جمہوریت اور مسلمانوں کی سیاسی شناخت

جاوید اختر بھارتی

ہندوستان کی آزادی کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی یعنی ملک آزاد ہوئے 75 سال ہو گئیے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر ہندوستانی کو اس کا حق مل گیا ، ملک کا ہر شخص اپنے پیر پر کھڑا ہوگیا، وزارت، ملازمت، سیاست میں سب کو حصہ مل گیا، گاندھی جی سارا خواب پورا ہو گیا؟ اگر ہوا ہوتا تو نظر آتا اور نہیں ہوا تو آخر کیوں؟  یوں تو سبھی سیاسی پارٹیاں کہتی ہیں کہ ہمیں گاندھی جی کے خوابوں کا ہندوستان بنانا ہے مگر یہ کوئی پارٹی نہیں بتاتی کہ گاندھی جی کا خواب کیا تھا شائد اس لیے کہ کہیں عوام باخبر نہ ہوجائے ہم بتاتے ہیں،، گاندھی جی کا خواب تھا کہ ملک میں امن و چین رہے، آبادی کے تناسب سے ہر سماج کو ہر شعبے میں نمائندگی ملے تاکہ ملک میں کبھی فرقہ پرستی کا ماحول قائم نہ ہوسکے اوربرسراقتدار و حزب مخالف دونوں کا نظریہ تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ تنقید برائے تعمیر و تنقید برائے اصلاح ہو اور دونوں ملک کے مفاد میں ایک دوسرے سے مشورہ کریں اور ساتھ ہی ساتھ حزب مخالف پارٹیاں ایوان میں بیدار پہریدار کا رول ادا کریں اور دونوں کا مقصد ملک و ملت کا مفاد ہو لیکن افسوس کہ سبھی سیاسی پارٹیاں اصل راستے سے بھٹک گئیں اور عوامی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ذاتی مفاد کی سیاست کرنے لگیں نتیجہ یہ ہوا کہ ہر گاؤں ہر علاقے میں آج بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے مکان نہیں بلکہ وہ سڑکوں اور ریل پٹریوں کے کنارے ڈیرہ ڈال کر سردی، گرمی، برسات ہر موسم کا سامنا کرتے ہوئے اپنی زندگی کا گذر بسر کرتے ہیں ان کا کوئی آدمی ایوان تک نہیں پہنچتا کیا اسے سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کی طرح اور سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں کے بچوں کی طرح جینے کا حق نہیں ہے ؟اگر ہے تو اسے اوپر اٹھانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم کیوں نہیں اٹھایا جاتا ان کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو یہاں تک احساس ہو چکا ہے کہ ہمیں اسی طرح رہنا ہے اور یہی ہماری پہچان ہے۔

 یہ بھی انتہائی افسوس کی بات ہے کہ آذادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی ہے بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر نے جو ریزرویشن کی سہولت کا نظام بنایا تھا اگر وہ نظام برقرار رہاہوتا تو سیاسی میدان میں مسلمانوں کا بیک ورڈ طبقہ اور مسلمانوں میں سب سے دبا کچلا طبقہ نٹ، بھانٹ، بنجارہ، حلال خور، دھوبی وغیرہ کے حالات بھی کافی تبدیل ہوئے ہوتے اور وہ بھی غیر مسلم برادری میں پاسی، دھوبی، سونکر، دلت وغیرہ کی طرح ریزرو سیٹوں پر الیکشن لڑتے اور اسمبلی و پارلیمنٹ تک پہنچتے مگر کانگریس نے اگست 1950 میں دفعہ 341 کے پیرا 3 پر صدر جمہوریہ کے ذریعے آرڈینس جاری کراکر صرف مسلمان ہونے کی بنیاد پر مسلمانوں کی مذکورہ برادری کو ریزرویشن سے محروم کردیا 1949 میں بابری مسجد کے اندر مورتی رکھے جانے کا معاملہ پیش آیا تو اسے حل کرنے کے بجائے الجھائے رکھا اور 1992 میں کانگریس نے ہی اپنے دور حکومت میں بابری مسجد کو منہدم بھی کرایا اس طرح آذادی حاصل ہونے کے بعد سب سے پہلے ہندو مسلم کی سیاست کانگریس نے کی،، اس کے بعد سے تو مسلمانوں کی ہمدرد سبھی پارٹیاں بننے لگیں لیکن آج تک ساری ہمدردی محض سبز باغ دکھانے تک محدود رہی سبھی پارٹیاں سیکولر ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہیں اور وقت آتا ہے تو منافقانہ کردار ادا کرتی ہیں طلاق ثلاثہ بل، شہریت ترمیمی  بل جیسے معاملوں میں سیاسی پارٹیوں کا کردار ایسا رہا کہ بی جے پی کو موقع ملا اور سیاسی پارٹیوں کے چہروں سے نام نہاد سیکولرازم کا لگا لیبل نوچ کر پھینک دیا اور سب کے چہرے بے نقاب ہوگئے  یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سبھی سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کو ووٹ بینک سمجھا اور بی جے پی سے ڈرایا اور سچائی یہ ہے کہ ان پارٹیوں نے مسلمانوں اور بی جے پی کے درمیان دوری بھی کرائی اور نفرت پیدا کرانے کی کوشش کی اور آج سبھی پارٹیوں کی نظر میں مسلمان کرکٹ کے میدان کا بارہواں کھلاڑی ہے اور تیج پتہ کی طرح ہے کہ عرق اتانے کے بعد پھینک دیا جاتاہے۔

 اب مسلمانوں کو صاف طور پر کہنا چاہیے کہ ہم نے کسی کو ہرانے جتانے کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا ہے چاہے کوئی ہارے یا جیتے ہمارے سر ناکامی کا ٹھیکرا نہ پھوڑا جائے ہمارے کچھ علماء و کچھ تنظیمیں 60 سال تک کانگریس کی حمایت کا کردار ادا کرتی رہیں اور کانگریس نے ان علماء اور ان کی تنظیموں کو پارٹی کا ایک سیل (प्रकोष्ठ) بناکر چھوڑا وہ تنظیمیں اندھیرے میں حمایت کرتی رہیں بدلے میں انہیں ذاتی طور پر سرکاری سہولیات ملیں مگر وہ پارٹی میں یہ باور کراتے رہے کہ ہم مسلمانوں کے رہنما ہیں اسی لیے جب مسلمانوں نے بھی سوال کرنا شروع کردیا کہ آپ جب مسلمانوں کے ووٹ کے ٹھیکیدار ہیں تو آپ نے مسلمانوں کو کیا دلوایا خود تو مہنگی مہنگی کاروں میں چلتے رہے اور ہم دردر کی ٹھوکر کھاتے رہے،، یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے بھی ان کی اپیلوں کو ٹھکرا دیا اور انہیں رہنماؤں کی دین ہے کہ سبھی پارٹیوں نے مسلمانوں کو کھلونا بناکر رکھ دیا ورنہ ہمارے ملک میں جمہوریت ہے،، پارٹی بنانے کا، ووٹ دینے کا، ووٹ مانگنے کا آئین کے تحت حق حاصل ہے پھر بھی مسلمان حاشئیے پر ہے،، جو سیاسی پارٹیاں مسلم قیادت کی شکل میں ہیں بھی تو صرف جذباتی نعرہ اور جذباتی تقریروں کے علاوہ کچھ بھی نہیں اور بات بھی ایسی ہی ہوتی ہے کہ جس سے فرقہ پرستی کی بو آتی ہے کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس قوم کو حکمراں قوم کہا گیا ہے۔

 اس قوم کی ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں کوئی سیاسی پہچان نہیں ہے، کیونکہ مسلم سیاسی پارٹی جو ہے وہ خود مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کرتی ہے کیا اسے نظر نہیں آتا کہ موجودہ برسراقتدار پارٹی نے سماج کی بنیاد پر موریہ، کشواہا، برہمن، راج بھر، پاسی، سونکر وغیرہ کو نمائیندگی و حصہ داری دی ہے تو پھر مسلم قیادت اپنی پارٹی میں سماجی و طبقاتی بنیادوں پر نمائیندگی کیوں نہیں دیتی مسلمانوں کی کچھ بڑی بڑی تنظیمیں ہیں جس میں آج تک مخصوص طبقے کے لوگ ہی صدر بنتے آرہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ جب آپ خود اپنے گھر میں اپنے بھائی کو حق نہیں دیتے تو دوسروں سے کس منہ سے حق مانگتے ہو؟

 اسی وجہ سے آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کسی کو ووٹ دیتے بھی ہیں تو وہ پارٹی یہی تأثر دیتی ہے کہ ہمیں ووٹ دینا تو تمہاری مجبوری ہے ہمیں نہیں دیتے تو کس کو دیتے،، اس لیے اب سے صحیح راستہ اختیار کرو،، پہلے مسلمان خود  مسلمانوں  کی برادری کو آبادی کے تناسب کے لحاظ سے سیاسی، سماجی، فلاحی، دینی اور تعلیمی اداروں، پارٹیوں، تنظیموں اور کمیٹیوں میں حصّہ دے کر انصاف کریں تبھی کامیابی حاصل ہونے کا راستہ ہموار ہوگا-

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا