گل پو شی ۔ شال پوشی ۔ تاج پوشی 

مدثر احمد،کرناٹک شیموگہ
اکثر یہ شکایت ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کافقدان ہے، مسلم نوجوان سیاسی حکمتوں سے دور ہیں، مسلم سیاست دانوں میں دور اندیشی نہیں ہے، مستحکم مزاجی نہیں ہے اور وہ جلد ہی اپنے مفادات کی خاطر اپنے ضمیر کو فروخت کردیتے ہیں، یہ بات کچھ حد تک درست ہے اور اسی وجہ سے مسلمان زوال کی جانب بڑھ رہے ہیں ۔ دراصل قوم کا رہنماء یا رہبر وہی بن سکتاہے جس کے پاس مستحکم مزاجی ہو، جس کے پاس حکمت ہو اور وہ اپنے مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خالص اپنے ضمیر اور اوصاف کو سامنے رکھتے ہوئے قوم کی رہبری و رہنمائی کرے اور اپنے موقوف پر قائم رہیں اگر یہ رویہ اختیار کیا جائے تو یقیناً ہمارے نوجوان نہ صرف قوم کے لیڈ ر بن سکتے ہیں بلکہ سماجی لیڈر (ماس لیڈر ) کہلا سکتے ہیں ۔ آج مسلمانوں کو کانگریس کے لیڈر، جے ڈی یس کے لیڈر، یس پی یا بی جے پی کے لیڈر کی ضرورت نہیں بلکہ ماس لیڈر یا قوم کے لیڈر کی ضرورت ہے اور ایسی لیڈر اسی وقت بن سکتے ہیں جب نوجوان اپنی سیاسی سرگرمیوں کو قوم کے مفادات کے تئیں انجام دیں ۔ ویسے ہمارے درمیان کئی لیڈر ہیں جن کی شناخت سیاسی پارٹیوں سے ہوتی ہے نہ کہ انہیں قومی یا ملی رہبر پر کے طورپر جانا جاتاہے ۔ کنہیا کمار ، ہاردک پٹیل ، روہت ویمولا ، عمر خالد جیسے نوجوانوں نے اپنے وجود و شخصیت کو کسی سیاسی جماعت سے جوڑ کر نہیں بنائی بلکہ وہ حق گوئی و راست عمل کی وجہ سے لوگوں میں پہچانے گئے ۔ آج جب ہمارے مسلم نوجوانوں کو کوئی چھوٹا عہدہ ملتاہے ، کسی مسجد کی صدارت یا رکنیت ملتی ہے یا پھر وہ کسی انتخاب میں کامیاب ہوکر آتے ہیں تو وہ اپنی میعاد کا ایک حصّہ محض تہنیتی اجلاس کے انعقاد، گل پوشی کرنے اور شال پوشی کرنے میں گنوا دیتے ہیں اور جس مقصد کے لئے انہیں منتخب کیا جاتاہے اس مقصد کو انجام دینے میں تاخیر کردیتے ہیں اور اس سے قوم کا ان پر سے بھروسہ اٹھ جاتاہے اور یہ لوگ بھی اسی فہرست میں جمع ہوجاتے ہیں جن کا شمار قوم کے مفاد پرست سیاستدانوں میں سے ہیں ۔ جب تک نوجوان قوم کے مسائل کو اپنا مدعہ نہیں بناتے ، قومی کے درد کو اپبنا درد نہیں سمجھتے اس وقت تک وہ رہبری کا مقام حاصل نہیں کرسکتے ۔ یقیناًآج مسلمانوں کے پاس رہبروں کی کمی ہے اور اسی کمی کو ماس لیڈر س ہی دور کرسکتے ہیں نہ کہ گل پوشی و تاج پوشی کے حائل افراد کرسکتے ہیں اور جو نوجوان اپنی محنت ، کوشش و رہبری کے عوض اسکا معاوضہ چاہے اسکی رہبری مستقل نہیں رہ سکتی بلکہ موسم کی طرح بدل جاتی ہے اور جب بھی موسم بدل جاتاہے تو لو گ پرانے موسم کو بھول جاتے ہیں ہمیں موسم بننے کے بجائے پتھر بننا چاہئے جو ہر موسم میں یکساں رہتاہے دوسری بات یہ بھی ہے کہ جب قوم ہمیں کچھ کرنے کا موقع دیتی ہے تو اس موقع کا صحیح استعمال کرنا چاہئے اور انکی جانب سے دی جانے والی تہنیتوں کو اہمیت نہیں دینا چاہئے کیونکہ اکثر لوگ ہمیں اسٹیجوں کی رونق بنا کر ہمارے ارادوں کو کمزور بنادیتے ہیں اور جب ارادے کمزور ہوتے ہیں توہمارا کام رک جاتاہے اور ایک طرح سے تکبر ہمارے درمیان پنپنے لگتا ہے ۔

تبصرے بند ہیں۔