اپوزیشن اور جمہوریت کھڑی چوراہے پر 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

پانچ میں سے چار ریاستوں میں کامیابی کے بعد بی جے پی کے مرکزی آفس میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعظم نریندر مودی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سے 2024 کے نتائج طے ہو گئے۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کارکنوں سے بغیر ایک پل گنوائے جیت کے لیے جٹ جانے کو کہا۔ انہوں نے اسے آزادی کے امرت مہوتسو کی بڑی کامیابی بتایا اور کہا اس سے بھارت کے مستقبل کی سمت طے ہو گئی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس ملک سے خاندانوں پر مشتمل سیاسی جماعتوں کا خاتمہ ہو کر رہے گا۔ بد عنوانوں کو اب کوئی بچا نہیں سکے گا نہ مذہب کے نام پر اور نہ ہی آئین کے نام پر۔ انہوں نے غریبوں تک سرکاری اسکیموں کو پہنچائے جانے کا اعلان بھی کیا۔

ہونا یہ چاہیے تھا کہ حزب اختلاف متحد ہو کر اعلان کرتا کہ بھلے ہی بی جے پی اور اس کی معاون کی شکل میں ابھری عام آدمی پارٹی نے 2022 جیت لیا ہو لیکن ہم اسے 2024 کا الیکشن اتنی آسانی سے جیتنے نہیں دیں گے۔ لیکن دقت یہ ہے کہ اپوزیشن گہرے صدمے میں ہے۔ وہ اپنا احتساب کرنے، منظم اور متحد ہونے میں اتنا وقت لگائے گی کہ 2024 آ جائے گا۔ موجودہ الیکشن میں سماجوادی پارٹی نومبر 2021 سے سرگرم ہوئی۔ وہ تقریباً ساڑھے چار سال غائب رہی۔ اناؤ، کانپور، لکھنؤ، ہاتھرس، آگرہ، لکھیم پور اور کورونا کے دوران اس کی موجودگی دکھائی نہیں دی۔ کانگریس سیاسی سیاحت کے آسرے یوپی میں اپنی زمین تلاش کر رہی تھی۔ مایاوتی الیکشن شروع ہونے تک بھی نظر نہیں آئیں۔ اس کے برعکس بی جے پی نے مغربی بنگال کا چناؤ ختم ہوتے ہی یوپی الیکشن کی تیاری شروع کر دی تھی۔ نتیجہ کے طور پر انتخابی فضا خلاف ہونے کے باوجود بی جے پی کو کامیابی ملی۔ لیکن کانگریس نے ماحول حق میں ہوتے ہوئے بھی پنجاب میں اپنا اقتدار گنوا دیا۔  انتخاب کے نتیجوں نے کئی غلط فہمیوں کو دور کر دیا۔ مثلاً کسانوں کو غلط فہمی تھی کہ وہ سیاست بدل دیں گے۔ بھیڑ کو دیکھ کر اکھلیش یادو اور پرینکا گاندھی کو انتخاب جیتنے کی غلط فہمی ہوئی۔ یوگی کو نریندر مودی کا نعم البدل ہونے تو مودی کو غلط فہمی ہے کہ عوام نے ان کی پالیسیوں کو پسند کیا اور پریوار واد کو اکھاڑ پھینکا۔ غلط فہمی غیر جانبدار رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو بھی ہوئی جو یوپی میں بدلاؤ کی لہر دیکھ رہے تھے۔ سیاسی مبصرین کی غلط فہمی بھی دور ہوئی جن کا ماننا تھا کہ سیدھے مقابلہ میں بی جے یو کو ہرانا آسان ہے۔

انتخابی نتائج سے یہ پیغام نکلا ہے کہ الیکشن جیت کر اقتدار تک پہنچنا ہی جمہوریت ہے۔ خواہ الیکشن کیسے بھی جیتا جائے، کوئی بھی ہتھکنڈا اپنایا جائے۔ آئینی اداروں یا انتخابی کمیشن کی پرواہ کئے بغیر چناؤ جیتنے پر دھیان دینا ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد تمام مدے ختم ہو جاتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی ٹیم نے اپنی انتخابی تشہیر کے ذریعہ ایسا ماحول بنا دیا کہ تمام مدے بے معنیٰ ہو کر رہ گئے۔ مہنگائی، بھکمری، بے روزگاری، پیٹرول ڈیزل کی قیمتیں، کووڈ کے دوران لاشوں کا بچھ جانا، کاروبار کا چوپٹ ہو جانا، کسانوں کے خلاف زیادتی، گرتی معیشت، بینکوں کی خستہ حالی اور آوارہ مویشیوں وغیرہ کا مدعا الیکشن میں نہیں چلا۔ مدوں اور الیکشن کے بیچ سنگھ، بی جے پی کے کارکنوں، مودی اور یوگی نے موٹی لکیر کھینچ دی۔ وہ عوام کو ہندوتوا، رام مندر، مفت راشن، رسوئی گیس، مفت علاج، کورونا ٹیکے، غریبوں کو گھر، کسانوں کو چھ ہزار روپے دینے اور سماجوادی پارٹی کے جیتنے پر غنڈہ راج آنے کی بات سمجھانے میں کامیاب ہوئے۔ جبکہ این سی آر بی کی رپورٹ کے مطابق جرائم کے معاملہ میں اترپردیش سب سے غیر محفوظ ریاست ہے۔ بے روزگاروں کی بھیڑ اور لڑکی ہوں لڑ سکتی ہوں کا نعرہ بھی اس کی کاٹ نہیں کر سکا۔

