الیکشن کی آہٹ، ہوا بدلتی سیاست

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

ملک یوں تو گزشتہ پانچ سالوں سے حالت الیکشن میں ہے۔ ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا، جب عوام نے چین کی سانس لی ہو۔ انتخاب صوبائی رہے ہوں یا بلدیاتی، میڈیا اور سوشل میڈیا نے ملک کو چناؤ میں الجھا کر رکھا۔ لوک سبھا انتخاب کی آہٹ کے ساتھ ہی وفاداریاں بدلنے اور پارٹیوں کی سودے بازی کا کھیل شروع ہو گیا ہے، جس سے سیاسی فضاء کے پلٹنے کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ مودی حکومت کی میقات کے آخری ریاستی انتخابات میں لگ جانے والے زوردار جھٹکے سے ایک طرف مودی میجک کے کم ہونے کا احساس گہرا ہوا ہے تو وہیں دوسری طرف بھاجپا کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے ہیں۔ اس کے کئی اشارے سامنے آ چکے ہیں۔ ان میں سے پہلا ثبوت بہار میں سیٹوں کے بٹوارے کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ مودی۔ شاہ کی بی جے پی جسے کل تک اپنے ساتھی جماعتوں کی بات تک سننا گوارا نہیں تھا، اس نے سیٹوں کے بٹوارے اور اس کے اعلان میں اتنی جلدی کیوں کی؟۔ اس سے بھاجپا کی بے چینی کا بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

بر سرِ اقتدار اتحاد میں اندرونی کھینچ تان اور تناؤ گجرات الیکشن سے پہلے ہی شروع ہو گیا تھا۔ اس پر قابو پانے کیلئے کمیونل ایجنڈے کو آگے بڑھایا گیا لیکن عوام نے اسے مسترد کردیا۔ خود گجرات میں نریندرمودی کے پوری طاقت لگانے کے باوجود بی جے پی مشکل سے حکومت سازی تک پہنچ پائی۔ گجرات میں مودی کا جادو زوال پذیر ہونے کی علامتیں سامنے آتے ہی سیاسی ہوا کا بہاؤبی جے پی کے خلاف شروع ہوگیا۔ کرناٹک میں بھاجپا کانگریس سے سیدھے مقابلہ میں نہ صرف کامیاب نہیں ہوئی بلکہ جوڑ توڑ اور گورنر کے غیر اخلاقی استعمال کے باوجود حکومت بنانے میں ناکام رہی۔ حکومت کے ساڑھے چار سال ہوتے ہوتے نریندرمودی کے وجے رتھ کے پہیے زمین میں دھنسنے لگے۔ اس پر مقامی مسائل سے صرف نظر کرنا اور وعدوں کو بھول جانا بھاری پڑ رہا ہے۔ پانچ ریاستوں کے انتخابات میں عوام یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئے کہ وہ جملے بازی سے اوب چکے ہیں ، نفرت کی سیاست انہیں برداشت نہیں اور سڑک چھاپ سیاست کو انہوں نے مسترد کر دیا ہے۔ پارٹیاں جو وعدہ کریں ، اسے پورا کریں۔ جذباتی ایشوزمیں ان کی کوئی دلچسپی نہیں ، انہیں اپنے مسائل کا حل چاہئے۔

