بدلتے نام، بدلتی تاریخ اور خاموش قائدین

مدثراحمد

بھارت میں مغلیہ دور کے آغاز میں ایک بھارت کا تصور بھی نہیں تھا،  بلکہ بھارت الگ الگ حصوں میں بٹاہوا تھا، اسی بھارت کو ایک کرکے مغل بادشاہوں نے پورے 800 سال حکومت کی تھی اوراس حکومت کے دوران انہوں نے نئے شہر آباد کئے، نئے منصوبے بنائے، نئے محل بنائے، نئے عبادت گاہوں کی تعمیر کی، نئی یادگاریں بنائیںاور بھارت کو نیا روپ دیا۔ اسکے بعد برٹیش حکومت نے مغلیہ دور کے جو منصوبے تھے ان منصوبوں کو کبھی بھی توڑنے یا خراب کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ برٹیش حکومت نے محلوں، یادگاروں اورشہروں کو تاریخ کے صفحات میں نمایاں پیش کرنے کیلیے خاص توجہ دی تھی۔ جس سے ہم اورآپ آج بھی دیکھ سکتے ہیں۔ لیکن پچھلے دو دہائیوں کے دوران بھارت میں ایک غلیظ روایت شروع ہوئی ہے۔ جس کے تحت ملک میں تاریخی شہروں کے نام بدلنا شروع کیا گیا ہے۔ فیض آباد، الہ آباد، علی گڑھ، بہادرشاہ ظفر مارگ، کلکتہ، علی نگر، ہمایوں نگر، اردوبازار، اسلام پور، غازی پور، شاہجہاں پور، حمیر پور، ایسے ہی درجنوں ناموں کو تبدیل کرنے کا جنون موجودہ سیاستدانوں پر طاری ہوا ہے۔

 بھارت کے حالات بدلنے کا مطلب انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ناموں کو تبدیل کرنے سے ملک کی تقدیر بدل جائےگی اوربھارت ترقی کی راہ پر گامزن ہوجائیگا۔ آہستہ آہستہ بھارت کے وہ شہر جن کا تعلق مغل حکمرانوں سے ہے انکے نام بدلے جارہے ہیں۔ ان ناموں کو تبدیل کرنے کا مقصد نئی روایت یا تاریخ کو دہرانا نہیں ہے بلکہ ایک طرح کا پیٹ جلن ہے جو مغل دور کے حکمرانوں سے ہے اور بھارت کے سنگھی و نفسیاتی امراض کے حکمران جنہیں عادی واسی کہنا بھی ایک طرح کی شرمناک بات ہے وہ آج اپنی بے بسی ولاچاری کو چھپانے کیلیے ناموں کو تبدیل کرنے کا بیڑہ اٹھارکھا ہے۔

روایت یہ رہی ہے کہ جب بھی کوئی حکومت یا حکمران اقتدارپر قابض ہوتاہے تو اپنے کاموں کو یادگارکے طور پر چھوڑجاتاہے،لیکن بھارت میں پہلا دورچل رہاہے جس میں کسی اور کےمنصوبوں کو کسی اورکے نام سے جوڑنا اور کسی اور کے ذریعے قائم کردہ شہروں ویادگاروں کو ذات ومذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا۔ بھارت ایک سیکولر ملک ماناجاتاہے لیکن جس طرح سے یہاں مذہب وذات کی بنیادپر زہر پھیلایاجارہاہے،اُ س سے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بھارت کی جمہوریت خطرے میں ہے۔

 ہم چاہیں جتنی بھی کوششیں کرلیں، تاریخ میں یہ بھی درج ہوگاکہ چند حکمرانوں نےتاریخ کو بدلنے کاکام کیاہے۔ اس وقت ایک طرف جنونی حکمران شہروں و تاریخ کوبدلنے کاکام کررہے ہیں تو دوسری طرف بھارت کے سیکولراور مسلم قائدین ان جنونی حکمرانوں کےطریقہ کار پر آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔ تقریباً40 سال پہلے اسی طرح کی خاموشی بابری مسجدکی مسمارکی وجہ بنی تھی،اُس وقت بھی بھارت کے بیشتر مسلم لیڈران کانگریس کے حقے کو پکڑکر دم گھسیٹ رہے تھے تو سنگھیوں نے چپکے سے جاکر ان کا دم پکڑلیا اور کلیان سنگھ جیسے شاطر حکمرانوں کو لیکر بابری مسجد کو شہید کردیا۔ بابری مسجدکی شہادت بھارت کے مسلمانوں کیلیے ایک مثال تھی کہ مسلمانوں کو اور مسلمانوں سے جڑی ہوئی یادگاروں کو کبھی بھی کیسے بھی ختم کیاجاسکتاہے۔

 1992 میں جو سبق بھارت کے مسلمانوں کو ملاہے،اُس سبق کو بنیاد بنا کر بھارت کی مسلم تنظیمیں،ادارے،قائدین ہوش کے ناخن لےسکتے تھے،لیکن1992 کے بعد جب چند ایمان فروش مسلم قائدین کو ایم ایل سی،ایم پی،راجیہ سبھا رکن،بورڈ وکارپوریشن کے صدورکے عہدے دئیے گئے تو ان کے ضمیر کو لقویٰ مارگیا تھا اور وہ قوم کی قیادت،قوم کی وکالت،قوم کی امامت کامنصب بھول گئے،یہی وجہ ہے کہ آج یوگی جیسے بندربھی ناموں کو لیکر ناچ رہے ہیں۔ وہیں اس غلیظ روایت کی بنیادرکھنےو الی مایاوتی آج یوگی کو موردِ الزام ٹھہرارہی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ آخر مسلم قائدین کب تک خاموش رہیں گے؟کیا عدالت کے دروازے،احتجاجات کے راستے اور حق کیلیے آواز اٹھانے کے راستے بند ہوگئے ہیں،اگرنہیں تو یہ خاموشی کیوں ہے؟۔ اتنا سناٹا کیوں ہے؟۔ ہاں،ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس قوم کے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو سبق سکھانے کیلیے وہ قوم تیارنہیں ہے تو کیاخاک ناموں کو بدلنےپر آگ بگلولہ ہوجائیگی۔ جملہ یہ بات ہے کہ بھارت میں اس وقت مسلمان ضرورہیں،لیکن غازی نہیں ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