بھٹ جی کا ہندوتوا اور سیٹھ جی کی سرمایہ داری

ڈاکٹر سلیم خان

 کورونا کی وبا ء اور مودی جی  سرکار میں کمال کی مماثلت  ہے۔  کورونا کے سبب ملک میں بھکمری بڑھ رہی ہے۔ پچھلے دنوں اتر پردیش سے ایسی دہلا دینے وارادات سامنے آئی کہ جب دو  دنوں تک بھوکے پیاسےبچے اپنے  خودکشی کرنے والے والد کی لاش کے ساتھ گھر میں بند رہے   اور جب بھوک کے تڑپ کر پڑوسی کے پاس آئے تو  بھید کھلا۔ عالمی بھکمری کے فہرست  میں ہندوستان 107 ممالک کے اندر 74ویں مقام پر  پہنچ گیا اور تقریباً 16 ریاستوں میں بچوں کا وزن معمول سے کافی کم پایا گیا۔ دوسری طرف  مودی سرکار کی مہربانی سے سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں ملک  کے امیروں  کی رقومات میں  اضافہ ہوگیا۔ سال 2020 میں سوئٹزر لینڈ کے بینکوں میں ہندوستانیوں کی جمع پونجی  تقریباً تین گنا بڑھ کر20700 کروڑ روپے پرپہنچ گئی۔ یہ  اس  نریندرمودی کی سرکار کا کارنامہ ہے جو سوئس بنکوں سے کالادھن واپس لاکر ہر شہری کو پندرہ لاکھ بانٹنے کا خواب بیچ کر اقتدار میں آئی تھی۔ سال 2006 کے بعد  سے اس کالے دھن میں ہر سال جو گراوٹ  آرہی تھی اس میں اچانک زبردست اچھال آگیا۔ یہ اچھال ایک ایسے وقت میں آیا جبکہ  عالمی غریبی میں ہندوستان کی حصہ داری 57.3 فیصد ہے یعنی دنیا بھر میں  2 ڈالر سے کم یومیہ کمانے والے  مفلس بھارت ماتا کے شرن میں رہتے ہیں۔

مودی جی کے اقتدار سنبھالنے کے تین ماہ بعد مرکزی  ادارے سی بی ڈی ٹی2013 کے مالی سال دو سوئس بینکوں کی خفیہ فہرست ہاتھلگی تھی۔ اس میں دہلی، ممبئی، حیدرآباد، چنئی، چندی گڑھ سمیت کئی دیگر شہروں کے 100 سے زیادہ کھاتا رکھنے والوں  کا ذکر تھا۔ سی بی ڈی ٹینے اعلان کیا  تھا کہ ان سرمایہ داروں پرٹیکس چوری قوانین کے تحت  کارروائی کرتے ہوئے کارروائی کی جائے گی۔ ان کو جان بوجھ کر ٹیکس کی ادائیگی سے کنی کاٹنے والوں (ولفل ٹیکس اِویڈرس) کے زمرے میں  ڈال  کر ان سے   جرمانہ سمیت ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ کالے دھن پر خصوصی تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کو بڑی شان سے  سپریم کورٹ  میں جمع کیا گیا تھا۔ اس سے عوام کے اندر امید کا ایک چراغ روشن ہوا لیکن اس کے بعد  سرکار گھوڑے بیچ کر سو گئی یا ان سے ٹیکس چوروں کے ساتھ ڈھکے چھپے سودے بازی کرلی۔ پچھلے 7 سالوں میں، مودی سرکار نے اس پر قطعی طور پر کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس سے  ٹیکس چوروں کے حوصلے اتنے  بڑھ گئےکہ  2020 میں بھارتیوں کے ذخائر 286 فیصد کا اضافہ ہوگیا۔