بھاجپا کے چانکیہ نے پانچ ریاستوں میں ہوئے انتخابات کو جیتنے کیلئے پوری منصوبہ سازی کی تھی۔ ایک طرف ہندوتوا وادی چہرے کے طور پر یوگی ادتیہ ناتھ کو اسٹار پرچارک بنایا تھا۔ دوسری طرف ووٹ کاٹنے کی حکمت عملی کے تحت اجیت جوگی اور مایا وتی کی بھی مدد لی تھی۔ اسٹار پرچارک نے جہاں جہاں تشہیر کی بی جے پی وہ ساری سیٹیں ہار گئی، سوائے ایک کو چھوڑ کر۔ وہیں اجیت جوگی اور مایا وتی بی جے پی کی کوئی مدد نہیں کر پائے۔ یہاں تک کہ چھتیس گڑھ میں ’چاور والے بابا‘ کی سرکار چلی گئی۔ راجستھان کے عوام نے اپنی روایت کو باقی رکھا اور کانگریس کو موقع دیا۔ البتہ مدھیہ پردیش میں شیو راج سنگھ چوہان نے اپنے بل بوتے پر کانگریس سے مقابلہ کیا۔ اگر یہاں کانگریس نے ایس پی، بی ایس پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہوتا تو جیت اور بڑی ہوتی۔ اس پر کانگریس کو غور کرنا چاہئے۔ بی جے پی نے حزب اختلاف کو کوئی بھاؤ نہ دینے کی سوچ کے تحت کسانوں کو بھی نظر انداز کر دیا۔ کانگریس نے اس کا فائدہ اٹھایا۔ اس نے رافیل اور قرض گھوٹالوں کا ایشو اٹھا کر بدعنوانی کے سوال پر سرکار کو گھیرا۔ کسانوں کو نظر انداز کرنے اور ملک میں بڑھتی  بے اطمینانی کیلئے حکومت پر شدید تنقید کی۔

ملک کے زیادہ تر کسانوں کی اوست آمدنی قومی اوست آمدنی سے بھی کم ہے۔ فصل کی واجب قیمت نہ ملنے کی وجہ سے وہ قرض کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ پچھلے سال کے سرکاری اعداد وشمار پر غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ اکیلے راجستھان میں 85 لاکھ کسان خاندانوں پر 82 ہزار کروڑ روپے کا قرض تھا۔ ہریانہ میں 15 لاکھ کسانوں پر 56 ہزار کروڑ، مہاراشٹر میں 31 لاکھ کسانوں پر 30 ہزار کروڑ روپے کا قرض تھا۔ مدھیہ پردیش میں کسانوں کا قرض 74 ہزار کروڑ کی حد کو پار کر رہا تھا۔ یوپی کا آنکڑا 86 ہزار کروڑ کا تھا۔ بڑھتے قرض پر مرکزی وزیر زراعت رادھا موہن سنگھ کا جواب تھا کہ سرکار 2022 تک کسانوں کی آمدنی دوگنا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ راہل گاندھی نے تین ریاستوں میں کامیابی کے بعد کسانوں کی قرض معافی کے ساتھ زراعت کیلئے ایسی پالیسی وضع کرنے کی بات کہی تھی کہ جس سے کسانوں کو قرض کی ضرورت نہ پڑے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے پہلے انٹرویو میں اسی بات کو اپنے انداز میں دوہراتے ہوئے کہا کہ قرض میں ڈوبنے والے زیادہ تر کسان کسی پالیسی میں نہیں آتے۔ ان کسانوں کو لے کر وزیراعظم کی فکر مندی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بی جے پی عام انتخابات سے پہلے کوئی بڑا قدم اٹھا سکتی ہے۔

صوبائی انتخابات کے نتائج نے یہ بتا دیا کہ ملک میں حزب اختلاف موجود ہے اور کانگریس کی واپسی ہو رہی ہے۔ اس سے یہ بھی صاف ہو گیا کہ عوام میں غیر بی جے پی کی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جیسے کبھی غیر کانگریس واد کا زور دکھائی دیتا تھا۔ غیر کانگریس واد کے پیچھے مضبوط سیاسی نظریہ تھا لیکن غیر بی جے پی کا جو خاکہ گڑھا جا رہا ہے، اس میں پورا دھیان بھاجپا حکومت کی ناکامیوں کو بھنانے پر ہے۔ انتخابی نتائج کا جائزہ لیتے وقت نوٹا کا بٹن دبانے والوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ جن کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک بڑا طبقہ حکومت یا حزب اختلاف کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہے۔ وہ آئینی اداروں کے ساتھ حکومت کے کھیل کو دیکھ رہا ہے۔ اس کے سامنے عدلیہ اور انتظامیہ کا وقار مجروح ہو رہا ہے۔ اسے ٹیکس میں حکومت کو دی گئی رقم کے خرد برد ہونے کا درد ہے۔ وہ خودکشی کرنے والے کسانوں کے خاندانوں کے درد سے روبرو ہو رہا ہے۔ وہ گھوٹالوں کو بے بسی سے دیکھ رہا ہے۔ روزگار نہ ملنے سے وہ پریشان ہے۔ اس پر طرہ یہ کہ حکومت کے وزراء اس کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اسے پکوڑے تلنے اور پان کا کھوکا لگانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے ایسے لوگوں کا غصہ بڑھ رہا ہے۔ انہیں بے اطمینانی کا اظہار وہ الیکشن میں نوٹا کا بٹن دبا کر کررہے ہیں۔

ان وجوہات نے عوام کو بی جے پی سے مایوس کردیا ہے۔ وہ جملے باز، سڑک چھاپ، نفرت کی سیاست کرنے والوں سے اوب چکے ہیں۔ انہوں نے بھاجپا کو ٹھکراکر بی جے پی مخالف طاقتوں کو اکٹھا ہونے کا موقع دیا ہے۔ عوام کی اس چاہت کو بی جے پی کے حلیف بھی سمجھ رہے ہیں۔ تبھی تو نتیش کمار اور رام ولاس پاسوان بی جے پی سے سودے بازی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بی جے پی اور جے ڈی یو اب 17-17 سیٹوں پر چناؤ لڑے گی۔ لوک جن شکتی پارٹی 6 سیٹوں پر ساتویں سیٹ کے بدلے رام ولاس پاسوان کو راجیہ سبھا کی سیٹ دینا طے ہوا ہے۔ 2014 میں بھاجپا نے 22 سیٹیں جیتی تھی۔ لوک سبھا کی پانچ اور راجیہ سبھا کی ایک سیٹ کا نقصان اٹھانا بی جے پی کی فکر مندی کو ظاہر کرتا ہے۔ اوپیندر کوشواہا این ڈی اے کا ساتھ چھوڑ کر مہا گٹھ بندھن کا حصہ بن چکے ہیں۔ شیو سینا آنکھیں دکھا رہی ہے۔ بی جے پی مجبوری میں گالیاں کھا کر بھی مسکرانے کی کوشش میں لگی ہے۔ اپنا دل کی سوپریا پٹیل خود کو نظر انداز کئے جانے کی شکایت کر رہی ہیں۔ وہیں حکومت کے کابینہ وزیر نتن گڈگری تینوں ریاستوں میں بی جے پی کی ناکامی کیلئے ذمہ داری نہ لینے والی قیادت پر ایک ہی ہفتہ میں دو بار اعتراض کر چکے ہیں۔ دلتوں میں بھاجپا کے رویہ سے پہلے ہی بے چینی ہے۔ بہرائچ سے ممبر پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے بی جے پی سے الگ ہو چکی ہیں۔ وہیں یوپی کی بھاجپا حکومت میں وزیر اوم پرکاش راج بھر اپنی ہی پارٹی کے غلط فیصلوں کی کھل کر مخالفت کر رہے ہیں۔

ملک میں تیسرا فرنٹ بنانے کی کوششیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ تیسرے فرنٹ کاماضی کا ایک بھی تجربہ کامیاب نہیں رہا۔ کیونکہ فرنٹ میں شامل ہر پارٹی کے لیڈر کی نگاہ وزیر اعظم کی کرسی پر رہتی ہے۔ پھر اس وقت تیسرا فرنٹ بنانے کی کوشش کے سی آر کر رہے ہیں۔ جن کی بی جے پی سے قربت جگ ظاہر ہے۔ اس لئے تیسرے فرنٹ کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ یہ وقت بتائے گا کہ یہ فرنٹ عام انتخابات پر اثر انداز ہوگا یا پھر ووٹ کاٹنے کی حکمت عملی کا حصہ بنے گا۔ لوگ اب ملک میں بڑھتی فرقہ واریت اور بنیادی مسائل پر کھل کر بات کرنے لگے ہیں۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ دیش کی سیاسی فضاء بدل رہی ہے۔ جو 2019 میں مودی راج کے خاتمے کی دستک بھی ہو سکتی ہے۔

تبصرے بند ہیں۔