اقتدار کی چربی

ڈاکٹر سلیم خان

 مودی جی کا مول منتر یہ ہے کہ ’جب بھی چناو آتے ہیں ،چکر تبھی  لگاتے ہیں ‘۔ وزیراعظم کی ڈائری میں تمام صوبائی انتخابات کی تاریخوں پر لال نشان پڑے ہوئے ہیں اس لیے کبھی ان  پر گجرات پہ گجرات تو کبھی پنجاب پہ پنجاب کے دورے پڑتے ہیں۔ فی الحال کرناٹک کی مہم پیش نظر ہے۔ وہاں ایک  تقریر میں انہوں نے اپنی ترجیحات کو انگریزی لفظ ٹاپ’TOP‘ سے منسوب کیا تھا۔ ٹا پ یعنی ٹوماٹو، اونین اور پوٹاٹو(ٹماٹر، پیاز اور آلو)۔ فی الحال بی جے پی والوں کو ٹماٹر کے رس کی بہت ضرورت ہے اس لیے کہ یہ بدن کی چربی کو پگھلاتا ہے۔ بی جے پی کے دماغ میں فی الحال اقتدار کی چربی چڑھ گئی ہے۔ پارٹی کے صدر  امیت شاہ  نے کرناٹک کے شہر  کلبرگی میں  ۲۶ فروری کو اخباری کانفرنس میں طلاق ثلاثہ کا حوالہ دیتے کہا اس مسئلہ پر سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا ہے، بی جے پی اس کا لحاظ کرتے ہوئے ضروری قانون  لائے گی۔ اس مسئلہ پر پارٹی میں کوئی الجھن نہیں ہے۔ انہوں نے  یہ بھی بتایا کہ مودی کے زیرقیادت بی جے پی حکومت خواتین کو مساوی اختیارات دینے او ر ان کے حقوق کی فراہمی کے لئے پابند ہے۔

زعفرانی پریوار کے نزدیک خواتین کے حقوق کیسے فراہم کیے جاتے ہیں اس عملی نمونہ  اسی دن بی جے پی کے رہنما رام کرشنا اپا نے نارتھ بنگلورو کے اندر کاناہالی علاقے کے ایک اسکول میں پیش کیا۔ یہ قرض  لین دین کا معاملہ تھا۔ پولیس کے مطابق رام کرشنا اپا نے قرض کی عدم ادائیگی پر اسکول کی  صدر مدرس محترمہ آشا کے ساتھ بدسلوکی کی۔ شریمتی آشا  ایک کینڈرگارٹن اسکول میں زیر ملازمت  ہیں۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کی فیس ادا کرنے کے لیے ملزم سے ۷۰ ہزارروپئے کی رقم سود پر  بطور قرض حاصل کی تھی۔ وہ بیچاری سود تو ادا کرتی رہی  مگر اصل  نہیں ادا کرپائی اس لیے بی جے پی یوا مورچہ کے مقامی  صدر جناردھن کے باپ نے کالی گلوچ کے بعد   اسے زدوکوب کرنا شروع کردیا۔ جناردھن کو  مقامی رکن اسمبلی وشواناتھ کا قریبی مانا جاتا ہے۔ خیر سے یہ پورا واقعہ اسکول میں لگے سی سی ٹی وی کیمرہ میں قید ہوگیاورنہ جناردھن کہہ دیتا میرے والد  تو قرض ادا کرنے گئے تھے۔ وہ کانگریسی عورت سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے  جھوٹا الزام لگا رہی ہے۔ مودی راج کا طرۂ امتیاز یہ ہے کہ نیرو مودی جیسے ہزاروں کروڈ لے کر ملک سے فرار ہوجاتے ہیں اور پرنسپل آشا کو ۷۰ ہزار کی ادائیگی میں تاخیر پر کمر بند سے مارا جاتا ہے۔ یہ ہے خواتین کیلئے  زعفرانی مساوی حقوق۔

کرناٹک کے اندر۵ ماہ قبل معروف بیباک صحافیہ گوری لنکیش کو قتل کردیا گیا  تھا۔ اس سلسلے میں ہندو وادی تنظیمی ں شک کے دائرے میں تھیں۔ اس معاملے میں اب  ہندو یوا سینا کے کیٹی نوین کمار عرف ہوتّے مانجا ناکو  ایس آئی ٹی نے گرفتار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق شدت پسند ہندو تنظیم سے وابستہ  نوین کمار گوری لنکیش سے ہندو دیوی دیوتاؤں کی بے حرمتی کو لیکر کافی ناراض تھا۔ اس نے ہی دو دیگر ملزمین ابھئے اور اُنیّ کو نشانہ بازی  کی تربیت  دی تھی۔ وہ غیر قانونی ہتھیار خریدنے کے لئے ممبئی اور پونے جایا کرتا تھا۔ اطلاعات کے مطابق نوین نے کئی ملزمین اور شدت پسند تنظیموں کو ہتھیار بیچے ہیں اس لیے اگر  وہ سیدھے طور پر گوری لنکیش کے قتل میں شامل  نہ ہو تب بھی اسی نے اصل قاتلوں کو ہتھیار دستیاب کرائے تھے۔ گوری لنکیش کے گھر کے باہر لگے سی سی ٹی وی کیمرے میں قید قاتلوں میں سے ایک نوین کمار سے مشابہ نظر آتا ہے۔اس کے پاس سے ایک پوائنٹ ۳۲بور کی رائفل اور ۱۵زندہ کارتوس بھی برآمد کئے گئے۔ ہندوتواوادیوں کے ذریعہ خواتین کے ساتھ مساوی سلوک کے ناٹک کا کرناٹک میں دوسرا نمونہ ہے.

