الیکشن 2019: ایک درس مندانہ اپیل

انجینئر توفیق اسلم خان

 (امیر حلقہ مہاراشٹر، جماعت اسلامی ہند)

 اللہ تعالیٰ کا شکر و احسان ہے کہ اس نے ایک ایسے ملک میں پیدا کیا جہاں جمہوری طرز پر حکومت کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہر پانچ سال پر ہمیں یہ اختیار ہے کہ ہم اپنی پسند کی حکومت منتخب کریں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کئی ایسے ممالک ہیں جہاں جمہوریت ہوتے ہوئے بھی وہاں کی کئی سیاسی فلاحی تنظیمیں الیکشنوں میں حصہ نہیں لے سکتیں لیکن یہاں ایسا نہیں ہے۔ اس موقعہ پر ہم پوری توجہ و انہماک کے ساتھ اپنی حق رائے دہی کا استعمال کریں۔ ہمارے ملک میں اس کو تہوار بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ ہمیں یہ اختیار ہے کہ ہم اپنی پسند کی حکومت کو چنیں اور سابقہ حکومت کا احتساب کرسکیں۔ ہمیں یہ حق بھی ہے کہ ہم لوگوں کو آنے والے خطرات سے آگاہ کریں اور عوام کی رائے فاشزم کی حمایت میں نہ جائے اس کے لیے ہم کوشش بھی کرسکتے ہیں۔

 یہ بات کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آرہی ہے کیوں کہ موجودہ حکومت میں جو لوگ ہیں ان کے درمیان سے بعض ایسے بیانات اور سرگرمیاں سامنے آرہی ہیں جو فاشزم کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ حکومت اپنی خامیوں کو حب الوطنی کے پرفریب نعروں میں چھپانے کوشش کررہی ہے جس سے سادہ لوح عوام کے گمراہ ہونے کی امید کی جاسکتی ہے۔ اس لیے ہمیں بڑی حکمت سے اس زہر کا تریاق ڈھونڈنا ہے تاکہ ملک ایک بڑے مسئلہ سے محفوظ رہ سکے۔ ہم نہ صرف اپنا ووٹ پوری توجہ اور دانشمندی کے ساتھ کریں بلکہ الیکشن کے تناظر میں ملک کے حالات کو ٹھیک ٹھیک سمجھیں اور لوگوں کو بھی سمجھائیں۔ اس کیلیے ہمیں دستور کی جانب سے آزادی دی گئی ہے۔

ملک کی موجودہ صورتحال اور الیکشن 2019 کے مدنظر جماعت اسلامی ہند پچھلے ایک سال سے اس بات کیلیے کوشاں ہے کہ آنے والی حکومت ایسی ہو جو ملک کے دستور کے عین مطابق ملک کے عوام میں وسائل کی یکساں فراہمی کو یقینی بنانے اور مختلف گروہوں نسلوں اورعلاقوں کے درمیان دستور ہند کے مطابق انصاف کرنے والی ہو۔ وہ کمزوروں، اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنے والی ہو۔ اس کیلیے جماعت اسلامی ہند نے اٹھارہ نکات پر مشتمل ایک عوامی منشور بھی جاری کیا ہے۔ میری اپیل ہے کہ آپ اس عوامی منشور کو پڑھیں اور اس کے مطابق سیاسی پارٹیوں پردباؤ بنائیں کہ وہ عوامی منشور میں درج ان نکات پر عمل پیرا ہونے کا وعدہ کریں۔ جماعت اسلامی کا عوامی منشور بلا امتیاز مذہب، علاقہ اور زبان پوری طرح سے عوامی ضروریات کے تحت ترتیب دیا گیا ہے۔ ان سے وعدہ لیں کہ جب ان کی حکومت ہوگی تو وہ ان عوامی مسائل کے حل کیلیے کوشش کریں گے۔

