آشیش مشرا کی رہائی

ایک داؤ بی جے پی کا براہمن کو راغب کرنے کے لیے

محمد عریف الرحمن

قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ

اب تو کھلنے لگے مقتل بھرے بازار کے بیچ

محسن نقوی

ملک بھر میں اس وقت سیاسی ماحول چل رہا ہے۔ ملک کی پانچ ریاستوں (اترپردیش، اتراکھنڈ، پنجاب، گوا اور منی پور) میں اسمبلی انتخابات ہے۔ یوں تو ان پانچوں ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کافی دلچسپ معلوم پڑتے ہیں۔ لیکن پورے ملک کے نگاہ اس وقت ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے اسمبلی انتخابات پر ہیں۔ اترپردیش کی چار سو تین اسمبلی سیٹوں میں سے اب تک مظفر نگر، باغپت، شاملی، ہاپوڑ، بلند شہر، میرٹھ، گوتم بدھ نگر، غازی آباد، امروہہ، سہارنپور، بجنور، رامپور، سنبھل، مراد آباد، بریلی، بدایوں، شاہجہانپور سمیت کل ایک سو تیراہ اسمبلی سیٹوں پر ووٹنگ ہو چکی ہے۔ سری کانت، سریش رانا، سریش کھنہ، بلدیو سنگھ اور اعظم خان سمیت لگ بھگ ایک ہزار دو سو نو لوگوں کی قسمت ای وی ایم میں قید ہو چکی۔ جس کا فیصلہ انشاء اللہ دس مارچ کو منظر عام ہوگا۔ یہ علاقے خاص طور پر جاٹ اور مسلم کا تھا۔ مسلم حسب معمول بی جے پی مخالف ہے۔ اور جاٹ کسان قوانین کے سبب بی جے پی مخالف نظر آ رہا ہے۔ کسان قوانین کے مظاہرہ کے درمیان ریاست میں ایک سیاہ دور بھی دیکھا جب 3 اکتوبر 2021کو لکھیم پور کے تکونیا میں 8 لوگوں کو مارا گیا تھاجس میں 5 کسان تھے۔ جس میں مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ اجے مشرا (ٹینی) کے بیٹے آشیش مشرا نے سر عام ملک کے ان داتاؤں (کسانوں) پر اپنے لشکر کے ساتھ جیپ چڑھا دی۔ اور گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ ایسے میں نہیں کہتا ایسا ہمارے ملک کی ایس آئی ٹی ٹیم کا کہنا ہے جو اس معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی پانچ سو صفحات پر مشتمل چارج شیٹ میں اجے مشرا (ٹینی) کے بیٹے کو اہم ملزم قرار دیا ۔ ایس آئی ٹی کی پورٹ کے مطابق آشیش مشرا جائے وقوعہ پر ہی موجود تھا۔ اور آشیش مشرا کے ہی ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ ویسے بھی اس معاملے کی ویڈیو منظر عام ہوئی اور پورے ملک نے اسے دیکھا۔ یہی وجہ تھی کہ مرکزی وزیر ہونے کے باوجود اجے مشرا (ٹینی) کے بیٹے آشیش مشرا کو اتنی جلدی گرفتار کیا گیا۔ اور انہیں جیل میں قید کیا گیا۔

وہی قاتل، وہی منصف، عدالت اس کی، وہ شاہد

بہت سے فیصلوں میں اب طرفداری بھی ہوتی ہے

ملک زادہ منظور احمد

بہر حال دس فروری 2022 کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے آشیش مشرا کو یہ کہتے ہوئے ضمانت دے دی کہ کئی لوگوں نے آشیش مشرا کو گولی چالاتے ہوئے تو دیکھا لیکن آشیش مشرا کی گولی کیسی فرد کو نہیں جا لگی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سامنے لگی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے گاڑی کے ڈرائیور نے اپنی گاڑی کی رفتار تیز کر دی جس کے سبب یہ سانحہ پیش آیا۔بہر حال 15 فروری 2022 کوآشیش مشرا ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں۔

جیسا کہ سب کو معلوم ہے اور تمام سروے میں بھی یہی دیکھایا جارہا ہے کہ اترپردیش کا مقابل ون ٹو ون ہے۔ یعنی یہ مقابلہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور سماجوادی پارٹی میں ہے۔ اور دیگر جماعتیں ووٹ کاٹنے کا کردار ادا کریں گی۔ اگر ہم ماضی کے کچھ انتخابات کی بات کریں تو ہمیں یہ واضح طور پر معلوم پڑے گا کہ جب جب بی جے پی کا مقابلہ ون ٹو ون ہوا ہے بی جے پی کو کافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ خواہ وہ ملک کی دارالحکومت دہلی ہو جہاں بی جے پی کا مقابلہ عام آدمی پارٹی سے تھا۔ یا پھر بنگال ہو جہاں بی جے پی کا مقابلہ ٹی ایم سی سے تھا۔ یہ پھر مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ کی ہی بات کر لیں جہاں بی جے پی کا مقابلہ کانگریس سے تھا۔ یہ پھر جھارکھنڈ اور کیرالہ جیسے دیگر علاقوں کو بات کریں جہاں بھی ہمیں ون ٹو ون مقابلہ دیکھنے کو ملا بھارتیہ جنتا پارٹی کو خامیازہ بھوگتنا پڑا۔ کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ووٹوں کو باٹ کر ہی آگے بڑھ پاتی ہے۔شاید اسی وجہ سے ملک بھر میں اسکول و کالجز کیلیے ڈریس کوڈ کی تشکیل کی بات چل رہی ہے۔ اور حجاب جیسے ہندوستانی روایتوں کو غزوہ ہند قرار دیا جارہا ہے۔

ریاست کی سیاست میں یہ سب کو معلوم ہے کہ ریاست کے براہمن ناراض تھے۔ اور ان کی ناراضگی کی خاصہ وجہ آشیش مشرا کی گرفتاری بھی تھی۔ شاید ہی وجہ تھی کے اجے مشرا کو مودی کابینہ سے نہیں نکالا گیا۔ ریاست کے دو مراحل کے پولنگ کے بعد آشیش مشرا کو رہائی ملنے کی خاصہ وجہ براہمن کو خوش کرنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جو اجے مشرا ریاستی انتخابات کے تشہیر مہم میں نظر نہیں آ رہے تھے وہ ضمانت کے فیصلے کے اگلے روز ہی پارٹی کی تشہیر کرتے نظر آئیں۔ چونکہ دونوں مراحلہ میں زیادہ تر سیٹیں کسانوں اکثریت کی ہیں۔ اس وجہ سے بی جے پی کی مجبوری تھی آشیش مشرا کو جیل میں رکھنا تاکہ کسان خوش ہو جائے اور بی جے پی کو ووٹ دے اور جیسے ہی کسان اکثریتی علاقوں کی ووٹنگ کا دور ختم ہوا۔ اس کے اگلے روز ہی آشیش مشرا جیل سے رہا ہوا۔ ویسے تو ہمارے وزیر اعلیٰ سمیت یوپی کی پوری کابینہ و مرکزی کی پوری کابینہ خواہ وہ خود وزیر اعظم نریندر دامودر داس مودی جی ہی کیوں نہ ہوں یہ کہتے نہیں تھک رہے ہیں کہ ریاست میں جرائم کم ہو گئے ہیں۔ سماجوادی پارٹی تھی تو ریاست میں جرائم کا بول بالا تھا۔ سماجوادی پارٹی میں جنگل راج تھا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن خود ان کی پارٹی کے لیڈران جرائم میں ملوس ہوتے ہیں تو ٹھیک رہتا ہے۔ جس کا سیدھی مثال ہمیں گزشتہ ماہ قبل ملی کہ سوامی پرساد موریہ جی جب تک بی جے پی میں شامل تھے تب تک وہ محفوظ تھے اور جیسے ہی وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کر دیا گیا۔ حالانکہ ان کا کیس بھی پورانا تھا پر کہتے ہیں نہ اولڈ ایز گولڈ۔ جرائم کی داستاں ہمیں بی جے پی میں کافی ملتی ہے کیوں کہ ہماری ریاست اترپردیش کے وزیر اعلیٰ ہی کئی جرائم میں ملوس رہے ہیں وہ بات الگ ہے کہ وہ بھی آشیش مشرا کہ طرح اپنے دور اقتدار میں پاک دامن ہو گئے۔ یعنی کئی کیسز انہوں نے اپنے اوپر سے ختم کر وا دیئے۔ یہی نہیں اگر ہم ریاست کے باہر مہاراشٹر کی بات بھی کریں تو ہمیں یہ صاف دیکھائی دیتا ہے کہ کیسے دیویندر فڑنویس نے اجیت پوار کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور اجیت پوار کو پاک دامن بنا دیا۔ وہ بات الگ ہی ہے کہ اجیت پوار پاک دامن ہونے کے بعد دویندر فڑنویس کا ساتھ چھوڑ کر ادھو ٹھاکرے کے ساتھ حکومت بنا لی۔ یہی نہیں ہمیں بنگال انتخابات کچھ ایسا ہی دیکھنے کو ملا تھا جہاں ممتا اینڈ ٹیم کو قانونی کارروائی میں کافی پریشان کیا گیا تھا۔ لیکن ممتا کا ساتھ چھوڑ کر آئے شوبھیندر ادھیکاری کو کافی راحت ملی تھی۔ وہیں اگر ہم بات کرے بی جے پی مخالف لوگوں کی تو اعظم خان اور ان کا کنبہ ریاست میں سب سے اوپر ملے گا۔ جو کہ جیل کی ہوا کھانے پر مجبور ہے۔ وہ بات الگ ہے کہ ان دنوں اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم ضمانت پر رہا ہیں پر اعظم خان اور ان کی اہلیہ ابھی بھی جیل کی سلاخوں میں قید پائے جارہے ہیں۔ جبکہ اعظم خان یہ ان کے کنبے کے کیسی فرد کا جرم آشیش مشرا جیسے صاف اور بڑا نظر نہیں آتا۔ کیوں کہ آشیش مشرا کی حرکت تو سرگرام لوگوں نے دیکھی ہے۔ جیسے جھٹلانا صرف احمقانہ حرکت کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ لیکن اعظم خان کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ ان کی کوئی ویڈیو نہیں بازار میں آئی ہے جیسے دیکھ کر ریاست کی عوام انہیں مجرم قرار دے دے وہ بات الگ ہے کہ ریاست کی حکومت نے انہیں کئی کیسز میں ملزم بنا رکھا ہے اور جیسا ٹریٹمنٹ ان کے ساتھ چل رہا ہے جلد ہی وہ ملزم سے مجرم بن جائیں گے۔ اور ہم سب بخوبی جانتے ہیں کہ بی جے پی کی سیاست یہی ہے ۔ جس کی واضح مثال ہمیں دیکھنے کو ماضی میں ملی جب ملک کے کئی ریاستوں کے وزیر اعلیٰ کو بی جے پی نے تبدیل کیا لیکن اترپردیش کے وزیر اعلیٰ کو تبدیلی نہیں کیا۔ کیوں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی یہ بخوبی جانتی ہے کہ اس نے ریاست میں کوئی خاصہ کام نہیں کیا بلکہ کورونا اور کسان قوانین کے خلاف مظاہرہ کے وقت اس نے ریاست کو مزید پیچھے ڈھکیل دیا۔ ان سب کے بعد بی جے پی کے پاس اگر الیکشن میں اترنے کیلیے کوئی ایجنڈاہ بچا تھا تو وہ ہندو – مسلم تفریق پر الیکشن کا بچا تھا۔ اور یہ سب جانتے ہیں کہ ریاست میں یوگی آدتیہ ناتھ کے بعد کوئی اور ایسے مسلم مخالف چہرہ نہیں ملے گا جو ہندوؤں کو اپنے طرح کھینچ سکے۔

