جان لیوا کیوں ہورہی ہے بھیڑ؟

مظفرحسین غزالی

دیش بدل رہا ہے، ہم اسے دیکھ بھی رہے ہیں ، ایک ایسا بدلائو جس میں مجرم بے خوب گھوم رہے ہیں اور بھیڑ خود فیصلہ کرنے لگی ہے۔ اس کیلئے سب کے پاس اپنی دلیلیں ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘‘ والی سرکارکی آمد کے بعد مذہبی تنگ نظری کھل کر سامنے آگئی، جس نے ملک کی رواداری اور تنوع کو پارہ پارہ کردیا۔ خاص ذہنیت والوں کی جرأت اتنی بڑھ گئی کہ وہ قانون ہاتھ میں لینے یا اس کی خلاف ورزی کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔ دادری کے واقعہ کوخوفناک تمہیدسمجھئے، جس نے ملک کے حساس لوگوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ ادیبوں ، دانشوروں ، فنکاروں اور صحافیوں نے اس پرصدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے اپنے سرکاری ایوارڈ واپس کردیئے لیکن ہندو راشٹرواد کی گونج میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کے ان کے تمام اقدامات ناکام ثابت ہوئے۔

دادری کے بعد بھیڑ کے تشدد اور قانون ہاتھ میں لینے کے کتنے ہی واقعات سامنے آچکے ہیں ۔ یہ مرض روزبہ روز مہلک ہوتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ کسی ایک طبقہ کو قانون سے مستثنیٰ بنانا ہے یا جب وہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں اورآپ یہ مان کر کہ وہ آپ کے جیسا سوچتے ہیں ، اس پر دھیان نہیں دیتے تویقین مانئے قانون توڑنے کا حوصلہ بڑھے گا، وہ اپنے آپ کو قانون سے اوپر سمجھنے لگیں گے۔ آج ایک گروپ قانون توڑے گا کل دوسرا۔ یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ یہ کسی ایک علاقے یا ریاست تک محدود نہیں ، پورا ملک اس کی زد میں ہے۔ حالیہ واقعات جو سرخیوں میں رہے، اس کی مثال ہیں ۔ یوپی کے گریٹر نوئیڈا میں کچھ لوگوں نے نائیجریا کے طلبہ کو بے رحمی سے پیٹا، کیوں کہ پڑوس کے ایک لڑکے کی زیادہ نشہ کرنے کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔ لوگو ں کو لگا کہ اس کیلئے افریقی طلبہ ذمہ دار ہیں ۔ کیا اس کا کوئی ثبوت تھا؟ جواب ہے نہیں لیکن کسی نے حملہ کرنے والوں کو نہیں روکا جنہوں نے فیصلہ کرلیا کہ فوراً انصاف ضروری ہے۔

راجستھان کے الورسے اسی طرح کا معاملہ پہلو خان کے بارے میں سامنے آیا، جس کے پاس گائے کی خرید کے سرکاری کاغذ موجود تھے لیکن خود ساختہ گائے کے محافظوں نے ایک نہ سنی اور اتنا مارا کہ پہلو خان کی موت ہوگئی۔ راجستھان میں ہی ایک اور واقعہ میں گائے کے خودساختہ محافظوں نے سرکاری افسران کو پیٹ دیا جو سرکاری گئو شالہ کیلئے گائے لے جارہے تھے۔ ممبر پارلیمنٹ نے ایئر انڈیا کے ایک ملازم کو صرف اس لئے پیٹا کہ اس نے انہیں منمانی کرنے سے روکا۔ یا پھر دہلی کے جی ٹی بی نگر میٹرو کے پاس دو لڑکوں کو پیشاب کرنے سے منع کرنے پر انہوں نے ای رکشہ چلانے والے کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ بھیڑ کے ذریعہ کرناٹک میں جبراً بوچڑ خانہ بند کرانا ہویا راجستھان میں کشمیری طلبہ پر اس افواہ کیسبببھیڑ کا حملہ ہو کہ وہ بیف پکارہے ہیں یا پھر ٹرین میں جنید کو ماراجانا۔

