جمہوریت کا آمریت میں بدل جانا

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی

عوام کے ذریعہ عوام کےلیے منتخب عوام کی حکومت مطلب جمہوریت۔ یوں سمجھئے کہ آپ سمندر میں  اونچی لہروں اور تیز بہاؤ کے بیچ ایک ناؤ پر ہیں تو کیا کریں گے۔ ناؤ چلانے کا طریقہ طے کرنے کےلیے چناؤ  کرائیں گے۔ یا یہ تلاش کریں گے کہ ناو ¿ پر کوئی ایسا شخص موجود ہے جو ناؤ چلانے میں ماہر ہو۔ کوئی بھی ذی ہوش انسان یہ نہیں چاہے گا کہ موت اور زندگی کی حالت میں کوئی نو آموز یہ قیاس لگاتا رہے کہ اسے کیا کرنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دوسرے طریقہ کو اپنایا جائے گا یعنی مہارت کو اہمیت دی جائے گی۔ اب آپ ناؤ کی جگہ ریاست یا ملک کو رکھ کر غور کیجئے کہ اسے چلانے کےلیے کس کے سپرد کیا جائے۔ پلیٹو نے اپنی کتاب’دی ری پبلک‘ میں جمہوری نظام، اس میں ہونے والی تبدیلیوں، انتخاب اور حکمرانوں کے رویہ پر تفصیل سے بحث کی ہے۔ وہ عوام کی حکومت کو فیصلہ لینے کے معاملہ میں مفید نہیں مانتے۔ عام لوگوں کے ذریعہ حکومت، حکمران کا انتخاب بھی انہیں جوکھم بھرا لگتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ عام ووٹر غیر ضروری باتوں، لالچ، گمراہی، رنگ روپ، مذہب، وعدوں، باتوں اور میڈیا کے ذریعہ گڑھی گئی غیر حقیقی شبیہ سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہیں یہ احساس نہیں رہے گا کہ حکومت چلانے سے لے کر حکمرانی تک قابلیت کی ضرورت ہے۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق پلیٹو چاہتے ہیں کہ اقتدار تربیت یافتہ سوجھ بوجھ رکھنے والے ماہرین کو چلانا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ سربراہ کو ایمانداری، حقیقت کی گہری سمجھ (عام لوگوں سے کہیں زیادہ) کی بنیاد پر منتخب کیا جائے۔ ایسے لوگ بہترین حکومت دے سکتے ہیں۔ اس کےلیے کچھ افراد زندگی بھر تیاری کرتے ہیں، تاکہ وہ جمہوریت کی ذمہ داری نبھاتے ہوئے سماج کےلیے عقل مندی کے فیصلے لے سکیں۔ سماج میں اگر نابرابری بڑھے گی تو غیر تعلیم یافتہ غریبوں کی تعداد میں امیروں کے مقابلہ اضافہ ہوگا۔ امیر اور امیر ہونے لگیں گے نتیجہ کے طور پر اخلاقی و سماجی قدروں میں انحطاط آئے گا اور اقتدار کچھ ہاتھوں میں سمٹ کر رہ جائے گا۔ اس کی وجہ سے لوگ دولت حاصل کرنے کی اندھی دوڑ میں لگ جائیں گے۔ عوام میں برابری، سماجی انصاف اور آزادی کی مانگ پیدا ہوگی۔ یہ مانگ اختلاف رائے اور سیاسی گٹوں کو جنم دے گی۔ ایسے میں جو نیتا بننا چاہتا ہے، اسے ان گٹوں کو مطمئن اور ان کے احساسات کا دھیان رکھنا ہوگا۔

یہ کیفیت سماج میں افراتفری کےلیے خوشگوار اور کسی بھی ڈکٹیٹر کے پھلنے پھولنے کےلیے مفید ہوتی ہے۔ وہ جمہوریت کو کنٹرول کرنے کےلیے عوام کو گمراہ کرتا ہے۔ غیر معمولی آزادی کے نتیجہ میں پیدا ہوئی بے لگام متشدد بھیڑ کو اپنے مفاد کےلیے استعمال کرتا ہے۔ عوام کے ڈروں کو پالتا پوستا ہے اور حکومت سے مایوس، پریشان اور غیر مطمئن لوگوں کے سامنے خود کو ان کے محافظ کی شکل میں پیش کرتا ہے۔ اپنے آپ کو ہر مسئلہ کا حل بتاتا ہے۔ آخر کار کنفیوز، پریشان اور اپنے میں ڈوبے عوام جیسے ہی اسے منتخب کرتے ہیں۔ ان جانے میں وہ خود ہی جمہوریت (لوگوں کی حکومت) کو آمریت میں بدلنے کی راہ ہموار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ ناسمجھ بھیڑ کی حکومت کو نمائندگی والی مقننہ، سپریم کورٹ، انسانی حقوق قوانین اور سب کےلیے تعلیم (سرو سکشا) کے ذریعہ کنٹرول کرنے کا انتظام موجود ہے، مگر آمریت کی طرف بڑھ رہی حکومت اپنی پالیسیوں اور اپنے حامیوں کے ذریعہ ان اداروں کی حیثیت کو مجروح کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اقتدار پر قابض ہونے کےلیے انتخاب میں نقدی اور نشے کا لالچ دیا جاتا ہے۔ 13 مارچ کی خبر کے مطابق آسام میں صرف گیارہ دن میں انتخابی کمیشن نے 18 کروڑ روپے نقد، شراب، ڈرگس اور پابندی لگائی گئی اشیاءبرآمد کی ہیں۔ انتخابی کمیشن کے اعداد چونکانے والے ہیں۔ 2014 کے پارلیمانی انتخابات کے دوران پورے ملک میں 300 کروڑ روپے نقد، 1.5 کروڑ لیٹر سے زیادہ شراب اور 17 ہزار کلوگرام نشیلی اشیاءضبط کی گئی تھی۔ اس سلسلہ میں تب 11 لاکھ سے زیادہ لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی تھی۔ 2019 کے الیکشن میں 884 کروڑ روپے نقد، 304 کروڑ روپے سے زیادہ کی شراب، 1200 کروڑ روپے سے زیادہ کی نشیلی اشیاءاور قریب ایک ہزار کروڑ روپے کے زیورات اور تحفہ پکڑے گئے تھے۔ اے ڈی آر کی رپورٹ کے مطابق موجودہ لوک سبھا کے 539 ممبران میں سے 475 کروڑ پتی ہیں۔ ان میں سے 266 کی مالیت پانچ کروڑ سے زیادہ ہے۔ کروڑ پتی اور داغدار ممبران پارلیمنٹ میں سال در سال اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اس وقت ہے جب کورونا بحران میں عام آدمی پہلے کے مقابلہ غریب ہوا ہے لیکن سیاست دانوں کی دولت بڑھی ہے۔ ایسی صورت میں کبھی بھی جمہوریت صحت مند نہیں ہو سکتی۔

