گجرات کے تین جواں سال لیڈروں کا مودی کو چیلنج

عبدالعزیز

گجرات کی سیاست میں مودی جی 2001میں کیشو بھائی پٹیل کی جگہ وزیر اعلیٰ بنا دیئے گئے اور 2002میں فرقہ وارانہ فسادات کی کمان سنبھالنے پر پورے ملک میں مشہور ہوگئے خاص طور سے گجرات میں فرقہ پرستوں کے ہیرو بن کر ابھرے۔ 2015ء کے اوائل تک مودی کو چیلنج کرنے والا کوئی نہیں تھا مگر 2015کے وسط میں ایک نوجوان سیاسی اور سماجی شخصیت  ہاردک پٹیل پاٹیدار اندولن شروع کیا اور دیکھتے دیکھتے اس کی مہم پورے گجرات میں چھا جاتی ہے اسے ہر طرح سے اذیت پہنچائی جاتی ہے۔ قید و بند کی ہر طرح کی مشقتیں اسے اٹھانی پڑتی ہیں مگر وہ اپنے اندولن کو تیز سے تیز تر کرتا رہتا ہے۔ اپنے فرقہ میں اپنی حیثیت کو مضبوط کرلیتا ہے۔ اس کا مقام مستحکم ہوجاتا ہے۔ وہ اگرچہ اپنے فرقہ کے لوگوں کیلئے کالج اور یونیورسٹیوں میں ریزرویشن کا مطالبہ کرتا ہے مگر اوبی سی اور دلت لیڈروں سے خوشگوار تعلق رکھتا ہے جس کی وجہ سے دلتوں اور او بی سی کے طبقہ میں بی جے پی کی لاکھ کوششوں کے باوجود تفرقہ نہیں پیدا ہوتا۔

2016میں یونائے میں چار دلت جوانوں کو گائے کے چمڑا ادھیڑنے پر بڑی ذات کے لوگ مار مار کر نیم مردہ کردیتے ہیں جس کی وجہ سے دلتوں میں غم و غصّہ کی لہر پیدا ہوجاتی ہے جگنیش نٹور لال میوانی گئو پرستوں کے خلاف زبردست احتجاج شروع کرتا ہے۔ میوانی سماجی اور سیاسی کارکن کی حیثیت سے ابھرتا ہے وہ ایک اچھا قانون دان بھی ہے 37سال جیگنیش کو دلت اپنا لیڈر تسلیم کرلیتے ہیں۔ 40سالہ الپیس ٹھاکر او بی سی فرقہ میں سیاسی اور سماجی کارکن کی حیثیت سے کام کررہا تھا وہ بھی اپنے فرقہ کو مضبوط تر کرنے کیلئے آگے بڑھتا ہے اور او بی سی کے اندر اس کی بھی قیادت تسلیم کرلی جاتی ہے۔ اگرچہ ہاردک، الپیس اور جگنیش جسے سنگھ پریوار والے حج کے نام سے پکارتے ہیں مختلف فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں مگر تینوں میں تال میل ہے اور خوشگوار تعلقات بھی ہیں۔ راہل گاندھی کا ساتھ ان تین نوجوانوں میں اور بھی جان ڈال دیتی ہے۔

اب چار یار مل کر ٍگجرات الیکشن میں نریندر مودی اور ان کی پارٹی کو چیلنج کرتے ہیں مودی جی پہلے جی ایس ٹی میں ترمیمات کرکے سورت، احمد آباد اور گجرات کے دیگر شہروں کے تاجروں کے غصّے کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پورے گجرات کو فرقہ وارانہ رنگ میں رنگ دینے کی سعی و جہد میں لگ جاتے ہیں مگر چار یا و تین مہینے تک ان کی ناک میں دم کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے سارے منتری منڈل کے ممبر، مختلف ریاستوں کے سنگھی وزراء اعلیٰ اور سنگھ پریوار کے سارے لیڈران گجرات طلب کرلئے جاتے ہیں مودی کی سربراہی میں سب مل کر رات دن کام کرتے ہیں اور ہر قسم کے ہتھکنڈے اپناتے ہیں۔ مرکز اور ریاست کی ساری مشنری لگادی جاتی ہے یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کو بھی زیر کرلیا جاتا ہے۔ الیکشن کو بھی ایک ماہ کیلئے مؤخر کرلیا جاتا ہے ان سب کے باوجود چار یار کی جوڑی مودی پر ہی نہیں پورے سنگھ پریوار، ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی مشنری پر بھاری پڑتی ہے۔ مشکل سے 99سیٹوں کو مودی حاصل کر پاتے ہیں۔