مہذب و ترقی یافتہ سماج میں غیر ضروری تشدد کا بڑھنا تشویشناک ہے۔ ایسی کیا وجہ ہے کہ مہاویر، بدھ اور گاندھی کے امن پسند ملک میں تشدد وبدامنی کی زمین تیار ہورہی ہے۔ دیش میں بھیڑ جان لیوا کیوں ہوتی جارہی ہے؟ آدمی آدمی کے بیچ جدوجہد، بغض، نفرت کیوں بڑھ رہی ہے؟ کوئی کسی کو کیوں نہیں برداشت کرپار ہا ہے؟ ہر لمحہ موت کیوں منڈلاتی دکھائی دیتی ہے؟ کبھی گائے کی حفاظت کے نام پر، کبھی عورتوں کی عزت کے بہانے تو کبھی مذہبی شخصیتوں پر کیچڑ اچھالے جانے کے حوالے سے۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو نئے بھارت کے منہ پر کالے دھبے ہیں ؟ موت کا شکار کوئی ایک سماج، مذہب کا شخص نہیں بلکہ سبھی طبقوں کے لوگ شکار ہورہے ہیں ۔ کہیں کہیں قانون ہاتھ میں لینے والے پولس والوں کو بھی نہیں بخشتے۔ یہ اب کسی ایک کادرد نہیں بلکہ اس نے ہر ہندوستانی کے دل کو زخمی کیا ہے۔ لیکن ایسے حملوں سے زیادہ متاثر مسلمان، دلت اور حاشیہ پر رہنے والے غریب ہورہے ہیں ۔ ان پر تشدد کے واقعات کو فوراً روکنے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اگر سماج میں پنپ رہے تشدد کو اور وقت دیا گیا تو جان لیوا وارداتیں بے شمار ہوجائیں گی اور لوگوں کی لاشوں کوگن پانابھیمشکل ہوجائے گا۔

دراصل جب جب عوام کے فیصلے سے سیاسی پارٹیاں اقتدار سے دور ہوئی ہیں ۔ انہوں نے ایسے ہی اراجک و متشدد ماحول تیار کئے ہیں ۔ کیوں کہ بغیر سیاسی سرپرستی کے کوئی بھی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔ سیاستدانوں کو بابو بجرنگی جیسے جاہل اور زہریلے لوگ خوب راس آتے ہیں ۔ انہوں نے زندگی میں کچھ کیا نہیں ہوتا جو وہ خود یا ان کا خاندان ان پر ناز کرسکے۔ نہ ہی انہوں نے سماج کو کچھ دیا ہوتا ہے، لیکن انہیں نام، عزت اور طاقت کی خواہش ہوتی ہے۔ سوگئو رکشا جیسا کوئی دل بنالیا اور کھانے پینے کا جگاڑ کرلیا۔ مویشی لے جاتے کسی ٹرک کو روک لیا۔ ہندو ہوا تو وصول کی، مسلمان ہوا تو جان لیوا حملہ کردیا اور مویشی چھڑا لئے۔ آم کے آم گٹھلی کے دام۔ ایسے لوگ چنائو میں ماحول بنانے، گھر گھر جھنڈا ٹانگنے اور ووٹوں کو اکٹھا کرنے میں اہم روک ادا کرتے ہیں ۔ اسی لئے کوئی چھوٹا بڑا نیتا انہیں کچھ نہیں کہتا۔ ان کی ہمیشہ سیاسی لوگوں کو ضرورت رہتی ہے۔ بھیڑ جمع کرنے اور اپنے منصوبوں کوبروئے کار لانے میں ۔ان میں سے ہی کئی ایم پی، ایم ایل اے بن جاتے ہیں ۔ جن ریاستوں میں بھاجپا کی سرکاریں ہیں وہاں ایسے لوگ اور دل زیادہ مضبوطی سے کام کررہے ہیں ۔ انڈیا اسپینڈ کی تازہ رپورٹ اس کی گواہ ہے۔

انڈیا اسپینڈ کے ذریعہ میڈیا رپورٹوں سے اکٹھا کئے گئے،25 جون 2017 تک کے اعدادو شمار کے مطابق 2010سے2017کے درمیان گائے کے مدعے پر ہوئے تشدد کے واقعات میں سے 51 فیصد میں مسلمان نشانے پر تھے۔ اس دوران ہوئے 63 معاملوں میں 28 لوگ مارے گئے ان میں سے 24یعنی86 فیصد مسلمان تھے۔ بیف سے منسلک تشدد کے 97 فیصد معاملے مرکز میں مودی حکومت کے آنے کے بعد پیش آئے۔ ان میں سے لگ بھگ آدھے (63میں سے 32) بھاجپا کے اقتدار والی ریاستوں میں پیش آئے۔ جبکہ 8 معاملے کانگریسی ریاستوں میں درج کئے گئے۔ ان واقعات میں مجروح افراد کی تعداد 124 تھی۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ مرکزی حکومت یا ریاستی حکومت کی طرف سے دیئے جانے والے جرائم کے اعدادو شمار میں بیف یا ہجومی تشدد کے ذریعہ کئے گئے قتل ودیگر معاملے الگ سے ظاہر نہیں کئے جاتے۔

