ابا جان  اور آپا جان  کے اسیر یوگی ادیتیہ ناتھ

ڈاکٹر سلیم خان

یوگی جی ذرائع ابلاغ پر کس طرح چھا جاتے ہیں اس کا تازہ نمونہ ان نے ’ابا جان ‘ والے بیان سے سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ اگر 2017 سے قبل ترقی کے کام کرتے تو ’ابا جان کی یاد نہیں آتی‘۔ یہ اشارہ اکھلیش اور ملائم سنگھ کی طرف تھا حالانکہ ابھی حال میں اترپردیش بی جے پی کے صدر سوتنتر دیو سنگھ نے ملائم سنگھ سے ملاقات کی۔ اس کا مطلب ہے اگر یوگی جی نے ترقی کے کام کیے ہوتے تو  پارٹی صدر پرملائم سنگھ سے ملنے  نوبت  نہیں آتی۔ اب یوگی نے اپنی ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے کی خاطر اشتہار دیا  تو اس میں ایک پُل کی تصویر لگا ئی ۔ پچھلے پانچ سالوں میں اگر کوئی ڈھنگ کا پُل بناتے تو اس کی  تصویر لگادیتے لیکن ایسا تو ہوا نہیں   اسلیے مغربی بنگال  کی فوٹو چرا کر  لگادی یعنی  دوسروں کو ابا جان کا طعنہ دینے والا خود آپا جان کی ’شرن‘ میں پہنچ گیااور یہ طے کردیا کہ انتخابی مہم میں یہ نہیں بتایا جائے گا کہ پچھلے پانچ سال میں کیا ہوا ؟ بلکہ یہ کہانی سنائی جائے گی کہ اس سے پہلے کیا نہیں ہوا؟

قومی ذرائع ابلاغ میں یوگی ادیتیہ ناتھ اور ممتا بنرجی دو ایسے وزرائے اعلیٰ ہیں جن کا دبدبہ  سب سے زیادہ  رہتا ہے۔  اس کی کئی وجوہات ہیں۔ اول تو یہ کہ بی جے پی نے یوگی کو اپنا اسٹار پرچارک (مشتہر) بنارکھا ہے اس لیے ملک بھر میں ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور وہ اپنے متنازع مسلم دشمن بیانات سے خبروں میں آجاتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ کو  ان کی باتیں اچھالنے میں مزہ آتا ہے اور اس  کا بہترین معاوضہ بھی ملتا ہے۔ اسی کے ساتھ ممتا بنرجی چونکہ بی جے پی کا اولین ہدف ہیں اس لیے ان کو اپنی مدافعت میں سیدھے مودی پر وار کرنا پڑتا ہے۔ ممتا اگر اس معاملے میں تھوڑی بھی ڈھلائی برتیں گی تو کمل والی مقدس گائے ٹی ایم سی کے پتوں بنا چبائے نگل جائے گی۔ خیر دونوں کی اپنی اپنی سیاسی مجبوریا ں ہیں  ایسے میں  مودی بھکت میڈیا نندی گرام میں ممتا کی شکست کو خوب اچھالتا ہے جو ایک حقیقت ہے لیکن بھول جاتا ہے کہ یوگی اور ان کے نائب موریہ  اپنی خالی کردہ پارلیمانی سیٹ پر  بھی   بی جے پی امیدواروں کو کامیاب  نہیں کرسکے۔ یہی  وجہ ہے  کہ بزدل یوگی نےاور کے نائیبین  اسمبلی  انتخاب لڑنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ وہ  تینوں   قانون ساز کونسل کے چور دروازے سے اقتدار پر قابض  ہیں۔ اس کے برعکس ممتا بنرجی نے انتخاب لڑنے کے لیے کمر کس لی ہے اور وہ میدان میں ہیں۔

نندی گرام بنیادی طور پر شبھیندو ادھیکاری کا ہی حلقۂ انتخاب تھا جہاں سے وہ ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوتے رہے ہیں۔ اس بار جب انہوں نے بغاوت کردی تو  ممتا بنرجی نے ان کو گھر میں گھس کر مارنے کی کوشش کی۔ اس  جارحانہ حکمت عملی کا   ان کو ریاستی سطح پر تو بہت فائدہ ملا مگر وہ نندی گرام میں1956 ووٹ   سے ہار گئیں۔ اس کے بعد بی جے پی نے کوشش کی کہ کورونا کے بہانے ضمنی انتخاب کو 6 ماہ سے زیادہ ملتوی کرکے ممتا بنرجی کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جائے کیونکہ مغربی بنگال میں قانون ساز کونسل نہیں ہے لیکن اس میں کا میابی نہیں ہوئی کیونکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے   بھتیجے ابھیشیک بنرجی کو پارٹی میں نمبر دو یعنی جنرل سکریٹری  اور اپنا سیاسی وارث بنادیا۔ ایسے ممتا بنرجی کو لاحق خطرہ ختم ہوگیا اس لیے الیکشن کمیشن  نے مغربی بنگال کی 3 نشستوں پر اسمبلی کے ضمنی انتخابات کااعلان کردیا۔ ان تینوں نشستوں پر 30 ستمبر کو الیکشن ہوگا  اور نتیجہ 3 ؍اکتوبر کو آئے گا۔

مغربی بنگال میں شمشیر گنج اور جنگی پور کی نشستیں  تو خیر اراکین اسمبلی  کی موت کے سبب خالی ہوئیں  مگر  بھوانی پور سے ترنمول کے ایم ایل اے سووندیب چٹوپادھیائے نے نشست خالی کی تاکہ ممتا بنرجی وہاں  سے الیکشن لڑیں۔بی جے پی دلی خواہش تو یہ ہے کہ ممتا بنرجی کو بھوانی پور سے بھی ہرایا جائے لیکن اس کے لیے اس کا کوئی رہنما  تیار نہیں ہوا۔  بی جے پی والوں  کو وہاں پر ضمانت ضبط ہونے کا خطرہ ہے اس لیے وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اپنی کوشش میں  اعلیٰ کمان نے  متھن چکرورتی  کو تیار کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے بھی معذرت کرلی  تو مجبوراً ایڈوکیٹ پرینکا ٹبریوال کو  بلی کا بکرا بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔  جس پرینکا کو میدان میں اتارا  گیا ہےوہ بیچاری پچھلا اسمبلی کا انتخاب  ہار چکی ہیں لیکن ممتا کی طرح 1956 ووٹ سے نہیں بلکہ  ان کو اینٹلی حلقۂ انتخاب میں  ٹی ایم سی  کے امیدوار نے58,257 کے فرق سے ہرایا تھا۔ کولکاتہ میونسپل کارپوریشن  کے الیکشن میں  وارڈ نمبر 58 سے جو پرینکا   ٹی ایم سی کےسوپن سمادار کو بھی نہیں ہرا سکیں وہ ممتا کو کیا شکست دیں گی۔ اس طرح بی جے پی نے تو اپنی ہار مان لی ہے۔ کانگریس  نےممتاکے خلاف اپنے  الحاق میں شامل سی پی ایم امیدوار کی تشہیرنہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس لیے اب  ہار جیت کے بجائے ووٹ کے فرق ماہرین ِ سیاست کی نگاہ مرکوز ہوگئی ہے۔

مغربی بنگال میں 34 سال تک دائیں بازو کے اتحاد نے حکومت کی مگر 2011 میں پہلی بار ممتا بنرجی نے کمیونسٹوں کا قلعہ مسمار کر کے  تو بھوانی پور سے  ضمنی انتخاب لڑا اور 54 ہزار ووٹ کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔  پانچ سال حکومت کرنے کے بعد جب وہ  دوبارہ بھوانی پور پہنچیں تو ان کے ووٹ کا فرق 54 ہزار سے گھٹ کر 25 ہزار پر آگیا تھا لیکن اب مودی اور شاہ کی مہربانی سے ہر کوئی یہ توقع کررہا ہے کہ وہ پچاس ہزار سے زیادہ کے فرق سے کامیاب ہوں گی۔ اس کو کہتے ہیں احمق دوست سے دشمن اچھا۔ کل تک  جو دھرم ویر کی  جوڑی بی جے پی کی سب سے زیادہ فائدہ بخش تھی  اب نہایت  نقصان دہ ہوگئی ہے۔ اس حلقہ میں بی جے پی کی ترقی  غیر معمولی تھی کیونکہ جہاں 2011  کے اسمبلی انتخاب میں اسے محض 5078 ملے تھے وہیں 2014 کے قومی انتخاب میں اس کو 47 ہزار ووٹ مل گئے2019 کے قومی انتخاب میں ٹی ایم سی کو اس حلقۂ انتخاب میں صرف 3168 ووٹ کے فرق سے کامیابی ملی۔  کولکاتہ میونسپل الیکشن میں اس حلقہ کا وارڈ 70 بی جے پی جیت چکی ہے۔

