ہنگامہ ہے کیوں برپا، ڈاکٹر حامد کی حق گوئی پر

ڈاکٹر سیّد احمد قادری

     اس سال کے یوم جمہوریہ ہندکے موقع پر ایمنسٹی انٹرنیشنل امریکہ ، جینوسائیڈ واچ ، ہندوز فار ہیومن رائٹس ،انڈین امریکن مسلم کونسل اور نیو یارک اسٹیٹ کونسل چرچ سمیت کئی امریکی حقوق انسانی تنظیموں نے ’’ ہندوستان کے متنوع آئین کا تحفظ ‘‘ کے موضوع پر ایک ورچوئل پروگرام کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے پینل میں سینیٹر ایڈ مارکے ، ممبر امریکی کانگریس جم میک گورون، اینڈی لیون ،جیمی ریسکن کے ساتھ ساتھ ماریشش کی سابق صدر امینہ گُریب فاکیم اور سابق نائب صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر حامد انصاری سمیت امریکہ کی کئی دیگر سرکرد شخصیات شامل تھیں۔ ان تمام لوگوںنے ہندوستان کے مسلمانوں ، عیسائیوں اور دلتوں کے حقوق کی پامالی اور پر بڑھتے ظلم ، تشدد، عدم رواداری ، عدم تحفظ اور منافرت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ امریکی سینیٹر ایڈ مارکی نے ہندوستان میں مودی حکومت کے ذریعہ اقلیتوں کے حقوق کو پس پشت ڈالنے پر اپنی فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلیٔ مذہب ،شہریت کے تعلق سے قوانین اور دیگر کئی اقدامات ہندوستان کے جامع سیکولر آئین اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہیں۔ بنیادی انسانی حقوق جب حملے کی زد میں ہوں تو اس تعلق سے اظہار رائے امریکہ کا فرض ہے۔ ماریشش کی سابق صدر امینہ گُریب فاکیم نے اس بین الاقوامی ورچوئل پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے  اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستانی آئین میں انسانی حقوق کے تحفظ کے سلسلے میں آئینی دفعات موجود رہنے کے باوجود بین الاقوامی پریس مسلسل اقلیتوں کے حقوق پامال کئے جانے کی رپورٹ پیش کر رہا ہے۔ اسی کڑی کو آگے بڑھاتے ہوئے سابق نائب صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر حامد انصاری نے بڑے ہی دانشوارانہ انداز میں ملک کے اندر بڑھتے فرقہ واریت کاذکر کیا اور کہا کہ حالیہ برسوں میں ایسے رجحانات اور طرز عمل دیکھا جا رہا ہے جو قبل سے قائم شدہ شہری قوم پرستی کے بر خلاف ہیں جو ثقافتی قوم پرستی کے خیالی نظام پر زور دیتے ہیں۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ شہریوں کو ان کے عقیدے کی بنیاد پر الگ کرتے ہوئے عدم تحفظ کو بڑھایا جائے اور سیاسی اجارہ داری قائم کی جائے۔ ایسے نظریات کو قانونی طور پر چیلنج کرنے کی ضرورت ہے۔

          زیر تزکرہ عالمی ورچوئل پروگرام کے پینل میں شامل مندرجہ بالا سطور میں ممبران امریکی کانگریس ، سابق صدر ماریشش امینہ گریب فاکیم وغیرہ اور ڈاکٹر حامد انصاری کے علاوہ یونائٹیڈ اسٹیٹ کمیشن آف انٹرنیشنل ریلیجئس فریڈم  ( USCIRF) کے نڈائن مینزا ، حقوق انسانی کے صدر کیری اینڈی ، ایشیا ایڈوکیسی امنیٹی انٹرنیشنل کے ڈائریکٹر کیرولین ناش وغیرہ نے ہندوستان کے اقلیتوں پر ہونے والے مظالم ، ناانصافی ، تشدد، عدم رواداری ، منافرت،حق تلفی  کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی پامالی ، مذہبی آمریت ، امتیازی سلوک ،جمہوری تنذلی، غیر آئینی اور غیر انسانی طرز عمل پر سخت تنقید کی تھی۔ جس کی تفصیل بیرون ممالک کے پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پرکافی وائرل ہو ا اور ہو رہا ہے۔ لیکن افسوس کہ ملک کے اندرمسلسل حقوق انسانی و آئینی پامالی مذہبی آمریت کی خبریں عالمی سطح پر واشنگٹن پوسٹ ، نیو یارک ٹائمز وغیرہ سمیت دیگر پرنٹ ، الیکٹرانک و سوشل میڈیا میں دیکھی جا رہی ہیں۔ان پر ملک اور بیرون ممالک کی امن پسند سرکردہ شخصیات کی تشویش اور ملامت کئے جانے کا بھی سلسلہ جاری ہے۔ ان سب کے باوجود ملک کے برسراقتدار حکومت اور حکمراں جماعت کی جانب سے کسی طرح کا تاسف یا معذرت کا اظہارکئے جانے کی بجائے عالمی سطح کی معروف ہستیوں کے خلاف تو خاموشی اختیار کی گئی ، ہاں ڈاکٹر حامد انصاری  جیسی قدآور شخصیت (مسلم)کو نرم چارہ سمجھتے ہوئے ہندوستان کی کئی فرقہ پرست تنظیموں کے لوگ مثلاََ وشو ہندو پریشد کے ترجمان سنیل بنسل ، بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے کنوینر امیت مالویہ وغیرہ کے ساتھ ساتھ سرکاری مسلمان مختار عباس نقوی، جن کی زبان دھرم سبھا میں مسلمانوں کی نسل کشی پر توگنگ رہتی ہے ،لیکن ڈاکٹر حامد جیسی بلند قامت (مسلم) ہستی کی حق گوئی کو شدید تنقید کا نشانہ بنانے میں تیزی آ جاتی ہے۔ یہ لوگ ورچوئل پروگرام میں نشان زد کی گئی باتوں کا جواب دینے کی ہمت دکھانے کی بجائے اپنی ہٹ دھرمی اور سطحی باتوں کا اظہار کرتے رہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اتنے اہم عالمی ورچوئل پروگرام ، جس مین دنیا کی مقتدر شخصیات اظہار کر رہی تھیں۔ ان کے جواب میں وزیر اعظم ، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ سبھوں نے خاموشی اختیار کر لی۔ ملک میں بڑھتی مسموم( زہریلی) فضا پر کوئی پہلی بار اس طرح تشویش اور فکر مندی کا اظہارنہیں کیا گیا جس کے باعث ملک کی شبیہ داغدار ہوئی ہے۔ اگر ملک کی شبیہ کی اتنی ہی فکر ہے تو ایسے امتیازی سلوک اور جمہوری قدروں کی پامالی پر قد غن لگایا جاتا اور تدارک کی کوششیں کی جاتیں۔ حکمراں اورحکومت ان پر سخت ردّ عمل کا اظہار کیا جاتا تو یقینی طور پر ایسے فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوتے۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ حکمراں اور حکومت کی خاموشی کو فرقہ پرست عناصر نیم رضامندی تصور کرتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھتے ہیں۔ مذکورہ ورچوئل پروگرام سے چند روز قبل بھی ملک کے نامور صحافی کرن تھاپر سے گفتگو کرتے ہوئے جینوسائڈ واچ کے صدر گریگری اسٹینٹن نے ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر اور مسلمانوں کی نسل کشی کی دی جانے والی دھمکیوں پر امریکی کانگریس میں ایسے طرز عمل پر ایک قرار داد پاس کرنے اور جو بائڈن کو مودی حکومت کو تنبیہ کرنے کی بات کی ہے۔

      حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے ملک کے حالات پر کوئی تنقید کرے یہ ہمیں گوارہ نہیں ہے۔ ہم وزیر اعظم مودی کے اس خیال سے بھی متفق ہیں کہ بین ا لاقوامی سطح پر ہونے والی ایسی باتوں سے ملک کی شبیہ داغدار ہوتی ہے۔ لیکن مسئلہ تو یہ ہے کہ ایسی نوبت آئی ہی کیوں کہ عالمی سطح پر ہمارے ملک کی شبیہ کو داغدار کیا رہا ہے اور ذمّہ دار لوگ ان کی تنقید اور سولات کا جواب بھی نہ دے پائیں۔ ملک کی شبیہ کو بقول نریندر مودی ’داغدار کرنے کی ‘یہ کوشش نئی نہیں ہے۔ جب کبھی ملک کے اندرمذہب کی بنیاد پرماب لنچنگ کی فلک شگاف چیخ اٹھتی ہے۔ دنیا کے امن پسند اور سیکولرزم پر یقین رکھنے والے اعتراض اور احتجاج درج کرتے ہیں۔ بہت پیچھے نہیں بلکہ گزشتہ چند ماہ کی ایسی رپورٹ پر ایک نظر ڈالی جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ عالمی سطح پر ملک کے اندر رونما والی ہونے والی غیر انسانی اور غیر جمہوری واقعات و سانحات کی مذمت مختلف سرکردہ شخصیات اور تنظیموں نے ملک کے حکمراں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت ہند سے سوالات بھی کئے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کے 13 جولائی کو واشنگٹن میں امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی ( USCIRF)  کے ذریعہ سہ روزہ کانفرنس میں امریکی کانگریس کے کئی سینیٹرزنے ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت ہند سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کو نشانہ بنا رہی ہے اور آزادیٔ اظہار رائے کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا تھا۔ اس کانفرنس میں کانگریس ممبر اینڈی لیان نے ہندوستان میں بین المذاہب شادیات اور دہلی کے مسلم کش فساد کا بطور خاص ذکر کیا تھا۔ اسی سال کے جولائی ماہ کے آخری ہفتہ میں امریکی کانگریس میں ہوئی سماعت میں انسانی حقوق اور بین المذاہب کی 17 تنظیموں نے ہندوستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کو سی پی سی ( Country of particular concen)میں ڈالنے کا مطالبہ کیاتھا اور کہا گیا تھاکہ ہندوستان میں تین کروڑ مسیحی ہیں جو صدیوں سے دوسرے مذہبی گروہوں کے ساتھ پر امن طور پر رہتے آ رہے ہیں۔ لیکن افسوس کہ مسیحیوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے ،جس میں جسمانی تشدد ، چرچ کی خدمات میں رکاوٹیں ،خورد و نوش تک کی رسائی پر پابندی اور تبدیلیٔ مذہب کے جھوٹے اور بے بنیاد الزام لگا کر زدو کوب کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایوینجیکل فیلوشپ آف انڈیا کی ایک رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ 2021 ء کے پہلے ششماہی میں ملک بھر میں عیسائیوں کے خلاف تشدد کے 145 واقعات ریکارڈ کئے گئے ہیں۔

          ہندوستان کے اندر بڑھتی فرقہ پرستی ، تشدد ، عدم رواداری ، منافرت ، تخریب کاری اور نسل کشی کی دھمکیوں پر ایک طرف جہاں عالمی سطح پر مختلف اداروں اور تنظیموں نے مذمت کی ہے۔ وہیںدوسری جانب ایسے رجحانات سے خوف و دہشت کے بڑھتے ماحول پر اپنے ملک کے سماجی کارکنوں ، دانشوروں ، نوکر شاہوں ، فنکاروںاور سیاست دانوں کی جانب سے بھی فکر مندی کا اظہار کیا جاتا رہاہے۔ لیکن افسوس کہ حکومت اور حکمراں ان کی باتوں پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کی بجائے ان پر ہی حملے شروع کر دیتے ہیں۔ ان لوگوں کو طرح طرح کی دھمکیاں دینے کے ساتھ ساتھ انھیں غدّار وطن کہا جاتا ہے۔ جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگا کر انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جارہاہے۔ اتر پردیش کے ایک وزیر نے تو یہاںتک دھمکی دے ڈالی ہے کہ ان کی پارٹی کے خلاف جو بولے گا اس کا انکاونٹر کر دیا جائے گا  اور افسوس تو یہ ہے کہ ایسی غیر آئینی دھمکی دئے جانے کے باوجود وہ وزیر آزاد گھوم رہا ہے۔ ظاہر ہے ایسے ناپسندیدہ عناصرکی حاکم وقت کی پشت پناہی اور حمایت حاصل ہے تو ایسے لوگوں کے حوصلے بڑھینگے ہی۔ ملک کے دانشوروں اور امن و آئین پر یقین رکھنے والے لوگ پھر بھی ایسی دھمکیوں سے بے خوف ہو کر اپنی ذمہ داریوںکو سمجھتے ہوئے اپنی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت کو اس بات کے لیے متنبہ بھی کر رہے ہیں کہ ایسے ناگفتہ بہ حالات پر قدغن نہیں لگایا گیا تو ملک کی سا  لمیت کو بڑا خطرہ ہو سکتا ہے۔ اکتوبر 21 ء میں اشوک واجپئی ، منوج جھا،ششی تھرور، رومیلا تھاپر، اپوروانند، پرشانت بھوشن ، رام پنیانی ، ڈی راجا ، عرفان حبیب ، آنند پٹوردھن ، گوہر رضا ، کویتا کرشنن ، ایس وائی قریشی ، پرشوتم اگروال ، سپریا سولے ، شبنم ہاشمی ، دھوروینا ، بھاشا سنگھ ، جگتی ساگوان وغیرہ نے یہ کہتے ہوئے کہ آج کے میڈیا پر حکومت نے اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے اس لیے ہم لو گ ملک میں بڑھتے ناگزیر حالات کے پیش نظر سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں اور ملک کے اندر امن و امان، آئین بحال کرنے ، ملک میں گنگا جمنی تہذیب کو برقرار رکھنے نیز فاشسٹ قوتوں کے ناپاک ارادوں کو روکنے کے لیے اپنی تقاریر ریکارڈ کر انھیں یو ٹیوب ، فیس بک ، انسٹا گرام ، وہاٹس ایپ ، ٹوئیٹروغیرہ پر اپلوڈ کر رہے ہیں تاکہ نفرت ، محبت میں بدل جائے اور ہمارے ملک کی یکجہتی ، مساوات ، اتحاد کی صدیوں پرانی روایت اور قدریں برقرار رہیں۔ گزشتہ اگست ماہ میں دہلی کے جنتر منتر پر ہندووادی تنظیموں کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگائے جانے کے ساتھ ساتھ ملک کے مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دی گئی اور ایک ایسا پمفلیٹ تقسیم کیا گیا جس میں ہندؤں کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ ـ’ اگر کمزوری دکھاؤگے تو مسلمانوں کا قتل عام کیسے کروگے اور ہندوستان سمیت پوری دنیا سے اسلام کا نام ونشان کیسے مٹاؤگے‘۔ ایسے اشتعال انگیز نعروں اور مسلمانوں کی نسل کشی کی اپیل کے خلاف ملک کے امن پسند شہریوں کے اندر زبردست ردّ عمل دیکھا گیا اور دیکھتے دیکھتے ہزاروں کی تعداد میں سوشل میڈیا پر ہندو بھائیوں نے احتجاج اور غم و غصہ کا اظہار کیا۔ سابق جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اس سبھا کا ویڈیو شیئرکرتے ہوئے ملک کے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو ٹیگ کر لکھا کہ ’’ اگر آپ کو کوئی شک ہے تو اس ویڈیو کو دیکھیں جس میں آپ کی پارٹی کے لیڈران موجود ہیں جو تشدد بھڑکا رہے ہیں، برائے مہربانی میرے ہندوستان کو بچا لو ‘‘۔ ایسا ہی سخت رد عمل اور احتجاج ہری دوار کے ’’دھرم‘‘ کے ’’سنسد ‘‘ میں لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام کی دھمکی دئے جانے پر بھی دیکھنے کو ملا۔ ملک کی مقتدر ہستیوں نے انتہا پسندوں اور سخت گیر ہندوازم کے نام پر شر انگیزی کو فروغ دئے جانے کی سخت الفاظ میں مذمّت کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ایسے ہی فرقہ پرستوںکے باعث آج پوری دنیا میں ہندوستان کی جمہوریت اور مذہبی آزادی پر سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ ملک کی شبیہ کو داغدار کرنے والوں کی پشت پناہی کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