ویسے تو بھیڑ پر کسی کا قابو نہیں ہوتا لیکن بھیڑ کے ذریعہ لوگوں کو پیٹ پیٹ کر مار دینا صرف قانون انتظامیہ کا مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ہندوراشٹر وادیوں کے غلط پرچار کا نتیجہ ہے۔ وہ لگاتار یہ مشتہر کرتے آئے ہیں کہ گائے ہندوئوں کیلئے قابل احترام ہے اس لئے مسلمان اسے مار کر کھانا چاہتے ہیں ۔ جبکہ مسلمان ہمیشہ برادران وطن کا احترام کرتے رہے ہیں ۔ جن ریاستوں میں گائے کے ذبیحہ پر پابندی ہے وہاں زیادہ  لوگ قانون اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ سوشل میڈیا ہمارے روز کے مسائل کو سرکار تک پہنچانے کا ایک بہترین ذریعہ ہے لیکن اس کا استعمال غلط فہمیاں پیدا کرنے اور افواہیں پھیلانے کیلئے ہورہا ہے۔ اس سے سماج میں نفرت اور بغض کو فروغ مل رہا ہے۔ اس کو روکنے کیلئے جرمنی جیسا سخت قانون بنانے کی ضرورت ہے۔

 گزشتہ اتوار کو وزیراعظم نریندر مودی نے آل پارٹی میٹنگ کے موقع پر صاف طورپرکہا کہ گائے کی حفاظت کے نام پر تشددبرداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے ریاستی سرکاروں سے قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کو کہتے ہوئے کہا کہ گائے کی حفاظت کو سیاسی و فرقہ وارانہ رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہوڑ شروع ہوگئی ہے ،اس سے دیش کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سے قبل سابرمتی آشرم سے مودی جی نے گئو رکشا کے نام پر تشدد کرنے والوں کو ہڑکایا تھا۔ اس کا جواب اسی دن جھارکھنڈ میں بھیڑ نے علیم الدین کا قتل کرکے دے دیاتھا۔ دراصل مودی جی کو بیرون ملک اپنی شیبہ کی بہت فکر رہتی ہے۔ بھارت میں جب بھی اس طرح کا کوئی واقعہ ہوتا ہے امریکہ یورپ میں بڑا ہلا مچتا ہے۔ پھر بھی اگر وزیراعظم کوئی سخت قدم اٹھانے کا فیصلہ کریں گے تو قانون ہاتھ میں لینے والوں پر ضرور نکیل کسے گی۔

سخت حالات میں بھی ’ناٹ ان مائی نیم‘ جیسی مہم امید کی کرن کے طورپر سامنے آئی ہے، جس میں دانشوروں کے ساتھ سبھی مذاہب کے لوگ شامل ہیں ۔ طلبہ نے اس میں شامل ہوکرمہم کو زیادہ طاقت ور بنادیا ہے۔ یہ مہم جلتے سلگتے ملک کو یہ پیغام دینے میں کامیاب ہوئی ہے کہ مذہب کے نام پر قتل وغارت گری بند ہونی چاہئے۔ ہر مذہب محبت کی تعلیم دیتا ہے اور ٹوٹے دلوں کو جوڑنا سکھاتا ہے۔ تشدد کے رد عمل میں اپنی حفاظت کیلئے اگر ہر طبقہ اپنی اپنی سینائیں بنانے لگے گا تو دیش میں سہارنپور جیسے واقعات کو رونما ہونے سے کوئی روک نہیں پائے گا۔ ملک کو ترقی کرکے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ دیش میں قانون کا راج قائم ہو۔ انصاف، حفاظت اور ترقی کو الگ الگ یا دوسرے کی قیمت پر نہیں بڑھایا جاسکتا ہے۔ قانون کا راج ہوگا تبھی ادارے مضبوط ہوں گے اور مضبوط ادارے ہی دیش کی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں ۔

تبصرے بند ہیں۔