آتم نربھر

مودی نے یہ بیان ملک کی عوام کو بچانے کیلیے نہیں ہے بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے پلا جھاڑنے کیلیے ہے۔

مدثراحمد

 اس وقت ہندوستان بھر میں کورونا سے متاثر مریضوں کی تعداد 3 لاکھ سے زیادہ ہوچکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد بھی روزبروز بڑھتی ہی جارہی ہے۔ ملک میں اس وقت بڑھتے ہوئے مریضوں کی تعداد کیلیے معقول انتظامات تو ہیں لیکن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے جو پیشگوئی24 تا 25 لاکھ مریضوں کی ہے۔ وہ تعداد اگر حقیقت میں آجائے تو ہندوستان میں نفسی نفسی کا عالم دیکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ملک میں اس قدر طبی سہولیات نہیں ہیںکہ بیک وقت میں اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کا علاج کیا جاسکے۔ ایسے میں مرنے والوں کی تعداد کئی گناہ بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے ملک کے وزیر اعظم نریندرمودی نے ملک کی عوام کو آتم نربھر یعنی خود مختار بننے کیلیے ہدایت دی ہے۔

 یقین مانئے کہ وزیر اعظم نریندرمودی نے یہ بیان ملک کی عوام کو بچانے کیلیے نہیں ہے بلکہ اپنی ذمہ داریوں سے پلا جھاڑنے کیلیے ہے۔ اگر واقعی میں لوگوں کو آتم نربھر بنانا چاہتے تو اس وقت جب ملک لاکھوں کی تعداد میں کورونا سے متاثرہونے والے مریضوں کا سامنا کررہا ہے تب لاک ڈائون کو ختم کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے، درحقیقت موجودہ وقت میں لاک ڈائون کو سختی سے لاگو کرنے کی ضرورت تھی اور ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کٹوتی لانی چاہیے تھی لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیاجس وقت ملک میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 500 تھی اس وقت پورے ملک میں کرفیو نافذ کردیایہاں تک کہ عبادت گاہوں پر بھی تالے لگادئے تھے لیکن اب لاکھوں میں کورونا کے مریض سامنے آرہے ہیں تو عبادت گاہوں کو کھول دیا گیا ہے۔ جب ضرورت تھی تو خدائوں سے دور رکھااور خدا کو یاد کرنے والوں پر لاٹھیاں برسائی گئیں، زردوکوب کیا گیااورزیادتیاں ہوئیں۔ مگر اب کچھ بھی نہیں ہے۔

 آتم نربھر بننے کا مشورہ دینے والے وزیر اعظم جانتے ہیں کہ ملک میں ویسے بھی آبادی چین سے کچھ کم ہے اورروزانہ لاکھوں میں بڑھ رہی ہے۔ اگر آبادی میں کٹوتی ہوتی ہے تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ حکومت کو لاک ڈائون کو ہٹاکر عوام کی زندگیوں کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے لیکن وہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کی کوشش کررہی ہے، کوئی مرے یا جئے اس سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، اگر فرق پڑتا ہے تو وہ معیشت پر پڑتا ہے۔ اس لیے انسانوں کی جان سے زیادہ حکومت کو معیشت کی فکر ہے۔ ایسے میں لوگ بھی پاگلوں کی طرح گمراہ ہورہے ہیں۔

 عام لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ جب مریض کم تھے تو انہیں بندھ رکھا گیا تھا ، اب زیادہ مریضوں کے درمیان انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم بات یہ بھی ہے کہ لوگ اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کیلیے اُتاولےہورہے ہیں اوروہ اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ واضح ہوکہ جان ہے تو جہان ہے۔ اسلیے اپنے آپ کو آتم نربھر بناتے ہوئےاحتیاطی تدابیر اختیار کریںاوراس سال جینے کیلیے جئیں نہ کہ کچھ حاصل کرنے کیلیے !

تبصرے بند ہیں۔