بھارتیہ جنتا پارٹی کی خر مستی کا شکار خواتین کے ساتھ ساتھ ان کے نونہال بچے بھی ہورہے ہیں۔  اس کا بھیانک نمونہ ریاست  بہار میں سامنے آیا جہاں بی جے پی اقتدار میں حصے دار ہے۔ مظفر پور ضلع میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما  منوج بیٹھا نے گزشتہ ہفتہ  اپنی  تیز رفتار بولیرو سے نو بچوں کو کچل کر ہلاک کردیا۔ یہ حادثہ اتنا بھیانک تھا کہ کچھ بچوں کی لاشیں پیڑ کے اوپر لٹک گئیں۔ اس  کے علاوہ کئی  طلباء زخمی بھی ہوے۔ اتنے بڑے سانحہ کے بعد سفاک مجرم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا اور کئی دنوں کے بعد خود کو پولس کے سپرد کیا لیکن اسے نتیش انتظامیہ نے  جیل  بھیجنے کے بجائے اسپتال میں آرام کرنے کے لیے روانہ کردیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ  بہار میں فی الحال  شراب بندی اور یہ وحشی شراب کے نشے میں دھت گاڑی چلا رہا تھا۔ ضمیر کی آواز پر بی جے پی  کی گود میں بیٹھنے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار کا ضمیر شاید پاکستان  بھیج دیا گیا ہے۔ بہار کے بی جے پی رہنما  گری راج سنگھ نے مودی کے سارے مخالفین کو پاکستان بھیجنے کا نعرہ لگایا تھا جس میں نتیش کمار بھی شامل تھے لیکن چونکہ اب وہ سنگھ پریوار میں شامل ہوگئے ہیں اس لیے ان کے ضمیر کو جو رکاوٹ پیدا کرسکتا ہے بیف کے ساتھ ملک کے باہر برآمد کردیا گیا ہے۔

بہار سے متصل جھارکھنڈ میں بھی  بی جے پی  رہنما کے ذریعہ ۶ ماہ قبل اس طرح کی سفاکی کا مظاہرہ ہوا تھا۔ راج گڑھ کے مانو  گاوں میں بیف لے جانے کے شک میں مبینہ طور پر ۵۵ سالہ علیم الدین عرف اصغرعلی کوہجومی تشدد میں بے رحمی کے ساتھ ہلاک کردیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی  پولیس نے ایک بی جے پی لیڈر نتانند ماہتو کو گرفتار کرلیا تھا۔ رام گڑہ کے پولیس افسر کوشل کشور نے انکشاف کیا تھا کہ اصل ملزم ماہتو ویڈیو میں علیم الدین کو لاٹھیوں سے پیٹتا دکھائی دے رہا ہے اور اس  نے عدالت میں خودسپردگی کی ہے۔ اس واقعہ کا ایک ویڈیو وائیرل ہونے کے بعد پولیس نے چار لوگوں کو گرفتار کیا تھا ان میں سے ایک   اے بی وی پی کا  کارکن ہے۔ زعفرانی کارکنوں کی گرفتاری پر بی جے پی صوبائی  میڈیا کے انچارج شیوپوجن پاٹھک نے پلہّ جھاڑتے ہوے  کہا تھا کہ پارٹی کسی کی حمایت نہیں کرتی لیکن  تمام ملزمین کے ساتھ شفاف طریقے سے مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتی ہے۔ وزیر اعلی ٰ نے بھی اس ضمن میں پولیس کو ہدایت دی  تھی مگر ان لوگوں کے پاکھنڈی زبان جمع خرچ کا خاطر خواہ اثر نہیں ہوتا اس لیے کہ کسی مجرم کو سزا نہیں سنائی  جاتی۔ ہندوستانی  عوام  کے سامنے بار بار زعفرانیوں کا بھیانک چہرہ آتا ہے لیکن ان پر بھی اس کا کوئی خاص اثر  نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کے نزدیک    ذاتی مفادات، ذات برادری اور نفرت و عناد ہی  سب سے زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ کون جانے  عا م لوگوں  کا ضمیر کب جاگے گا؟ اور وہ سنگھیوں  کو سبق سکھا کر ان کے اقتدار کا نشہ اتاریں گے؟ملک کے باشعور طبقہ  حالات کی یکسانیت سے اوب چکا  ہے اس  کی قلبی  کیفیت  اس شعر کی مانند ہے کہ ؎

وہی فسردہ سا رنگ محفل وہی ترا ایک عام جلوہ 

  مری نگاہوں میں بار سا تھا مری نگاہوں میں بار سا ہے

تبصرے بند ہیں۔