فریڈم ہاؤس اور آٹوکریٹائزیشن ٹرنس وائرل نے اپنی رپورٹ میں بھارت کی جمہوریت میں آ رہی خطرناک اور منفی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ رپورٹ میں انتخابی کمیشن کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت جمہوریت سے انتخابی آمریت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہاں اختلاف رائے اور تنقید کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ اسے ملک مخالف سرگرمی کا نام دیا جاتا ہے۔ حکومت میڈیا، اکیڈمک اداروں اور سول سوسائٹی پر حملہ آور ہو رہی ہے۔ سماج کو پولرائز کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی پامالی، ملک سے غداری، دہشت گردی مخالف اور ہتک عزت قوانین کے غلط استعمال کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ 2019 میں بی جے پی کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اقلیتیں، دلت، کمزور طبقات زیادہ غیر محفوظ ہوئے ہیں۔ انہیں تشدد کا نشانہ بنائے جانے پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ سیاسی حقوق، شہریوں کی آزادی اور عدلیہ کی آزادی میں گراوٹ کو بھی نشان زد کیا گیا ہے۔ اس میں بھارت کو سو میں سے 67 نمبر دیئے گئے ہیں جبکہ پہلے اس کا اسکور 71 تھا۔ بھارت کا لبرل ڈیموکریسی اسکور 2013 میں 57. تھا جو گھٹ کر 2020 میں 34. رہ گیا ہے۔ میڈیا کی آزادی کا ممکنہ اسکور 4 میں سے 3.5 رہا کرتا تھا ۔وہ 2020 میں 1.5 رہ گیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ سات ہزار لوگوں پر ملک سے غداری کا مقدمہ لگایا گیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے ہیں۔

جو بات ان دونوں رپورٹوں میں نہیں آ پائی وہ یہ ہے کہ اس آمریت اور اکثریت وادی مذہبی طبقہ کی بالادستی کو سماج کا ایک حصہ قبول کر رہا ہے اور ہجومی تشدد کو سماج کی منظوری مل رہی ہے۔ یہ صورتحال ڈکٹیٹر شپ سے زیادہ خطرناک ہے۔ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا میں مذہب پر منحصر تنگ قوم پرستی کے حامیوں کو دھیرے دھیرے جگہ ملتی جا رہی ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھایا جا رہا ہے کہ اچھی جمہوریت ایک کمزور ملک بناتی ہے۔ اپنے حقوق کی مانگ کرنے والے ملک سے محبت کرنے والے شہری نہیں ہیں بلکہ وہ شہری مثالی ہیں جو اپنی ذمہ داری ادا کرتے ہیں، لیکن آئینی فرائض کی جگہ سیاسی اقتدار کی مرضی کو فرض کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

 آج دنیا کی 68 فیصد آبادی آمریت کی طرف بڑھ رہی حکومتوں کے زیر سایہ زندگی گزار رہی ہے، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اس گراوٹ کو جمہوریت کی کمیوں کو دور کرنے کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اسلام جمہوریت کے بجائے خلافت میں انسانیت کی بھلائی دیکھتا ہے۔ کیوں کہ یہاں خلیفہ کا انتخاب عام لوگ نہیں کرتے بلکہ خلیفہ منتخب کرنے کی ذمہ داری صاحب رائے اور عقلمند لوگوں کی ہے۔ تبھی تو گاندھی جی کی خواہش تھی کہ ملک میں حضرت عمر رضی اللہ عنہما جیسی حکومت کا قیام عمل میں آئے۔ پلیٹو نے جمہوری حکومت کا سربراہ سمجھ اور عقلمندی سے فیصلے لینے والوں کو بنانے کی وکالت کی ہے تاکہ ملک میں قدروں کا راج ہو نہ کہ بھاوناؤں کا۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