یوم آزادی ایک لمحہ فکریہ

اللہ بخش فریدی

آج لوگ یوم آزادی پر جشن منا رہے ہیں۔ کیا جشن منانے والوں کو آزادی کے معانی اور مقصد کا بھی پتہ ہے کہ ہمارے برزگوں نے آزادی کی جدوجہد کن مقاصد کو حاصل کرنے کیلیے کی تھی؟ کیا ہم نے وہ مقاصد پا لیے ؟ کیا ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے؟ آزادی کے اس روز ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے اپنے آزادی کے مقصد کو کہاں تک پا لیا اور کہاں تک کھو دیا؟ہمارے بزرگوں کا مشن تھا اعلیٰ دینی مقاصد کے حصول کیلیے ہمیں آزاد وطن لے کر دینا۔وہ تو اپنے مشن میں کامیاب ہوئے اور بغیر کسی جنگ و جدل کے محدود مدت میں ہمیں آزاد ملک حاصل کر کے دے دیا۔آگے ہمارا پوری قوم کی ذمہ داری اور فرض تھااس راہ پر چلنا، ان مقاصد کو حاصل کرنا جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے قربانیاں دیں۔ مگر ہم ان مقاصد کو پانے میں بری طرح ناکام رہے۔ ہم بحیثیت مجموعی ایک ناکام و نامراد قوم ہیں ۔ستر سال گذر جانے کے باوجود ابھی تک ہم اپنے مقصد آزادی کو نہیں پا سکے بلکہ دن بدن اس سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہمارے دلوں سے مقصد آزادی کا احساس بھی ختم ہو گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اس زور جشن منانا چاہیے یا ناکامی پر سوگ؟ہم کس سے اور کس لیے آزاد ہوئے؟ بظاہر ہماری جو آزادی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے آزاد ہونے کے بعدخود کو اخلاقیات کی قید سے آزاد کر دیا۔ ہم دین و مذہب کی پابندی کی بجائے اس کی قید سے آزاد ہو گئے اور حدود اللہ کو اعلانیہ توڑنا شروع کر دیا۔ ہم اپنے دین اور صوم و صلوۃ کی پابندی سے بھی آزاد ہو گئے۔ ہم نے ہندؤوں سے آزاد ی حاصل کرنے کے بعد اپنے ضمیر کو مغرب کی غلامی میں دے دیا۔ ہم نے مذہب کی بجائے سیکولر اور لبرل جماعتوں کو مضبوط کیا۔ کیا ہمارا آزادی پانے کا یہی مقصد تھا؟ اخلاقیات اور دین کی قید سے آزاد ہونا تھا؟ حدود اللہ کو توڑناتھا؟ کیا ہماری آزادی کا مقصد قرآن و سنت سے منہ موڑکر پس پشت ڈال دینا تھا؟ کیا ہمارا آزادی کا مقصد ان مقاصد کو پانا تھا یا ان کی قید سے آزاد ہونا تھا؟

بد قسمتی سے آج کے ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں اخلاقیات، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی نہیں پائے جاتے جس کی اللہ عزوجل اور نبی کریم ﷺ نے تلقین فرمائی، یہی وجہ ہے کہ ہم قوموں میں رسواء اور زوال پذیر ہو رہے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ مجموعی بگاڑ کا شکار ہے اور یہ بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ دین جس کی حقیقی پہچان اخلاقیات کا عظیم باب تھا اور جس کی تکمیل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے ماننے والے اخلاقیات اور معاملات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، جیل خانہ جات میں جگہ تنگ پڑرہی ہے، گلی گلی، محلہ محلہ میں جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، فساد، کینہ ، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، تمہ، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سی وہ اخلاقی مرض اور بیماری ہے جو ہم میں نہیں پائی جاتی ۔ خود غرضی اور بد عنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو اس ملک میں زوروں پر نہیں ؟ تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہرے ہیں جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ ہندؤستان کے مسلمان آج بھی دینی پابندی اور اخلاقیات کے اعتبار سے ہم سے کہیں بہتر ہیں ۔ یہ ہم جیسے ایک اسلامی ملک کے باسیوں کے لیے شرم اور غیرت میں ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ہم نے آزادی کو دین اور اخلاقیات کی قید سے آزاد ہونا سمجھ کر اس کو ترک کر دیا۔کیا یہ ہم نے ملک دین کے نام پر حاصل کر کے دین کے ساتھ دھوکا اور فراڈ نہیں کیا؟

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہوں یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کمزورپڑھ چکی ہیں ۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں ۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے قومی مزاج میں داخل ہوچکے ہیں ۔یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے۔اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ اخلاقی بگاڑ اور رواداری و معاملات کی بیخ کنی جو کسی بھی اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو ملتی ہے وہ شائد ہی دنیا کے کسی دوسرے معاشرہ میں پائی جاتی ہو۔

