حدبندی کمیشن رپورٹ : عدالت میں چیلنج کیوں نہیں ہوسکتی؟

الطاف حسین جنجوعہ

حدبندی کا لفظی مطلب ملک یا کسی صوبہ کے سرحدوں اور علاقائی حدود کا تعین کرنا ہے۔ حدبندی کمیشن سے مراد پارلیمانی یااسمبلی حلقوں کی حدود متعین کرنے کے لیے تشکیل دی جانے والی اعلیٰ اختیاری باڈی ہے۔ حدبند ی کمیشن انڈیا میں اب چار مرتبہ تشکیل دی گئی۔ سال 1952کو حد بندی کمیشن ایکٹ1952، سال1963کو حدبندی کمیشن ایکٹ1962، سال1973کو حد بندی کمیشن ایکٹ1972اور سال 2002کو حد بندی کمیشن ایکٹ 2002کے مطابق انڈیا میں ملکی سطح پر پارلیمانی واسمبلی حلقوں کی حدبندی کی گئی۔جموں وکشمیر میں اسمبلی حلقوں کی حد بندی 1963، سال1973ور1995کو ہوئی ہے۔آخری مرتبہ صدر راج کے دوران جسٹس ریٹائرڈ کے کے گپتا کی قیادت میں کمیشن نے سال 1981کی مردم شماری کے مطابق حد بندی کی تھی اور اِس کی بنیاد پر سال1996کے الیکشن ہوئے، سال1991میں مردم شماری نہیں ہوئی۔ بعد ازاں جموں وکشمیر حکومت نے سال 2026تک نشستوں کی  حد بندی پر روک لگادی تھی جس کو عدالت عظمیٰ نے بھی برقرار رکھاتھا۔ جموں وکشمیر تنظیم نوقانون2019کے مطابق چونکہ نشستوں کی تعداد بڑھی تو اسمبلی انتخابات کرانے سے قبل اسمبلی حلقوں کی حدبندی کرانی لازمی تھی، اِس لیے عدالت عظمیٰ کی ریٹائرڈ جج جسٹس رنجنادیسائی کی سربراہی میں سہ رکنی کمیشن تشکیل دی گئی جس کے جموں وکشمیر کے پانچ اراکین پارلیمان ایسوسی ایٹ ممبران بھی ہیں۔

                جموں وکشمیر کے حوالے سے حدبندی کمیشن نے جوڈرافٹ رپورٹ پیش کی ہے، میں بڑے پیمانے پر اسمبلی حلقوں کی گئی توڑ پھوڑ اور پہلے سے موجود حلقوں کی حدود میں رد وبدل سے لوگوں میں کافی ناراضگی ہے جوکہ اِ س کو زیادتی، نا انصافی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ عوام کا الزام ہے کہ کمیشن نے جوڈرافٹ رپورٹ پیش کی ہے اُس میں قواعد وضوابط کا پاس لحاظ نہ رکھاگیا ہے، بہت زیادہ من مانی کی گئی ہے اور زمینی حقائق کو نظر انداز کر کے …سر کی جگہ بازو، پیر کی جگہ سرلگادیاگیاہے۔ لوگ اِس لیے بھی پریشان ہیں کہ وہ اِس حد تک ہوئی نا انصافی اور زیادتی کو کیوں کر عدالت میں چیلنج نہیں کرسکتے۔ لیکن آئینی طور یہ بندش ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کو چیلنج نہیں کیاجاسکتا۔عدالتوں کو اختیار ہی نہیں کہ وہ حدبندی متعلق عرضی پر کوئی اپنا فیصلہ سنائیں۔ ہم جائزہ لینے کی کوشش کریں گے کہ ایسا کیوں، اور کیا کبھی اِس سے قبل عدالتوں میں کمیشن کی رپورٹ چیلنج کی گئی، اگر ہاں تو پھر عدالتوں کا اِس پر کیا فیصلہ رہا۔

