ جاتی ہیں یہ ایک لمبی بحث ہے کہ فطرہ قوانین کیا ہیں اور ان کے خلاف جنگ کی صورت کیا ہے بس آپ ہلکا سا سمجھ لیں کہ جو چیز اللہ تعالی نے ہر انسان کی فطرت میں رکھی ہے اسے دبائے رکھنا یا اس کی تکمیل کی جائز صورتوں میں وقت زیادہ صرف کرنا۔

بدکاری و فحاشی کے واقعات میں اضافہ جس کا شکار ہمارے بچے بچیاں ہورہی ہیں  مختلف انداز سے جن کی ترویج کی جارہی ہے  جیسے کہ دور حاضر میں فحاشی و عریانیت کی نشرو اشاعت کی بہت سی صورتیں ایجاد ہوچکی ہیں، مثلاً انٹرنیٹ، تھیٹر، سینماگھر، کلب اور ہوٹل اس کے علاوہ ناول، افسانے  وغیرہ کی شکل میں اس کا دائرہ آج کل اور بھی وسیع ہوچکا ہے ۔ سرمایہ دارانہ معاشرے میں سینما، تھیٹر اور کلب اور فیشن گھر چلانے والے اپنا میک اپ کا سامان بیچنے کی خاطر عورتوں کی اخلاق باختہ تصاویر شائع کرکے عام لوگوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں عورت کو جنس محالف ہونے کی وجہ سے خاص طور پر آگے بڑھایا جاتا ہے۔ عورت کی حیاء اور زینت کو اشتہار بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ مال وزر کی ہوس کا دائرہ اثر کتنا وسیع اور ان کی زد کہاں کہاں تک پہنچتی ہے۔ کسی طرح چند لوگوں کی بے راہ روی کے پھیلانے سے پوری قوم کا اخلاق بھی تباہ و برباد ہوسکتا ہے۔آج انٹرنیٹ کی شکل میں گمراہ لوگوں کو ایک ایسا موقع اور ذریعہ ہاتھ آگیا ہے کہ جس کو استعمال میں لاکر معاشرے کی ہیئت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج خاندان کا نظام کمزور پڑتا جا رہا ہے، مردوعورت کے درمیان اخلاص کی بجائے مادیت کی دوڑنظر آرہی ہے جس سے اسلام کی تعلیمات اجتناب کا حکم دیتی ہیں۔ بے حیائی اور جملہ خرابیاں یہی وہ برے اعمال ہیں جن کے نتیجے میں پوری قوم اللہ اور اس کے رسول ؐ کے فرمان سے غافل ہو کر آخرت کو فراموش کر چکی ہے۔

میں تھکا نہیں میں بکا نہیں کہیں چھپ چھپا کر چھپا نہیں کی طرح ہمیں کھڑے ہوکر اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات پر بات کرنی ہوگی اپنے تہذیبی و ثقافتی ورثے کی نشر و اشاعت کو پروان چڑھانا ہوگا اپنی روایات کو اپنی نسل تک منتقل کرنا ہوگا ممبر و محراب سے کشمیری کلچر کو بیان کرنا ہوگا بناء کسی لاگ لپیٹ کے اپنے اسلاف کی تعلیمات کو عام کرنا ہوگا ان پر تحقیقی مواد تیار کرکے عام کرنا ہوگا وادی کے علماء کو سنجیدگی کے ساتھ ان مسائل پر مباحث کرکے عوام کو خیر کے تمام پہلو بتانے ہوں گئے یہ آپسی مسلکی فکری اختلافات کو چھوڑ کر قومی فرائض کی اور توجہ دینی ہوگی  نہیں تو آئے اپنی پاکیزہ تہذیب و ثقافت سے شرمانے والو یہ ذلت تمہاری دہلیز پر دستک دینے والی ہے پھر کتنا رو پاؤ گئے وہ آنسو بچا بچا کے رکھنا تب تک۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