اترپردیش کی بدلتی سیاست اور اسمبلی انتخابات

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

 اترپردیش میں انتخابات کا بگل بج چکا ہے  سیاسی بساط پر شطرنج بچھ چکی ہے۔ تمام سیا سی جماعتیں اپنے اپنے مہرے بیٹھانے میں مصروف ہیں۔ بی جے پی نے اس بساط پر گھوڑے کی وہی ڈھائی چال چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ اپنے تمام پرانے ہتھکنڈے آزمانے پر آمادہ ہے۔ حسین خواب، وعدے اور جھوٹے پروپیگنڈے پر مذہبی نفرت کا تڑکا۔ کیوں کہ اس کے پاس بتانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ سوائے شہروں کے نام بدلنے، لو جہاد، تبدیلی مذہب کا شوشہ چھوڑنے، مندر مسجد کے تنازعہ کو ہوا دینے، دلتوں، مسلمانوں، کمزوروں اور سرکار کے طریقہ کار پر تنقید کرنے والوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی کرنے کے۔ تعلیم، روزگار، صحت، گورننس کے بارے میں بھی کچھ بتانے لائق نہیں ہے۔ اس لیے وہ اصل مدعوں سے بھٹکانے اور اپنے اندرونی اختلافات سے پار پانے کے لیے فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی فراق میں ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی وہ مذہبی تفریق کی پچ پر لانے کی کوشش کرے گی۔ اگر انتخابات میں مذہبی جنون اور شدت پسندی کو جگہ ملی تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ذاتوں کی بنیاد پر بنی چھوٹی پارٹیوں کو ہوگا۔ انہیں اپنی موجودگی درج کرانا اور وجود کو باقی رکھنا بھی مشکل ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کی مد مقابل سماج وادی پارٹی اپنی سیاسی حکمت عملی کے طور پر بھاجپا کو اس کے انتخابی وعدوں پر گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ اس وقت اکھلیش یادو کی نظر اپنے روایتی ووٹوں (مسلم یادو) کے علاوہ دلت اور ہندو اعلیٰ ذات کی حمایت بٹورنے پر مرکوز ہے۔ چھوٹی پارٹیوں سے گٹھ بندھن ان کے اسی منصوبہ کا حصہ ہے۔ وہ یا ان کی پارٹی زمینی سطح پر کام کرتے ہوئے دکھائی نہیں دے رہے۔ یہاں تک کہ جب لکھیم پور کھیری میں پارٹی کارکن کی ساڑی کھینچنے کی کوشش کی گئی تب بھی وہ بروقت وہاں نہیں پہنچے۔ پرینکا گاندھی نے سب سے پہلے لکھیم پور پہنچ کر متاثرہ سے ملاقات کی تھی۔ اکھلیش یادو سوشل میڈیا اور کمیونی کیشن کے دوسرے ذرائع کو استعمال کر کے عوام کو پارٹی سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہیں مایاوتی برہمن ووٹوں کے ساتھ مسلمانوں کو رجھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کیوں کہ ان کا اپنا دلت پسماندہ ووٹ بینک کھسک چکا ہے۔ بی جے پی نے 2017 میں غیر جاٹوو دلت اور غیر یادو پچھڑوں کو اپنے ساتھ ملا کر مایاوتی کے سوشل انجینئرنگ کے فارمولے کو اپنے حق میں استعمال کیا تھا۔ مایاوتی کے بی جے پی کی بی ٹیم کے طور پر کام کرنے کی وجہ سے بھی عوام میں ان کی قبولیت کم ہوئی ہے۔

عام آدمی پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین کے میدان میں اترنے سے نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی پریشانی بڑھ سکتی ہے۔ مجلس کے صدر اسد الدین اویسی فیض آباد سے اپنی انتخابی مہم کی ابتدا کر چکے ہیں۔ کئی حضرات کا خیال ہے کہ مجلس کی وجہ سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اویسی کے الیکشن میں آنے سے سابق میں بی جے پی کو ایک بھی سیٹ کا فائدہ نہیں ہوا ہے۔ البتہ الیکشن میں ان کی موجودگی سے مسلمانوں اور ان کے مسائل کا ذکر کرنا سیکولر پارٹیوں کی مجبوری بن گیا۔ گزشتہ چند سالوں میں ملک کا ماحول ایسا بن گیا یا بنا دیا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کا ووٹ تو حاصل کرنا چاہتی ہیں لیکن ان کا نام لینے یا ان کے ساتھ دیکھائی دینے سے کتراتی ہیں۔ سیاست دانوں کا یہ رویہ کسی بھی طرح جمہوریت کے حق میں نہیں ہے۔ رہا عام آدمی پارٹی کا معاملہ تو وہ بھی اپنی ترنگا یاترا ایودھیا سے شروع کرنے والی ہے۔ اس نے اترپردیش کی 403 سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں شیو پال یادو کی پارٹی بھی ووٹ کٹوا پارٹیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔ جتنی زیادہ پارٹیاں میدان میں ہوں گی بی جے پی کے لیے الیکشن جیتنا اتنا ہی آسان ہوگا۔