2013  میں انتخابی مہم کے دوران مودی جی کا عوام سے مطالبہ  تھا کہ  آپ نےدوسروں کو 60سال دیئے مجھے 60 مہینے دیجیے۔ میں سب کچھ بدل دوں گا۔  عوام نے ان کو 5سال کے بجائے 10سال دے دیئے اور اس میں ۷ سال پورے  بھی ہوگئے لیکن اس بیچ کیا بدلا؟  ان لوگوں کے’اچھے دن‘نہیں آ ئے کہ   جنھوں نے ووٹ دے کر  مودی جی کو اقتدار   سونپا تھا بلکہ وہ  بیچارے تو پہلے سے زیادہ مشکلات کا شکار ہوگئے؟ وزیر اعظم کے پاس  یہ بہانہ ہے  کہ اچھے دن  آرہے تھے مگر درمیان میں کورونا نے آکر انہیں الٹے پیر  لوٹا دیا  حالانکہ یہ وبا ایک دو نہیں پورے 6سال بعد آئی۔ اس وقت تک اگر اچھے دن کا عشر عشیر بھی آچکا ہوتا تو لوگ کورونا کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوتی۔ اس کے برعکس مودی جی نوٹ بندی  اور جی ایس ٹی سے معیشت کی کمر توڑ کر  عوام کو رام مندر اور کشمیر کی دفع 370 کا چورن کھلاتے رہے۔  ایسے میں جب  اندر سے وبا اور  اوپر سے چین نے حملہ کیا تو سرکار چاروں خانے چت ہوگئی اور اسے دن دہاڑے تارے نظر آنے لگے۔

ایک  آزاد ادارہ سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکونومی کےتازہ جائزے کے مطابق کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے   ایک کروڈ لوگ ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 87 فیصد سے زیادہ خاندانوں کی آمدنی گھٹ گئی۔ اپریل میں بیروزگاری کی شرح 8 فیصد تھی لیکن مئی کے آخر تک اس کے 12 فیصد تک پہنچ جانے کا امکان ہے۔ ایک سال کے وقفہ میں  یہ دوسری بار ہوا ہے۔ پچھلے سال جب تالہ بندی کی گئی تو بیروزگاری کی شرح 23.5 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ دیہات کے مقابلے شہروں میں بیروزگاری کی شرح زیادہ ہے  یہ بھی ایک سبب  ہے کہ ان  مشکل حالات میں لوگ شہروں کو چھوڑ کر گاوں چلے جاتے ہیں۔   ماہرین کی رائے ہے کہ کورونا کی دوسری لہر کا زور ٹوٹ رہا ہے اس لیے بتدریج مختلف صوبوں میں   تالہ بندی کا خاتمہ ہوگا اور  معاشی سرگرمیاں  تیز ہوں گی لیکن  پھر بھی منظم شعبوں  کو سنبھلنے میں سال بھر کا وقت لگے گا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ مئی میں ملک کے سروس سیکٹر میں زبردست گراوٹ آئی۔ یہ عدم استحکام’انڈیا سروسز بزنس ایکٹیوٹی انڈیکس‘ کواپریل کے54سے گھٹا کر 46.4 لے آیا۔ سروسز سیکٹر انڈیکس میں آٹھ ماہ کے اندرپہلی بار اتنی بڑی  کمی دیکھنے میں آئی۔ پچھلے سال کووڈ۔ 19 کی پہلی لہر کے دوران  بھی اتنی  گراوٹ  نہیں دیکھی  گئی  تھی۔ اس کی ایک وجہ غیر ملکی طلب میں چھ ماہ کے اندر ہونے والی   سب سے بڑی کمی ہےکیونکہ دوسری لہر کے دوران  کاروبار پر بندش اور بین الاقوامی سفر پر پابندی تھی۔ مثبت رجحانات  میں نو ماہ کی کمی کے سبب  کمپنیوں نے چھٹنی میں اضافہ کیا اور مئی میں یہ  شرح اکتوبر 2020 کے بعد سب سے زیادہ تھی۔مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بھی  10 مہینوں کی سست ترین نمو ظاہر ہوئی۔ آئی ایچ ایس مارکیٹ کے مطابق اگر مینوفیکچرنگ اور خدمات کے شعبے کی کارکردگی  کو یکجا کردیا جائے تو مربوط انڈیکس جو اپریل میں 55.4 پر تھا  مئی میں  48.1 پر آ گیا۔