         ملک کے اقلیتوں پر دانستہ طور ڈھائے جانے والے مظالم اور حیوانیت پر قومی اور بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ لیکن افسوس کہ حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں جیسے جیسے سانحات اور واقعات ظہور پزیر ہوئے ہیں ان پر اگر وزیراعظم نوٹس لیتے اور سخت الفاظ میں ان کی مذمّت کرتے ہوئے قدغن لگانے کی کوشش کرتے تو یقینی طور پر ان فرقہ پرستوں کے حوصلے پست ہوتے۔ لیکن ان کی خاموشی ایسے تخریب کاروں کے لیے نیم رضامندی ثابت ہو رہا ہے۔ افسوس تو اس بات کا بھی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے والے اور دنیا سے اسلام کا نام و نشان مٹا دینے والوں کی ترغیب دینے والوں کے خلاف تادیبی کاروائی کرنے کی بجائے وزیر اعظم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسلامی ممالک نے انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ زیادہ عرصہ نہیں گرزا 2019 ء میں حکومت متحدہ عرب امارات نے اپنے ملک کے سب سے بڑے اعزاز سے انھیں نوازا تھا۔ سعودی عرب کا ’شاہ عبدالعزیز ‘ ایوارڈ بھی مودی جی دیا گیا تھا۔ان کے علاوہ ہر مشکل وقت میں ہندوستان کی مدد کرنے میں یہی اسلامی ممالک پیش پیش رہتے ہیں۔ ان ہی مسلم ممالک میں ہندوستان کے لاکھوں غیر مسلم ملازمت کر رہے ہیں اور کروڑوں ڈالر زر مبادلہ میں ملک کی معیشت کو بہتر بنانے مین تعاون کر رہے ہیں۔ ان ہی مسلم ممالک کے باعث آج ملک کے اندر پٹرول کی فراوانی ہے اور حکومت سستے داموں پر پٹرول ڈیزل خرید کر ملک میں مہنگے داموں میں بیچ کر اپنا خزانہ بھر رہی ہے۔ پھر بھی ملک کے اندر مسلمانوں سے نفرت اور ظلم و بربریت کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے میںپر شاہی خاندان کے افراد کی خفگی اور ناگواری کا اظہاربے جا نہیں بجا ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا سے اسلام کا نام ونشان مٹانے والوں کو ان تمام باتوں کا احساس ہی نہیں ہے۔ ایسی زہریلی باتوں کو سن کر ہی ایک شیخ یہ کہنے پر مجبور ہوا ہے کہ کرہ ارض پر موجود ہر مسلمان ہمارا بھائی ہے اور اگر۔۔۔

      اتر پردیش کے یوگی نے حال میں اپنے انتخابی مہم کے دوران ملک کے 80 اور20 فی صد کی بات کی ہے۔ جس تناظر میں انھوں نے یہ بات کہی ہے اسے سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے 80 فی صد لوگ امن پسند ، سیکولر اور اقلیتوں سے محبت کرنے والے ہیں ، جن میں سے کچھ نمائندہ شخصیات کا میںذکر کر چکا ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک ملک کے اندر ایسے امن پسند، آئین اور انسانی اقدار پر یقین کرنے والے لوگ ہیں ، فرقہ پرستوں اور شر پسندوں کو موجودہ حکومت کی خاموشی کے باوجود کامیابی نہیں ملے گی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