اپوزیشن سے سوال خود بچتے ہیں سرکار

راشن، بیسک انکم، ہر ایک کو چھت، سب کو تعلیم، ہیلتھ کیئر فراہم کرنے یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو تنخواہ دینے کی حالت میں بھی ملک نہیں ہے۔

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

بھارت دنیا کے سب سے زیادہ متاثر ان پانچ ممالک میں شامل ہو چکا ہے، جن میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ملک میں متاثرین کی تعداد 3.43 لاکھ، مہاراشٹر 1.08 لاکھ، تمل ناڈو 46.5 ہزار، دہلی41 ہزار اور گجرات میں 23.5 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہر روز دس ہزار سے زیادہ نئے معاملے آ رہے ہیں، مریض اسپتال ملنے سے پہلے مر رہے ہیں۔ لوگ اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی، صحت اور سلامتی کو لے کر فکر مند ہیں۔ دوسری طرف چین اور نیپال کے ساتھ تنازعہ چل رہا ہے۔ خبروں کے مطابق چین نے ہمارے ملک کی پچاس ساٹھ مربع کلومیٹر زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ پیر کو گلوان ویلی میں فوجی جھڑپ کے دوران ہماری فوج کا ایک کرنل اور دو جوان شہید ہونے کی خبر آئی تھی لیکن اب شہید ہونے والے فوجیوں کی تعداد 20 بتائی جا رہی ہے۔ چین کا کتنا نقصان ہوا ہے اس کی ابھی تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔ چین کے فوجی لداخ کی سرحد پر فنگر چار کے آس پاس جمے ہوئے ہیں۔ وہیں نیپال نے اپنے نئے نقشہ میں لیپولیکھ، لن پیا دھورا اور کالاپانی کو شامل کر لیا ہے۔ جبکہ بھارت انہیں اپنا بتاتا رہا ہے۔ ایسے وقت میں بھی بی جے پی کو الیکشن دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کووڈ 19 سے ملک کو بچانے کے اقدامات  کرنے کے بجائے ورچول ریلیاں کرکے بوتھ کی سطح کے کارکنان اور پارٹی کے حامیوں کو خطاب کرنے کے بہانے مخالفین کو للکار رہے ہیں۔ وہیں وزیر دفاع جنہیں چین کو لال آنکھ دکھانا چاہیے۔ سرحد کے تنازعہ پر عوام اور اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لے کر حقیقت حال سے ملک کو واقف کرانا چاہیے۔ وہ بھی ورچول ریلیاں کر رہے ہیں اور ٹیرٹر کے مشاعرے کا حصہ بن رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بی جے پی دہلی ریاست کے نو منتخب صدر بھی پارٹی کی کارکردگی کے پرچے بانٹتے دکھائی دیئے۔

بہار کی ورچول ریلی کے لیے 72 ہزار ایل ای ڈی ٹی وی سیٹ لگائے گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اسے منعقد کرنے میں 150 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اتنی رقم میں 24 لاکھ مزدوروں کو ان کے گھر پہنچایا جا سکتا تھا۔ مگر بی جے پی کے پیش نظر عوام کو دلاسہ دینے، مزدوروں کے آنسو پوچھنے اور ان کے لیے روزگار فراہم کرنے کے بجائے الیکشن سب سے زیادہ اہم ہے۔ اسے کورونا نہیں کرسیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ تبھی تو بہار کی ریلی میں امت شاہ وہاں کے مزدوروں کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔ انہوں نے بہار کے مزدوروں کے پسینے کی خوشبو تو پورے ملک کی مٹی میں محسوس کی اور جم کر ان کی تعریف کی۔ مگر انہیں وہ زخم دکھائی نہیں دیئے جو ان کی حکومت نے انہیں بخشے ہیں۔ آر جے ڈی کے حامیوں نے تھالی بجا کر علامتی طور پر اس ریلی کی مخالفت کی۔ وہیں سماجوادی کے اکھلیش یادو نے اس مہنگی ریلی کو اپوزیشن کا حوصلہ پست کرنے والا بتایا۔ کیوں کہ آج اتنے وسائل کسی بھی سیاسی جماعت کے پاس نہیں ہیں کہ وہ بوتھ کی سطح پر اپنے کارکنوں اور ہمنواؤں سے رابطہ قائم کر سکے۔ جو پارٹی کچھ کر بھی سکتی ہے وہ بھی کورونا کی وجہ سے نہیں کر پا رہی ہے۔

