یہ اسلام کی فتح ہے

مولوی محمد یسین پٹیل فلاحی

 اللہ کا کلمہ ہی سربلند رہے گا۔ یہ علماء کی فتح ہے۔ یہ اقدار کی فتح ہے۔ یہ غیرت ایمانی کی  فتح ہے۔ یہ حریت عقائد کیفتح ہے۔ یہ چادر حیا کی فتح ہے۔ یہ جبہ و دستار کی فتح ہے۔ یہ جہاد کی برکت ہے اور اس کی عظمت کی دلیل ہے۔ اسے افغان میں محصور سمجھنا نادانی ہے۔  جس طرح فتح مکہ کے وقت دونوں طرف عرب تھے مگر فتح اسلام کی ہوئیاور شکست کفر کی۔ اسی طرح دونوں طرف افغان تھے۔ ایک طرف عالمی حمایت یافتہ، لبرل سیکولر اور دنیاوی اسباب سے مالامال افغان اور دوسری طرف قلت تعداد کے باوصف فاقہ مست، بوریہ نشین، کئی دن کی باسی روٹی کھاکر اپنے دین کی  حفاظت پر کمر بستہ مجاھدین اسلام۔ ان کی فتح صرف اور صرف اسلام ہی کی فتح ہے۔ یہ طلوع اسلامہے۔ افق عالم پر اسلام کے تابناک مستقبل کی امید افزا سحرکی رنگین دھنک۔

اور یہ شکست ہے امریکہ اور اس کے حواریوں کی۔ یہ صلیب کی شکست ہے۔ یہ جارحیت کی شکست ہے۔ یہ مادی اسباب کی شکست ہے۔ یہ جمہوریت کی شکست ہے۔ امریکہ نے اپنی ہی صلح سے قدم کھینچ لیے یہ کہہ کر کہ تم اپنےساتھ جمہوریت کا لاحقہ ضرور لگاؤ مگر شہادت کی استقامت کے ذریعہ امارات اسلامی کا گھونٹ پینا پڑا۔

پورا چالیس سالہ جہاد شلوار قمیص اور پگڑی میں لڑا گیا۔ جمہوری راستہ سے آنے کی کوشش میں ٹائی نہیں لگائی۔ نہکسی کی آبرو بے پردہ کی۔ نہ کسی کی برائی برداشت کی۔ یہ مغرب کی بدترین تہذیبی شکست ہے۔ ویت نام میں امریکہجنگ تو ہار گیا تھا مگر اپنے شراب شباب اور جنسی بے راہ روی اور قمار بازی کی تباہ کن روایات چھوڑ گیا۔ جاپانبھی اپنی تمام تر ترقی کے باوجود تہذیبی اور فوجی طور پر سرنگوں رہا۔

مگر اسلام کے مجاہدین نے امریکہ اور اس کے حواریوں کو فوجی، تہذیبی، سیاسی، سماجی ہر سطح پر ذلت آمیز شکستسے دوچار کیا۔  دانشوری کی چادر اوڑھے کچھ لوگ اس فتح کو دھندھلا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ایران کےشیعی انقلاب کو بلاتا مل اسلامی انقلاب قرار دے دیا تھا۔ اور اس کی معقول وجہ بھی تھی کہ اسلام کے کسی بھی فرقہکی باطل کے خلاف جیت اسلام کی ہی جیت قرار پائے گی۔ مگر ایران جمہوری اور شیعہ تر ہوتا چلا گیا اور انقلاب وہیںسمٹ کر رہ گیا۔ طالبان کوئی ایک قبیلہ یا ٹولہ نہیں بلکہ افغانستان کے تمام اسلام پسندوں کے علماء کا نمائندہ گروہہے۔ نیز پینتالیس سالہ افغان جہاد میں عالم اسلام یہاں تک کہ ہندی مسلمانوں نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے۔ اسی کیبرکت ہے کہ پورے عالم میں جہاد اسلامی کے شرارے یہیں سے پھوٹے ہیں۔

 آج طالبان پر جن حوالوں سے الزام تراشیاں اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں یہ وہی الزامات ہیں جومستشرقین خود اسلام کے حوالہ سے پھیلاتے ہیں۔ عورتوں کے حقوق، ذمیوں یا اقلیتوں کے حقوق، وحشت وبربریت، مذہبی تشدد اور عدم رواداری، جدید دنیا سے نا ہم آہنگی وغیرہ وغیرہ۔ تو واضح رہے کہ نظریاتی طور پر تو علماءاسلام نے بہت پہلے ان ہفوات کو دلائل سے رد کر دیا تھا اور عملی سطح پر طالبان اس کا رد بن کر آئے ہیں۔ پچھلےپانچ سالہ دور میں ان خاک نشینوں نے جس پرامن افغان کی تعمیر کی تھی اسی کا شاخسانہ ہے کہ محض پچھتر ہزارطالبان کی پشت پناہ پوری افغان قوم بن گئی۔

 امریکہ اور اس کے حواری تو اس میں داخل ہوتے ہی شکست سے دوچار ہو چکے تھے۔ یہ نوشتۂ دیوار مجھ جیسے کم فہمنے بھی پڑھ لیا تھا۔ جنوری ۲۰۰۲ء میں متحدہ امارات میں لوگوں سے کھچاکھچ بھرے ہال میں میں نے کہا تھا (اورجس کے درجنوں گواہ ابھی زندہ ہیں)کہ امریکہ کو ہوائی دبدبہ حاصل ہے۔ مگر زمین پر قبضہ کرنے کے لیے اسے زمین پراترنا پڑے گا۔ اور زمینی صورتحال پورے طور سے طالبان کے حق میں ہے۔ امریکہ بگرام ہوائی اڈے سے باہر بھینہیں نکل پائے گا۔ بالآخر چیونٹی کے پر اس کی موت پر ہی منتج ہوئے۔ کچھ عرصہ پہلے قطر میں طالبان کا آفس کھولاہی اس لیے گیا تھا کہ میدان جنگ کی شکست کو مذاکرات کی میز پر جیت لیا جا سکے۔ مگروہاں ان کا پالا کسی مکتبیمولوی کے بجائے بیاباں کی فاروقی و سلمانی سے پڑا اور بالآخر اپنی شرائط پر طالبان نے صلح کی۔ فللہ الحمد و المنة

 کچھ لوگ مغربی آقاؤں کا دم چھلا بن کر وہاں گئے تھے۔ مگر اپنے آقا کی بدترین تذلیل دیکھنے کے بعد بھی ان کےدماغوں کی ٹیڑھ درست نہیں ہوئی اور وہ اور ان کا میڈیا اپنے خلاف فرد جرم کو مضبوط تر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ بہت بلند بانگ انداز میں طالبان یہ پیغام دنیا کو دے چکے ہیں کہ اپنے حقوق کے لیے نعرےبازی اور سنگ باری و جلسہ و جلوس کے مقابلہ میں زیادہ ٹھوس، پختہ اور پر عزیمت راستہ جہاد اسلامی کا ہے۔ پہلےسے موجود سلگتے ہوئے مظلوم دلوں تک اس لو کی ایک چنگاری بھی باطل کو خس و خاشاک میں تبدیل کرنے کے لیےکافی ہوگی۔

 اسی کی طرف علامہ اقبال رحمة اللہ علیہ نے یوں اشارہ کیا تھا:

 رشی کے فاقہ سے ٹوٹا نہ برہمن کا طلسم

 عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کار بے بنیاد

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