 کوویڈ کے درمیان معیشت کو بچانے کے لیے کنفیڈریشن آف انڈین انڈسٹری کے صدر اور معروف  بینکر اور کوٹک مہندرا بینک کے سی ای او اُدے کوٹک نے حکومت کو یہ مشورہ دیا  کہ حکومت ریزرو بینک کے تعاون سے، کرنسی کو پرنٹ کرنے کے لیے اپنی بیلنس شیٹ میں اضافہ کرے۔ ان کے مطابق ایسا کرنے کاوقت آگیا ہے … اگر اب ہم ایسا نہیں کریں گے تو کب کریں گے؟ ‘ غریب لوگوں کے ہاتھوں میں براہ راست رقم دینے کی خاطر انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو جی ڈی پی کا ایک فیصد یا 1 لاکھ کروڑ سے 2 لاکھ کروڑ کے درمیان خرچ کرنا چاہیے۔ اس سے نچلی سطح پر کھپت میں اضافہ ہوگا  اور غریب ترین طبقے کو طبی فوائد حاصل ہوں گے۔ معیشت کی بحالی کے لیے انہوں نے حکومت کے ذریعہ  گذشتہ سال بحران میں مبتلا شعبوں  میں توسیع کرکے ان کی خاطرجو3 لاکھ کروڑ کیکریڈٹ سکیم کا اعلان کیا گیا تھا اس  کو بڑھا کر 5 لاکھ کروڑ کرنے کی رائے دی۔ اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ملک کا سنجیدہ سرمایہ دار فکرمند ہے مگر وزارت مالیات کو اس کی کوئی فکر نہیں۔

اس کے برعکس بھگتوں کا دعویٰ ہے کہ کورونا تو ایک آسمانی آفت  ہے۔ اس لیے سرکار یا انتظامیہ ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ یہ درست ہےمگر    کورونا جیسی    وبا  امیر غریب میں فرق نہیں کرتی   اس  لیے سبھی طبقات  کو  یکساں طور پر متاثر ہونا چاہیے۔ کیا وطن عزیز میں ایسا ہوا؟قوم کے دانشور  کو اس بات نے متفکر کررکھا ہے کہ   ملک کی جی ڈی پی جس دورانیہ میں   پاتال میں پہونچ گئی تھی،  ان  سرمایہ داروں کی کمائی آسمان کو چھو رہی تھی ۔  ہورون گلوبل رچ (امیر)  لسٹ 2021 کے مطابق، مکیش امبانی 83 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ ایشیا کے  مالدار ترین ہندوستانی بنے  رہے۔ ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ نے اپنی دولت میں  24 فیصد کا  اضافہ کرکے عالمی سطح پر  بھی  ایک مقام او  پر چڑھ کر آٹھویں امیر ترین انسان بن گئے۔ دولت کا یہ ارتکاز اس لیے پریشان کن ہے کہ ہورون گلوبل رچ لسٹ 2021 میں 68 ممالک کے 3228 ارب پتیوں میں  چین کے امیروں لوگوں  کی تعداد  1، 058 سے گھٹ کر  932 پر آگئی  جبکہ ہندوستان کے اندر غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا۔

یہ سرکار نوٹ دینے والوں اور ووٹ  دینے والوں کے درمیان جو امتیازی  سلوک کرتی ہےوہ  سنگھ پریوار کو نظر آرہا ہے لیکن اس کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے۔ وہ اگر اب  سرکار کی مخالفت کرے تو میڈیا اسے بھی قوم کا غدار قرار دے کر راندۂ درگاہ کردے گا جیسا کہ ڈاکٹر پروین توگڑیا کے ساتھ کیا گیا۔ اس لیے وہ حمایت کرنے پر مجبور ہے۔ اس کی حالت مسلمانوں جیسی ہے جو جانتے ہیں کہ کانگریس اور دیگر سیکولر جماعتیں  ان کا جذباتی استحصال کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتی  اس کے باوجود بی جے پی کے بغض میں اس کی حمایت کے لیے مجبور ہیں  اسی طرح سنگھ پریوار  کے پاس بھی سب کچھ جانتے بوجھتے بی جے پی کی حما یت کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔ بی جے پی کو ایک زمانے میں سیٹھ جی (سرمایہ دار) اور بھٹ جی (پروہتوں ) کی پارٹی کہا جاتا تھا  لیکن اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ  مسلمانوں کی مخالفت کرکے بی جے پی     والے بھٹ جی   کو بیوقوف بناتے ہیں  اور ان کی مدد سے اقتدار میں آکر سیٹھ جی کا بھلا کرتے ہیں۔ ہندوستان میں ہندوتوا کی آڑ  میں غالی  سرمایہ دارانہ نظام (Crony Capitalism)  کا بول بالا ہورہا ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