بی جے پی کہہ رہی ہے کہ یہ انتخابی ریلیاں نہیں ہیں۔ لیکن جن تین ریاستوں بہار، اڑیسہ اور بنگال میں یہ ریلیاں ہوئیں۔ ان میں سے دو میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ بہار میں اسی سال اور بنگال میں اگلے سال۔ ایسے میں انہیں انتخابات سے پوری طرح کاٹ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ امت شاہ اپنی ریلیوں میں بی جے پی کی کارکردگی کا بیورا دیتے ہوئے تین طلاق، رام مندر، کشمیر، شہریت قانون کا ذکر کرنا نہیں بھولے۔ انہوں نے مہاجر مزدوروں کی بات تو کی لیکن انہیں سرکاروں کی نااہلی اور انتظامی ناکامی کہیں نظر نہیں آئی۔ اپوزیشن پر نشانہ سادھتے ہوئے انہوں نے شہریت قانون کی مخالفت کے لیے ممتا بنرجی کو بھیانک نتائج سے آگاہ بھی کیا۔ سیاست میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں کی بات کرتے ہوئے بی جے پی کارکنوں کی موت کا رونا بھی خوب رویا۔ ساتھ ہی ایک طبقہ کی حمایت اور منھ بھرائی کا طعنہ بھی دے ڈالا۔

اڑیسہ کی ریلی میں امت شاہ نے مانا کہ کورونا وائرس سے نبٹنے اور مہاجر مزدوروں کے مدے پر ہم سے غلطی ہوئی ہوگی، کچھ کمی رہ گئی ہوگی، لیکن ہماری وفاداری صاف تھی، ہم کہیں کم پڑ گئے ہوں گے، کچھ نہیں کر پائے ہوں گے۔ مگر اپوزیشن نے کیا کیا؟ کتنی مضحکہ خیز بات ہے ملک کا وزیر داخلہ اپوزیشن سے ذمہ داری کا حساب مانگ رہا ہے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کا کام حکومت کی من مانی پر انکش لگانا، اسے صحیح رائے دینا اور غلط باتوں پر تنقید کرنا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو کانگریس کے ممبر پارلیمنٹ راہل گاندھی نے فروری میں ہی مودی حکومت کو کورونا کے خطرے اور معیشت پر اس کے اثرات کو لے کر متنبہ کیا تھا۔ جب 5 مارچ کو دوبارہ سرکار کو اس طرف متوجہ کیا تو انہیں ٹرول کیا گیا۔ وزیر صحت نے 10 مارچ کو بیان دیا کہ ملک کو ہیلتھ ایمرجنسی کا خطرہ نہیں ہے۔ راہل گاندھی نے لاک ڈاؤن کو لے کر بھی آگاہ کیا تھا کہ یہ صرف پازبٹن ہے، ہمیں کورونا سے بچنے کے لیے ٹیسٹنگ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ سونیا گاندھی نے بھی سرکار سے لاک ڈاؤن کے بعد کی حکمت عملی کے بارے میں سوال کیا تھا۔ اب امت شاہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ نے کیا کیا جبکہ فیصلہ لینے کا حق سرکار کے پاس ہے۔ عوام نے اکثریت دے کر بھاجپا کو اس لیے اقتدار نہیں دیا کہ وہ خود کام کرنے کی جگہ اپوزیشن سے کام کرنے کی امید رکھے۔