ممتا کا گھر  بھوانی پور کے اندر کالی گھاٹ میں ہے۔ امسال (2021) میں یہاں سے ٹی ایم سی کے شوبھن دیب  نے  بی جے پی کے رودرنیل گھوش کو 28 ہزار کے فرق سے ہرایا تھا مگر  ایسا لگتا ہے کہ ممتا وہ ریکارڈ توڑ دیں گی۔ ویسے ممتا کو عار دلانے والے نہیں جانتے کہ ان سے قبل  1967 میں سابق وزیر اعلیٰ  پرفل چندر سین اور2011  میں بدھو دیو بھٹاچاریہ بھی الیکشن ہار چکے ہیں۔ مغربی بنگال میں صوبائی انتخاب سے قبل  ٹی ایم سی چھوڑ  کر بی جے پی کا دامن تھامنے والے مکل رائےکے علاوہ  تین اراکین اسمبلی اور بڑی تعداد میں دیگر رہنما  و کارکنان  گھر  واپسی کر چکے ہیںاور یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہنے والا ہے۔ ابن الوقت سیاستدانوں  نے بی جے پی کی ماحول سازی سے مرعوب ہوکر یہ محسوس کیا کہ  اب مغربی بنگال میں کمل کھلنے ہی والا ہے تو وہ اسمبلی انتخابات سے قبل ترنمول کانگریس چھوڑ بی جے پی میں جانے لگے اور امیت شاہ نے خوش ہوکر اعلان کردیا کہ بہت جلد دیدی اکیلی رہ جائیں گی یعنی ساری ٹی ایم سی ان کا ساتھ چھوڑ دے گی۔

تیسری مرتبہ ممتا بنرجی کی دو تہائی سیٹوں سے زائد پر کامیابی  حاصل کرکے ہوا کا رخ بدل دیا ہے  اور  بی جے پی کے ارکان اسمبلی تک نے  ترنمول کانگریس کا رخ کرنا شروع کردیا۔ بی جے پی کے سابق  قومی نائب صدرمکل رائےسمیت چار  ممبران اسمبلی ترنمول کانگریس میں آچکے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں  نے  یہ چونکا دینے والا دعویٰ بھی  کیا ہے کہ بی جے پی کے 24 ارکان  اسمبلی ان کے رابطے میں ہیں۔ یہ سب بھی اگر کمل کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو ان پر دل بدلی قانون کے تحت کارروائی بھی ممکن نہیں ہوگی اور انہیں اسمبلی سے استعفیٰ دینے کی ضرورت بھی پیش نہیں  آئے گی۔ پچھلے چار ہفتوں  میں مکل رائے کا قریبی سمجھے جانے والےسومن رائے، بسوجیت داس اور تنمے گھوش ترنمول کانگریس میں شامل ہوچکے ہیں۔ اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے  بی جے پی کے رکن  اسمبلی نکھل رنجن ڈے نے کہا کہ اعلیٰ قیادت نے مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات سے پہلے ترنمول لیڈروں کو شامل کرکے غلطی کی ہے۔

نکھل رنجن کا  دعویٰ ہے کہ اگر ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کے رہنماؤں کو شامل نہ کیا جاتا تو پارٹی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی تھی۔ وہ  (موقع پرست) کبھی بھی بی جے پی کے نظریے سے وابستہ نہیں تھے۔ یہ رہنما بی جے پی میں شامل ہوئے تھے کیونکہ وہ اس تاثر سے مرعوب تھے کہ پارٹی مغربی بنگال میں اقتدار میں آئے گی اور بی جے پی  میں انہیں  زیادہ اہمیت دی گئی۔ لیکن اب وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ نکھل رنجن کے اس بیان میں ایک طرف اعلیٰ قیادت یعنی امیت شاہ اور جے پی نڈا پر  کھلی تنقید ہے دوسری جانب  اس سے ان ارکان اسمبلی کی توہین بھی ہوئی ہے جو ٹی ایم سی سے بی جے پی میں آئے تھے یعنی اب ان کے نکلنے کا راستہ اور بھی سہل ہوگیا ہے۔ مغربی بنگال میںتو خیر  بی جے پی صوبائی انتخاب بری طرح ہار گئی مگر اس کے سامنے اب اتر پردیش کا   الیکشن ہے۔ وہاں  بھی مغربی بنگال کی طرح  بی جے پی کے اندر مہابھارت چھڑی ہوئی ہے۔ یہ دھرم یدھ  کیا گل کھلاتاہے   یہ  تو وقت ہی بتائے گا۔  مودی اور شاہ کی جوڑی اس سیلِ رواں کو روکنے کے لیے  خوب ہاتھ پیر ماررہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے ؎

روکے سے کہیں حادثۂ وقت رکا ہے

شعلوں سے بچا شہر تو شبنم سے جلا ہے

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا