جس دل میں نفرت ہو، وہاں ‘رام’ نہیں بسا کرتے!

مسیح الزماں انصاری

یہاں رام ابھی تک ہیں نر میں، ناری میں ابھی تک سیتا ہے

جیتیں ہوں کسی نے ملک تو کیا، ہم نے تو دلوں کو جیتا ہے.

اس دیش بھكتي کے نغمہ کو سن کر بڑی ہوئی نسل جب ہر مرد میں ‘رام’ کو تلاشتی ہے تو مایوس ہو جاتی ہے. نہ تو شخصیت میں رام کا عنصر ہے اور نہ ہی روح میں رام کا مسکن. جیتنے کے لیے تو پوری دنیا پڑی تھی مگر ہم بھیڑ بن کر اپنے ہی لوگوں کو مارتے ہوے ہر لمحہ ہار رہے ہیں. جھوٹے عقیدے کے جارحانہ تیور اور ان خون سے سنے ہوے ہاتھ دم توڑتی جمہوریت کے گواہ ہیں۔

جن کی شخصیت نے اس ملک کو دنیا میں قدر اور احترام دلایا، اتحاد اور سالمیت کی بات کی، آج انہی کا نام آپ کے پوسٹر پر چسپاں کر  فاسی وادي نظریات کی توسیع کی جا رہی ہے اور ملک میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے بھارت کا سر جھکانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ہے.

‘رام’ کا نام لے کر ان کی تعلیمات کو درکنار کرنے والے، ان کے خیالات کا گلا گھونٹنے والے، ان کے نام پر بے گناہوں کو مارنے والے، جمہوریت کا قتل کر کے ‘رام راج’ قائم کرنے کی بات کرنے والے لوگوں نے ‘ہندو مذہب’ کی روح کے ساتھ دھوکہ اور غداری کی ہے. ایک ‘امن پسند’ اور ‘محسن’ مذہب کو جارحانہ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے. ذاتی اقدار کو پانے کی خاطر مذہب کا غلط استعمال کیا ہے. کیا انہیں نہیں معلوم کہ جن کے دل میں نفرت اور انتقام ہو وہاں ‘رام’ نہیں بسا کرتے؟

جس طرح سوچھتا کیلئے گاندھی کا ‘چشمہ’ ہی نہیں بلکہ گاندھی کی نظر بھی درکار ہوتی ہے، اسی طرح ‘رام راج’ کے قیام کے لیے من کی شانتی، امن، محبت اور دل میں رام کا گھر ہونا ضروری ہے تاکہ کسی ‘ناتھو رام’ کے گولی مارنے پر بھی اے رام …. کہتے ہوے یہ کہا جائے کہ اسے معاف کر دیا جائے!

اگر گجرات میں کسی حاملہ عورت کا پیٹ چیر کر اس کے بچے کو ترشول سے مارا جا رہا ہو اور وہاں بھگوان رام ظاہر ہو جائیں تو کیا ان نام نہاد حضرات کے اس ایکٹ کو دیکھ کر خوش ہوں گے؟ کیا انہیں ایسا کرنے کا حکم دیں گے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ کہیں گے کہ تم مذہب اور عقیدے کے نام پر کلنک ہو، تم کسی پارٹی یا نظریے کے خادم تو ہو سکتے ہو پر میرے بحکت نہیں ہو سکتے!

‘رام’ کے نام پر بھیڑ بن کر اس ملک کے ‘اخلاق’ کو مار دینا یا مسلسل مارتے رہنا تو آسان ہے،  لیکن رام بھکت ہوکر انسان بنے رہنا مشکل ہے. ظاہر ہے جس کا ‘اخلاق’ مر گیا وہ رام بھکت کس طرح ہو سکتا ہے؟ جو فسادی ہیں، جن پر مال، قتل اور عصمت دری کے کیس ہیں، جن کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے سنے ہیں ان کا ‘ہندو’ یا ‘رام’ کی طرف نسبت کرنے کا دعوی جھوٹا ہے. جو اپنی زندگی میں اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ ‘رام بھکت’ بھی نہیں ہو سکتا.

ہندو سماج کو چاہئے کہ ایسے لوگوں سے یہ سوال کریں کہ تم نے ذاتی اقتدار کے حصول کے لالچ میں ہندو مذہب کا سہارا کیوں لیا؟ تم نے فسادات کروانے کیلئے خدا ‘رام’ کا نام کیوں لیا؟ تم نے اپنے بےہودہ مقاصد کہ وصولی کے لئے ہندو مذہب کو ڈھال کیوں بنایا؟ اور تمہیں ہندو مذہب کا ٹھيكےدار کس نے بنایا؟

تبصرے بند ہیں۔