بہرحال ریاست میں ابھی دو ہی مراحل کے ووٹنگ ہوئی ہے۔ اور ابھی مزید پانچ مراحل کی ووٹنگ باقی ہے۔ یہ دکھنا دلچسپ معلوم ہوگا کہ آشیش مشرا کی ضمانت سے کتنا فرق پڑے گا۔ کیا براہمن اس سے خوش ہو کر بی جے پی کو ووٹ کرے گا یا پھر اس کے ناراضگی برقرار رہے گی۔ یہ ہندوؤں کو خوش کرنے کیلیے جحاب جیسے مسائل کو اجاگر کیا جائے گا۔ اور مسلم مخالف اقوال کو زور دے کر ہندوؤں کو اپنی جانب راغب کیا جائے گا۔ یا پھر ریاست کا ہندو اپنے مسائل (بے روز گاری، گاؤں میں کھیتوں کو سانڈ کا تباہ کرنا، تعلیم گاہوں اور اسپتالوں کو خستہ حال ہونا، وغیرہ وغیرہ) پر کھڑا اتر کر بی جے پی کے خلاف ووٹ کرے گا۔ بہر ان سوالوں کے جواب میں زیادہ وقت نہیں بچا ہے کیوں کہ ریاست میں آخری مرحلہ سات مارچ کو ہے اور اسی دن نیوز چینلز والے ایگزٹ پول کر دیں گے جس سے لگ بھگ اندازہ لگ ہی جاتا ہے۔ اور دس مارچ کو کھلی کتات کی طرح ان سوالات کے جوابات اجاگر ہوں گے۔ملک کے موجودہ حالات پر عبیداللہ علیم صاحب کا شعر کافی کچھ بیاں کرتا ہے۔ جسے ہمیں سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے

کوئی اور تو نہیں ہے پس خنجر آزمائی

ہمی قتل ہو رہے ہیں، ہمی قتل کر رہے ہیں

عبیداللہ علیم

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