بدنصیبی سے آج ایک ایسی پارٹی حکومت میں آئی ہوئی ہے جس کا نظریہ فاشزم ہے اور جو سب کو ایک رنگ میں رنگ دینے کیلیے مصروف ہے۔ ہندوستان کی خوبی یہ ہے کہ یہاں مختلف قبائل ذات رنگ نسل اور زبان کے لوگ صدیوں سے مل جل کر رہتے ہیں لیکن موجودہ حکومت کو یہ میل جول یہ باہمی یکجہتی پسند نہیں۔ جبکہ دستور ہند نے یہ ضمانت دی ہے کہ یہاں ہر رنگ نسل اور مذہب کے لوگوں کو یکساں مواقع حاصل ہیں۔ خاص طور سے دستور ہند خواتین اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ وہ یہ بھی ضمانت دیتا ہے کہ انہیں ترقی کے دور میں برابری کیلیے مختلف حیثیتوں سے ریزرویشن بھی دیا جائے۔ تو جو پارٹی ان مواقع کو باقی رکھنے کا مضبوط عہد کرے اس کا انتخاب ہونا چاہیے۔ جیسے ہمارے لیے مساجد، مدارس، اپنے تعلیمی ادارے، ہمارے پرسنل لاء میں عدم مداخلت، دارالقضاء سے ہمارے عائلی مسائل کے حل کا حق اور بلاسودی سوسائٹی وغیرہ کے قیام سے بینکنگ نظام میں شامل ہونا ہے۔ نکاح، طلاق، وراثت، انسانی حقوق وغیرہ یہ اللہ نے طے کئے ہیں اور اپنے انبیاء کے ذریعہ دنیا میں ان قوانین کو نافذ فرمایا۔ ہم اس میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برداشت نہیں کرسکتے لیکن موجودہ حکومت نے مسلمانوں کو ذلیل کرنے کے مقصد سے طلاق ثلاثہ بل پارلیمنٹ میں پیش کیا۔

قرآن کے مطالعہ سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قدیم زمانوں میں کئی ایسی اقوام تھیں جو بہت سخت اور ظالم و جابر تھیں۔ جیسے فرعون وہ بہت بڑا ظالم تھا۔ وہ لڑکیوں کو چھوڑ دیتا تھا اور لڑکوں کو قتل کردیتا تھا اور کسی طرح کے حقوق جو بنیادی حقوق ہوتے ہیں وہ کسی طرح دینے کو راضی نہیں تھا۔ الحمد اللہ آج ہمارے ملک میں حالات ایسے نہیں ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بسوں اور ٹرینوں میں بچے اور خواتین پرامن اور بلا خوف خطر سفر کررہے ہیں۔ کچھ ایک واقعات جو ہوجاتے ہیں یا کرائے جاتے ہیں ان پر بھی قد غن لگایا جانا چاہیے۔ لیکن ہمیں جو دیگر آزادی حاصل ہے اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے بچانے اور ملک کی تعمیر وترقی کیلیے موجودہ الیکشن میں شعوری ووٹنگ کی کوشش کرنی چاہیے۔ ملک نے کافی ترقی کی ہے، ہمارے پاس بہترین سڑکیں ہیں ریلوے کا نظام ہے جو ملک کو ایک خطہ سے دوسرے خطے سے جوڑتا ہے اور ترقی کے نئے مواقع کی تلاش کیلیے معاون ہے۔ تعلیمی نظام کیلیے بھی اسکول کالج اور یونیورسٹیوں کا جال ہے۔ لیکن اخلاقی طور پر ہم میں انحطاط آیا ہے۔ اس سے ہمیں بڑی تشویش ہے۔ اگر اللہ سے ڈرنے والے لوگ سیاست میں آئیں گے تو ملک میں بدعنوانی اور بدکاری پر روک لگے گی۔ صرف پارٹی بدل دینے سے تبدیلی نہیں آئے گی ہمیں بھی تبدیل ہونا ہوگا۔

ہم ایک بار پھر یہ کہتے ہیں کہ آج ہم ایک ایسی کرائسس میں آگئے ہیں کہ ایک ایسی پارٹی کے ہاتھوں میں ملک کے اقتدار کی باگ ڈور آگئی ہے جو دوسروں کے حقوق سلب کرنا چاہتی ہے اور کچھ سرمایہ داروں کی مددگار ہے۔ اس لیے اگر وہ لوگ جو انصاف پسند اور سب کے حقوق کا پاس و لحاظ رکھنے والے ہیں تو ان کی مدد ہمیں اپنے ووٹوں سے کرنی چاہیے تاکہ ملک موجودہ مسائل سے نکل کر پھر سے ترقی کی شاہراہوں پر آسکے۔ اس کیلیے ہمیں ہر سطح پر اپنے دست تعاون کو درازکرنا ہوگا اور یہ سلسلہ ہمیں الیکشن کے آخری دنوں تک جاری رکھنا ہے تاکہ موجودہ الیکشن 2019 کے بعد ملک میں ایک ایسی حکومت برسر اقتدار آئے جو سبھی کے حقوق کا احترام کرنے والی ہو۔ دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس مقصد میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

تبصرے بند ہیں۔