                آئین ہند کے حصہ 15 میں 324سے لیکر329Aدفعات انتخابی امور سے متعلق ہیں اور اسی میں حدبندی بھی شامل ہے۔دفعہ 327,328پارلیمانی واسمبلی حلقوں کی حدبندی کے بارے میں ہیں۔ دفعہ329 کے تحت حد بندی کمیشن رپورٹ عدالت میں قابل ِ عذر نہ ہے۔ دفعہ327کے مطابق’’ اس آئین کی توضیعات کی تابع، پارلیمنٹ وقتاًفوقتاً قانون کے ذریعے پارلیمنٹ کے ہردو ایوان یا کسی ریاست کی مجلس قانون ساز کے ایوان یا ہردو ایوان کے انتخابات سے متعلق یا اس کیک سلسلہ میں جملہ امور کی بابت توضیع کرسکے گی جن میں انتخابی فہرستوں کی تیاری، انتخابی حلقوں کی حد بندی اور وہ جملہ دیگر امور شامل ہیں جو ایسے ایوانوں کی باضابطہ تشکیل کے لیے ضروری ہوں۔ 328ـ’’اس آئین کی توضیعات کے تابع اور جب تک پارلیمنٹ اس بارے میں توضیع نہ کرے، کسی ریاست کی مجلس قانون ساز وقتاًفوقتاً قانون کے ذریعہ اس ریاست کی مجلس قانون ساز کے ایوان یا ہردو ایوانوں کے لیے انتخابات سے متعلق یا اس کے سلسلہ میں جملہ امور کی بابت توضیع کرسکے گی جس میں انتخابی فہرستوں کی تیاری اور ایسے جملہ دیگر امور شامل ہیں جو ایسے ایوان یا ایوانوں کی باضابطہ تشکیل کے لیے ضروری ہوں۔

                ’’دفعہ  329(الف)کے مطابق کسی ایسے قانون کے جواز پر جو انتخابی حلقوں کی حدبندی یا ایسے انتخابی حلقوں کے لیے نشستیں مختص کرنے سے متعلق دفعہ327یادفعہ328کے تحت بنایاگیا ہو یا بنایاگیا ظاہر ہوتا ہو، کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیاجائے گا۔ سال 2019کو جموں وکشمیر کی تقسیم وتنظیم نوسے قبل جموں وکشمیر ری پریزنٹیشن آف پیپلز ایکٹ1957کی دفعہ4ذیلی دفعہ3کی شقdکے تحت بھی اسمبلی حلقوں کی حد بندی متعلق کسی آرڈر کی نوٹیفکیشن کوعدالت میں چیلنج نہیں کیاجاسکتا تھا کیونکہ ایسا کرنے پر جموں وکشمیر آئین کی دفعہ142(a)کے تحت بندش تھی جوانتخابی امور میں عدالتوں کی مداخلت پر امتناع متعلق تھی۔ سال 1977کو اس طرح ایک عرضی کو چیلنج کیاگیا جس پرجسٹس اے ایس آنند اور جسٹس آئی کے کوتوال پر مبنی جموں وکشمیر ہائی کورٹ بنچ نے فیصلہ دیا کہ ’’وہ اس بات کی بھی چھان بین نہیں کر سکتی کہ آیا حد بندی کمیشن کی طرف سے شائع کردہ نوٹیفکیشن معقول ہے یا نہیں ‘‘۔

                سال 1966میں عدالت عظمیٰ نے بھی مدھیہ پردیش کے شہر اوجین کے شہری مہراج کوٹھاری کی طرف سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف دائر اپیل کو اِسی بنیاد پر خارج کردیاتھا۔ مہراج کوٹھاری  بنام حدبندی کمیشن  کا یہ فیصلہ چیف جسٹس راؤ کے سبا، جسٹس ہدایت اللہ، جسٹس ایم سکری، جسٹس ایس ایم شہلٹ، جسٹس جے ایم متر اور جسٹس جی کے پر مشتمل فل بنچ نے کیا تھا جوکہ  1967AIR, 669اور1967 SCR(1) 400میں بھی درج ہے۔