اب جب مزدوروں کی بات آہی گئی ہے تو یہ بھی ذکر کرتے چلیں کہ راجستھان کے گورنر کل راج مشر نے ہندی روزنامہ ہندوستان میں لکھا ہے کہ قومی سطح پر بے روزگاری، غریبی اور روزگار کے مناسب مواقع میں کمی سنگین مدے ہیں۔ سال 17 – 2018 میں بھارت کے کل 46.5 کروڑ مزدوروں میں سے 91 فیصد، یعنی 42.2 کروڑ مزدور غیر منظم زمرے میں کام کر رہے تھے۔ سال 2017 کے معاشی سروے میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ ان میں سے 13.9 کروڑ بار بار ٹھکانہ بدلنے والے مزدور تھے۔ مہاجر مزدور دیہی علاقوں کے مستقل باشندے ہوتے ہیں۔ لیکن سال کا زیادہ تر وقت شہروں میں بتاتے ہیں، جہاں پر انہیں باقاعدہ آمدنی نہیں ہو پاتی۔ ان کا کوئی مرکزی رجسٹریشن نہیں ہوتا، جبکہ بین ریاستی کامگار ایکٹ 1979 موجود ہے۔

 راشن، بیسک انکم، ہر ایک کو چھت، سب کو تعلیم، ہیلتھ کیئر فراہم کرنے یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو تنخواہ دینے کی حالت میں بھی ملک نہیں ہے۔ دہلی کے باڑہ ہندو راؤ اسپتال اور کستوربا گاندھی اسپتال کے ڈاکٹر اجتماعی استعفیٰ دینے کی بات کہہ چکے ہیں۔ ملک کو ان حالات کا مقابلہ ایک جٹ ہوکر کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن برسراقتدار بی جے پی ملک میں سیاسی یکجہتی کے حق میں دکھائی نہیں دیتی۔ تبھی تو وہ اپوزیشن کی حکومتوں کو گرانے میں سیاسی وسائل کو جھونک رہی ہے۔ جو ملک میں سیاسی رواداری کے تصور کے خلاف ہے۔ کرناٹک، مدھیہ پردیش کی طرز پر راجستھان کی کانگریس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ممبران اسمبلی کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ راجستھان اور گجرات میں کانگریس کے ایم ایل اے کو لالچ دے کر پارٹی چھوڑنے کے لیے اکسایا جا رہا ہے۔ تاکہ وہ راجیہ سبھا کی سیٹوں پر آسانی سے کامیابی حاصل کر سکے۔ جبکہ اس وقت کورونا جیسی بیماری سے سبھی سیاسی جماعتوں کو مل کر مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لیے وزیر اعظم کو آگے آکر ایسے تمام اقدام پر لگام لگانی چاہیے جن سے ملک میں سیاسی تعاون کے تصور کو نقصان پہنچتا ہو۔

کورونا بحران میں عوامی حمایت کے باوجود سرکار کے رویہ، انتظامی لاپروائی اور کھوکھلے وعدوں نے حکومت میں عوام کا اعتماد کم کیا ہے۔ جس حکومت کو سوال کھٹکتے ہیں آج اس سے پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ جنتا کرفیو سے پہلے چار دن کی مہلت دی گئی تو مکمل بندی سے پہلے صرف چار گھنٹہ کیوں؟ اس مکمل بندی میں انتظامی تیاری اتنی کمزور کیوں رہی کہ کووڈ 19 کے مریض اسپتالوں میں جگہ ملنے سے پہلے دہلی ممبئی میں مر رہے ہیں؟ اگر مکمل بندی کا مقصد وبا کو روکنا تھا تو اب کیوں ہٹائی جا رہی ہے جبکہ دہلی ممبئی میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے؟ مہاماری سے پہلے ہی معیشت کا اتنا برا حال کیوں ہو گیا تھا کہ سرمایہ کار بھارت چھوڑ کر بھاگنے لگے تھے؟ دنیا میں کچا تیل جتنا سستا ہو رہا ہے بھارت میں اتنا ہی مہنگا کیوں؟ ملک میں بے روزگاری اتنی بڑھ گئی ہے اس کا کیا حل ڈھونڈا جا رہا ہے؟ مہاجر مزدور جو لاکھوں کی تعداد میں شہروں سے گھر لوٹ گئے ان کے بنا ترقی کا کام کیسے چلے گا؟ ان کو اگر حکومت شہروں اور مہانگروں میں روکنا چاہتی تھی تو پورا انتظام کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی کیوں؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے بجائے بی جے پی کا انتخابی ریلیاں کر اپنی تعریف کرنا تازه زخموں پر نمک چھڑکنے جیسا ہے۔

تبصرے بند ہیں۔