اگر کچھ ہوا تو ذمہ دار پاکستان ہوگا

حفیظ نعمانی

ہندوستان کی مغربی سرحد پر سی آر پی ایف کے قافلہ کے ساتھ پلوامہ میں جو کچھ ہوا اور اب بھی ہورہا ہے اس کے بارے میں پاکستان کی طرف سے جو کچھ کہا جارہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ بات پاکستان بھی جانتا ہے کہ فوج میں جو سپاہی میدان میں ہوتے ہیں ان کی عمر 25  اور 45  کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں جو شادی شدہ ہوتے ہیں ان کے پسماندگان میں جوان بیوہ اور معصوم بچے ہوتے ہیں یا بوڑھے ماں باپ۔ اور یہ ہندوستان کی ہی بات نہیں پاکستان میں بھی سب دیکھتے ہیں کہ جس گھر میں جوان کا جنازہ آتا ہے وہ اگر گائوں ہے تو پورا گائوں اور شہر ہے تو پورا محلہ آنسوئوں سے تر ہوجاتا ہے ہر آدمی جوان بیوہ معصوم بچوں اور بوڑھے ماں باپ کو بے سہارا دیکھ کر آنسو نہیں روک پاتا۔

پلوامہ میں جو کچھ ہوا اس میں 40  سے زیادہ جوان چھر ّے کی طرح بکھر گئے اور جس گاڑی کی ٹکر سے آر ڈی ایکس پھٹا اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ جو لڑکا گاڑی چلا رہا تھا اس کا ناخن اور بال بھی نہیں بچا۔ یہ بات ہندوستان کے ذمہ داروں نے بتائی ہے کہ اس کی ذمہ داری جیش محمد نے قبول کی ہے۔ ظاہر ہے کہ وہ ہر ہندوستانی کے موبائل پر نہ پیغام بھیج سکتے تھے اور نہ ہر ایک کے سامنے اپنا جرم قبول کرسکتے تھے۔

وزیر خارجہ قریشی کا یہ کہنا کہ ہم تشدد کے نہ کبھی حامی رہے اور نہ یہ ہمارا راستہ ہے۔ اور وزیراعظم عمران خان کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کی پالیسی بالکل واضح ہے وہ صرف گفتگو سے فرار ہے۔ حافظ سعید جب جوان تھے تو اُن سے ہندوستان آج تک کے دو نمائندوں نے طویل انٹرویو کیا تھا اس میں انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ نہ ہم نے پاکستانی حکومت کے کہنے سے بندوق اٹھائی ہے اور نہ ہم ان کے کہنے سے بندوق رکھیں گے۔ یاد آتا ہے کہ نیپال اسے اُڑنے والے ہوائی جہاز کو اغوا کرکے قندھار لے جانے اور اس کے بدلہ میں اظہر مسعود کو رہا کرانے کا واقعہ بعد کا ہے۔ جس سے اظہر مسعود کے بارے میں جو رویہ پاکستان کو اپنانا چاہئے تھا وہ اپنانے کے بجائے اسے ہیرو بناکر رکھے ہوئے ہے۔

شاہ محمود قریشی یا دوسرے وزیر اس ٹیم کے کھلاڑی نہیں ہیں جو عمران خان کی ٹیم ہونی چاہئے تھی یہ سب نواز شریف بھٹو اور بے نظیر کے ساتھ کے کھلاڑی ہیں اور ان میں سے کوئی نہ حافظ سعید کے خلاف کچھ کرسکا نہ اظہر مسعود کے خلاف کرسکا۔ ہم جیسے لوگوں کو جنہیں یہ توقع تھی کہ اگر عمران خان کے ہاتھ میں اقتدار آگیا تو وہ ضرور ان کا زہر نکال دیں گے لیکن محسوس یہ ہورہا ہے کہ جب تک پوری ٹیم اور میچ کرانے اور دیکھنے والے سب خان صاحب کے نہیں ہوں گے وہ کچھ نہ کرسکیں گے۔

عمران خان کو ننگا بھوکا پاکستان ملا ہے وہ حلف لینے کے بعد صرف در در پیسے مانگتے پھر رہے ہیں۔ اور یہ ان کی مجبوری ہے کہ وہ گھر میں بھوک سے رونے والوں کا انتظام کریں یا بری صحبت سے بگڑے ہوئے لڑکوں کو ہتھکڑی ڈال کر جیل میں ڈالیں۔ یہ بات عمران خان بھی مانتے ہیں کہ پرویز مشرف نے پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا کردیا تھا۔ بعد میں نواز شریف نے پاکستان کے ساتھ وہ کیا جو دشمن کرتا ہے اور یہ اس کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمان جس نے پاکستان بنوانے میں اپنے کو برباد کرلیا جب پاکستان گیا تو وہ یہ نعرہ سن کر آیا۔ ماں شریف نہ باپ شریف۔ نواز شریف نواز شریف اور خون کے آنسو روتے ہوئے ہمیں یہ نعرے سنائے۔

ہر پاکستانی نے دیکھا ہوگا کہ مئی 2014 ء میں نریندر مودی نے ہندوستان کے وزیراعظم کا حلف لیا اور جس سے لیا وہ دس برس سے وزیراعظم تھے لیکن ان کے منھ سے ایک بار بھی نہیں سنا کہ خزانہ خالی کرگئے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ قریشی نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان جیش محمد کے خلاف ٹھوس ثبوت دے تو ہم کارروائی کریں۔ یہ اس ملک کے وزیر خارجہ کہہ رہے ہیں جن کے ملک کے کسی بڑے سے بڑے ماہر کو نہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا ثبوت ملا نہ ضیاء الحق کے ہوائی جہاز کو اُڑانے والے کا پتہ ملا نہ بے نظیر کے وزیراعظم ہوتے ہوئے ان کے بھائی مرتضیٰ بھٹو کے قاتل کے خلاف ثبوت ملا اور جو نہ آج تک یہ معلوم کرسکا کہ شاہ نواز بھٹو کو کس نے اور کیسے مارا؟

پاکستان کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ ہندوستان نے خود اپنے جوانوں کو مارا ہے۔ ہم بھی اس طرح سوچ سکتے تھے اگر یہ معلوم ہوتا کہ اندر اندر کوئی وزیر داخلہ کے خلاف ہے۔ فوج کے معاملہ میں ہندوستان کی ہر پارٹی کا ہر آدمی جذباتی ہے وہ ان جانبازوں کی بھائی اور بیٹوں کی طرح قدر کرتے ہیں کیونکہ وہ ہر موسم میں اور ہر مقام پر آنے والے دشمنوں کو روکتے ہیں اور ہر عذاب اپنی جان پر لے لیتے ہیں یہ شرمناک حرکت پاکستان میں ہی ہوتی ہے کہ مسجدوں میں لاشیں گرتی ہیں خون بہتا ہے اور مسجد ناپاک ہوتی ہے۔ ہندوستان میں مندروں کے معاملہ میں جتنا اختلاف ہے وہ پاکستان کی مسجدوں سے کہیں زیادہ ہے کچھ مندر ہیں جہاں نیچی ذات والے نہیں جاسکتے کہیں جوان عورت نہیں جاسکتی کہیںمرد نہیں جاسکتے لیکن کیا کبھی پاکستان نے سنا کہ کسی مندر سے لاشیں نکلیں؟ اظہر مسعود تو پاکستان کو اتنا پیارا ہے کہ اس کی حفاظت وہ چین سے کرارہا ہے جو اسلام کا دنیا میں سب سے بڑا دشمن ہے اور یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ جو کچھ ہوا اس میں چین کی بھی شرکت تھی۔

تبصرے بند ہیں۔