                اس میں کوٹھاری نے 24جولائی1964کو حد بندی کمیشن ایکٹ1962کی دفعہ10(1)کے تحت جاری نوٹیفیکیشن کو چیلنج کیاتھا جس میں مدھیہ پردیش کے شہر اوجین کو ’ایس سی ‘کے لیے ریزرو کر دیاگیاتھا۔ کوٹھاری جوکہ اوجین شہر کا رہنے والا تھاکہ نے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں آئین ہند کی دفعہ226کے تحت عرضی میں کہاتھاکہ اُس کا بھی پارلیمنٹ اُمیدار بننے کا حق ہے اور نشست ’ایس سی ‘ریزرو ہونے سے وہ اِس حق سے محروم ہوگیا ہے۔ ہائی کورٹ نے پہلی فرصت میں عرضی کو صرف اس بنیاد پر ہی خارج کردیاکہ دفعہ329(a)کی آئینی جوازیت پرکسی بھی عدالت میں سوال نہیں اُٹھایاجاسکتا۔ کوٹھاری نے عدالت عظمیٰ میں اِس آرڈر کے خلاف اپیل کی جس پر فل بنچ نے تفصیلی فیصلہ دیا۔اِس میں مختلف امور پر روشنی ڈالنے کے بعد فیصلے میں حدبندی کمیشن کی نوٹیفکیشن کو صحیح قرار دیتے ہوئے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے فیصلے کو ہی برقرار رکھاگیا۔

                اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدبندی کمیشن رپورٹ کو ’وڈیشل سیکروٹنی‘سے مستثنیٰ کیوں رکھاگیا۔ اس پر عدالت عظمیٰ نے کوٹھاری فیصلے میں وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر بندش نہ ہوتو پھر کسی بھی حلقہ کا رہنے والاکوئی بھی شہری رپورٹ کو چیلنج کرنے کورٹ پہنچ جائے گا، اِس طرح سے ڈھیروں کے حساب سے عرضیاں کورٹ میں داخل ہوجائیں گیں جس سے انتخابات کے انعقاد میں تاخیر ہوگی۔ عدالتوں پر حد درجہ کیسوں کا بوجھ بڑھے گا۔ کمیشن کی رپورٹ کے خلاف عرضیوں کو انبار لگ جائے گا، جن کا تصفیہ کرتے سالہا سال لگیں گے۔

                مذکورہ آئینی بندش کے بعد حدبندی کمیشن کو جہاں بہت زیادہ اختیارات حاصل ہیں، تو وہیں پھر ذمہ داری بھی بہت زیادہ بن جاتی ہے کہ اسمبلی وپارلیمانی حلقوں کی حد بندی کرتے وقت قواعد وضوابط پر غیر جانبدارانہ طریقہ سے من وعن عملدرآمد کیاجائے۔ سُنی سب کی جائے مگر کیاقواعد کے دائرے میں رہ کر۔ حد بندی کمیشن ایکٹ2002کی دفعہ دفعہ8میں نشستوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لیے آبادی اہم ہے۔ ایکٹ کی دفعہ9کے مطابق حلقوں کی حدبندی میں جہاں تک ممکن ہوسکے جغرافیائی طور علاقہ کو یکجا رکھنے اور حد بندی کرتے ہوئے جغرافیائی خدوحال، انتظامی اکائیوں کی موجودہ حدود، مواصلات کی سہولیات اور عوامی آسائش کو ملحوظ ِ نظر رکھنے کی بات کی گئی ہے۔جموں وکشمیر کی موجودہ حد بندی کمیشن کی ڈرافٹ رپورٹ میں توآبادی اورجغرافیائی خدوحال کا کوئی پاس لحاظ ہی نہ رکھاگیا ہے۔علاوہ ازیں انتظامی اکائیوں کی موجودہ حدود کے ساتھ بھی چھیڑچھاڑ ہوئی ہے۔بہت سارے علاقے ایسے ہیں جن کا بی ڈی سی بلاک اور تحصیل ہیڈکوارٹر دوسری جگہ ہے اور اُن کا اسمبلی حلقہ کہیں اور بنایاگیاہے۔ایسا لگتا ہے کہ حد بندی کمیشن نے جو سہ روزہ دورہ کیاتھا، اُس میں سیاسی جماعتوں اور عوامی وفود کی طرف سے سینکڑوں کے حساب سے دی گئی ری پریزنٹیشنوں کو ردی کی ٹوکری میں ڈال کر صرف نقشہ دیکھ کر قلم چلائی گئی۔توقع کی جاسکتی ہے کہ کمیشن کی حتمی رپورٹ حد بندی کمیشن ایکٹ2002کی دفعات8اور9کے عین مطابق ہوگی۔

٭٭٭

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