کانگریس نے اترپردیش میں اپنی طاقت جھونک دی۔ جبکہ یہاں اس کا کچھ بھی داؤ پر نہیں تھا۔ لیکن اتراکھنڈ اور پنجاب کو ہریش راوت سدھو اور چنی کے بھروسہ چھوڑ دیا۔ مگر بی جے پی  اپنے وزراء، کارکنوں کے ساتھ پانچوں ریاستوں کے انتخابات میں اتری۔ اس نے ایک طرف راشٹر واد، ہندوتوا، ہندو راشٹر کی بات کی تو دوسری طرف اپنی اسکیموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ کورونا میں ہوئی حکومت کی چوک کو ٹیکوں کے چھاتہ سے ڈھک دیا اور اپنی ناکامی کو اپوزیشن کے سر مڑھ دیا۔ سماجوادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے اس سے مقابلہ کرنے کے لیے مسلم، یادو، جاٹ، او بی سی کو اکٹھا کیا۔ بی جے پی نے مسلم، یادو اتحاد کو خواتین اور سرکاری اسکیموں سے زیرو کر دیا۔ او بی سی ذاتیں اور مدے جو روزمرہ کی زندگی میں لوگوں کو پریشان کرتے ہیں ہندوتوا کی گونج میں دھیرے دھیرے ختم ہو گئے۔ اپوزیشن اس کی کاٹ تلاش کرنے کے بجائے ان مدوں کے سہارے الیکشن جیتنے کا خواب دیکھ رہی تھی۔ بی جے پی نے خود کو ہندو سیاسی پارٹی اور اپوزیشن کو مسلم پارٹی کے نریٹو میں تبدیل کر دیا۔ ای وی ایم مشینوں کے کام نہ کرنے، ووٹنگ کے بعد بغیر حفاظتی انتظامات کے ووٹنگ مشینوں کو لے جانے، وی وی پیٹ کی پرچیوں میں تضاد، معذور اور بزرگوں کے ذریعہ ووٹنگ کے وقت گڑ بڑی، پوسٹل ووٹوں کو متاثر کرنے، اقتدار کو سلام کرنے والے افسران کی سرگرمی، یوپی الیکشن میں گجرات پولس کو لگائے جانے اور آخری مرحلے سے پہلے کئی دنوں تک میڈیا میں یوکرین کے چھائے رہنے اور ووٹنگ سے عین پہلے کی رات کو مودی، یوگی کے انٹرویو پر اپوزیشن پارٹیوں نے کوئی دھیان نہیں دیا۔ گجرات پولس پرسنل کا یوگی کے آنے کی بات کہنے اور جے پی نڈا کے چار ریاستوں میں حکومت بنانے کے بیان سے سب کچھ ٹھیک نہ ہونے کا شک ہوتا ہے۔ انہیں کیسے معلوم ہوا کہ بی جے پی چار ریاستوں میں حکومت بنانے والی ہے۔

حالیہ انتخابات کو لے کر یہ بات کہی جا رہی ہے کہ بی ایس پی نے اپنا ووٹ بی جے پی کو ٹرانسفر کرایا ہے۔ اسد الدین اویسی بھی بی جے پی کو کامیابی دلانے میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔  اس کا کوئی پختہ ثبوت تو نہیں ہے۔ لیکن حقائق اس کی طرف اشارہ ضرور کرتے ہیں۔ مثلاً 2017 کے مقابلے بی ایس پی کے ووٹ قریب دس فیصد کم ہونا اور اے آئی ایم آئی ایم کے امیدواروں کی وجہ سے ایس پی، بی ایس پی اور کانگریس کے امیدواروں کا محض چند ووٹوں کے ہارنے سے شک پیدا ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ بی جے پی کے ذریعہ سماجوادی پارٹی کے دور حکومت میں دلتوں پر ہوئی زیادتیوں کی یاد دلانا بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے مقابلہ اپوزیشن اناؤ، لکھنؤ، ہاتھرس اور آگرہ کے واقعات کو یاد نہیں دلا سکی۔ مانا جا رہا ہے کہ دلت اور او بی سی ووٹ اپوزیشن مسلم پارٹی بتانے کی وجہ سے بھی بھاجپا میں ٹرانسفر ہوا ہے۔ مایاوتی الیکشن میں اپنی غیر سنجیدگی پر غور کرنے کے بجائے مسلمانوں پر ووٹ نہ دینے کا الزام لگا رہی ہیں۔ انہوں نے ایسی سیٹوں پر امیدوار اتارے تھے جہاں مسلم ووٹ ہار جیت کا فیصلہ کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔

موجودہ انتخابات کا پیغام بہت بڑا ہے۔ جن پانچ ریاستوں میں انتخابات ہوئے ہیں ان کے دائرے میں لوک سبھا کی 102 سیٹیں آتی ہیں۔ 2022 سے 2024 کے بیچ چھ ریاستوں کے انتخابات ہونے ہیں ان کے حصہ میں لوک سبھا کی 119 سیٹیں آتی ہیں۔ اسی سال کے آخر میں گجرات اور 2023 میں راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، مہاراشٹر اور کرناٹک میں انتخابات ہونے ہیں۔ کرناٹک کو چھوڑ کر باقی میں کانگریس کا سیدھا مقابلہ بی جے پی سے ہوگا۔ مانا جا رہا ہے کہ اسی کے پیش نظر وزیراعظم مودی گجرات گئے ہیں۔ جبکہ ابھی دوسری کوئی سیاسی جماعت وہاں نہیں پہنچی ہے۔ گجرات میں ہرشت پٹیل کو کانگریسی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس بی جے پی نے وزیر اعلیٰ سمیت پوری ٹیم تبدیل کر دی ہے۔ کانگریس کی یہی سردمہری ان پانچ ریاستوں کے انتخابات سے پہلے دکھائی دی تھی۔ پنجاب میں سدھو، چنی اور امریندرسنگھ آپس میں الجھے ہوئے تھے۔ مرکز اس تنازعہ کو ختم نہیں کر سکا ۔ مدھیہ پردیش میں کمل ناتھ اور دگ وجے سنگھ کے درمیان اختلافات ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ راجستھان میں سچن پائلٹ اور اشوک گہلوت کا جھگڑا دہلی تک آ چکا ہے۔ چھتیس گڑھ میں بھی یہی صورتحال ہے۔ اگر ان ریاستوں میں بی جے پی کو جیت ملتی ہے تو کانگریس آج سے بھی زیادہ کمزور ہوگی اور بھارت کی جمہوریت کو بچانے کی لڑائی میں کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہو جائے گی۔ مودی اور شاہ زور شور سے اعلان کریں گے کہ کانگریس کے بغیر بھارت بنا دیا۔ اس کے ساتھ وہ یہ اعلان بھی کر سکتے ہیں کہ بھارت کو اپوزیشن مکت بنا دیا۔ تیسرا اور سب سے اہم اعلان بھارت کو ہندو راشٹر بنانے کا ہو سکتا ہے۔ یہ تمام اشارے ان انتخابات کے نتیجوں میں چھپے ہوئے ہیں۔ اسے بھاجپا کے مرکز میں اپنے خطاب کے دوران مودی جی نے ظاہر بھی کر دیا ہے۔

اس کے باوجود ممتا بنرجی، شرد پوار، کے چندر شیکھر راؤ وغیرہ کانگریس کے بغیر اپوزیشن کے اتحاد کی بات کر رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس کے علاوہ حزب اختلاف کی کوئی بھی پارٹی بی جے پی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ 2014 اور 2019 کے اعداد وشمار اس کے گواہ ہیں۔ 2014 میں بی جے پی کو 17 کروڑ 16 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ جو 2019 میں بڑھ کر 22 کروڑ 90 لاکھ ہو گئے۔ اس کے برعکس کانگریس کو 10کروڑ 69 لاکھ اور 2019 میں 11کروڑ 94 لاکھ ووٹ ملے تھے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی بات کریں تو عام آدمی پارٹی جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے خلاف مضبوط طاقت بن کر ابھری ہے۔ اس نے 2019 میں 35 امیدوار کھڑے کئے تھے اور اسے کل 27 لاکھ 16 ہزار ووٹ ملے تھے۔ ممتا بنرجی کو 2.5 کروڑ، مایاوتی کو 2.25 کروڑ، سماجوادی پارٹی کو 1.5 کروڑ، آر جے ڈی کو 66 لاکھ، این سی پی 85 لاکھ اور شیو سینا جو اس وقت بی جے پی کے ساتھ تھی اس نے ایک کروڑ 28 لاکھ ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس لحاظ سے اگر کانگریس کے بغیر تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو بھی جائیں تو ان کا مرکز پر کیا اثر ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے ووٹ کاٹتی ہوئی دکھائی دیں گی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام پارٹیوں کو کانگریس کے ساتھ مل کر الیکشن جیتنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ آگے آنے والا وقت اپوزیشن کے لیے اور مشکل بھرا ہوگا۔ اس صورت میں چوراہے پر کھڑے ہونے کے بجائے جمہوریت کے ساتھ خود کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے جو اتحاد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