ہم اخلاقی طور پر اس حد تک پست ہو چکے، اخلاقی بیماریو ں کامرض ہم میں اس حد تک سریت کر چکا ہے کہ ہم مرض جاننے کے باوجود اس کا یقین کرنے اور اپنی اصل اور ہمہ گیر بیماری کا اعتراف کرنے سے قاصر ہیں ۔ ہر کوئی خود کو بڑا مومن و متقی تصور کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ معاشرہ میں جو جو بھی مرض ہے، جو جو بھی خرابیاں پائی جاتی ہیں وہ اس میں نہیں معاشرہ کے تمام دوسرے افراد میں ہیں ۔ ہم اس قدر پست، بے شرم و بے غیرت ہو چکے کہ دوسری اقوام کی خرابیوں کا ذکر کرتے تھکتے نہیں اور اپنی خرابیوں پر زبان کھولنا تک گوارا نہیں کرتے۔ہم خود مردہ قوم ہو کر بھی ’’ہم زندہ قوم ہیں ‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے شرماتے نہیں ۔ ہم بحیثیت قوم سیاست زدہ ہو چکے ہیں اور دنیا کا ہر فرد جانتا ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست منافقت کا دوسرا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک کے ہر ہر فرد میں منافقت، خود غرضی ، مفاد پرستی کا عفریت بھرا پڑا ہے۔آدمی کا ظاہر کچھ ہے اور باطن کچھ، منہ پے تو کچھ اورہے اور پیٹھ پیچھے کچھ اور۔یہی وجہ ہے کہ ہماری قوم انسان نما جانوروں اور وحشی درندوں کا ریوڑ بنتی چلی جا رہی ہے، جہاں چار سو انسانوں کے روپ میں خونخوار درندے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ ملک میں بے عمل واعظ اور مبلغین کی تو بہتات ہے لیکن مصلح کوئی نہیں ۔ سیاستدان ہزاروں ہیں مگر لیڈر ایک بھی نہیں ، کوئی ایک بھی رہبر نہیں بلکہ سب رہزن ہیں ، سب دوسروں کے حقوق غصب کرنے اور ملکی معیشت کو چھیر پھاڑ کر کھانے وانے وحشی درندے ہیں ۔جھوٹ بولنا، بہتان لگانا، غیبت و چغلی کرنا اور دوسروں کے اچھے کام کو بھی اچھا نہ سمجھنا ان کی فطرت ہے۔ان کی نظر میں ہر وہ کام اچھا ہے جو ان کے ذریعہ سے ہو۔ باقی لوگ جتنے چاہیں اچھے کام کریں وہ اچھے ہو کر بھی اس لیے برے ہیں کہ وہ ان کے ذریعہ سے نہیں ہوئے ، انہیں کرنے والاان کے سوا کوئی اور ہے۔دوسروں کے اچھے کام کی تعریف کرنا ان کے اخلاق و مزاج میں شامل ہی نہیں ۔ چور اور لٹیرے آج محتسب اور نگران و محافظ  بنے پھرتے ہیں ۔

جس ملک اورمعاشرے کے بڑے صاحب علم، حکمران و سیاست دان ، صاحب اختیار و مقتدر طبقہ اخلاق باختہ ہوں ،علمائے دین اخلاقی قدروں سے بے پروا ہو ں ، حکمران اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوں اس معاشرے کی تباہی یقینی ہو جاتی ہے۔یہ وہ بنیادی اسباب ہیں جو ہمارے اخلاقی انحطاط کے پیچے  کارفرما ہیں ۔جب تک ہم ان وجوہات کو دور نہیں کریں گے، اس وقت تک اخلاقی انحطاط کا یہ کینسر ہمیں اندر ہی اندر کھاتا رہے گا اور ایک روز ہمیں کسی بڑی تباہی سے دوچار کردے گا۔

سیاسی تو سیاسی رہے کوئی مذہبی لیڈر بھی لیڈر کہلوانے کا مستحق نہیں اس لیے کہ ان میں فرقہ وارانہ منافقت ،تعصب و کینہ بھرا پڑا ہے۔ سنی سنی کیلیے اچھا ہے ، وہابی وہابی کیلیے، دیوبندی دیوبندی کے اچھا، شیعہ شیعہ کیلیے ، دوسرے سب ان کی نظر میں برے، مفسد، مرتد (دین سے پھیرے ہوئے) اور کافر و مشرک ہیں ، سب کے سب ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے اور ایک دوسرے کی خرابیوں پر پردہ ڈالنے کی بجائے انہیں مزید اچھالنے اورہوا دینے میں مصروف عمل ہیں ، سب دوسروں کے گریبانوں میں جھانک جھانک کر دیکھنے کے عادی ہیں مگر کوئی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کو تیار نہیں ۔ مذہب کا نام لینے والے مذہب فروش تو بہت ہیں مگر خدا کا خوف دلوں میں بٹھانے والے کوئی نہیں ۔ بے شرم دوسروں کو یہ طعنہ دیتے نظر آتے ہیں کہ شرم کرو، حیاء کرو۔جھوٹے سچ کے علمبردار بنے پھرتے ہیں ۔قوم کے غدار حب الوطنی کے سرٹیفیکیٹ بانٹ رہے ہیں ، دولت دین بن گئی ہے۔ ہر کوئی نظام بدلنے میں مگن ہے لیکن انسانوں اور خود کو بدلنے کا کوئی نہیں سوچ رہا۔

تبصرے بند ہیں۔