 اگر بی ایس پی اور این سی پی کی مدد اور آزاد امیدواروں کی بھیڑ میدان میں بی جے پی کی طرف سے نہ اتاری گئی ہوتی اور مسلم اکثریت علاقہ میں دانائی اور تدبر سے مسلمان کام لئے ہوتے تو بی جے پی اسّی  پچاسی سیٹوں سے کم پر سمٹ جاتی مگر اپنوں کی نادانی اور بیوقوفی زعفرانی پارٹی کے کام آگئی اور ٖFace saving کسی طرح مودی جی کی وقتی طور پر ہوگئی اب جو سوالات کے جوابات ہاردک پٹیل اور ان کے دوستوں کی طرف سے دیئے جارہے ہیں وہ دندان شکن ہیں مودی اور سنگھ پریوار کے مودی بھگت فرما رہے ہیں کہ یہ حج یعنی تین لیڈران ذا ت واد کو بڑھا وا دے رہے ہیں مگر سنگھ پریوار نے ذات واد کا خاتمہ کردیا ہے۔

 ان تین لیڈران اب مودی جی سے پوچھ رہے ہیں کہ ان کے اندر نہ فرقوں کی لڑائی ہے اور نہ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور نہ فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں مگر آپ جو خلجی، اورنگ زیب، مسجد مندر اور پاکستان اور مسلمان کررہے ہیں یہ آخر کیا چیز ہے؟ ویکاس(ترقی) کی بات کرنا کیوں بھول گئے ؟ جوانوں کو روزگار دینے کی بات کیوں نہیں کررہے ہیں ؟ غریب کسانوں کی خود کشی کا مسئلہ کیوں نہیں اٹھارہے ہیں؟ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کی مار سے مرے لوگوں کو کیوں بھول گئے ہیں ؟ مودی جی پورے انتخابی مہم میں فرقہ وارانہ مسئلہ کو اٹھاتے اٹھاتے جب تھک گئے تو راہل گاندھی پر نشانہ سادھا کہ وہ ہندو نہیں ہیں غیر ہندو ہیں۔ مسلمان کے لڑکے ہیں اور ان کے باپ دادا بھی مسلمان تھے اور یہ کانگریس پارٹی مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ اگر کانگریس جیت گئی تو احمد پٹیل گجرات کے وزیر اعلیٰ ہوں گے اور مسلم راج واپس آجائے گا اور ہندو ئوں پر ظلم و ستم ہونا شروع ہوجائے گا۔ یہ پروپگنڈہ کرنا شروع کردیا۔

یہ ہے سنگھ پریوار والوں کی سیاست جو انگریزوں کے وفادار تھے اور آزادی کی لڑائی میں فرنگیوں کے طرفدار تھے جن کی غدّاری آزادی کی لڑائی کی تاریخ میں بالکل عیاں ہے اب یہ لوگ اپنے آپ کو راشٹر واد ملک و قوم کے وفادار  بتا رہے ہیں اور جو ان کی مخالفت کرتا ہے وہ راشٹربرودھی یعنی ملک و قوم کا غدّار ہے۔ ا ب ان کے چہرے سے آہستہ آہستہ قلعی کھلتی جائے گی۔ اگلے سال چار ریاستوں کا الیکشن ہونے والا ہے امیدہے کہ ان کی حالت جو گجرات میں ہوئی ہے اس سے بھی بدتر ہوگی اور پھر ان کا غرور اور گھمنڈ کا فور ہوجائے گا۔ مودی کی وہی حالت ہوگی جو اس وقت ایڈوانی جی کی ہے ایڈوانی جی نے فرقہ پرستی کا سبق اپنے چیلے مودی کو خوب سیکھایا تھا مگر چیلے نے گرو کو حاشیہ پر لاکھڑا کردیا ہے اور فرقہ پرستی کی آگ لگانے میں اپنے گرو سے بھی آگے ہو گیا ہے۔ اب گرو جی اپنے کئے پر ہوسکتا ہے پچھتا رہے ہوں گے مگر اب بچھتاوے سے کیا ہوگا جب چڑیا چُگ گئی کھیت۔

تبصرے بند ہیں۔