 کانگریس اترپردیش میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر وہ پرینکا گاندھی یا کسی برہمن کو وزیر اعلیٰ کا چہرہ بنائے تو اس کے لیے امکانات وسیع ہو سکتے ہیں۔ کووڈ کے دوران جب بی جے پی حکومت اور اس کے لیڈران کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔ اس وقت صرف کانگریس اور اس کے کارکنان عوام کے درمیان کام کر رہے تھے۔ اناؤ کا معاملہ ہو یا ہاتھرس کا، لکھیم پور میں خاتون کی ساڑی کھینچنے کا واقع ہو یا کانپور میں غریب رکشہ والے کی پٹائی۔ کانگریس ہی آواز اٹھاتی اور انصاف کے لیے لڑتی دکھائی دی۔ اس کے لیے کانگریس کے کارکنان پر مقدمات قائم ہوئے اور انہیں گرفتاری دینی پڑی۔ یہاں تک کہ ممبر اسمبلی اور ریاستی صدر للو سنگھ کو بھی کئی دن جیل میں گزارنے پڑے۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پنچایت الیکشن کے نتیجے عام طور پر حکومت کے حق میں جاتے ہیں۔ لیکن یوپی پنچایت چناؤ ميں بی جے پی کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے عوام کی حکومت سے ناراضگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کانگریس مضبوطی سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کرکے اس کا فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ اگر چھوٹی پارٹیوں کا کانگریس کو اعتماد حاصل ہو جائے تو یوپی کا سیاسی نقشہ بدل سکتا ہے۔ اترپردیش میں برہمن، مسلم اور دلت ووٹ اس کی بنیاد رہے ہیں۔ دلتوں کے لیے ادت راج جیسے لیڈران کو آگے لایا جائے۔ اور مسلمانوں کے درمیان کام کر رہی جماعتوں کو مسلمانوں کا بھروسہ جیتنے کے لیے قریب لانا چاہیے۔ اس سے کانگریس اپنا کھویا ہوا وقار واپس پا سکتی ہے۔ مگر وہ پولیٹیکل ٹورازم سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ موجودہ حالات میں اس سے کام چلنے والا نہیں ہے۔

ریاست میں قریب 20 فیصد مسلم ووٹ ہیں لیکن اسمبلی میں ان کی نمائندگی صرف 5.9 فیصد یعنی 24 ممبران۔ برسراقتدار جماعت بی جے پی نے 2017 میں کسی ایک بھی مسلمان کو اپنا امیدوار نہیں بنایا تھا۔ البتہ ودھان پریشد میں دو مسلمانوں محسن رضا اور بککل نواب کو نامزد کیا تھا۔ اسمبلی میں مسلمانوں کی سب سے زیادہ نمائندگی 2012 میں 17.1 فیصد تھی۔ اکثریت وادی سوچ کی حامی سیاسی جماعتوں نے مسلم ووٹ کے بغیر الیکشن جیتنے کی پالیسی اپنائی۔ اس طرح مسلمانوں کو سیاسی طور پر حاشیہ پر دھکیل دیا گیا۔ صورتحال یہ ہے کہ مسلمان اس وقت جائز بات کہنے سے بھی بچ رہے ہیں۔ یہ رجحان صحت مند جمہوریت کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اس کیفیت میں اگر کوئی سیاسی جماعت ان کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی تو اس کا فائدہ اسد الدین اویسی کو ملے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمان اور دوسرے نظر انداز کئے گئے طبقات مل کر آئندہ کوئی سیاسی طاقت بن جائیں۔

اگلے سال ہونے والے اسمبلی الیکشن میں کسان بی جے پی کے راستہ کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ ان کے مسئلے پر حکمراں جماعت سنجیدہ معلوم نہیں ہوتی۔ جبکہ کسانوں نے مغربی بنگال کے انتخاب میں بھی بی جے پی کے دعووں اور وعدوں کی ہوا نکالی تھی۔ یوپی کے مظفر نگر کی مہاپنچایت میں جس طرح لوگ جٹے اور کسانوں نے قومی ایکتا کا جو پیغام دیا۔ وہ فرقہ وارانہ سیاست کے منھ پر کالک پوتنے جیسا ہے۔ کسان زرعی قوانین کے نقصانات گناتے ہوئے مہنگائی، غربت، بھک مری، بے روزگاری، صحت کی سہولیات کی بدحالی، کارپوریٹ کے ذریعہ ملک کے اثاثوں کی لوٹ اور حکومت کی ناکامی پر بات کر رہے ہیں۔ کسانوں کی آواز دور دراز کے گاؤں تک پہنچ رہی ہے۔ جو کسان اس احتجاج کا حصہ نہیں بن پا رہے وہ بھی یہ سوچنے کو مجبور ہیں کہ جب مالدار بڑی بڑی گاڑیوں میں چلنے والے کسان پریشان ہیں تو ضرور ان قوانین میں کچھ ایسا ہے جو ان سے ان کی زمین چھین لے گا۔ اگر کسانوں کی آواز شہر کے متوسط طبقہ تک پہنچ گئی تو پھر بی جے پی کا دھرم کا منتر کسی سماجی مرض کا مداوا نہیں بن سکے گا۔ اترپردیش کی بدلی ہوئی سیاسی فضا میں دیکھنا یہ ہے کہ کون عوام کے قریب پہنچ پاتا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں وہی کامیاب ہوگا جس کا ایجنڈا عوام کی ضرورتوں کا عکّاس ہوگا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